صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4478
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: أَلَا تَسْتَخْلِفُ؟ فَقَالَ: «إِنْ أَتْرُكْ، فَقَدْ تَرَكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو بَكْرٍ» فَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: «إِنِّي وَدِدْتُ أَنْ أَتَخَلَّصَ مِنْهَا لَا عَلَيَّ وَلَا لِي»
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کی گئی آپ کسی کو اپنا جانشین مقرر کیوں نہیں کرتے انہوں نے فرمایا: اگر میں اس چیز کو ترک کرتا ہوں، تو اس ہستی نے اسے ترک کیا تھا جو مجھ سے بہتر ہے اور وہ نبی اکرم ﷺ تھے اور اگر میں کسی کو اپنا جانشین مقرر کر دیتا ہوں، تو اس شخصیت نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا جو مجھ سے بہتر ہیں اور وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں پھر انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور یہ بات ارشاد فرمائی : میری یہ خواہش ہے، میں اس معاملے سے خلاصی حاصل کر لوں نہ میرے ذمے کچھ ہو اور نہ میرے حق میں کچھ ہو۔
ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إسحاق بن موسیٰ الأنصاري ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،
Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4478
