Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَرْضِ الْجِهَادِ · حديث 4706

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي اللَّهِ»

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہ ے: ”مجاہد وہ شخص ہے، جو اللہ کی راہ میں اپنی جان کے ہمراہ جہاد کرے“۔

«الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي اللَّهِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ، ← أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the duty of jihad · Hadith 4706

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَرْضِ الْجِهَادِ · حديث 4707

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، قَالَ: [ص:6] حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي الشِّعْرِ قَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ، وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَكَأَنَّمَا تَنْضَحُونَهُمْ بِالنَّبْلِ»

عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک اپنے والد یا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! شعر کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ہمراہ جہاد کرتا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے (مشرکین کے خلاف شعر کہہ کر) گویا کہ تم انہیں نیزے مارتے ہو۔

أَبِيهِ أَنَّهُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← [ص:149] ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the duty of jihad · Hadith 4707

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَرْضِ الْجِهَادِ · حديث 4708

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَيْدِيكُمْ، وَأَلْسِنَتِكُمْ»

حضر ت انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مشرکین کے ساتھ اپنے ہاتھوں اور زبانوں کے ذریعے جہاد کرو“۔

«جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَيْدِيكُمْ، وَأَلْسِنَتِكُمْ» ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the duty of jihad · Hadith 4708

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَرْضِ الْجِهَادِ · حديث 4709

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ»

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”تم لوگ اپنی استطاعت کے مطابق ان کے لیے قوت تیار کرو“۔ (نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا) خبردار قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔ خبردار قوت سے مراد تیر اندازی ہے خبردار قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أبي علي ثمامة بن شفي أنه ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the duty of jihad · Hadith 4709

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَرْضِ الْجِهَادِ · حديث 4710

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ، بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ*، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: «أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ، فَنَزَلَتْ {أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ، بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا، وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ} [الحج: 39]»، قَالَ: «فَعَرَفْتُ أَنَّهَا سَتَكُونُ»، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَهِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ»

حضر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ جب نبی اکرم ﷺ مکہ سے نکلے، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا ہے بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے یہ لوگ ضرور ہلاکت کا شکار ہوں گے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ”وہ لوگ جن کے ساتھ جنگ کی جاتی ہے انہیں اس بات کی اجازت دی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے: ان کے سا تھ ظلم ہوا ہے بے شک اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر قدرت رکھتا ہے“۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ عنقریب ایسا ہو گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ وہ پہلی آیت ہے، جو جنگ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔

ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَهِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ» ← «فَعَرَفْتُ أَنَّهَا سَتَكُونُ»، ← إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ، فَنَزَلَتْ ← لِلَّهِ ← أَبُو بَكْرٍ: «أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ ← لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ مِنْ مَكَّةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the duty of jihad · Hadith 4710

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَرْضِ الْجِهَادِ · حديث 4711

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، مَوْلًى لِكِنْدَةَ قَالَ: «كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ، فَأَخْرَجُوا إِلَيْنَا صَفًّا عَظِيمًا، مِنَ الرُّومِ، وَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مِثْلُهُ، أَوْ أَكْثَرُ، وَعَلَى أَهْلِ مِصْرَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى صَفِّ الرُّومِ، حَتَّى دَخَلَ فِيهِمْ، فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ، وَقَالُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ تُلْقِي بِيَدِكَ إِلَى التَّهْلُكَةِ، فَقَامَ أَبُو أَيُّوبَ [ص:10] الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَتَأَوَّلُونَ هَذِهِ الْآيَةَ، عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ، إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ إِنَّا لَمَّا أَعَزَّ اللَّهُ الْإِسْلَامَ، وَكَثَّرَ نَاصِرِيهِ، قُلْنَا بَعْضُنَا لِبَعْضٍ سِرًّا، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَمْوَالَنَا قَدْ ضَاعَتْ، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَزَّ الْإِسْلَامَ، وَكَثَّرَ نَاصِرِيهِ، فَلَوْ أَقَمْنَا فِي أَمْوَالِنَا، فَأَصْلَحْنَا مَا ضَاعَ مِنَّا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَرُدُّ عَلَيْنَا مَا قُلْنَا {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ، وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} [البقرة: 195]، فَكَانَتِ التَّهْلُكَةُ الْإِقَامَةَ فِي أَمْوَالِنَا، وَإِصْلَاحَهَا، وَتَرْكَنَا الْغَزْوَ، قَالَ: » وَمَا زَالَ أَبُو أَيُّوبَ شَاخِصًا، فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَتَّى دُفِنَ بِأَرْضِ الرُّومِ «

ابو عمران اسلم بیان کرتے ہیں: ہم لوگ روم کے ایک شہر میں تھے، تو اہل روم کی طرف سے ایک بڑالشکر ہمارے سامنے آ گیا۔ ان کی طرف سے بھی ایک بڑا لشکر گیا تھا۔ جو شاید ان سے زیادہ تھا۔ ان دنوں مصر کے گورنر حضرت عقبہ بن عا مر رضی اللہ عنہ تھے جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں۔ مسلمانوں کا ایک شخص اہل روم کی صف میں داخل ہو گیا لوگوں نے بلند آواز میں چیخ کر کہا سبحان اللہ تم اپنے ہاتھ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہو، تو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے فرمایا: اے لوگو! تم اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہو حالانکہ یہ آیت ہمارے یعنی انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا کر دیا، اور اس کے مددگار بکثرت ہو گئے، تو ہم میں سے کسی ایک نے دوسرے سے خفیہ طور پر یہ بات کہی تمہارے اموال ضائع ہو گئے، اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت عطا کر دی اور اس کے مددگار زیادہ ہو گئے اب اگر ہم اپنی کھیتی باڑی کی طرف دھیان دیں اور اپنے نقصان کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں ( تو یہ مناسب ہو گا) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ بات نازل کی جس میں ہماری اس بات کا جواب دیا: ”تم لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور تم اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور اچھائی کرو بے شک اللہ تعالیٰ اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے“۔ تو ہلاکت یہ ہے: آدمی اپنی کھیتی باڑی میں مشغول رہے اور اسے ٹھیک کرے اور جنگ کو ترک کر دے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے، یہاں تک کہ انہیں روم کی سرزمین پر دفن کیا گیا۔

أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، مَوْلًى لِكِنْدَةَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the duty of jihad · Hadith 4711

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَرْضِ الْجِهَادِ · حديث 4712

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ [ص:11] الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ خَالِي الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ دَامَ بَصَرُهُ مَفْتُوحَةٌ عَيْنَاهُ، وَفَرَغَ سَمْعُهُ، وَقَلْبُهُ لِمَا يَأْتِيهِ مِنَ اللَّهِ قَالَ: فَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ لِلْكَاتِبِ: «اكْتُبْ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: 95]، {وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [النساء: 95]، فَقَامَ الْأَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا ذَنْبُنَا؟، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَقُلْنَا لِلْأَعْمَى: إِنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَافَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِهِ، فَبَقِيَ قَائِمًا، وَيَقُولُ: أَعُوذُ بِغَضَبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْكَاتِبِ: » اكْتُبْ {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: 95] «

عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے ان کے ماموں حضر ت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ پر وحی نازل کرنا شروع کی۔ جب نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہوئی تھی تو آپ ﷺ کی آنکھیں کھلی رہتی تھیں، اور آپﷺ کی سماعت متوجہ رہتی تھی اور آپﷺ کا ذہن بھی اس چیز کی طرف متوجہ رہتا تھا۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہیں آپ کی اس صورت حال کا اندازہ ہو گیا پھر آپﷺ نے وحی کی کتابت کرنے والے سے فرمایا: تم یہ نوٹ کرو۔ ”اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے (یعنی جہاد میں شریک نہ ہونے والے) لوگ برابر نہیں ہیں“۔ ”اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں“۔ تو ایک نابینا صاحب کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہمارا کیا قصور ہے۔ نبی اکرم ﷺ پر پھر وحی نازل ہونا شروع ہوئی، تو ہم نے اس نابینا سے کہا نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہونے لگی ہے، تو اس نابینا کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کے معاملے سے متعلق کوئی چیز نازل نہ ہو جائے تو وہ کھڑا رہا اور یہ کہہ رہاتھا میں اللہ کے رسول کی ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے کاتب سے فرمایا: تم یہ بھی لکھو” وہ لوگ جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو“۔

خَالِي الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ، ← أَبِي ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the duty of jihad · Hadith 4712

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَرْضِ الْجِهَادِ · حديث 4713

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اكْتُبْ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: 95]، {وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [النساء: 95]»، قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَبِي مِنَ الزَّمَانَةِ مَا تَرَى قَدْ ذَهَبَ بَصَرِي، قَالَ: زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَثَقُلَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى فَخِذِي، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ تَرَفَّضَ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: «اكْتُبْ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [النساء: 95]»

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے پاس (وحی کی ) کتابت کیا کرتا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم یہ نوٹ کرو۔ ” اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے (یعنی جہاد میں شریک نہ ہونے والے ) لوگ برابر نہیں ہیں“۔ ”اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتے ہیں“۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ اسی دوران حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے۔ انہوں نے عرض کی۔ یا رسول اللہ ﷺ! میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کو پسند کرتا ہوں، لیکن میرے اندر معذوری ہے، جو آپﷺ دیکھ رہے ہیں کہ میری بینائی رخصت ہو چکی ہے۔ حضر ت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو میرے زانو پر موجود نبی اکرم کا زانو اتنا وزنی ہو گیا کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میری ٹانگ ٹوٹ نہ جائے ۔ جب نبی اکرم ﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپﷺ نے یہ فرمایا تم یہ نوٹ کرو۔ ”اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے وہ لوگ جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں“۔

فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، ← «اكْتُبْ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: {وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [النساء: ← كُنْتُ أَكْتُبُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the duty of jihad · Hadith 4713

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَرْضِ الْجِهَادِ · حديث 4714

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرَّيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ شَهِدَكُمْ أَقْوَامٌ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ ایک جنگ میں حصہ لے رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی اس میں شامل ہوئے ہیں جو مدینے میں موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بیماری کی وجہ سے (جنگ میں شرک نہیں ہو سکے)

كُنَّا فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ «لَقَدْ شَهِدَكُمْ أَقْوَامٌ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ» ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَجْلَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرَّيِّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the duty of jihad · Hadith 4714

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4715

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے، قرآن کو ساتھ لے کر دشمن کی سر زمین کی طرف سفر کیا جائے (آپ ﷺ نے) اس اندیشے کے تحت (منع کیا ہے) کہیں دشمن اس کی بے حرمتی نہ کرے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4715

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4716

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ فِي قَوْلِهِ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ: «بَيَانٌ وَاضِحٌ، أَنَّ الْعَدُوَّ إِذَا كَانَ، فِيهِمْ ضِعْفٌ، وَقِلَّةٌ وَالْمُسْلِمُونَ فِيهِمْ قُوَّةٌ وَكَثْرَةٌ، ثُمَّ سَافَرَ أَحَدُهُمْ بِالْقُرْآنِ، وَهُوَ فِي وَسَطِ الْجَيْشِ يَأْمَنُ، أَنْ لَا يَقَعَ ذَلِكَ فِي أَيْدِي الْعَدُوِّ، كَانَ اسْتِعْمَالُ ذَلِكَ الْفِعْلِ مُبَاحًا لَهُ، وَمَتَى أَيِسَ مِمَّا، وَصَفْنَا لَمْ يَجُزْ لَهُ السَّفَرُ، بِالْقُرْآنِ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے، قرآن کو ساتھ لے کر دشمن کی سرزمین کی طرف سفر کیا جائے اس اندیشے کے تحت کہ کہیں دشمن اسے نقصان نہ پہنچائے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) روایت کے یہ الفاظ ”اس اندیشے کے تحت کہ کہیں دشمن اس تک پہنچ نہ جائے “ یہ اس بات کا واضح بیان موجود ہے، جب دشمن میں کمزوری بھی ہو، اور ان کی تعداد بھی کم ہو اور مسلمانوں میں قوت بھی ہو اور ان کی تعداد بھی زیادہ ہو ، اور پھر کوئی مسلمان قرآن کو ساتھ لے کر سفر کرے اور وہ لشکر کے درمیان محفوظ حالت میں ہو اس طرح کہ وہ قرآن دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکتا ہو، تو پھر یہ کام کرنا اس آدمی کے لیے مباح ہوگا، لیکن جب اس طرح کی صورتحال نہ ہو، جو ہم نے ذکر کی ہے تو آدمی کے لیے قرآن کو ساتھ لے کر دارالحرب کی طرف سفر کرنا جائز نہیں ہو گا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الله بن دينار ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَخِيهِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4716

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4717

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ الْأَيْلِيَّ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بہترین ساتھی چار افراد ہوتے ہیں۔ بہترین چھوٹی مہم چار سو افراد کی ہوتی ہے اور بہترین لشکر چار ہزار افراد کا ہوتا ہے اور بارہ ہزار لوگ کمی کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوتے“۔

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4717

chevron_left Previous
1…192021…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr