Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4490

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، [ص:343] عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ: فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَمَسْؤُولٌ عَنْ أَهْلِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْؤُولَةٌ عَنْ رَعَيَّتِهَا، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

سالم بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا حاکم نگران اس سے اس کی رعایا کے بارے میں حساب لیا جائے گا آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اس سے اس کے گھر والوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اس سے اس کے ماتحت چیزوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا“۔

رَعِيَّتِهِ» ← رَعِيَّتِهِ، وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُولٌ ← رَعَيَّتِهَا، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْؤُولٌ ← أَهْلِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْؤُولَةٌ ← رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَمَسْؤُولٌ ← رَعِيَّتِهِ: فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْؤُولٌ ← «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، [ص:343] ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 4490

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4491

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ عَلَيْهِمْ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْهُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعِي أَهْلَ بَيْتِهِ وَهُوَ [ص:344] مَسْؤُولٌ عَنْهُمْ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْؤُولَةٌ عَنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْهُ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا لوگوں کا حکمران ان لوگوں کا نگران ہے اور اس سے ان لوگوں کے بارے میں حساب کیا جائے گا آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اس سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی اور اس کی اولاد کی نگران ہے اس سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا اور آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اس سے اس بارے میں حساب لیا جائے گا تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا“۔

ابْنِ عُمَرَ ← وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ اَنَّہٗ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 4491

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4492

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهُ سَائِلٌ كُلَّ رَاعٍ عَمَّا اسْتَرْعَاهُ أَحَفَظَ أَمْ ضَيَّعَ؟! »

حضرت انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ ہر نگران سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لے گا کیا اس نے اس کی حفاظت کی ہے یا اس نے اسے ضائع کر دیا“۔ 4493 -(سند حدیث):حضرت حسن رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ ہر نگران سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لے گا کہ اس نے اس کی حفاظت کی ہے یا اسےضائع کر دیا ہے، یہاں تک کہ وہ آدمی سےا س کے گھر والوں کے بارے میں بھی حساب لے گا“۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Hadith 4492

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4493

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی حکمران کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے تو اسے سچا وزیر عطا کرتا ہے، اگر وہ حکمران بھول جائے، تو وہ وزیر اسے یاد کرواتا ہے اور اگر اس حکمران کو یاد ہو، تو وہ وزیر اس کی مدد کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے بارے میں اس کے علاوہ کا ارادہ کر لے، تو اسے برا وزیر عطا کر دیتا ہے، اگر وہ حکمران بھول جائے ، تو وہ وزیر اسے یاددہانی نہیں کرواتا اگر اس حکمران کو یاد ہو، تو وہ وزیر اس کی معاونت نہیں کرتا۔

Hadith 4493

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4494

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:346] عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِالْأَمِيرِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ، إِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ سُوءٍ، إِنْ نَسِيَ لَمْ يَذْكُرْهُ، وَإِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ»

حسن بصری بیان کرتے ہیں: عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کرنے کے لیے آیا یہ اس بیماری کی بات ہے ، جس میں ان کا انتقال ہو گیا تھا تو حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے، اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ ابھی میں اور زندہ رہوں گا، تو میں تمہیں یہ حدیث بیان نہ کرتا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:۔ ”جس بھی بندے کو اللہ تعالیٰ کسی کی نگرانی کا کام سونپے اور وہ ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ کرتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس شخص پر جنت کو حرام قرار دے دیتا ہے“۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ، [ص:184] ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْوَلِیْدُ ← مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Hadith 4494

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4495

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ الْعُطَارِدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ: عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ [ص:347] فِيهِ، فَقَالَ مَعْقِلٌ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ عَلِمْتَ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً، يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»

حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیّدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں کچھ دیر آپ ﷺ کے پاس بات چیت کرتی رہی آپ ﷺ اس وقت مسجد میں اعتکاف کیے ہوئے تھے رات کے وقت آپﷺ مجھے گھر تک پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے راستے میں دو انصاری افراد کی ملاقات آپﷺ سے ہوئی جب ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو وہ شرما گئے اور واپس پلٹ گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم دونوں آگے آؤ یہ صفیہ بنت حیی ہے ( جو میری اہلیہ ہے) ان دونوں نے عرض کی: ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں: ( ہم آپﷺ کے بارے میں برا گمان کیسے رکھ سکتے ہیں) نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں تم دونوں سے یہ نہیں کہہ رہا کہ تم دونوں نے کوئی برا گمان کیا ہو گا، لیکن مجھے یہ بات پتہ ہے، شیطان انسان کی رگوں میں گردش کرتا ہے ( وہ تمہارے ذہن میں کوئی غلط خیال ڈال سکتا تھا)۔

الْحَسَنِ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ الْعُطَارِدِيُّ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 4495

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4496

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: [ص:348] أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ وَهُوَ عَاكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ مَعِي لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي يَبَلِّغُنِي بَيْتِي، فَلَقِيَهُ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَاهُ اسْتَحْيَا فَرَجَعَا، فَقَالَ: «تَعَالَيَا، فَإِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ»، فَقَالَا: نَعُوذُ بِاللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ، قَالَ: «مَا أَقُولُ لَكُمَا هَذَا إِنْ تَكُونَا تَظُنَّانِ سُوءًا، وَلَكِنْ عَلِمْتُ أَنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ»

امام زین العابدین  بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں نبی اکرم ﷺ اس وقت رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیے ہوئے تھے جب سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا واپس جانے کے لیے اٹھیں، تو نبی اکرم ﷺ بھی انہیں واپس پہنچانے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ جب آپﷺ گزرے ان دونوں نے نبی اکرمﷺ کو سلام کیا اور پھر ایک طرف ہو گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا: ٹھہر جاؤ یہ صفیہ بنت حیی ہے ( جو میری اہلیہ ہے) ان دونوں نے عرض کی: سبحان اللہ یا رسول اللہ ﷺ! (ہم آپﷺ کے بارے میں ایسا سوچ سکتے ہیں ) یہ بات ان دونوں کو بہت گراں گزری تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں گردش کرتا ہے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کوئی غلط خیال نہ ڈال دے۔

عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4496

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4497

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:349] وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ قَامَتْ تَنْطَلِقُ، فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا حَتَّى إِذَا بَلَغَ قَرِيبًا مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ، عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بُعْدًا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ»، فَقَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ، وَإِنِّي خِفْتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ہمارے درمیان کھجوریں تقسیم کیں، تو مجھے ان میں سے پانچ یا شاید چھ کھجوریں ملیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس میں سے ایک کھجور میری داڑھ کے لیے انتہائی سخت تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ بخیل وہ شخص ہے، جو سلام کرنے میں کنجوسی سے کام لے اور لوگوں میں سب سے عاجز وہ شخص ہے، جو دعا بھی نہ کر سکے۔

عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 4497

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4498

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا تَمْرًا فَأَصَابَنِي مِنْهَا خَمْسُ أَوْ أَرْبَعُ تَمَرَاتٍ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْحَشَفَةَ هِيَ أَشَدُّ لِضِرْسِي» قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «إِنَّ أَبْخَلَ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ [ص:350] بِالسَّلَامِ، وَأَعْجَزَ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الدُّعَاءِ»

حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ وفد کی شکل میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کوئی زمین عطا کرنے کی درخواست کی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں”ملح“ کے مقام والی زمین عطا کر دی جب وہ واپس چلے گئے، تو ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپﷺ کو پتہ ہے، آپﷺ نے اسے کون سی زمین دی ہے آپﷺ نے اسے ایک ایسی زمین دی ہے جہاں پانی وافر مقدار میں ہے۔ راوی کہتے ہیں، تو نبی اکرمﷺ نے وہ زمین واپس لے لی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ سے”اراک“ نامی جگہ میں زمین کی درخواست کی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا : ( یہ اس وقت تک تمہیں دی جاتی ہے) جب تک اونٹوں کے پاؤں وہاں تک نہیں پہنچتے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4498

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4499

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ شُمَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمَدَانِ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ وَفْدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ فَأَقْطَعَهُ الْمِلْحَ، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَدْرِي مَا أَقْطَعْتَهُ؟ إِنَّمَا أَقْطَعْتَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ، قَالَ: فَرَجَعَ فِيهِ، وَقَالَ سَأَلْتُهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الْأَرَاكِ، فَقَالَ: «مَا لَمْ تَبْلُغْهُ أَخْفَافُ الْإِبِلِ»

سیّدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے میر ےساتھ شادی کی اس وقت نہ ان کے پاس کوئی زمین تھی نہ کوئی غلام تھا ان کے پاس صرف ایک اونٹ تھا اور ایک گھوڑا تھا۔ سیّدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ان کے گھوڑے کو چارا کھلایا کرتی تھی اور اس کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی میں ان کے اونٹ کے لیے گٹھلیاں چنا کرتی تھی اور اسے چارا فراہم کیا کرتی تھی اور اسے پانی پلایا کرتی تھی اور اس کے لیے (پانی کا) ڈول تیار کیا کرتی تھی میں آٹا گوندھ لیتی تھی، لیکن مجھ سے روٹی اچھی طرح سے نہیں بنائی جاتی تھی، تو میری انصاری پڑوسنیں مجھے روٹی بنا دیا کرتی تھیں وہ بڑی مخلص خواتین تھیں میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زمین سے اپنے سر پر گٹھلیاں رکھ کر لایا کرتی تھی وہ زمین جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ نے عطا کی تھی اور وہ دو تہائی فرسخ کے فاصلے پر تھی۔ سیّدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دن میں آ رہی تھی میرے سر پر گٹھلیاں موجود تھیں نبی اکرم ﷺ کا مجھ سے سامنا ہوا آپ ﷺ کے ہمراہ آپ ﷺ کے کچھ اصحاب بھی تھے نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا: اخ اخ (یعنی آپ نے اونٹ کو ٹھہرایا) تا کہ آپ مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیں۔ سیّدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے مردوں کے ساتھ جاتے ہوئے شرم آ گئی مجھے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے مزاج کی تیزی کا بھی خیال آیا، کیونکہ ان میں غصہ بہت زیادہ تھا۔ سیّدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ میں شرما رہی ہوں، تو آپﷺ تشریف لے گئے پھر میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور میں نے انہیں بتایا کہ میری نبی اکرم ﷺ سے ملاقات ہوئی تھی میرے سر پر گٹھلیاں تھیں نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ آپ کے کچھ اصحاب بھی تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اونٹ کو روکا تھا تا کہ میں آپﷺ کے ہمراہ سوار ہو جاؤں، تو مجھے شرم آ گئی تو مجھے آپ کے مزاج کی تیزی کا بھی خیال آ گیا تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! تمہارا گٹھلیاں اٹھانا میرے نزدیک تمہارے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ سوار ہو جانے سے زیادہ گراں ہے۔ سیّدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، یہاں تک کہ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے خادم بھجوایا جو میری جگہ گھوڑے کی دیکھ بھال کر لیا کرتا تھا تو انہوں نے گویا مجھے آزاد کروادیا۔

أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالِ ← شُمَيْرِ بْنِ عَبْدٍ الْمَدَانِ ← سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ، ← ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيِّ، ← قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 4499

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4500

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،: قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مَالٌ وَلَا مَمْلُوكٌ، غَيْرُ نَاضِحٍ، وَغَيْرُ فَرَسِهِ، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ، وَأَكْفِيهِ مُؤْنَتَهُ، وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ، وَأَعْلِفُهُ، وَأَسْتَقِي الْمَاءَ، وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ، - قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي الدَّلْوَ - وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَكُنْ أَحْسِنُ أَخْبِزُ، فَتَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ ثُلُثَا فَرْسَخٍ، قَالَتْ: فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ: «إِخْ إِخْ»، لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ، قَالَتْ: فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَمْشِيَ مَعَ الرِّجَالِ، وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ، وَكَانَ أَغْيَرُ النَّاسِ، قَالَ: فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدِ اسْتَحْيَيْتُ فَمَضَى، فَجِئْتُ الزُّبَيْرَ، فَقُلْتُ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَنَاخَ لِأَرْكَبَ مَعَهُ، فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ، قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ، فَكَفَتْنِي [ص:353] سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”قریش زمانہ جاہلیت سے قریب ہیں اس لیے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں انہیں مانوس کروں، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تمہارے درمیان تمہارے علاوہ کوئی اور ہے لوگوں نے بتایا: ہمارا ایک بھانجا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا ان کا حصہ ہو تا ہے “۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 4500

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4501

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَأَلَّفَهُمْ»، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: «أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟ »، قَالُوا: ابْنُ أُخْتٍ لَنَا، قَالَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ سے کچھ مانگا، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بکریاں دینے کا حکم دیا یہاں ابن عائشہ نامی راوی نے ان بکریوں کی کثرت کا ذکر کیا ہے وہ دیہاتی اپنی قوم کے افراد کے پاس آیا اور بولا اے میری قوم کے لوگو اسلام قبول کر لو، کیونکہ حضرت محمد ﷺ اتنا کچھ عطا کر دیتے ہیں کہ اس کے بعد غربت کا خوف نہیں رہتا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 4501

chevron_left Previous
1234…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr