Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4670

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ، بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ»

اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کیلئے گھوڑے پالنے میں برکت کے اثبات کا تذکرہ

«الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ» ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ بِبَغْدَادَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4670

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4671

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانَيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: هِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں ایک آدمی کیلئے اجر کا باعث ہوتے ہیں ایک آدمی کیلئے شر کا باعث ہوتے ہیں اور ایک شخص کیلئے گناہ ہوتے ہیں“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4671

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4672

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَلِرَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ، كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا، أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٌ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ، وَلَمْ يَرُدْ أَنْ يَسْقِيَهُ [ص:528] كَانَ لَهُ ذَلِكَ حَسَنَاتٌ فَهِيَ لِذَلِكَ أَجْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلَا ظُهُورِهَا فَهِيَ لِذَلِكَ سِتْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَنِوَاءً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٍ»، وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ، فَقَالَ: «مَا أَنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا بِهَذِهِ الْآيَةِ الْجَامِعَةِ الْفَاذَّةِ: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: 8]» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «النِّوَاءُ: الْكِبْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي غَيْرِ ذَاتِ اللَّهِ، وَالْكِبْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي ذَاتِ اللَّهِ مَحْمُودَانِ، إِذْ هُمَا الْفَرَحُ بِالطَّاعَاتِ وَتَانِكَ الْفَرَحُ بِالدُّنْيَا»

اللہ تعالیٰ کا اس شخص پر فضل کرنے کا تذکرہ جو گھوڑا تیار کرتا ہے اور اس کے ذریعے ثواب کی امید رکھتا ہے (وہ فضل یہ ہے) اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس گھوڑے کے پیٹ میں جانے والی ہر چیز اس گھوڑے کے لید کرنے اور پیشاب کرنے کو بھی نیکیوں کے طور پر نوٹ کرتا ہے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4672

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4673

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا لِمَوْعُودِهِ كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَرَوْثُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھتا ہے، تو اس گھوڑے کا کھان اس کا پینا اس کا لید کرنا قیامت کے دن اس شخص کے نامہ اعمال میں نیکیوں کے طور پر ہوں گے“۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ← طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4673

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4674

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا كَبْشَةَ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا، وَالْمُنْفِقُ عَلَيْهَا كَالْبَاسِطِ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ»

حضرت ابو کبشہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں وہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک بھلائی رکھ دی گئی ہے اور ان کے مالکان کی مدد کی جاتی ہے، اور گھوڑے پر خرچ کرنے والے کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو صدقہ کرنے کیلئے اپنا ہاتھ برھاتا ہے“۔

النَّبِيِّ ← أَبَا كَبْشَةَ صَاحِبَ النَّبِيِّ ← نُعَيْمِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4674

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4675

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُنْفِقِ عَلَى الْخَيْلِ كَالْمُتَكَفِّفِ بِالصَّدَقَةِ»، فَقُلْنَا لِمَعْمَرٍ: مَا الْمُتَكَفِّفُ بِالصَّدَقَةِ؟ قَالَ: «الَّذِي يُعْطَى بِكَفَّيْهِ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”گھوڑے پر خرچ کرنے والے کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو صدقہ کرنے کیلئے مٹھی میں (کوئی چیز رکھتا ہے)“۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے معمر سے دریافت کیا: صدقے کو مٹھی میں رکھنے سے کیامراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے: وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے صدقہ دیتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4675

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4676

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَوْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الْخَيْلِ الْأَدْهَمُ الْأَقْرَحُ الْأَرْثَمُ الْمُحَجَّلُ ثَلَاثًا طَلْقُ الْيَدِ الْيُمْنَى»، قَالَ يَزِيدُ: «فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَدْهَمَ فَكُمَيْتٌ عَلَى هَذِهِ الشِّيَةِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الشَّكُّ فِي هَذَا الْخَبَرِ مِنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ»، وَالْخَبَرُ مَشْهُورٌ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ*.

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ (راوی کو شک ہے شاید) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”سب سے بہترین گھوڑا سیاہ رنگ والا ہوتا ہے، جس کی پیشانی اور ناک پر سفید رنگ کا داغ ہو اور اس کی ٹانگوں پر بھی سفید رنگ کا داغ ہو، جو دائیں پاؤں کو کھلا رکھتا ہو“۔ یزید نامی راوی کہتے ہیں: اگر اس قسم کا گھوڑا ن ہو، تو پھر ان خصوصیات کا حامل” کمیت“ گھوڑا بہتر ہوتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس روایت میں شک یزید بن ابو حبیب نامی راوی کو ہے یہ روایت حضرت عقبہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کے طور پر مشہور ہے، جسے موسیٰ بن علی نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کیا ہے۔

عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَوْ أَبِي قَتَادَةَ ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4676

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4677

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الشِّكَالُ مِنَ الْخَيْلِ الَّذِي كَرِهَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ أَنْ تَكُونَ الدَّابَّةُ إِحْدَى قَوَائِمِهَا بَيْضَاءَ وَالْبَاقِي عَلَى هَيْئَتِهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ گھوڑوں میں ”شکال“ کو ناپسند کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ”شکال“ گھوڑے جسے نبی اکرم ﷺ نے ناپسند کیا ہے وہ یہ ہے: اس کا ایک پاؤں سفید ہو اور باقی اپنی اصل شکل پر (گہرے رنگ کے ہوں)

كَانَ رَسُولُ اللهِ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4677

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4678

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، وَالْمُلَائِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ فِي الْخَيْلِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے گھوڑے میں شکال کو ناپسند کیا ہے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَكْرَهُ الشِّكَالَ فِي الْخَيْلِ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، وَالْمُلَائِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4678

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4679

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، بِحِمْصَ، [ص:534] قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، أَنَّهُ أَتَاهُ فَقَالَ: أَطْرِقْنِي فَرَسَكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَطْرَقَ فَرَسًا فَعَقَبَ لَهُ الْفَرَسُ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ سَبْعِينَ فَرَسًا حُمِلَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنْ لَمْ تُعْقِبْ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ فَرَسٍ حُمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

ابو عامر ہوزنی بیان کرتے ہیں: حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور بولے: تم اپنا گھوڑا مجھے جفتی کے لیے دو، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، جو شخص گھوڑا جفتی کے لیے دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں گھوڑا پیدا ہوتا ہے، تو اس شخص کو ایسے ستر گھوڑوں کا اجر و ثواب ملتا ہے جن پر (زین وغیرہ) لاد کر اللہ کی راہ میں دیا گیا ہو اور اگر اس کے نتیجے میں گھوڑا پیدا نہیں ہوتا تو اسے ایک گھوڑے کو سامان وغیرہ لاد کر اللہ کی راہ میں دینے کا اجر ملتا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَطْرِقْنِي فَرَسَكَ، فَإِنِّي ← أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، أَنَّهُ أَتَاهُ ← أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← کَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمَذْحِجِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، بِحِمْصَ، {ص:289}

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4679

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4680

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّى الْأُنْثَى مِنَ الْخَيْلِ الْفَرَسَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے گھوڑوں کے لیے لفظ ”فرس“ استعمال کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4680

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4681

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَجَهَدَ الظَّهْرُ جَهْدًا شَدِيدًا، فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِظَهْرِهِمْ مِنَ الْجَهْدِ، فَتَحَيَّنَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضِيقًا سَارَ النَّاسُ فِيهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «مُرُّوا بِسْمِ اللَّهِ»، فَجَعَلَ يَنْفُخُ بِظَهْرِهِمْ وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ احْمِلْ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِكِ، فَإِنَّكَ تَحْمِلُ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ وَالرَّطْبِ وَالْيَابِسِ فِي الْبِرِّ وَالْبَحْرِ»، قَالَ فَضَالَةُ: فَلَمَّا بَلَغَنَا الْمَدِينَةَ، جَعَلَتْ تُنَازِعُنَا أَزِمَّتُهَا، فَقُلْتُ: هَذِهِ دَعْوَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ، فَمَا بَالُ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ غَزَوْنَا غَزْوَةَ قُبْرُسَ، وَرَأَيْتُ السُّفُنَ وَمَا تَدْخُلُ، عَرَفْتُ دَعْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ *

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی تو سواریاں انتہائی لاغر ہو گئیں لوگوں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی کہ ان کی سواریاں لاغر ہو گئی ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک تنگ راستے سے گزرنے کا حکم دیا، لوگ وہاں سے گزرے تو نبی اکرم ﷺ یہ فرما رہے تھے : اللہ کا نام لیتے ہوئے گزر جاؤ۔ آپ ان کی سواریوں پر پھونک مارے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! اپنی راہ میں اس سواری کو آسان کر دے، کیونکہ تو ہی طاقتور اور کمزور تر اور خشک پر، خشکی اور سمندر میں سواری فراہم کرتا ہے۔ حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچے تو ہمارے لیے ان سواریوں پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔ (یعنی وہ تیزی سے چل رہی تھیں) تو میں یہ سوچا کہ طاقتور اور کمزور کے بارے میں یہ نبی اکرم ﷺ کی دعا کا یہ نتیجہ ہے، لیکن خشک اور تر کے بارے میں کیا صورت ہو سکتی ہے؟ پھر جب ہم شام آئے اور ہم نے جنگ قبرص میں شرکت کی اور میں نے بڑی (جنگی کشتیاں) دیکھیں، تو مجھے اندازہ ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی دعا کا نتیجہ ہے۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4681

chevron_left Previous
1…161718…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr