Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4610

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ، أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرِ أَوْ غَنِيمَةٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کا ضامن ہے، جو اس کی راہ میں جہاد کرتا ہے، جو اپنے گھر سے صرف جہاد کرنے اور اس کے کلمے کی تصدیق کرنے کے لیے نکلتا ہے“۔ (اللہ تعالیٰ اس بات کا ضامن ہوتا ہے) اس شخص کو جنت میں داخل کر دے گا یا پھر اسے اس کے اس گھر کی طرف لے آئے گا جہاں سے وہ نکلا تھا اور اس کے ساتھ اجر بھی ہو گا اور مالِ غنیمت بھی ہو گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4610

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4611

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ، كَمَا [ص:472] بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَهُوَ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَهُوَ أَعْلَى الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ الْعَرْشُ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهُوَ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ» يُرِيدُ بِهِ أَنَّ الْفِرْدَوْسَ فِي وَسَطِ الْجِنَّانِ، فِي الْعَرْضِ، وَقَوْلُهُ «وَهُوَ أَعْلَى الْجَنَّةِ» يُرِيدُ بِهِ: فِي الِارْتِفَاعِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بے شک جنت میں ایک سو درجے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کیلئے تیار کیا ہے ان میں سے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے، تو جب اتم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو، کیونکہ یہ درمیانے درجے کی جنت ہے اور وہ اعلیٰ درجے کی جنت ہے اور اس کے اوپر عرش ہے اور جنت کی تمام نہریں اسی سے پھوٹتی ہیں۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان وہ درمیانے درجے کی جنت ہے اس کے ذریعے آپ ﷺ کی مراد یہ ہے فردوس جنت کے درمیان میں ہے یعنی چوڑائی کے حوالے سے درمیان میں ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ وہ جنت سب سے بلند درجہ ہے اس سے آپ ﷺ کی مراد یہ ہے: بلند ہونے کے اعتبار سے (وہ سب سے اوپر ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4611

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4612

أَخْبَرَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَبَا سَعِيدٍ، مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رِبًا، وَبِالْإِسْلَامِ دَينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»، فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ، وَقَالَ أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ»، [ص:474] قَالَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ابو سعید! جو شخص اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے، اسلام کے دین ہونے، حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہو (یعنی ان پر ایمان رکھتا ہو) تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کو یہ بات بہت پسند آئی انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! یہ بات میرے سامنے دوہرا دیجئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسری چیز بھی ہے، جس کے ذریعے بندے کے ایک سو درجے بلندکر دئیے جاتے ہیں، جن میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ دوسری چیز کیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4612

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4613

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْحَاجُّ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّهِ دَعَاهُمْ فَأَجَابُوهُ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے والا، بیت اللہ کی طرف حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں بلایا ہوتا ہے وہ اس کے بلاوے پر آتے ہیں“۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْجَعْفَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4613

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4614

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً»

حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر چلاتا ہے، تو یہ غلام آزاد کرنے کی مانند (ثواب کا باعث ہوتا ہے)“

«مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً» ← رَسُولِ اللَّهِ ← كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ، ← شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4614

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4615

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ، بِنَسَا، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ [ص:476] زَنْجُوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ»، قَالَ: فَبَلَغَتْ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا. قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو نَجِيحٍ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ

حضرت ابو نجیح سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا میں نی نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ”جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلاتا ہے، (یعنی دشمن تک پہنچے) تو یہ بات اس کے لیے جنت میں ایک درجے کا باعث ہوتی ہے“۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس دن میں نے سولہ تیر چلائے تھے۔ (یعنی جو دشمن تک پہنچے) شیخ ابو حاتم بیان کرتے ہیں: حضرت ابو نجیح رضی اللہ عنہ کا نام رعمرو بن عبسہ سلمی ہے۔

الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو نَجِيحٍ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ ← فَبَلَغَتْ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا. ← «مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ»، ← حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ الطَّائِفَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← حُمَيْدُ بْنُ [ص:476] زَنْجُوَيْهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4615

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4616

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، قَالَ: قُلْنَا لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ: يَا كَعْبُ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ رَفَعَ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً لَهُ»، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النَّحَّامِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الدَّرَجَةُ؟، قَالَ: «أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ بِعَتَبَةِ أُمِّكَ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُمْ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ: حَدِّثْنَا وَاحْذَرْ يُرِيدُونَ بِقَوْلِهِمْ: وَاحْذَرْ أَنْ لَا تَزِلَّ فَتُزِيدَ أَوْ تَنْقُصَ، وَلَمْ يُرِيدُوا بِقَوْلِهِمْ: وَاحْذَرْ أَنْ لَا تَكْذِبَ لِأَنَّهُمْ كُلُّهُمْ عُدُولٌ رَحِمَهُمُ اللَّهُ وَأَلْحَقَنَا بِهِمْ

شرجیل بن سمط بیان کرتے ہیں: ہم نے حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے حضرت کعب رضی اللہ عنہ آپ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ہمیں کوئی حدیث بیا ن کیجئے اور احتیاط کیجئے گا، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص دشمن کو تیر مارتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے“۔ تو حضرت عبدالرحمٰن بن نحام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! درجے سے مراد کیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ (تمہاری والدہ کے گھر کی) چوکھٹ کی طرح نہیں ہے، بلکہ دو درجوں کے درمیان ایک سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہوتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) لوگوں کا حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہنا کہ آپ ہمیں حدیث بیان کیجئے اور احتیاط کیجئے گا اس قول کے ذریعے ان کی مراد یہ تھی کہ آپ اس بات سے احتیاط کیجئے گا کہ کہیں آپ غلطی نہ کر جائیں اور زیادہ یا کم الفاظ نہ بیان کریں ان لوگوں کی یہ مراد نہیں تھی کہ آپ غلط بیانی کرنے سے احتیاط کیجئے گا، کیونکہ تمام صحابہ عادل ہیں اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے اور ہمیں بھی (آخرت میں ) ان کا ساتھ نصیب کرے۔

لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ النَّحَّامِ: ← «مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ رَفَعَ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً لَهُ»، ← رَسُولِ اللَّهِ ← رَسُولِ اللَّهِ وَاحْذَرْ ← قلْنَا لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ يَا كَعْبُ ← شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4616

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4617

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: [ص:478] سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ وَهُوَ بِحِصْنِ الْعَدُوِّ أَوْ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ»، فَقَامَ رَجُلٌ رَثَّ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسَى أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَجَاءَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ»، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ، فَأَلْقَاهُ، ثُمَّ مَضَى بِسَيْفِهِ قُدُمَا، فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ

ابوبکر بن عبداللہ بن قیس بیان کرتےہیں: میں نے اپنے والد (حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا وہ اس وقت دشمن کے قلعے کے پاس تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دشمن کے مدمقابل تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے“۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو ایک شخص کھڑا ہوا جس کی حالت کوئی بہت اچھی نہیں تھی اس نے کہا: اے حضرت ابو موسیٰ! کیا آپ نے خود نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور بولا: میری طرف سے تم سب کو سلام ہو پھر اس شخص نے اپنی تلوار کی نیام کو توڑ دیا اور اسے ایک طرف رکھ دیا پھر وہ اپنی تلوار لے کر آگے کی طرف بڑھا اور اس کے ساتھ لڑتا ہوا شہید ہو گیا۔

وَهُوَ بِحِصْنِ الْعَدُوِّ أَوْ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ: ← أَبِي ← [ص:149] ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الْغُبَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4617

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4618

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرٍ السَّكْسَكِيِّ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَاتَلَ فِي [ص:479] سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»

حضر ت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اتنی دیر تک جنگ کرتا ہے جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ اترتا ہے، تو ایسے شخص کیلئے جنت واجب ہو جاتی ہے“۔

مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4618

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4619

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، بِالصَّغْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ [ص:480] الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنَا زَعِيمٌ، وَالزَّعِيمُ الْحَمِيلُ لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ، وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَأَنَا زَعِيمٌ لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَبَيْتٍ فِي أَعْلَى غُرَفِ الْجَنَّةِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ لَمْ يَدَعْ لِلْخَيْرِ مَطْلَبًا، وَلَا مِنَ الشَّرِّ مَهْرَبًا، يَمُوتُ حَيْثُ شَاءَ أَنْ يَمُوتَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الزَّعِيمُ لُغَةً: أَهْلُ الْمَدِينَةِ، وَالْحَمِيلُ لُغَةً: أَهْلُ مِصْرَ، وَالْكَفِيلُ لُغَةً: أَهْلُ الْعِرَاقِ، وَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ الزَّعِيمُ الْحَمِيلُ» مِنْ قَوْلِ ابْنِ وَهْبٍ أُدْرِجَ فِي الْخَبَرِ «

حضرت فضالہ بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں اس شخص کا ضامن ہوں ، جو مجھ پر ایمان لائے اور اسلام قبول کرے اور ہجرت کرے (میں اس بات کا ضامن ہوں) اسے جنت کے گوشے میں گھر ملے اور جنت کے درمیان میں گھر ملے گا اور جو شخص مجھ پر ایمان لاتا ہے اور اسلام قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتا ہے میں اس کے لیے اس بات کا ضامن ہوں کہ جنت کے ایک گوشے میں گھر ملے گا اور جنت کے درمیان میں ایک گھر ملے گا اور جنت کے بالائی حصے میں گھر ملے گا، جو شخص ایسا کرتا ہے وہ بھلائی کے لیے مزید کسی طلب کو باقی نہیں رہنے دیتا اور برائی کیلئے بھاگنے کا راستہ باقی نہیں رہنے دیتا اور پھر اس کی مرضی ہے، وہ جہاں چاہے مر جائے“۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) الزعیم اہل مدینہ کے محاورے میں استعمال ہوتا ہے اور لفظ حمیل اہل مصر کے محاورے میں استعمال ہوتا ہے اور لفظ کفیل اہل عراق کے محاورے میں استعمال ہوتا ہے، تو اس بات کا امکان موجود ہے، یہاں زعیم کی بجائے لفظ حمیل کا استعمال ابن وہب کے الفاظ ہوں جس کو اس روایت میں درج کر دیا گیا۔

عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ، ← أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أبو الطاهر أحمد بن عمرو بن السرح ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4619

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4620

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا [ص:481] يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: أَلَا لَا تَغْلُوا صَدَاقَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلَاكُمْ وَأَحَقُّكُمْ بِهَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا امْرَأَةً مِنْ بَنَاتِهِ، أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا مَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ، مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا، فَلَا تَقُولُوا ذَاكَ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ»

ابو عجفاء بن سلمی بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: خبردار خواتین کے مہر میں غلو نہ کرو، کیونکہ اگر یہ بات دنیا میں عزت افزائی کا باعث ہوتی، یا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پرہیزگاری کا باعث ہوتی، تو اس بارےمیں تم میں سب سے زیادہ حق دار حضرت محمد ﷺ ہوتے، لیکن نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج میں سے اور اپنی صاحب زادیوں میں سے کسی بھی خاتون کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا دوسری بات یہ ہے: جو شخص جنگ کے دوران مارا جاتا ہے تم کہتے ہو وہ شہید ہے تم لوگ یہ بات نہ کہو، بلکہ تم لوگ وہ بات کہو جو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمائی تھی۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمائی تھی: جو شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو شخص اللہ کی راہ میں مر جائے وہ جنت میں ہو گا۔

خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِي ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابن عون وهشام بن حسان ← [ص:298] يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4620

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4621

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، - وَكَانَ قَدْ صَامَ النَّهَارَ، وَقَامَ اللَّيْلِ ثَمَانِينَ سَنَةً غَازِيًا وَمُرَابِطًا - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَصَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس روزہ دار اور نوافل ادا کرنے والے کی مانند ہے، جو کسی (نفلی) روزے کو ترک نہیں کرتا اور (نفل) نماز کو ترک نہیں کرتا جب تک وہ شخص (جہاد سے ) واپس نہیں آ جاتا“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4621

chevron_left Previous
1…111213…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr