Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4634

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَعْنَبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُرْمَةُ نِسَاءِ [ص:492] الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَأُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ إِلَّا نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: يَا فُلَانُ، هَذَا فُلَانٌ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ»، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «فَمَا ظَنُّكُمْ مَا أَرَى يَدَعُ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْئًا»

ابن بریدہ والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجاہدین کی خواتین کی حرمت پیچھے رہ جانے والوں کیلئے اسی طرح ہے، جس طرح ان کی اپنی مائیں ہوتی ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں میں سے جو بھی شخص کسی مجاہد کے ساتھ خیانت کرے گا، تو اس شخص کو مجاہد کے سامنے رکھا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا اے فلاں یہ فلاں شخص ہے تم اس کی نیکیوں میں سے جتنی چاہو حاصل کر لو“۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کی طرف توجہ کی اور فرمایا: تمہارا کیا گمان ہے میرا خیال ہے وہ اس کی نیکیوں میں سے کوئی بھی نیکی باقی نہیں رہنے دے گا۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← قَعْنَبٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4634

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4635

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ قَاعِدٍ يَخْلُفُ مُجَاهِدًا فِي أَهْلِهِ بِسُوءٍ إِلَّا أُقِيمَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا خَلْفُكَ فِي أَهْلِكَ بِسُوءٍ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ»

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: مجاہدین کی خواتین کی پیچھے رہ جانے والوں کیلئے حرمت اسی طرح ہے، جس طرح اس کی اپنی ماؤں کی حرمت ہوتی ہے اور پیچھے رہ جانے والا جو بھی شخص کسی مجاہد کی بیوی کے حوالے سے خیانت کرے تو اس شخص کو قیامت کے دن مجاہد کے سامنے پیش کر دیا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا اس نے تمہاری غیر موجودگی میں تمہاری بیوی کے ساتھ خیانت کی تو تم اس کی نیکیوں کو حاصل کر لو۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4635

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4636

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الرَّجُلُ يُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، فَأَنَّى ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟، قَالَ: «مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

حضر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ا اس نے عرض کی: ایک شخص حمیت کی خاطر لڑتا ہے ایک شخص بہادری کے اظہار کے لیے لڑتا ہے ایک شخص دکھاوے کیلئے لڑتا ہے، تو اس میں سے کون سا شخص اللہ کی راہ میں شمار ہو گا؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس لیے جہاد میں حصہ لیتا ہے، تا کہ اللہ تعالیٰ کا دین سر بلند ہو وہ اللہ کی راہ میں شمار ہو گا۔

الرَّجُلُ يُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، فَأَنَّى ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟، ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4636

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4637

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ مِكْرَزٍ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَهُوَ يَبْتَغِي مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَجْرَ لَهُ»، فَأَعْظَمَ ذَلِكَ النَّاسُ، وَقَالُوا لِلرَّجُلِ: عُدْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَلَّكَ لَمْ تُفَهِمْهُ، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَهُوَ يَبْتَغِي مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا؟، قَالَ: «لَا أَجْرَ لَهُ»، فَأَعْظَمَ ذَلِكَ النَّاسُ، وَقَالُوا لِلرَّجُلِ: عُدْ لِرَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ الثَّالِثَةَ: رَجُلٌ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَهُوَ يَبْتَغِي مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا؟، قَالَ: «لَا أَجْرَ لَهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور اس کے ہمراہ وہ دنیاوی فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسے شخص کو اجر نہیں ملے گا لوگوں کیلئے یہ بات بڑی پریشانی کا باعث بنی لوگوں نے اس شخص سے کہا تم نبی اکرم ﷺ سے دوبارہ یہ سوال کرو، ہو سکتا ہے، نبی اکرم ﷺ کو تمہارے مفہوم کا اندازہ نہ ہو سکا ہو راوی بیان کرتے ہیں: اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ کرتا ہے اور دنیاوی فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے کوئی اجر نہیں ملے گا لوگوں کیلئے یہ بات بڑی پریشانی کا باعث نبی انہوں نے اس شخص سے کہا تم نبی اکرم ﷺ سے پھر یہ سوال کرو اس شخص نے تیسری مرتبہ سوال کیا کہ ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس کے ذریعے دنیاوی فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے کوئی اجر نہیں ملے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا ← مِكْرَزٍ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4637

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4638

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ غَزَا وَلَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا فَلَهُ مَا نَوَى» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الصَّامِتِ ابْنُ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ (*)»

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص جنگ میں حصہ لے اور جنگ میں حصہ لیتے ہوئے اس کی نیت صرف ایک رسی کا حصول ہو، تو اسے وہی چیز ملے گی، جس کی اس نے نیت کی تھی“۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس روایت کے راوی یحییٰ بن ولید بن صامت حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، ← جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4638

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4639

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَنْ يُعْقَرَ جَوَادُكَ، وَيُهْرَاقَ دَمُكَ».

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ کہ تمہارے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں اور تمہارا خون بہا دیا جائے۔

رَجُلٌ: ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4639

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4640

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِنَا، فَقَالَ حِينَ انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ: اللَّهُمَّ آتِنِي أَفْضَلَ مَا تُؤْتِي عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ [ص:497] آنِفًا؟ »، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا يُعْقَرُ جَوَادُكَ، وَتُسْتَشْهَدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺ اس وقت ہمیں نماز پڑھا رہے تھے جب وہ شخص صف تک پہنچا تو اس نے یہ دعا کی۔ ”اے اللہ ! تو نے اپنے نیک بندوں کو جو کچھ عطا کیا ہے اس میں سب سے زیادہ فضیلت والی چیز مجھے بھی عطا کر (یعنی مجھے سب سے زیادہ فضیلت والی چیز عطا کر ) جب نبی اکرم ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو آپ ﷺ نے دریافت کیا: ابھی کس شخص نے کلام کیا تھا؟ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس صورت میں تمہارے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں گے اور تمہیں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جائے گا“۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4640

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ · حديث 4641

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ مَالِهِ، دَعَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ أَيْ فُلُ هَلُمَّ هَذَا خَيْرٌ مِرَارًا»، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الَّذِي لَا تَوَى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنِّي أَرْجُو أَنْ تَدْعُوكَ الْحَجَبَةُ كُلُّهَا»

حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ کی راہ میں اپنے مال میں سے ( کسی بھی چیز کا) جوڑا خرچ کرتاہے، تو جنت کے دربان اسے پکار کر کہتے ہیں: اے فلاں دھیان کرو یہ چیز زیادہ بہتر ہے وہ ایسا کئی مرتبہ کہتے ہیں: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ایسے شخص پر تو کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ امید ہے تمہیں جنت کے تمام دربان بلائیں گے“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the preference for alimony for the sake of God · Hadith 4641

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ · حديث 4642

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعَهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، مَعِي مِنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَأَلَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، قَالَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابٍ؟ »، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ عِنْدَ الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابٍ؟ »، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ، كَمَا لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا، فَيُلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ: أَيْ فُلُ أَلَمْ أُكْرِمْكَ، أَلَمْ أُسَوِّدْكَ، أَلَمْ أُزَوِّجْكَ، أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ وَأَتْرُكُكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ، قَالَ: فَيَقُولُ بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ: فَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ، قَالَ: لَا يَا رَبِّ، قَالَ: فَالْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي»، قَالَ: «ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِي فَيَقُولُ: أَلَمْ أُكْرِمْكَ، أَلَمْ أُسَوِّدْكَ، أَلَمْ أُزَوِّجْكَ، أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ وَأَتْرُكَكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ، قَالَ: فَيَقُولُ بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ: فَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ قَالَ: لَا يَا رَبِّ، قَالَ: فَالْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي»، قَالَ: «ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ فَيَقُولُ: مَا أَنْتَ؟، فَيَقُولُ: أَنَا عَبْدُكَ آمَنْتُ بِكَ، وَبِنَبِيِّكَ، وَبِكِتَابِكَ، وَصُمْتُ، وَصَلَّيْتُ، [ص:500] وَتَصَدَّقْتُ، وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَفَلَا نَبْعَثَ عَلَيْكَ شَاهِدَنَا؟، قَالَ: فَيُفَكِّرُ فِي نَفْسِهِ مَنِ الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، وَيُقَالُ لِفَخْذِهِ: انْطِقِي، قَالَ: فَتَنْطِقُ فَخْذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِمَا كَانَ يَعْمَلُ، فَذَلِكَ الْمُنَافِقُ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ الَّذِي سَخَطَ اللَّهُ عَلَيْهِ» قَالَ: «ثُمَّ يُنَادِي مُنَادِي أَلَا اتَّبَعَتْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ، قَالَ: فَيَتْبَعُ أَوْلِيَاءُ الشَّيَاطِينَ الشَّيَاطِينَ، قَالَ: وَاتَّبَعَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَهُمْ إِلَى جَهَنَّمَ، ثُمَّ قَالَ: ثُمَّ يَبْقَى الْمُؤْمِنُونَ، ثُمَّ نَبْقَى أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ، فَيَأْتِينَا رَبُّنَا وَهُوَ رَبُّنَا، فَيَقُولُ: عَلَى مَا هَؤُلَاءِ قِيَامٌ؟، فَيَقُولُونَ: نَحْنُ عِبَادُ اللَّهِ الْمُؤْمِنُونَ وعَبَدْنَاهُ وَهُوَ رَبُّنَا وَهُوَ آتِينَا، وَمُثِيبُنَا، وَهَذَا مَقَامُنَا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ فَامْضُوا، قَالَ: فَيُوضَعُ الْجِسْرُ وَعَلَيْهِ كَلَالِيبُ مِنْ نَارٍ تَخْطَفُ النَّاسَ، فَعِنْدَ ذَلِكَ حَلَّتِ الشَّفَاعَةُ، اللَّهُمَّ سَلِّمِ اللَّهُمَّ سَلِّمْ، فَإِذَا جَاوَزَ الْجِسْرَ، فَكُلُّ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا مِنَ الْمَالِ مِمَّا يَمْلِكُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَكُلُّ خَزَنَةِ الْجَنَّةِ تَدَعُوهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ، يَا مُسْلِمُ، هَذَا خَيْرٌ، فَيُقَالُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، يَا مُسْلِمُ، هَذَا خَيْرٌ»، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ذَلِكَ لِعَبْدٍ لَا تَوَى عَلَيْهِ يَدَعُ بَابًا وَيَلِجُ مِنْ آخَرَ، قَالَ: فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ»، قَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ: أَمْلَاهُ عَلَيَّ سُفْيَانُ إِمْلَاءً

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں چودھویں رات میں جس میں بادل نہ ہو کیا تمہیں چاند کو دیکھنے میں کچھ مشکل پیش آتی ہو؟ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ ﷺ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں دوپہر کے وقت جب کوئی بادل نہ ہو سورج کو دیکھنے میں کوئی مشکل پیش آتی ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ ﷺ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں اسی طرح کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی، جس طرح تمہیں ان دونوں کو دیکھنے میں مشکل پیش نہیں آتی ہے۔ بندے کو (پروردگار کی بارگاہ میں ) پیش کیا جائے گا، تو پروردگار فرمائے گا: اے فلاں کیا میں نے تمہیں عزت عطا نہیں کی تھی کیا میں نے تمہیں سردار نہیں بنایا تھا کیا میں تمہاری شادر نہیں کروائی تھی میں نے تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا گھا کیا میں نے تمہیں ہر طرح کی نعمتیں عطا نہیں کی تھیں۔ بندہ عرض کرتے گا جی ہاں میرے پروردگار (ایسا ہی ہوا تھا) پروردگار فرمائے گا تمہیں اس بات کا یقین تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہو گے وہ جواب دے گا جی نہیں اے میرے پروردگار! تو پروردگار فرمائے گا آج میں تمہیں اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں پھر دوسرے شخص کو پیش کیا جائے گ پروردگار فرمائے گا کیا میں نے تمہیں عزت نہیں دی تھی کیا میں نے تمہیں سردار نہیں بنایا تھا کیا میں نے تمہاری شادر نہیں کروائی تھی کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا تھا کیا میں نے تمہیں کشادگی اور فراخی عطا نہیں کی تھی۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: وہ بندہ جواب دے گا: جی ہاں۔ اے میرے پروردگار! پروردگار دریافت کرے گا: کیا تمہیں اس بات کا یقین تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہو گے۔ بندہ جواب دے گا: جی نہیں۔ اے میرے پروردگار! تو پروردگار فرمائے گا میں تمہیں اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ نبی اکر م ﷺ فرماتے ہیں پھر تیسرے شخص کو پیش کیا جائے گا، تو پروردگار دریافت کرے گا تم کون ہو وہ جواب دے گا میں تیرا بندہ ہوں میں تجھ پر ایمان لایا تیرے نبی پر تیری کتابوں پر ایمان لایا میں نے روزے رکھے، میں نے نماز پڑھی، میں نے صدقہ کیا وہ جہاں تک ہو سکے گا بھلائی کا تذکرہ کرے گا۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں اس شخص سے کہا جائے گا کیا ہم نے تم پر گواہ کو نہیں بھیجا تھا۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: وہ شخص ذہن میں سوچے گا کہ اس کے خلاف کون گواہی دے سکتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اس کے زانوں سے کہا جائے گا تم کلام کرو تو اس کا زانو اس کا گوشت اس کی ہڈیاں کلام کریں گے اس چیز کے بارے میں جو وہ عمل کرتا رہا تھا یہ منافق شخص ہو گا اس کی وجہ یہ ہو گی تا کہ وہ شخص اپنی طرف سے کوئی عذر نہ پیش کر سکے اور تا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراضگی کا اظہار کر سکے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں پھر ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا ہر گروہ اس کے پیچھے چلا جائے جس کی وہ عبادت کیا کرتا تھا۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں، تو شیاطین کے ماننے والے شیاطین کے پیچھے چلے جائیں گے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں یہودی اور عیسائی اپنے بڑوں کے ہمراہ جہنم کی طرف چلے جائیں گے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں پھر مومن باقی رہ جائیں گے۔ اے اہل ایمان! پھر ہم باقی رہ جائیں گے ہمارا پروردگار ہمارے پاس تشریف لائے گا وہ ہمارا پروردگار ہی ہو گا وہ فرمائے گا تم کس کے لیے کھڑے ہوئے ہو، تو وہ بندے عرض کریں گے ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے بندے ہیں ہم اس کی عبادت کرتے ہیں وہ ہمارا پروردگار ہے وہ ہمارے پاس آئے گا اور ہمیں ثواب عطا کرے گا ہم تو اسی جگہ کھڑے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں، تو پروردگار کہے گا میں تمہارا پروردگار ہوں تم لوگ روانہ ہو جاؤ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں پھر پل صراط کو رکھا جائے گا، جس پر آگ کے بنے ہوئے آنکڑے ہوں گے جو لوگوں کو اچک لیں گے اس مقام پر شفاعت کی اجازت دی جائے گی ( اور میں یہ دعا کروں گا) ”اے اللہ ! سلامت رکھنا اے اللہ ! سلامت رکھنا “۔ جب آدمی اس پل کو پار کر لے گا، تو ہر وہ شخص جس نے اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں دیا ہو گا، تو جنت کے دربان اسے بلائیں گے اے اللہ کے بندے اے مسلمان یہ بھلائی ہے، تو اسے کہا جائے گا اے اللہ کے بندے اے مسلمان یہ بھلائی ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ایسے شخص کو کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ اگر وہ کوئی ایک دروازے کو چھوڑ دے اور دوسرے دروازے سے داخل ہو جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا اور ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے یہ امید ہے ، تم بھی ان لوگوں میں سے ایک ہو گے“۔ عبدالجبار نامی راوی بیان کرتے ہیں: سفیان نامی راوی نے یہ روایت مجھے املا کروائی تھی۔

سَأَلَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالُوا: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُفْيَانُ: سَمِعَهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، مَعِي مِنْ سُهَيْلٍ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the preference for alimony for the sake of God · Hadith 4642

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ · حديث 4643

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الرَّبَذَةَ فَلَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا مَالُكَ؟، قَالَ: مَالِي عَمَلِي، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا تُحَدِّثُنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: بَلَى، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ» وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ»، قُلْتُ: وَمَا زَوْجَانِ مِنْ مَالِهِ؟، قَالَ: عَبْدَانِ مِنْ رَقِيقِهِ، فَرْسَانِ مِنْ خَيْلِهِ بَعِيرَانِ مِنْ إِبِلِهِ

صعصعہ بن معاویہ جو احنف بن قیس کے چچا ہیں وہ بیان کرتے ہیں: میں ربذہ آیا وہاں میری ملاقات حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے دریافت کیا: اے ابو ذر! آپ کا مال کیا ہے انہوں نے جواب دیا: میرا مال میرا عمل ہے میں نے کہا: اے ابو ذر مجھے کوئی ایسی حدیث بیان نہیں کریں گے جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جن بھی دو مسلمانوں (یعنی مسلمان میاں بیوی) کے تین بچے فوت ہو جائیں جو ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنے فضل کی وجہ سے ان دونوں (میاں بیوی) کو جنت میں داخل کر دے گا“۔ میں نبی اکرم ﷺ کو یہ بات بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی شخص اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی بارگاہ میں خرچ کرتا ہے، تو جنت کے دربان تیزی سے ا س کی طرف لپکتے ہیں“۔ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا: مال میں سے کسی چیز کے جوڑے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ کہ اپنے غلاموں میں سے دو غلام آزاد کر دے یا اپنے گھوڑوں میں سے دو گھوڑے دیدے یا اپنے اونٹوں میں سے دو اونٹ دیدے۔

بَلٰی ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← مَالِي عَمَلِي، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا تُحَدِّثُنِي حَدِيثًا ← قَدِمْتُ الرَّبَذَةَ فَلَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ،فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا مَالُكَ؟، ← صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← الْحَسَنِ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the preference for alimony for the sake of God · Hadith 4643

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ · حديث 4644

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ: قَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَمُّ الْأَحْنَفِ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ مَا مَالُكَ؟، قَالَ: مَالِي عَمَلِي، فَقُلْتُ: حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ابْتَدَرَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ»، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا زَوْجَانِ؟ قَالَ: فَرْسَانِ مِنْ خَيْلِهِ بَعِيرَانِ مِنْ إِبِلِهِ، عَبْدَانِ مِنْ رَقِيقِهِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا تُسَمِّي الْفَرْدَيْنِ الْمُتَلَازِمَيْنِ زَوْجَيْنِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ} [الذاريات: 49]

صعصعہ بن معاویہ جو حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کے چچا ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں” ربذہ“ میں حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: اے حضرت ابو ذر آپ کا مال کیا ہے انہوں نے جواب دیا: میرا مال میرا عمل ہے میں نے کہا: آپ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، تو جنت کے دربان تیزی سے اس کی طرف لپکتے ہیں“۔ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا: جوڑے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ کہ اپنے گھوڑوں میں سے دو گھوڑے دیدے یا اپنے اونٹوں میں سے دو اونٹ دیدے یا اپنے غلاموں میں سے دو غلام دیدے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) عرب اپنے محاورے میں ایک ہی جیسی دو چیزوں کیلئے لفظ جوڑا استعمال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بھی ارشاد فرمایا ہے: ”اور ہم نے ہر چیز میں سے جوڑے پیدا کیے ہیں“۔

الْحَسَنِ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the preference for alimony for the sake of God · Hadith 4644

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ · حديث 4645

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَقَدْ أَوْرَدَ رَوَاحِلَ لَهُ، فَسَقَاهَا، ثُمَّ أَصْدَرَهَا وَقَدْ عَلَّقَ قِرْبَةً فِي عُنُقِ رَاحِلَةٍ لَهُ مِنْهَا، لِيَشْرَبَ مِنْهَا، وَيَسْقِي أَصْحَابَهُ، وَذَلِكَ خُلُقٌ مِنْ [ص:503] أَخْلَاقِ الْعَرَبِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ: مَا مَالُكَ؟ قَالَ: مَالِي عَمَلِي، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ»، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ مَا هَذَانِ الزَّوْجَانِ؟، فَقَالَ: إِنْ كَانَ رِجَالًا فَرَجُلَانِ، وَإِنْ كَانَتْ خَيْلًا فَفَرَسَانِ، وَإِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَانِ، حَتَّى عَدَّ أَصْنَافَ الْمَالِ كُلَّهُ قُلْتُ: إِيهٍ يَا أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ»

صعصعہ بن معاویہ بیان کرتے ہیں: ” ربذہ“ کے مقام پر میری ملاقات حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی وہ اپنے اونٹوں کو (پانی کے پاس) لائے ہوئے تھے اور انہیں پانی پلا رہے تھے پھر وہ اپنی سواری کی طرف بڑھے انہوں نے اپنی سواری کی گردن میں مشکیزہ لٹکایا ہوا تھا تا کہ اس سے پانی پی لیا کریں انہوں نے پہلے اپنے ساتھیوں کو پانی پلایا۔ یہ بات عربوں کی روایات میں شامل تھی میں نے کہا: اے ابوذر آپ کامال کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میرا مال میرا عمل ہے میں نے کہا: اے ابو ذر آپ نے نبی اکرم ﷺ کو کیا بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے انہوں نے فرمایا: میں نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنے مال میں سے جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، تو جنت کے دربان تیزی سے اس کی طرف لپکتے ہیں“۔ میں نے دریافت کیا: اے ابوذر جوڑے سے مراد کیا ہے انہوں نے فرمایا: اگر غلام ہو، تو دو غلام اگر گھوڑے ہوں، تو دو گھوڑے اگر اونٹ ہوں، تو دو اونٹ (اللہ کی راہ میں خرچ کیے جائیں)، یہاں تک کہ انہوں نے مال کی تمام اصناف گنوا دیں۔ میں نے کہا: اے ابوذر! مزید(کوئی حدیث بیان کیجئے) تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جن بھی دو مسلمانوں (یعنی مسلمان میاں بیوی) کے تین بچے فوت ہو جائیں ، تو اللہ تعالیٰ ان (بچوں) پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے ان دونوں (میاں بیوی) کو جنت میں داخل کر دے گا“۔

صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← الْحَسَنِ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the preference for alimony for the sake of God · Hadith 4645

chevron_left Previous
1…131415…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr