Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4586

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُقَرِّبُونَ شِرَارَ النَّاسِ، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلَا يَكُونَنَّ عَرِيفًا، وَلَا شُرْطِيًا، وَلَا جَابِيًا، وَلَا خَازِنًا»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے جو لوگوں میں سے برے لوگوں کو اپنا مقرب بنائیں گے وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر کے ادا کریں کے تم میں سے جو شخص ان کا زمانہ پالے، تو وہ سرکاری اہل کا یا سپاہی یا ملازم یا خزانچی نہ بنے“۔

أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ، ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4586

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4587

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟، قَالَ: «تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ، وَتَسْأَلُونَ الَّذِي لَكُمْ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب (تمہارے ساتھ) ترجیحی سلوک بھی ہو گا اور کچھ ایسی چیزیں بھی آئیں گی جو تمہیں ناپسند ہوں گی۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! (ایسی صورت حال کے بارے میں ) آپ ﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس فرض کو ادا کرنا جو تمہارے ذمے لازم ہے اور جو تمہارا حق ہے اس کا تم مطالبہ کرنا۔“

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4587

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4588

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا»

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو ہم پر ہتھیار اٹھاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں“۔

«مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا» ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4588

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4589

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِيَارُكُمْ وَخِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ، وَشِرَارُكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ»، قِيلَ: أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا، مَا أَقَامُوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، أَلَا وَمَنْ لَهُ وَالٍ فَيَرَاهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا يَنْزِعْ يَدًا مِنْ طَاعَتِهِ»

حضرت عوف بن مالک اشجی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم میں سے بہترین لوگ اور تمہارے بہترین حکمران وہ لوگ ہیں، جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں وہ تمہارے لیے دعا رحمت کریں اور تم ان کے لیے دعاء رحمت کرو جبکہ تمہارے برے ترین افراد اور تمہارے برے حکمران وہ لوگ ہیں، جنہیں تم نا پسند کرو اور وہ تمہیں ناپسند کریں تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں ۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم ان سے الگ نہ ہو جائیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں اس وقت تک (الگ نہ ہونا) جب تک وہ پانچ نمازیں ادا کریں۔ خبردار جس شخص کا کوئی نگران ہو اور وہ اس نگران کو دیکھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ہو رہا ہے، تو وہ شخص اس نافرمانی کے ارتکاب کو ناپسند کرے، لیکن اس کی فرمانبرداری سے ہاتھ نہ کھینچے“۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4589

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4590

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ صَالِحٍ، بِإِنْطَاكِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُورُسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعَنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قُورُسُ: قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى إِنْطَاكِيَةَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں“۔ (امام ابن حباب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) قورس انطاکیہ کی ایک بستی ہے۔

أَبُو حَاتِمٍ: «قُورُسُ: قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى إِنْطَاكِيَةَ» ← «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ← مَالِكٍ، ← مَعْن بن عيسی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُورُسِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ صَالِحٍ، بِإِنْطَاكِيَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4590

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4591

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ، بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا أُبَالِي أَنْ [لا] أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ [الإِسْلاَم إِلاَّ أَنْ أَسْقِيَ الحاجَّ، وَقَالَ آخَرٌ: مَا أُبَالِي أَنْ لاَ أَعْمَلَ عَمَلاً بَعْدَ] الْإِسْلَامِ إِلَّا [أَنْ] أَعْمُرُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَقَالَ آخَرُ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: «{أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَوونَ عِنْدَ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} [التوبة: 19]» *

حضر ت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے منبر کے پاس موجود تھا ایک شخص بولا: میں اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتا کہ اسلام قبول کرنے کےبعد میں کوئی اور عمل (نہ) کروں، ماسوائے اس بات کے کہ میں مسجد حرام کو آباد کروں، بیت اللہ کا حج کرنے یا عمرہ کرنے کیلئے جاؤں دوسرے شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا اس چیز پر زیادہ فضیلت رکھتا ہے، جو تم نے بیان کی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے کو اور مسجد حرام کو آباد کرنے کو اس شخص کی مانند قرار دے دیا ہے، جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو اور آخرت کے دنپر ایمان رکھتا ہو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ برابر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں کرتا“۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبَا سَلَّامٍ، ← زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَیْرُوتَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4591

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4592

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(مکہ کے) فتح ہونے کے بعد ہجرت باقی نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت (باقی ہیں)“۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← شَيْبَانَ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4592

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4593

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ لَهُ: تَسْلَمُ وَتَذَرُ دِينَكَ، وَدِينَ آبَائِكَ، فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ فَغَفَرَ لَهُ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ لَهُ: تُهَاجِرُ وَتَذَرُ أَرْضَكَ، وَسَمَاءَكَ، فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ، فَقَالَ لَهُ: تُجَاهِدُ وَهُوَ جَهْدُ النَّفْسِ، وَالْمَالِ، فَتُقَاتِلُ فَتَقْتُلُ، فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ، وَيُقْسَمُ الْمَالُ، فَعَصَاهُ فَجَاهِدَ»، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَمَاتَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ [ص:454] وَقَصَتْهُ دَابَّةٌ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةُ»

حضرت سبرہ بن ابو فاکہہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے: ”بے شک شیطان، انسان (کو گمراہ کرنے) کیلئے اسلام کے راسے میں بیٹھ جاتا ہے وہ اس سے دریافت کرتا ہے کیا تم اسلام قبول کرنے لگے ہو اور اپنے دین کو اور اپنے آباؤ اجداد کے دین کو ترک کرنے لگے ہو؟ اگر آدمی اس کی بات کو نہ مانے اور اسلام قبول کر لے، تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے پھر شیطان اسے (پھنسانے کیلئے) ہجرت کے راستے میں بیٹھتا ہے۔ شیطان اس سے کہتا ہے: کیا تم ہجرت کرنے لگے ہو تم اپنی زمین اور آسمان کو چھوڑنے لگے ہو اگر وہ شخص اس شیطان کی نافرمانی کر کے ہجرت کر لے ، تو پھر شیطان اس کو (گمراہ کرنے کیلئے ) جہاد کے راستے میں بیٹھتا ہے۔ شیطان اس سے کہتا ہے: تم جہاد میں حصہ لینے لگے ہو یہ تو جان اور مال دونوں کے ساتھ ہوتا ہے تم لڑائی میں حصہ لو گے تو تم مارے جاؤ گے تمہاری بیوی کہیں اور شادی کر لے گی۔ تمہارا مال تقسیم ہو جائے گا۔ آدمی اس کی بات نہیں مانتا اور جہاد میں حصہ لے لیتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایسا کرتا ہے اور پھر انتقال کر جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے، وہ اس شخص کو جنت میں داخل کرے اور جو شخص (جہاد کے دوران) قتل ہو جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے، اسےجنت میں داخل کرے اور اگر وہ شخص ڈوب کر مر جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے، وہ اسے جنت میں داخل کرے اور اگر وہ شخص اپنی سواری سے گر کر مر جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے ، اسے جنت میں داخل کرے“۔

سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مُوسَى بْنِ الْمُسَيَّبِ ← أبو عقيل الثقفي ← هاشم بن القاسم ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4593

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4594

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الْأَنْصَارِيُّ، بِدِمَشْقَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ*، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ: جَلَسْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلَهُ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ يَسْأَلَهُ مِنَّا أَحَدٌ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْرِدُنا رَجُلًا رَجُلًا، يَتَخَطَّى غَيْرَنَا، فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ لِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَ إِلَيْنَا؟، فَفَزِعْنَا أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِينَا، قَالَ: «فَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ}، قَالَ: فَقَرَأَ مِنْ فَاتِحَتِهَا إِلَى خَاتِمَتِهَا، ثُمَّ قَرَأَ يَحْيَى مِنْ فَاتِحَتِها إِلَى خَاتِمَتِهَا، ثُمَّ قَرَأَ الْأَوْزَاعِيُّ مِنْ فَاتِحَتِهَا إِلَى خَاتِمَتِهَا، وَقَرَأَهَا الْوَلِيدُ مِنْ فَاتِحَتِهَا إِلَى خَاتِمَتِهَا

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے کچھ اصحابہ کرام کے درمیان بیٹھا ہوا تھا میں نے کہا: آپ میں سے کون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جا کر آپ سے یہ سوال کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل زیادہ پسندیدہ ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: تو ہم اس بات سے گھبرا گئے کہ ہم میں سے کوئی ایک نبی اکرم ﷺ سے سوال کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ایک، ایک کر کے بلایا آپ نے صرف ہمیں بلایا ہم آپﷺ کی بارگاہ میں اکٹھے ہو گئے توہم میں سے کسی ایک نے دوسرے کی طرف اشارہ کر کے دریافت کیا: نبی اکرم ﷺ نے ہمیں کیوں بلایا ہے؟ ہمیں اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں ہمارے بارے میں (قرآن کا کوئی حکم) نازل نہ ہو گیا ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ ”اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے، ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو، جو تم کرتے نہیں ہو“۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے شروع سے لے کر آخر تک یہ سورۃ ہمارے سامنے تلاوت کی۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر یحییٰ نامی راوی نے بھی ( یہ روایت نقل کرتے ہوئے) یہ سورۃ شروع سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔ پھر اوزاعی نامی راوی نے بھی یہ سورۃ شروع سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔ پھر ولید نامی راوی نے بھی یہ سورۃ شروع سے لے کر آخر تک تلاوت کی۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الْأَنْصَارِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4594

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4595

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَ سَمِعَ الْقَوْمَ [ص:456] وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ»، ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنَا أَشْهَدُ، وَأَشْهَدُ لَا يَشْهَدُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ»

یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یا رسول اللہ ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرورحج ، پھر نبی اکرم ﷺ نے وادی میں کسی کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا۔ ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے بے شک حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں“۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور میں اس بات کی گواہی بھی دیتا ہوں کہ جو بھی شخص اس بات کی گواہی دے گا وہ شرک سے بر ی ذمہ ہو گا۔

الْقَوْمَ [ص:456] وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ← بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ إِذَ ← أَبِيهِ ← يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ← ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4595

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4596

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ»، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيُّ الرِّقَابِ [ص:457] أَفْضَلُ؟، قَالَ: «أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، وَأَغْلَاهَا ثَمَنًا»، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ، قَالَ: «تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ»، قُلْتُ: فَإِنْ ضَعُفْتُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَدَعِ الشَّرَّ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ»

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا، اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: کون سا غلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنے مالک کے نزدیک عمدہ ہو اور جس کی قیمت زیادہ ہو۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اگر میں ایسا نہ کر سکوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر تم کسی کام کرنے والے کی مدد کر دو یا جو شخص کوئی کام نہیں کر سکتا اس کے لیے کوئی کام کر دو۔ میں نے دریافت کیا: اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر تم شرکو چھوڑ دو، کیونکہ یہ صدقہ ہو گا، جو تم اپنی ذات پر کرو گے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي مُرَاوِحٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4596

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4597

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، [ص:458] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَغَزْوٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «حَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ تُكَفِّرُ الْخَطَايَا سَنَةً» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَبُو جَعْفَرٍ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہتر عمل ایسا ایمان ہے، جس میں کوئی شک نہ ہو اور ایسا جہاد ہے، جس میں کوئی خیانت نہ ہو اور مبرور حج ہے“۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مبرور حج ایک سال کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ابو جعفر نامی راوی امام محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابو طالب (یعنی امام محمد الباقر) ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي جَعْفَرٍ، [ص:458] ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ -هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ-، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4597

chevron_left Previous
1…91011…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr