Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4433

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً»

حضرتابنابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو سنگسار کروایا تھا۔

ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← الشَّيْبَانِيِّ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4433

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4434

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ الْيَهُودَ، جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ؟ »، فَقَالُوا: نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ: كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا لَآيَةَ الرَّجْمِ، فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ، فَنَشَرُوهَا، فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ: ارْفَعْ يَدَكَ، فَرَفَعَ يَدَهُ، فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَقَالُوا: صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَأَمَرَ بِهِمَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَجْنِئُ عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ کچھ یہودی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے آپﷺ کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ ان سے تعلق رکھنے والے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، تو نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں سے دریافت کیا: تم لوگ سنگسار کرنے کے بارے میں ، تو رات میں کیا حکم پاتے ہو؟ تو ان لوگوں نے جواب دیا: ہم نے (اس جرم کے مرتکب افراد) کے بے عزت کرتے ہیں اور انہیں کوڑے لگاتے ہیں، تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے غلط کہا ہے۔ تورات میں رجم سے متعلق آیت موجود ہے۔ وہ لوگ تورات لے آئے انہوں نے اسے کھولا تو ان میں سے ایک شخص نے رجم سے متعلق آیت پر ہاتھ رکھ دیا اور اسے پہلے اور بعد والے حصے کو پڑھ دیا۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا: تم اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہاں رجم کے حکم سے متعلق آیت موجود تھی، تو ان لوگوں نے کہا: اے حضرت محمد ﷺ! انہوں نے ٹھیک کہا ہے اس میں رجم کے حکم سے متعلق آیت موجود ہے، تو نبی اکرمﷺ کے حکم کے مطابق اس مرد اور عورت کو سنگسار کر دیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اس شخص کو دیکھا وہ اس عورت کو پتھروں سے بچانے کے لیے اس پر جھکا ہو ا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4434

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4435

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيَّيْنِ رَجُلًا وَامْرَأَةً زَنَيَا، فَأَتَتْ بِهِمَا الْيَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَيْنِ زَنَيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ؟ »، قَالُوا: نَفْضَحْهُمَا وَنَجْلِدُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ إِنَّ فِيهَا آيَةَ الرَّجْمِ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ، فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ»، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ: كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ إِنَّ فِيهَا آيَةَ الرَّجْمِ، قَالَ: فَأَتَوْا [ص:281] بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا، وَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ صُورِيَا أَعْوَرُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، وَجَعَلَ يَقْرَأُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ: ارْفَعْ يَدَكَ، فَرَفَعَ يَدَهُ فَوَجَدَ آيَةَ الرَّجْمِ، فَقَالَتِ الْيَهُودُ: نَعَمْ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا الرَّجْمُ، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «وَأَنَا فِيمَنْ رَجَمَهُمَا يَوْمَئِذٍ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک یہودی عورت اور ایک یہودی مرد کو سنگسار کروا دیا تھا جنہوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ یہودی ان دونوں کو لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے بتایا: ان دونوں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تم لوگ تورات میں کیا حکم پاتے ہو؟ ان لوگوں نے جوب دیا: ہم تو ان کو رسوا کریں گے اور انہیں کوڑے لگائیں گے ، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا! تم نے غلط کہا ہے۔ اللہ کی قسم ! اس میں رجم کے حکم سے متعلق آیت موجود ہے۔ تم لوگ تورات لے آؤ اور اس کی تلاوت کرو اگر سچے ہو، تو حضر ت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے غلط بیانی کی ہے۔ اللہ کی قسم ! اس میں رجم کے حکم سے متعلق آیت موجود ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ لوگ تورات لے آئے انہوں نے اسے کھولا۔ یہودیوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ابن صوریا کانا تھا اس نے اپنا ہاتھ رجم سے متعلق آیت پر رکھ دیا اور اس سے پہلے اور بعد والے حصے کو پڑھ دیا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنے ہاتھ کو اٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم سامنے آ گئی ، تو یہودیوں نے کہا: اے حضرت محمدﷺ! اس میں سنگسار کرنے سے متعلق حکم موجود ہے، تو نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت ان دونوں (یعنی یہودی مرد اور عورت) کو سنگسار کر دیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن ان دونوں (یعنی یہودی مرد اور عورت) کو سنگسار کر دیا گیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← جُوَيْرِيَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4435

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4436

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُتِيَ بِرَجُلٍ أَشْعُرَ، قَصِيرٍ، ذِي عَضَلَاتٍ، أَقَرَّ بِالزِّنَى فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ، وَقَالَ: «كُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَتَخَلَّفُ أَحَدُكُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ، يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثَيْبَةَ، أَمَا إِنِّي لَنْ أُوتِيَ بِأَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَكَالًا»، وَرُبَّمَا قَالَ سِمَاكٌ: إِلَّا نَكَّلْتُهُ، [ص:282] قَالَ سِمَاكٌ: فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: رَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، قَالَ شُعْبَةُ، وَقَالَ الْحَكَمُ يَنْبَغِي أَنْ يَرُدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، وَقَالَ حَمَّادٌ: مَرَّةً

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھے ایک شخص آیا جس کے بال زیادہ تھے اس کا قد چھوٹا تھا اور جسم مضبوط تھا اس نے زنا کرنے کا اقرار کیا دو مرتبہ اسے واپس کر دیا گیا، پھر نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہم جب بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے جاتے ہیں، تو کوئی ایک شخص پیچھے رہ جاتا ہے، جونر جانور کی طرح آواز نکالتا ہے (یعنی عورت کو بہلا پھسلا کر) یا کچھ دے کر اس کے ساتھ زنا کر لیتا ہے۔ اب اس طرح کا جو بھی شخص میرے پاس لایا گیا تو میں اسے عبرت کا نشان بنا دوں گا “۔ سماک نامی راوی نے بعض اوقات ایک لفظ مختلف بیان کیا ہے۔ سماک نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر کے سامنے یہ روایت نقل کی تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرمﷺ نے اس شخص کو چار مرتبہ واپس کیا تھا۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: حکم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے یہ بات مناسب ہے، ایسے شخص کو چار مرتبہ واپس کیا جائے۔ جب کہ حماد نامی راوی نے یہ بات ذکر کی ہے، اسے ایک مرتبہ واپس کیا جائے۔

سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4436

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4437

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا قَالَا: إِنَّ رَجُلًا [ص:283] مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُنْشِدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ لِي بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَ الْخَصْمُ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ: نَعَمْ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَذَنْ لِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ»، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، وَإِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمُ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ، فَسَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ مَرْدُودٌ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا»، قَالَ: فَغَدَا عَلَيْهَا، فَاعْتَرَفَتْ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں۔ ایک دیہاتی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ میرے بارے میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ دیں۔ اس کے مخالف فریق نے، جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا اس نے کہا: جی ہاں: آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیجئے، لیکن مجھے آپ اجازت دیجئے (تا کہ میں مسئلہ بیان کر دوں) نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم کہو۔ اس نے عرض کی: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں ملازم تھا اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا مجھے یہ بات بتائی گئی میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا، تو میں نے اس کے عوض میں ایک سو بکریاں اور ایک کنیز فدیے کے طور پر دے دی پھر میں نے اہل علم سے دریافت کیا: تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا اور اس کی بیوی کو سنگسار کیا جائے گا، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کر دوں گا۔ کنیز اور بکریں تمہیں واپس مل جائیں گی تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اے انیس! تم اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ اگر وہ اعتراف کرتی ہے ، تو اسے سنگسار کر دو۔ راوی کہتے ہیں: اگلے دن وہ صاحب اس خاتون کے پاس گئے اس نے اعتراف کر لیا تو نبی اکرمﷺ کے اس عورت سے متعلق حکم کے مطابق اس عورت کو سنگسار کر دیا گای۔

إِنَّ رَجُلًا [ص:283] مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4437

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4438

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، قَالَ: فَسَأَلَ قَوْمَهُ: «أَبِهِ بَأْسٌ؟ »، فَقِيلَ: مَا بِهِ بَأْسٌ غَيْرَ أَنَّهُ أَتَى أَمْرًا يَرَى أَنَّهُ لَا يُخْرِجُهُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ يُقَامَ الْحَدُّ عَلَيْهِ، قَالَ: فَأَمَرَنَا فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: فَلَمْ نَحْفُرْ لَهُ وَلَمْ نُوثِقْهُ، فَرَمَيْنَاهُ بِخَزَفٍ وَعِظَامٍ وَجَنْدَلٍ، قَالَ: فَاشْتَكَى فَسَعَى، فَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ، فَأَتَى الْحَرَّةَ فَانْتَصَبَ لَنَا، فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِهَا حَتَّى سَكَنَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَشِيِّ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا بَعْدُ، مَا بَالَ أَقْوَامٍ إِذَا غَزَوْنَا تَخَلَّفَ أَحَدُهُمْ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ، أَمَا إِنَّ عَلَيَّ أَنْ لَا أُوتِيَ بِأَحَدٍ فَعَلَ ذَلِكَ إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ»، قَالَ: وَلَمْ يَسُبَّهُ، وَلَمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضر ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے چند مرتبہ انہیں واپس کیا۔ نبی اکرمﷺ نے ان کی قوم کے افراد سے دریافت کیا: کیا اسے کوئی بیماری ہے؟ عرض کی گئی اسے کوئی بیماری نہیں ہے البتہ اس کی یہ کیفیت ہے یہ سمجھتا ہے، اس نے جو جرم کیا ہے اس کا کفارہ یہی ہو سکتا ہے، اس پر حد قائک کی جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہمیں حکم دیا، تو ہم اسے لے کر بقیع غرقد کی طر ف آ گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے اس کے لیے کوئی گڑھا نہیں کھودا اسے باندھا نہیں ۔ ہم نے اسے پتھروں، ہدیوں اور جندل کے ذریعے مارنا شروع کیا۔ راوی کہتے ہیں: جب انہیں تکلیف ہوئی تو وہ بھاگے ہم بھی ان کے پیچھے بھاگے، یہاں تک کہ پتھریلی زمین کے پاس پہنچ کر وہ رک گئے ۔ ہم انہیں پتھر مارتے رہے ، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ شام کے وقت نبی اکرمﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: امابعد! ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جب ہم کسی غزوے میں شرکت کے لیے جاتے ہیں، تو ان میں سے کوئی ایک شخص ہمارے گھر والوں کے لیے پیچھے رہ جاتا ہے، جو نر جانور کی طرح آواز نکال کر (عورت کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے ) یہ بات میرے ذمے لازم ہے، اس طرح کا کوئی بھی شخص میرے پاس لایا گیا تو میں اسے عبرت ناک سزا دوں گا “۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے نہ تو اس شخص کو برا کہا اور نہ ہی اس کے لیے دعائے مغفرت کی

إِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ مِرَارًا، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى النَّبِيَّ ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4438

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4439

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ شِقِّهِ الْآخَرِ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَجَاءَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ، فَذَكَرُوا فِرَارَهُ [ص:288] لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: میں نے زنا کا ارتکاب کہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے منہ پھیر لیا۔ وہ چار مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرمﷺ نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں سنگسار کر دیا جائے۔ جب انہیں پتھر لگے تو وہ بھاگے ۔ لوگوں نے ان کے بھاگنے کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کیا کہ جب انہیں پتھر لگے تھے (تو وہ بھاگ پڑے تھے ) تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم نے اس چھوڑ کیوں نہیں دیا۔

جَاءَ مَاعِز الْأَسْلَمِيّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4439

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4440

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، وَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ [ص:289] شَهَادَاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، وَكَانَ قَدْ أَحْصَنَ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں: اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپﷺ کو بتایا اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اس نے اپنی ذات کے بارے میں چار مرتبہ یہ گواہی دی تو نبی اکرمﷺ کے حکم کے مطابق اس شخص کو سنگسار کر دیا گیا وہ شخص شادی شدہ تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4440

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4441

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلِيِّهَا، فَقَالَ: «أَحْسِنْ إِلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا»، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا، فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ عَلَى سَبْعِينَ مِنْ [ص:290] أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ؟ »

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے آپﷺ مجھ پر حد جاری کریں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اس کے ولی کو بلوایا آپﷺ نے فرمایا: اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، یہاں تک کہ یہ اپنے پیٹ میں موجود بچے کو جنم دے۔ جب یہ اسے جنم دیدے تو تم اسے میرے پاس لے آنا، پھر وہ شخص اس عورت کو نبی اکرمﷺ کے پاس لے آئے، تو نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا کہ اس کے کپڑوں کو باندھ دیا جائے پھر نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا پھر نبی اکرمﷺ نے اس عورت کی نماز جنازہ ادا کی ۔ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے لگے ہیں جب کہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا! اس نے ایسی توبہ کی ہے، اسے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ستر افراد پر تقسیم کیا جائے، تو ان سب کے لیے کافی ہو کیا تمہیں اس سے زیادہ افضل اور کوئی شخص ملتا ہے، اس نے اپنی جان اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر دی ہے۔

أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَالَتْ: ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← عَمِّہٖ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4441

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4442

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: قَدْ أَحْدَثْتُ وَهِيَ حُبْلَى، فَأَمَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَذْهَبَ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا، فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَتْ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَذْهَبَ فَتُرْضِعَهُ حَتَّى تَفْطِمَهُ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ فَأَمَرَهَا أَنْ تَدْفَعَ وَلَدَهَا إِلَى أُنَاسٍ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ، فَسَأَلَهَا إِلَى مَنْ دَفَعَتْ، فَأَخْبَرَتْ أَنَّهَا دَفَعْتُهُ إِلَى فُلَانٍ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَأْخُذَهُ وَتَدْفَعَهُ إِلَى آلِ فُلَانٍ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ إِنَّهَا جَاءَتْ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَشُدَّ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا، ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ إِنَّهُ كَفَّنَهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ دَفَنَهَا، فَقَالَ النَّاسُ: رَجَمَهَا، ثُمَّ كَفَّنَهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ دَفَنَهَا، فَبَلَغَ [ص:291] النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَقَالَ: «لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ تَوْبَتُهَا بَيْنَ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ»

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے بتایا: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور وہ حاملہ بھی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ جائے اور جا کر پہلے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو جنم دے۔ جب اس نے جنم دے دیا، تو وہ پھر آ گئی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ جائے اور اس بچے کو دودھ پلائے جب تک بچہ دودھ چھوڑ نہیں دیتا اس عورت نے ایسا ہی کیا وہ پھر آئی تو نبی اکرمﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنے بچے کو کسی کے سپرد کر کے آئے، تو اس عورت نے ایسا ہی کیا۔ وہ پھر آ گئی تو نبی اکرمﷺ نے اس سے دریافت کیا: اس نے بچے کو کس کے سپرد کیا ہے؟ اس عورت نے بتایا: میں نے اسے فلاں کے سپرد کر دیا ہے، تو نبی اکرمﷺ نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ ان سے بچے کو لے اور آل فلاں کے حوالے کرے۔ یہ انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں حکم دیا پھر وہ عورت آئی نبی اکرمﷺ نے اسے حکم دیا وہ اپنے کپڑے کو مضبوطی سے باندھ لے پھر نبی اکرمﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا، تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔ نبی اکرمﷺ نے اسے کفن دیا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی پھر آپﷺ نے اسے دفن کیا۔ لوگوں نے کہا: نبی اکرمﷺ نے پہلے اسے سنگسار کروایا پھر اسے کفن دیا پھر اس کی نماز جنازہ بھی ادا کی پھر اسے دفن بھی کروایا۔ جب اس بات کی اطلاع نبی اکرمﷺ تک پہنچی کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں، تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے، اگر اسے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ستر آدمیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے ، تو ان سب کے لیے کافی ہو۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4442

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4443

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخِي بَنِي رَقَاشٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ كَرْبٌ لِذَلِكَ، وَتَرَبَّدَ لَهُ وَجْهُهُ، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ، الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ رَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ، وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «هَذَا الْخَبَرُ دَالٌ عَلَى أَنَّ هَذَا الْحُكْمَ كَانَ مِنَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا عَلَى لِسَانِ صَفِيَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ مَا أَنْزَلَ حُكْمَ الزَّانِيَيْنِ، فَلَمَّا رُفِعَ إِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الزِّنَى وَأَقَرَّ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ وَغَيْرُهُ بِهَا، أَمَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِمْ وَلَمْ يَجْلِدْهُمْ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ عَلَى أَنَّ هَذَا آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ نَسْخُ الْأَمْرِ بِالْجَلْدِ لِلثَّيِّبَيْنِ وَالِاقْتِصَارُ عَلَى رَجْمِهِمَا»

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ پر وحی نازل ہوئی تھی ، تو آپﷺ کو مشکل درپیش ہوتی تھی اور آپﷺ کا چہر مبارک متغیر ہو جاتا تھا ایک دن آپﷺ پر وحی نازل ہوئی جب آپﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھ سے (حکم) حاصل کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حکم بیان کر دیا ہے۔ شادی شدہ شخص کا شادی شدہ کے ساتھ زنا اور کنوارے کا کنواری کے ساتھ زنا کرنا۔ شادی شدہ شخص کے شادی شدہ کے ساتھ زنا کرنے کے نتیجے میں ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور پھر پتھروں کے ذریعے سنگسار کر دیا جائے گا۔ اور کنوارے کے کنواری کے ساتھ زنا کرنے کی صورت میں ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے گا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) یہ روایت اس بات پر دلالت کر تی ہے یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، جو اس کے محبوب ﷺ کی زبانی ہے اور زنا کرنے والوں کے بارے میں یہ سب سے پہلا حکم ہے۔ یہی وجہ ہے، جب نبی اکرمﷺ کی خدمت میں زنا کا معاملہ پیش ہوا ور حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نے آپﷺ کے سامنے زنا کا اقرار کیا، تو نبی اکرمﷺ نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ آپﷺ نے انہیں کوڑے نہیں لگوائے۔ اس لیے میں نے جو چیز بیان کی ہے: نبی اکرمﷺ سے دو طرح کے حکم منقول ہیں ان میں سے آخری چیز وہ ہے، اور اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے ، شادی شدہ کو کوڑے مارنے کا حکم منسوخ ہے اور انہیں سنگسار کرنے پر اکتفاء کیا جائے گا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخِي بَنِي رَقَاشٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّارُ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4443

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4444

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ فَقَالَ: «إِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ سے ایسی کنیز کے بارے میں دریافت کیا گیا جو زنا کا ارتکاب کرتی ہے اور شادی شدہ نہیں ہوتی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اگر وہ زنا کا ارتکاب کرے تو تم اسے کوڑے مارو پھر اگر وہ زنا کا ارتکاب کرے تو اسے کوڑے مارو پھر اگر وہ زنا کا ارتکاب کرے تو اسے کوڑے مارو پھر اس فروخت کر دو خواہ ایک رسی کے عوض میں کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4444

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr