صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2538
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي عَنْ ذَلِكَ غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَتْنِي «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأَمَرَ بِثَوْبٍ، فَسُتِرَ عَلَيْهِ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ، كُلُّ ذَلِكَ مُتَقَارِبَةٌ» ، قَالَتْ: «فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ» (1) . [1: 2]
عبید اللہ بن عبداللہ بن حارث اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے اس بارے میں تحقیق کی اور مجھے اس بات کی بڑی جستجو تھی، مجھے کوئی ایسا شخص ملے جو مجھے اس بارے میں بتائے نبی اکرمﷺ نے چاشت کی نماز ادا کی ہے تو مجھے صرف سیّدہ اُمّ ہانی ؓ ملیں جنہوں نے مجھے اس بارے میں بتایا: انہوں نے مجھے بتایا نبی اکرمﷺ فتح مکہ کے دن دن چڑھ جانے کے بعد تشریف لائے آپ کے حکم کے تحت آپ کے پردے کے لئے کپرا لٹکا دیا آپ نے غسل کیا پھر آپ نے اٹھ کر آٹھ رکعات ادا کی میں اندازہ نہیں کر سکتی ، ان میں آپ کا قیام زیادہ طویل تھایا رکوع زیادہ طویل تھایا سجدہ زیادہ طویل تھا یہ سب ایک دوسرے کے قریب قریب تھے سیّدہ ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی بھی آپ کو اس وقت میں نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّ أَبَاهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ
Hadith 2538
