Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4478

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: أَلَا تَسْتَخْلِفُ؟ فَقَالَ: «إِنْ أَتْرُكْ، فَقَدْ تَرَكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو بَكْرٍ» فَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: «إِنِّي وَدِدْتُ أَنْ أَتَخَلَّصَ مِنْهَا لَا عَلَيَّ وَلَا لِي»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کی گئی آپ کسی کو اپنا جانشین مقرر کیوں نہیں کرتے انہوں نے فرمایا: اگر میں اس چیز کو ترک کرتا ہوں، تو اس ہستی نے اسے ترک کیا تھا جو مجھ سے بہتر ہے اور وہ نبی اکرم ﷺ تھے اور اگر میں کسی کو اپنا جانشین مقرر کر دیتا ہوں، تو اس شخصیت نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا جو مجھ سے بہتر ہیں اور وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں پھر انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور یہ بات ارشاد فرمائی : میری یہ خواہش ہے، میں اس معاملے سے خلاصی حاصل کر لوں نہ میرے ذمے کچھ ہو اور نہ میرے حق میں کچھ ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إسحاق بن موسیٰ الأنصاري ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Hadith 4478

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4479

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، جَمِيعًا عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا آلَيْتَ عَلَى يَمِينٍ وَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكِ»

حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اے عبدالرحمٰن! تم حکومتی عہدے کو طلب نہ کرنا، کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے سے ملا تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا اور اگر یہ تمہیں مانگے بغیر ملا تو اس بارے میں تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم اٹھا لو اور پھر اس کے علاوہ (دوسری) صورت حال کو بہتر سمجھو تو وہ کام کرو جو زیادہ بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو“۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ الْقُرَشِيِّ، ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، جَمِيعًا ← هُشَيْمٌ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَوْنٍ،

Hadith 4479

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4480

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ وَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكِ»

حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: اے عبدالرحمٰن ! حکومتی عہدے کو نہ مانگنا، کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے سے ملا تو کہیں اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملا تو اس بارے میں تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم اٹھاؤ اور اس کے برخلاف صورت کو اس سے زیادہ بہتر سمجھو تو وہ کام کرو جو زیادہ بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 4480

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4481

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِّرْنَا عَلَى بَعْضِ مَا وَلَّاكَ اللَّهُ، وَقَالَ الْآخَرُ: مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا وَاللَّهِ لَا نُوَلِّي عَلَى هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ، وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور میرے دو چچا زاد بھائی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دو میں سے ایک نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حکومت عطا کی ہے اس میں سے کسی معاملے کا ہمیں بھی اہل کار مقرر کر دیں دوسرے شخص نے بھی اس کی مانند بات کہی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم ! ہم اس کام کا نگران کسی ایسے شخص کو مقرر نہیں کریں گے جو اسے مانگتا ہے اور نہ کسی ایسے شخص کو مقرر کریں گے جو اس کا لالچ کرتا ہو۔

وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ: ← دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4481

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4482

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ، وَإِنَّهَا سَتَكُونُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَةُ، وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عنقریب تم حکومتی عہدوں کا لالچ کرو گے اور قیامت کے دن یہ چیز ندامت اور حسرت کا باعث ہوگی، تو دودھ پلانے والی اچھی شمار ہوتی ہے اور دودھ چھڑانے والی بری شمار ہوتی ہے“۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4482

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4483

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِحِرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ، [ص:336] لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ أَنَّهُمْ كَانُوا مُعَلَّقِينَ بِذَوَائِبِهِمْ بِالثُّرَيَّا، وَأَنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا وُلُّوا شَيْئًا قَطُّ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سرکاری اہلکاروں کے لیے خرابی ہے عنقریب کچھ لوگ اس بات کی آرزو کریں گے کہ انہیں ان کے بالوں کے ساتھ اوج ثریا پر لٹکا دیا جاتا، لیکن انہیں کسی (حکومتی عہدے) کا اہلکار مقرر نہ کیا جاتا“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مَعْمَرٌ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← النُّفَيْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِحِرَّانَ،

Hadith 4483

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4484

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُقْسِطُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرٍ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الْمُقْسِطُونَ عَلَى أَهْلِيهِمْ، وَأَوْلَادَهُمْ، وَمَا وَلُّوا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «هَذَا الْخَبَرُ مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ أُطْلِقَ لَفْظُهُ عَلَى حَسَبِ مَا يَتَعَارَفُهُ النَّاسُ فِيمَا بَيْنَهُمْ، لَا عَلَى الْحَقِيقَةِ لِعَدَمِ وُقُوفِهِمْ عَلَى الْمُرَادِ مِنْهُ إِلَّا بِهَذَا الْخِطَابِ الْمَذْكُورِ وَالْمُقْسِطُ: الْعَدْلُ، وَالْقَاسِطُ: الْعَادِلُ عَنِ الطَّرِيقِ»

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”(دنیا میں ) انصاف کرنے والے لوگ قیامت کے دن رحمان کے دائیں طرف نور کے منبروں پر ہوں گے حالانکہ اس (رحمٰن) کے دونوں طرف دائیں ہیں وہ لوگ جو اپنی بیویوں کے ساتھ اپنی اولاد کے ساتھ اور جس معاملے کے وہ نگران بنتے ہیں ان کے ساتھ انصاف سے کام لیتے ہیں“۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت کے الفاظ لوگوں کے عام محاورے کے مطابق ہیں اور یہاں وہ لفظ استعمال ہوئے ہیں جو لوگ انے محاورے میں استعمال کرتے ہیں اس کا حقیقی مفہوم مراد نہیں ہے، کیونکہ اس کی مراد سے واقفیت حاصل نہیں کی جا سکتی وہ واقفیت صرف انہی الفاظ میں حاصل کی جا سکتی ہے، جو اس روایت میں ذکر ہوئے ہیں۔ لفظ ”مقسط “کا مطلب انصاف کرنا ہے اور لفظ ”قاسط“ مطلب راستے سے ہٹ جائے والا ہے۔

أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 4484

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4485

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «[ص:338] الْمُقْسِطُونَ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُّوا»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”انصاف کرنے والے لوگ رحمان کے دائیں طرف ہوں گے ویسے اس کے دونوں طرف ہی دائیں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا فیصلہ کرنے میں اپنے بیوی بچوں کے ساھ تعلقات میں اور اپنی ذمے داریوں میں انصاف سے کام لیتے ہیں“۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ،

Hadith 4485

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4486

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ تَعَالَى، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتَ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سات لوگ ایسے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنا سایہ نصیب کرے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حکمران، وہ نوجوان جس کی نشوونما اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے ہوئی، وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کر رہا ہو، تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں، وہ شخص جس کا دل مسجد کے ساتھ معلق رہتا ہو وہ دو افراد جو اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ ملتے ہیں اسی وجہ سے جدا ہوتے ہیں۔ ایک وہ شخص کوئی صاحب حیثیت اور خوب صورت عورت اپنی ذات کی طرف (گناہ کی ) دعوت دیتی ہے اور وہ شخص یہ کہتا ہے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جو کوئی صدقہ کرتے ہوئے اسے اتنا پوشیدہ رکھتا ہے، بائیں ہاتھ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4486

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4487

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ*، [ص:340] قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ، فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: الْقَوَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكُمْ كَذَا وَكَذَا»، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ: «لَكُمْ كَذَا وَكَذَا»، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ: «لَكُمْ كَذَا وَكَذَا» فَرَضُوا، وَقَالَ: «أَرَضِيتُمْ؟ »، قَالُوا: نَعَمْ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے حضر ابو جہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے ہوئے ایک شخص کی ان کے ساتھ بحث ہو گئی۔ حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ نے اسے مارا اور زخمی کر دیا۔ وہ لوگ انبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! ہمیں قصاص دلوائیے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم یہ چیزیں لے لو (اور اس پر راضی ہو جاؤ)، لیکن وہ لوگ اس پر راضی نہیں ہوئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ، یہ چیزیں مزید لے لو وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم یہ، یہ چیزیں مزید لے لو تو وہ اس بات پر راضی ہوگئے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تم راضی ہوگئے ہو۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ*، [ص:340] ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4487

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4488

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، [ص:341] عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ هِيتًا* كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَعُدُّونَهُ مِنْ أُولِي الْإِرْبَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يَنْعَتُ امْرَأَةً، وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَا هُنَا؟ لَا يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ» وَأَخْرَجَهُ، فَكَانَ بِالْبَيْدَاءِ يَدْخُلُ كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ يَسْتَطْعِمُ

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہیت نبی اکرمﷺ کی ازواج کے ہاں آیا جایا کرتا تھا لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس میں نفسانی خواہش نہیں ہے۔ ایک دن نبی اکرمﷺ اس کے پاس آئے، تو وہ کسی عورت کی خوبصورتی کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے، تو اس کی چار سلوٹیں پڑتی ہیں اور جب وہ جاتی ہے، تو اس کی آٹھ سلوٹیں ہوتی ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں یہ نہیں دیکھ رہا کہ اسے ان چیزوں کا پتہ ہے۔ یہ تمہارے ہاں نہ آیا کرے۔ نبی اکرمﷺ نے اسے وہاں سے نکلوا دیا، تو وہ کھلے میدان میں رہا کرتا تھا اور جمعے کے دن کھان لینے کے لیے آیا کرتا تھا۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 4488

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4489

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ: فَالْأَمِيرُ رَاعٍ عَلَى النَّاسِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْؤُولَةٌ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے حساب لیا جائے گا۔ حکمران اپنی رعایا کا نگران ہے اور اس سے اس بارے میں حساب لیا جائے گا آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اس سے اس بارے میں حساب لیا جائے گا اور غلام اپنے آقا کے مال کے بارے میں نگران ہے اس سے اس بارے میں حساب لیا جائے گا خبردار تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک شخص سے حساب لیا جائےگا“۔

النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4489

chevron_left Previous
1234…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr