Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ قَطْعِ الطَّرِيقِ · حديث 4469

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ بَنِي عُكْلٍ، أَوْ قَالَ: مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا، «فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى بَرِئُوا»، وَذَهَبَ سَقَمُهُمْ، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَرَدُوا النَّعَمَ، «فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ غُدْوَةً، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ، فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، وَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ»، قَالَ: فَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ: «هَؤُلَاءِ قَوْمٌ قَتَلُوا، وَسَرَقُوا، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو عکل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفا ظ ہیں) عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے۔ وہاں کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اونٹوں کی طرف جانے کا حکم دیا آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ جب انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا اور ان کی بیماری ختم ہو گئی تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ یہ اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی تو نبی اکرم ﷺ نے صبح کے وقت ان کے پیچھے مہم روانہ کر دی۔ دن چڑھ جانے کے بعد ان کو پکڑ کر لایا گیا ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئیے گئے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر دیں اور انہیں تپتے پتھروں پر ڈال دیا وہ لوگ پانی مانگتے تھے، لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ابو قلابہ نے یہ بات بیان کی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے قتل بھی کیا چوری بھی کی ایمان لانے کے بعد کفر بھی اختیار کیا اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ بھی کی ( اس لیے انہیں اتنی سخت سزا دی گئی)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4469

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ قَطْعِ الطَّرِيقِ · حديث 4470

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا [ص:322] عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ، وَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا؟ »، فَقَالُوا: بَلَى، فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَصَحُّوا، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَرَدُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَجَلَبَهُمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، وَنَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عکل قبیلے سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا اس علاقے کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی۔ ان کے جسم بیمار ہو گئے، تو نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا: تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اونٹوں کی طرف کیوں چلے جاتے۔ وہاں تم ان کا دودھ اور پیشاب پی لینا۔ ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، پھر وہ لوگ نکلے (اور وہاں چلے گئے) وہاں انہوں نے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا۔ جب وہ تندرست ہو گئے، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ساتھ لے گئے اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو روانہ کیا۔ انہوں نے انہیں پکڑ لیا نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے گئے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں اور انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أبو رجاء مولى أبي قلابة ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عبد الله بن محمد المديني

Hadith 4470

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ قَطْعِ الطَّرِيقِ · حديث 4471

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُرَيْنَةَ، فَقَالَ لَهُمْ: «لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدِنَا فَكُنْتُمْ فِيهَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا»، فَفَعَلُوا، فَلَمَّا صَحُّوا قَامُوا إِلَى رَاعِي [ص:323] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُ، وَرَجَعُوا كُفَّارًا، وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَّلَ أَعْيُنَهُمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، تو عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: تم لوگ ہمارے اونٹوں کی طرف چلے جاؤ اور وہاں ٹھہرے رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو ( تو یہ مناسب ہو گا) ان لوگوں نے ایسا ہی کیا جب وہ لوگ تندرست ہو گئے، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے چرواہے کے پاس جا کر اس ے قتل کر دیا اور دوبارہ کافر ہو گئے اور نبی اکرم ﷺ کے اونٹ ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کی تلاش میں مہم روانہ کی ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ نَفَرٌ مِنْ عُرَيْنَةَ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 4471

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ قَطْعِ الطَّرِيقِ · حديث 4472

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ، وَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ، وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ، «فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعي، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا لِيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا»، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ، ثُمَّ تَرَكَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا عَلَى حَالِهِمْ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عکل (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) عرینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے اسلام کے بارے میں بات چیت کی (یعنی اسلام قبول کر لیا) انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم لوگ جانور پالنے والے لوگ ہیں ہم کھیتی باڑی کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ ان لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اونٹوں اور چرواہے کے پاس جانے کا حکم دیا آپ ﷺ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ لوگ جائیں اور ان اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ وہ لوگ چلے گئے، یہاں تک کہ وہ پتھریلے علاقے کے کنارے پر پہنچ گئے وہاں انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کو اختیار کیا اور نبی اکرم ﷺ کے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے پیچھے مہم روانہ کی۔ ان لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئیے گئ اور پھر انہیں پتھریلی زمین کے کنارے پر ڈال دیا گیا، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔

يَا نَبِيَّ اللَّهِ ← أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4472

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ قَطْعِ الطَّرِيقِ · حديث 4473

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، إِنَّ لِي عَبْدًا، وَإِنِّي نَذَرْتُ لِلَّهِ إِنْ أَصَبْتُهُ لَأَقْطَعَنَّ يَدَهُ، فَقَالَ: لَا تَقْطَعْ يَدَهُ، «فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِينَا فَيَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْمُثْلَةُ الْمَنْهِيُّ عَنْهَا لَيْسَ الْقَوَدُ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، لِأَنَّ أَخْبَارَ الْعُرَنِيِّينَ الْمُرَادُ مِنْهَا كَانَ الْقَوَدَ لَا الْمُثْلَةَ «

حسن بصری بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارا ایک غلام ہے میں نے اللہ کے نام کی یہ نذر مانی ہے، وہ اگر مجھے مل گیا تو میں اس کا ہاٹھ ضرور کاٹوں گا ، تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس کا ہاتھ مت کاٹنا، کیونکہ نبی اکرم ﷺ ایک دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور مثلہ کرنے سے آپﷺ نے ہمیں منع کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ممنوعہ مثلہ سے مراد یہ ہے: وہ کسی قصاص کے طور پر نہ ہو، کیونکہ عرینہ قبیلے کے لوگوں کے بارے میں روایات میں یہ بات مذکور ہے، اس سے مراد قصاص ہے مثلہ کرنا نہیں ہے۔

رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← القطان

Hadith 4473

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ قَطْعِ الطَّرِيقِ · حديث 4474

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْوَزَّانُ بِجُرْجَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ لِأَنَّهُمْ سَمَّرُوا أَعْيَنَ الرِّعَاءِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھروائیں، کیونکہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْوَزَّانُ بِجُرْجَانَ،

Hadith 4474

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الرِّدَّةِ · حديث 4475

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے دین (یعنی دین اسلام) کو تبدیل کر لے اسے قتل کر دو“۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 4475

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الرِّدَّةِ · حديث 4476

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ، بِمَكَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ دِينَهُ أَوْ قَالَ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ فَاقْتُلُوهُ، وَلَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ أَحَدًا يَعْنِي بِالنَّارِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اپنے دین کو (یعنی دین اسلام کو ) ترک کر دے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو شخص اپنے دین (یعنی دین اسلام ) سے رجوع کر لے، تو اسے قتل کر دو اور تم کسی بھی شخص کو وہ عذاب نہ دو جو عذاب اللہ تعالیٰ دے گا (راوی کہتے ہیں:)یعنی آگ کا عذاب“۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ، بِمَكَّةَ،

Hadith 4476

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الرِّدَّةِ · حديث 4477

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْلَمَ ثُمَّ ارْتَدَّ فَلَحِقَ بِالشِّرْكِ، ثُمَّ نَدِمَ فَأَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ أَنْ سَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ: {كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ} [آل عمران: 86]، إِلَى قَوْلِهِ: {إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَصْلِحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [آل عمران: 89]، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ قَوْمُهُ فَأَسْلَمَ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مسلمان ہو گیا پھر وہ مرتد ہو گیا اور مشرکین سے جا ملا پھر اسے ندامت ہوئی اس نے اپنی قوم کی طرف پیغام بھیجا کہ تم لوگ نبی اکرم ﷺ سے دریافت کرو کیا میرے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ”اللہ تعالیٰ اس قوم کو کیسے ہدایت نصیب کر سکتا ہے، جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جائیں جب کہ وہ اس بات کی گواہی دے چکے ہوں کہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس دلائل بھی آ چکے ہوں“۔ یہ آیت یہاں تک ہے۔ ”ماسوائے ان لوگوں کے جو اس کے بعد توبہ کر لیں اور وہ ٹھیک ہو جائیں بے شک اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے“۔ تو اس کی قوم نے اسے پیغام بھجوایا تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← عمر بن مُحَمَّد بن الْهَمْدَانِيُّ

Hadith 4477

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr