Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4598

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ: أَيَّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ»، قَالَ: ثُمَّ أَيُّ؟، قَالَ: «الْجِهَادُ [ص:459] فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَنَامُ الْعَمَلِ»، قَالَ: ثُمَّ أَيُّ؟، قَالَ: «حَجٌّ مَبْرُورٌ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا: کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھان۔ سائل نے پوچھا: پھر کون سا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا عمل کی کوہان ہے (یعنی سب سے بہترین عمل ہے) سائل نے دریافت کیا: پھر کون سا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مبرور حج۔

«حَجٌّ مَبْرُورٌ» ← ثُمَّ أَيُّ؟، ← «الْجِهَادُ [ص:459] فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَنَامُ الْعَمَلِ»، ← ثُمَّ أَيُّ؟، ← «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ»، ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ سُئِلَ: أَيَّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4598

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4599

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبِ الْبَلْخِيُّ، بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: «رَجُلٌ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ص:460] بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ، ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ اللَّهَ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اس نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کون سا شخص زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنا مال و جان کے ہمراہ جہاد کرے پھر وہ مومن جو کسی گھائی میں رہ کر اللہ کی عبادت کرتا رہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ فقَالَ: ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4599

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4600

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ خَيْرُ النَّاسِ فِيهِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كُلَّمَا سَمِعَ بِهَيْعَةٍ اسْتَوَى عَلَى مَتْنِهِ، ثُمَّ طَلَبَ الْمَوْتَ مَظَانَّهُ، وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَدَعُ النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرِهِ»

حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا، جب ان کے درمیان قدرو منزلت کے اعتبار سے سب سے بہتر شخص وہ ہو گا، جو اپنے گھوڑے کی لگام تھام کر اللہ کی راہ میں جہاد کیلئے چلا جائے گا، جب بھی وہ جنگ کی پکار کو سنے گا گھوڑے کی پشت پر سوار ہو گا اور پھر موت کا طلب گار ہو گا، یا وہ شخص جو کسی گھائی میں مقیم رہ کر نماز قائم کرتا رہے، زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور لوگوں کے ساتھ صرف بھلائی کرے“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4600

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4601

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَاتِلُ أَوْ أُسْلِمُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلِمْ، ثُمَّ قَاتِلْ»، فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتِلْ، فَقُتِلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا»

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جس نے لوہے کا لباس پہناہوا تھا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا میں جنگ میں حصہ لوں، یا اسلام قبول کر لوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسلام قبول کر لو پھر تم جنگ میں حصہ لو۔ اس شخص نے اسلام قبول کر لیا، پھر اس نے جنگ میں حصہ لیا اور شہید ہو گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس نے عمل تھوڑا کیا ہے، لیکن اسے اجر زیادہ ملے گا۔

أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ: ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4601

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4602

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، [ص:462] عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ کی راہ میں (جہاد کیلئے) صبح کے وقت جانا یا شام کے وقت جانا، دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے زیادہ بہتر ہے“۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٌ، [ص:331] ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4602

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4603

أَخْبَرَنَا خَلَّادُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيِّ، بِنَهَرِ [ص:463] سَابُسَ عَلَى الدِّجْلَةِ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ فِي الرِّبَاطِ، فَفَزِعُوا إِلَى السَّاحِلِ، ثُمَّ قِيلَ: لَا بَأْسَ، فَانْصَرَفَ النَّاسُ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَاقِفٌ، فَمَرَّ بِهِ إِنْسَانٌ، فَقَالَ: مَا يُوقِفُكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَوْقِفُ سَاعَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ قِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «سَمِعَ مُجَاهِدٌ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَحَادِيثَ مَعْلُومَةً بَيْنَ سَمَاعِهِ فِيهَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، وَقَدْ وَهِمَ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَيْئًا لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ مَاتَ سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ، وَكَانَ مَوْلِدُ مُجَاهِدٍ سَنَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَمَاتَ مُجَاهِدٌ سَنَةَ ثَلَاثَ وَمِئَةٍ، فَدُلَّ هَذَا عَلَى أَنَّ مُجَاهِدًا سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ کچھ لوگوں کے ساتھ پہرہ داری کر رہے تھے اسی دوران یہ بات کہی گئی کہ ساحل کی طرف سے خطرہ ہے پھر یہ بات بیان کی گئی کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے لوگ واپس چلے گئے، لیکن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وہیں ٹھہرے رہے ایک صاحب ان کے پاس سے گزرے انہوں نے دریافت کیا: اے ابوہریرہ! آپ کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کی راہ میں ایک گھڑی تک کھڑے رہنا شب قدر میں حجر اسود کے پاس نوافل ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے“۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) مجاہد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعین احادیث کا سماع کیا ہے۔ عمر بن ذر نے ان سے احادیث کا سماع کیا تھا اور اس شخص کو غلط فہمی ہوئی ہے، جس نے یہ گمان کیا کہ مجاہد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی بھی حدیث کا سماع نہیں کیا ہے کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اٹھاون ہجری میں ہوا تھا جب کہ مجاہد کی پیدائیش حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اکیس ہجری میں ہوئی تھی اور مجاہد کا انتقال ایک سو تین ہجری میں ہوا تو یہ چیز اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے، مجاہد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہوا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← الْمُقْرِئُ ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ← خَلَّادُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِيُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيِّ، بِنَهَرِ سَابُسَ عَلَى الدِّجْلَةِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4603

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4604

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْمَهْرِيِّ، [ص:464] حَدَّثَنَا أَبُو الْمُصَبِّحِ الْمَقْرَائِيُّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ بِأَرْضِ الرُّومِ فِي طَائِفَةٍ عَلَيْهَا مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيُّ إِذْ مَرَّ مَالِكٌ بِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَمْشِي يَقُودُ بَغْلًا لَهُ، فَقَالَ لَهُ مَالِكٌ: أَيْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ارْكَبْ فَقَدْ حَمَلَكَ اللَّهُ، فَقَالَ جَابِرٌ: أُصْلِحُ دَابَّتِي وَأَسْتَغْنِي عَنْ قَوْمِي، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ»، فَأَعْجَبَ مَالِكًا قَوْلُهُ فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ حَيْثُ يُسْمِعُهُ الصَّوْتَ نَادَاهُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ارْكَبْ، فَقَدْ حَمَلَكَ اللَّهُ، فَعَرَفَ جَابِرٌ الَّذِي أَرَادَ بِرَفْعِ صَوْتِهِ، وَقَالَ: أُصْلِحُ دَابَّتِي وَأَسْتَغْنِي عَنْ قَوْمِي، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ»، فَوَثَبَ النَّاسُ عَنْ دَوَابِّهِمْ، فَمَا رَأَيْنَا يَوْمًا أَكْثَرَ مَاشِيًا مِنْهُ «الْمُقْرِيُّ: قَرْيَةٌ بِدِمَشْقَ، وَالْمَهْرِيُّ: سِكَّةٌ بِالْفُسْطَاطِ قَالَهُ الشَّيْخُ»

ابو مصبح بیان کرتے ہیں: ہم لوگ روم کی سر زمین پر ایک گروہ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے جن کے نگران مالک بن عبداللہ خشعمی تھے مالک کا گزر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو اپنے خچر کو ساتھ لے کر پیدل چل رہے تھے مالک نے ان سے کہا: اے ابو عبداللہ آپ سوار ہو جائیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو سواری عطا کی ہے، تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنی سواری کو تیار رکھا ہے میں لوگوں سے بے نیاز ہوں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں (جہاد کیلئے جاتے ہوئے) غبار آلود ہو جائیں، تو اللہ تعالیٰ اس شخص پر جہنم کو حرام کر دیتا ہے“۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو مالک کو ان کی یہ بات پسند آئی مالک وہاں سے آگے چلے گئے اور اتنی دور چلے گئے جہاں سے ان کی آواز حضرت جابر رضی اللہ عنہ تک جا سکتی تھی وہاں پہنچ کر انہوں نے بلند آواز میں یہ کہا: اے ابو عبداللہ ! سوار ہو جائیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو سواری عطا کی ہے، تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ اس نے بلند آواز میں یہ بات کیوں کہی ہے انہوں نے فرمایا: میں نے اپنی سواری کو ٹھیک رکھا ہوا ہے مجھے اپنی قوم کی ضرورت بھی نہیں ہے (میں اس لیے پیدل چل رہا ہوں)، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے: ”جس کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں (جہاد پر جاتے ہوئے) غبار آلود ہو جائیں اللہ تعالیٰ اس شخص پر جہنم کو حرام قرار دے دیتا ہے“۔ تو تمام لو گ اپنی سواریوں سے نیچے اتر گئے۔ راوری کہتے ہیں: ہم نے اس دن سے زیادہ پیدل چلتے ہوئے لوگ کبھی نہیں دیکھے۔ مقری دمشق (کے قریب) ایک گاؤں ہے اور مہری فسطاط میں ایک کوچہ ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

أَبُو الْمُصَبِّحِ الْمَقْرَائِيُّ، ← حُصَيْنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْمَهْرِيِّ، ← عتبة بن أبي حكيم ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4604

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4605

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَدْرَكَنِي عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَنَا أَمْشِي إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَى النَّارِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَبُو عَبْسٍ هَذَا: مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ اسْمُهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَبْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ بْنِ جُشَمِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ الْأَنْصَارِيُّ، مَاتَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ، وَدُفِنَ بِالْبَقِيعِ، وَدَخَلَ قَبْرَهُ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ، وَكُلُّ مَا يَرْوِي الْوَلِيدُ مِنْ رِوَايَةِ الشَّامِيِّينَ فَهُوَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَمَا يَكُونُ مِنْ رِوَايَةِ الْعِرَاقِيِّينَ فَهُوَ بُرَيْدٌ»

یزید بن ابو مریم بیان کرتے ہیں: میں جمعہ کیلئے جا رہا تھا عبا یہ بن رفاعہ میرے پاس پہنچے اور انہوں نے بتایا: میں نے حضرت ابو عبس رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے دونوں پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوں اللہ تعالیٰ اس کے (دونوں پاؤں یعنی اس شخص) کو جہنم کیلئے حرام قرار دے دیتا ہے“۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) حضرت ابو عبس رضی اللہ عنہ نامی راوی اہل بدر سے تعلق رکھتے ہیں، جن کا نام عبدالرحمٰن بن جبیر بن عمرو بن زید بن جشم بن حارثہ بن حارث بن خزرج انصاری ہے ان کا انتقال 43 ہجری میں ہوا تھا انہیں، جنت بقیع میں دفن کیا گیا تھا۔ حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ ان کی قبر میں اتر ے تھے۔ اہل شام کی روایت میں ولید نامی راوی یزید بن ابو مریم ہو گا اور اہلِ عراق کی روایت میں برید ہو گا۔

أَبَا عَبْسٍ ← أَمْشِي إِلَى الْجُمُعَةِ، ← أَدْرَكَنِي عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُوسَی بْنُ عَامِرٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4605

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4606

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجْتَمِعُ فِي جَوْفِ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفَيْحُ جَهَنَّمَ، وَلَا يَجْتَمِعُ فِي جَوْفِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالْحَسَدُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی مومن بندے کے پیٹ میں اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوں گے اور کسی بھی بندے کے پیٹ میں ایمان اور حسد اکٹھے نہیں ہو سکتے“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، بِالْفُسْطَاطِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4606

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4607

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْوَزَّانُ، بِجُرْجَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْتَمِعُ دُخَانُ جَهَنَّمَ وَغُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جہنم کا دھواں اور اللہ کی راہ کا غبار کسی مسلمان کے نتھنے میں اکٹھے نہیں ہو سکتے“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطُ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْوَزَّانُ بِجُرْجَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4607

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4608

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، أَنَّهَا قَالَتْ: نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: «نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ»، قَالَتْ: [ص:468] فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَهَا، فَقَالَتْ مِثْلَ قَوْلِهَا، فَأَجَابَهَا مِثْلَ قَوْلِهَا الْأَوَّلِ، قَالَتْ: فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ»، فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيَةً أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزَاتِهِمْ قَرَّبَ إِلَيْهَا دَابَّتِهَا لِتَرْكَبَهَا فَصُرِعَتْ فَمَاتَتْ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قَبْرُهَا بِجَزِيرَةٍ فِي بَحْرِ الرُّومِ، يُقَالُ لَهَا: قُبْرُسُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَيْهَا قَلْعُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی خالہ سیّدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم ﷺ میرے ہاں سو گئے جب آپ ﷺ بیدار ہوئے ، تو مسکرا رہے تھے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اس سبز سمندر پر یوں سوار تھے جس طرح بادشاہ اپنے تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ سیّدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کیلئے دعا کر دی پھر نبی اکرمﷺ دوسرے مرتبہ سوئے پھر ایسا ہی ہوا اس خاتون نے اسی کی مانند بات کہی۔ نبی اکرم ﷺ نے اسی کی مانند جواب دیا: جو پہلے دیا تھا اس خاتون نے عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم پہلے والوں میں ہو۔ (راوی بیان کرتے ہیں) وہ خاتون اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جہاد میں حصہ لینے کیلئے گئی تھیں یہ اس پہلی جنگ کی بات ہے، جس میں مسلمانوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں سمندر میں جنگ کی تھی جب یہ خاتون اس جنگ سے واپس تشریف لائی ان کی سواری ان کے قریب کی گئی یہ اس پر سوار ہوئی تو یہ اس سے گر گئی اور ان کا انتقال ہو گیا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس خاتون کی قبر بحر روم میں ایک جزیرے میں ہے اس جزیرے کو قبرس کہا جاتاہے۔ مسلمانوں کے علاقے سے وہاں تک تین دن کا سفر ہے۔

نَامَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ، فَقُلْتُ: ← خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، أَنَّهَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4608

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4609

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مِعَنٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ بِمِنًى: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا كُنْتُ كَتَمْتُكُمُوهُ ضَنًّا بِكُمْ، وَقَدْ بَدَا لِي أَنْ أُبْدِيَهُ نَصِيحَةً لِلَّهِ وَلَكُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَوْمٌ [ص:470] فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ، فَلْيَنْظُرْ كُلُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ لِنَفْسِهِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَبُو مِعَنٍ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مِعَنٍ الْغِفَارِيُّ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَأَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ مِنْ أَهْلِ الرَّمْلَةِ، وَأَبُو صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ اسْمُهُ: الْحَارِثُ»

ابو صالح جو حضرت عثمانی غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں: حضرت عثمانی غنی رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں مسجد خیف میں یہ بات ارشاد فرمائی: اے لوگو! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے: میں نے تمہارے ساتھ بخل کی وجہ سے اسے تم سے چھپا رکھا تھا، لیکن اب یہ مجھے مناسب محسوس ہوا کہ میں اللہ تعالیٰ اور تمہارے لیے خیر خواہی کرتے ہوئے اسے ظاہر کر دوں میں نے نبی اکرم ﷺ کویہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کی راہ میں ایک گزارنا اس کے علاوہ ایک ہزار ن گزارنے سے بہتر ہے، تو اب تم میں سے ہر شخص کو اپنے بارے میں جائزہ لے لینا چاہئے“۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ابو معن نامی راوی محمد بن معن غفاری ہے یہ اہل مدینہ سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ ابو عقیل نامی راوی زہرہ بن معبدہے اور یہ اہل رملہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ابو صالح کا نام حارث ہے۔

أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو عَقِيلٍ ← أَبُو مَعْنٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4609

chevron_left Previous
1…101112…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr