Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ · حديث 4658

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقِ نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”شہداء جنت کے دروازے پر موجود نہر کے کنارے پر ایک سبز گنبد میں ہوں گے جنت میں سے ان کا رزق صبح و شام ان کی طرف آتا رہے گا“۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of the testimony · Hadith 4658

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ · حديث 4659

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: «هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟ »، فَسَأَلْنَا يَوْمًا، ثُمَّ قَالَ: «أُرِيتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدِي فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ، فَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا، فَقَالَ: أَمَا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ»

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب صبح کی نماز ادا کر لیتے تھے، تو آپ ﷺ ہماری طر ف رخ کر لیتے اور دریافت کرتے کیا تم میں سے کسی نے گزشتہ رات (کوئی نمایاں) خواب دیکھا ہے ایک دن آپ ﷺ نے ہم سے دریافت کیا: پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات مجھے خواب دکھائی دیا دو آدمی میرے پاس آئے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور وہ مجھے ساتھ لے کر ایک درخت پر چڑھ گئے انہوں نے مجھے ایک گھر میں داخل کیا میں نے اس سے زیادہ خوبصورت گھر کبھی نہیں دیکھا تو انہوں نے بتایا: یہ شہداء کا ٹھکانہ ہے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of the testimony · Hadith 4659

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ · حديث 4660

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدَّلُ، بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ الذِّمَارِيُّ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ عُتْبَةَ الذِّمَارِيِّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ وَنَحْنُ أَيْتَامٌ صِغَارٌ، فَمَسَحَتْ رُءُوسَنَا، وَقَالَتْ: أَبْشِرُوا يَا بَنِيَّ، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا فِي شَفَاعَةِ أَبِيكُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الشَّهِيدُ يَشْفَعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ»

نمران بن عتبہ ذماری بیان کرتے ہیں: ہم سیّدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم اس وقت یتیم اور کم سن تھے انہوں نے ہمارے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے میرے بچو تمہیں خوش خبری ہو، کیونکہ مجھے یہ امید ہے، تمہیں تمہارے والد کی شفاعت نصیب ہو گی میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”شہید اپنے گھر والوں میں سے ستر افراد کی شفاعت کرے گا“۔

«الشَّهِيدُ يَشْفَعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا الدَّرْدَاءِ، ← أَبْشِرُوا يَا بَنِيَّ، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا فِي شَفَاعَةِ أَبِيكُمْ، فَإِنِّي ← دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ وَنَحْنُ أَيْتَامٌ صِغَارٌ، فَمَسَحَتْ رُءُوسَنَا، ← نِمْرَانَ بْنِ عُتْبَةَ الذِّمَارِيِّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ الذِّمَارِيُّ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدَّلُ بِالْفُسْطَاطِ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of the testimony · Hadith 4660

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ · حديث 4661

أَخْبَرَنَا أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمْعَةَ الْأَصَمُّ الْقُهِسْتَانِيُّ، [ص:518] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ لِيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص اس بات کی آرزو نہیں کرے گا کہ وہ دوبارہ دنیا کی طرف جائے صرف شہید کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ دوبارہ دنیا میں جائے اور اسے دوبارہ شہید کیا جائے“۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمْعَةَ الْأَصَمُّ الْقُهِسْتَانِيُّ، [ص:518]

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of the testimony · Hadith 4661

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ · حديث 4662

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جنت میں داخل ہونے وال کوئی بھی شخص اس بات کو پسند نہیں کرے گا کہ وہ دوبارہ دنیا کی طرف جائے اگرچہ اس کے عوض میں روئے زمین پر موجود سب کچھ اسے مل جائے البتہ شہید کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ وہ اس بات کی آرزو کرے گا کہ وہ دوبارہ دنیا کی طرف جائے اور اسے دس مرتبہ شہید کیا جائے اس کی وجہ یہ ہے: وہ (شہادت کی ) عظمت کو دیکھ لے گا“۔

النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of the testimony · Hadith 4662

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ · حديث 4663

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، أَنَّ أَبَا الْمُثَنَّى الْمُلَيْكِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدِ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْقَتْلَى ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى يُقْتَلَ فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُمْتَحَنُ، فِي خَيْمَةِ اللَّهِ، تَحْتَ عَرْشِهِ، وَلَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِفَضْلِ دَرَجَةِ النُّبُوَّةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى، إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَتِلْكَ مَصْمَصَةٌ مَحَتْ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ، إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا، وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ، فَإِنَّ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ، وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ، وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَذَلِكَ فِي النَّارِ، إِنَّ السَّيْفَ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ»

حضرت عتبہ بن عبد سلمی جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: قتل ہونے والے لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ شخص جو مومن ہو، جو اپن جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے، تو اس کے ساتھ لڑتا ہوا شہید ہو جاتا ہے یہ وہ شہید ہے، جسے آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے خیمے میں ہو گا اور انبیاء کو اس پر صرف مرتبہ نبوت کی فضیلت حاصل ہو گی۔ ایک وہ شخص ہے، جو گناہوں اور خطاؤں میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد کرتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرتا ہے، تو لڑتا ہوا شہید ہو جاتا ہے، تو یہ وہ چیز ہے، جس نے اس کے گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دیا بے شک تلوار گناہوں کو مٹا دیتی ہے ایسا شخص جنت کے جس بھی دروازے سے چاہے گا اندر داخل ہو جائے گا جنت کے آٹھ دروازے ہیں جہنم کے سات دروازے ہیں ان میں سے بعض دوسروں پر فضیلت رکھتے ہیں اور ایک وہ شخص ہے، جو منافق ہو گا، جو جان اور مال کے ہمراہ جہاد میں حصہ لے گا، یہاں تک کہ جب وہ دشمن کا سامنا کرے گا، تو لڑتا ہوا مارا جائے گا یہ شخص جہنم میں جائے گا، کیونکہ تلوار منافقت کو ختم کر سکتی ہے۔

عُتْبَةَ بْنَ عَبْدِ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَنَّهُ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، أَنَّ أَبَا الْمُثَنَّى الْمُلَيْكِيَّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of the testimony · Hadith 4663

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ · حديث 4664

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: انْطَلَقَ حَارِثَةُ بْنُ عَمَّتِي نَظَّارًا يَوْمَ بَدْرٍ مَا انْطَلَقَ لِقِتَالٍ، فَأَصَابَهُ سَهْمٌ، فَقَتَلَهُ، فَجَاءَتْ عَمَّتِي أُمُّهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنِي حَارِثَةُ إِنْ يَكُنْ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ، وَأَحْتَسِبْ، وَإِلَّا فَسَتَرَى مَا أَصْنَعُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ حَارِثَةَ، إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری پھوپھو کے بیٹے حارثہ غزوہ بدر کے دن صورت حال دیکھنے کیلئے گئے کہ جنگ کی کیا صورت حال ہے؟ انہیں ایک تیر لگا اور وہ مر گئے میری پھوپھی اور ان کی والدہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! میرا بیٹا حارثہ اگر تو جنت میں ہے، تو میں صبر سے کام لیتی ہوں اور ثواب کی امید رکھتی ہوں ورنہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ام حارثہ! جنت کے کئی درجات ہیں، اور حارثہ فردوس اعلیٰ میں ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of the testimony · Hadith 4664

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ · حديث 4665

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجْتَمِعُ الْكَافِرُ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کافر اور اس کا قاتل جہنم میں کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of the testimony · Hadith 4665

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ · حديث 4666

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، بِحِرَّانَ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «ضَحِكَ اللَّهُ مِنْ [ص:522] رَجُلَيْنِ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ وَكِلَاهُمَا فِي الْجَنَّةِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا الْخَبَرُ مِمَّا نَقُولُ فِي كُتِبِنَا بِأَنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الْآمِرِ كَمَا تُضِيفُهُ إِلَى الْفَاعِلِ، وَكَذَلِكَ تُضِيفُ الشَّيْءَ الَّذِي هُوَ مِنْ حَرَكَاتِ الْمَخْلُوقِينَ إِلَى الْبَارِئِ جَلَّ وَعَلَا، كَمَا تُضِيفُ ذَلِكَ الشَّيْءَ إِلَيْهِمْ سَوَاءً، فَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » ضَحِكَ مِنْ رَجُلَيْنِ «يُرِيدُ ضَحَّكَ اللَّهُ مَلَائِكَتَهُ وَعَجَّبَهُمْ مِنَ الْكَافِرِ الْقَاتِلِ الْمُسْلِمَ، ثُمَّ تَسْدِيدَ اللَّهُ لِلْكَافِرِ وَهِدَايَتِهِ إِيَّاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ وَتَفَضُّلِهِ عَلَيْهِ بِالشَّهَادَةِ بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا، فَيُعَجِّبُ اللَّهُ مَلَائِكَتَهُ وَيُضَحِّكُهُمْ مِنْ مَوْجُودِ مَا قَضَى وَقَدَّرَ، فَنُسِبَ الضَّحِكُ الَّذِي كَانَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا عَلَى سَبِيلِ الْأَمْرِ وَالْإِرَادَةِ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ سَنَذْكُرُهَا فِيمَا بَعْدُ مِنْ [ص:523] هَذَا الْكِتَابِ فِي الْقَسَمِ الْخَامِسِ مِنْ أَقْسَامِ السُّنَنِ إِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ دو ایسے آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہوتا ہے اور وہ دونوں جنت میں ہوں گے“۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) یہ اس نوعیت کی روایت ہے، جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب بعض روایات کسی فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف کر دیتے ہیں جس طرح وہ فعل کی نسبت کام کرنے والے شخص کی طرف کرتے ہیں اسی طرح وہ بعض اوقات کسی چیز جو مخلوق کی حرکات سے تعلق رکھتی ہو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر دیتے ہیں جس طرح وہ اس کی نسبت مخلوق کی طرف کرتے ہیں، تو نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ دو ایسے آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے اس سے مراد یہ ہے: اللہ تعالیٰ فرشتوں کو ہنسنے کیلئے کہتا ہے اور انہیں خوش ہونے کیلئے کہتا ہے اس کافر کے بارے میں جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کافر کو راہ راست پر ہدایت نصیب کرتا ہے وہ مسلمان ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت اس کے بعد شہادت کا مرتبہ عطا کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو اس بات پر حیران کرتا ہے اور انہیں اس بات پر ہنساتا ہے، جو اس چیز کی موجودگی کی وجہ سے ہوتا ہے، جو اس نے فیصلہ دیا ہے اور مقدر میں لکھا ہے، تو یہاں ہنسنا جو فرشتوں کی طرف سے ہوتا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے، جو اس کے حکم دینے اور ارادہ کرنے کے حوالے سے ہے اس کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں، جنہیں ہم اس کتاب میں آگے چل کر سنن کی پانچویں قسم میں نقل کریں گے اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا اور یہ چاہا۔

«ضَحِكَ اللَّهُ مِنْ [ص:522] رَجُلَيْنِ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ وَكِلَاهُمَا فِي الْجَنَّةِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of the testimony · Hadith 4666

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ · حديث 4667

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَيَضْحَكُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ وَكِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ دو ایسے آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہوتا ہے اور وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کو قتل کرنے والے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے (وہ مسلمان ہو جاتا ہے اور پھر) وہ بھی اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of the testimony · Hadith 4667

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4668

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت کے دن تک کیلئے بھلائی رکھ دی گئی ہے“۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4668

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخَيْلِ · حديث 4669

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْغَنِيمَةُ»

حضرت جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت کے دن تک کیلئے بھلائی رکھ دی گئی ہے، جو اجر اور غنیمت کی صورت میں ہے“۔

جَرِيرٌ ← أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Horse door · Hadith 4669

chevron_left Previous
1…151617…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr