Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4409

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»

): حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاؤں، تو اسے مہلت دوں، جب تک میں چار گواہ نہیں لے آتا؟ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: جی ہاں!

لِرَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 4409

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4410

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا ظَهْرَ فِي قَوْمٍ الزِّنَى وَالرِّبَا إِلَّا أَحَلُوا بِأَنْفُسِهِمْ عِقَابَ اللَّهِ جَلَّا وَعَلَا»

عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود اپنے والد (حضر ت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی قوم میں زنا اور سود عام ہو جائیں، تو وہ لوگ اپنےلیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو حلال کر لیتے ہیں “۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4410

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4411

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَدْرُونَ [ص:260] مَنِ الْمُفْلِسُ؟ »، قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ، وَلَا مَتَاعَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ، وَقَدْ شَتَمَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيَقْعُدُ فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَ مَا عَلَيْهِ أَخَذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو،”مفلس“ کون ہوتا ہے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ہمارے درمیان وہ شخص مفلس شمار ہوتا ہے، جس کے پاس درہم نہ ہوں اور سازو سامان نہ ہو، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہو گا، جو قیامت کے دن نماز، روزہ، اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، اور اس نے (دنیا میں ) کسی کو گالی دی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، کسی کو مارا پیٹا ہو گا، تو اس شخص کو بٹھایا جائے گا اور اس کی کچھ نیکیاں کسی کو دے دی جائیں گی، کچھ نیکیاں کسی (دوسرے) کو دے دی جائیں گی ، یہاں تک کہ جب اس کے ذمے لازم ادائیگی سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی، تو دوسروں کے گناہ اس کے ذمہ ڈال دئیے جائیں گے اور پھر اس شخص کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 4411

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4412

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”چور، چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، زانی، زنا کرتےہوئے مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا اسے پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا۔ (تا ہم) اس کے بعد توبہ کی گنجائش ہوتی ہے “۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← الصُّوفِيُّ،

Hadith 4412

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4413

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْإِمَامُ الْكَذَّابُ، وَالْعَائِلُ الْمَزْهُوُّ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگ ایسے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا، بوڑھا زانی، جھوٹا حکمران، غریب متکبر “۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 4413

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4414

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ: [ص:262] حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللَّهِ أَكْبَرُ؟، قَالَ: «أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ»، قَالَ: ثُمَّ أَيُّ؟، قَالَ: «أَنْ تَزْنِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ»، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَهَا: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68]

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیا کرتےہیں: نبی اکرمﷺ سے دریافت کیا گیا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑ ا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دو حالانکہ اس (اللہ تعالیٰ) نے تمہیں پیدا کیا ہے، (سائل نے) دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی: ”اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ہمراہ کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرتے ، اور کسی ایسے فرد کو قتل نہیں کرتے (جس کے قتل کو) اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو، البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ زنا نہیں کرتے، جو ایسا کرتا ہے، وہ گناہ تک پہنچ جاتا ہے “۔

ثُمَّ أَيُّ؟، ← أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَکَ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ أَيُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللَّهِ أَكْبَرُ؟، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو شِهَابٍ، ← [ص:149] ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4414

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4415

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الذَّنْبِ [ص:263] أَعْظَمُ؟ قَالَ: «أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ»، قُلْتُ: إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ، ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ»، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟، قَالَ: «أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، [ص:264] عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٌ، وَوَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَلَسْتُ أُنْكِرُ أَنْ يَكُونَ أَبُو وَائِلٍ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَمِعَهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى يَكُونَ الطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَيْنِ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ سے دریافت کیا: کون سا گناہ زیادہ بڑ اہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دو، جبکہ اس (اللہ تعالیٰ) نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے عرض کی: بے شک یہ بہت بڑا ہے، پھر (اس کے بعد) کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس اندیشے کے تحت قتل کر دو، کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔ میں نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) یہ رویات ابو شہاب نے اعمش کے حوالے ، ابو وائل کے حوالے سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ وکیع نےیہ روایت ، اعمش، ابو وائل کے حوالے سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ شعبہ نے یہ روایت، احدب، ابووائل کے حوالے سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ منصور نے یہ روایت، ابووائل ، عمرو بن شرجیل کے حوالے سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ جریر نے یہ روایت اعمش، ابووائل ، عمروبن شرجیل کے حوالے سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ سفیان ثوری نے یہ روایت اعمش، منصور، واصل کے حوالے سے ، عمرو بن شرجیل کے حوالے سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ میں اس بات کا انکار نہیں کرتا کہ ابووائل نے یہ روایت حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہو اور عمرو بن شرجیل کے حوالے سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہو، تو یوں اس کے دونوں طرق محفوظ ہوں گے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلٍ أَبِي مَيْسَرَةَ، ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عبد الله بن أحمد الأزدي،

Hadith 4415

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4416

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: [ص:265] حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: «أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ»، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟، قَالَ: «أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ»، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟، قَالَ: «أَنْ تَزْنِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ»، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ} [الفرقان: 68]

حضرت عبداللہ بن مسعور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی : یا روسول اللہ ﷺ! کون سا گناہ زیادہ بڑاہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراؤ حالانکہ اس (اللہ تعالیٰ) نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے عرض کی: پھر کیا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔ میں نے دریافت کیا: پھر کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺ کے اس قول کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی۔ ”اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرتے اور وہ کسی ایسی جان کو قتل نہیں کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو، البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ زنا نہیں کرتے “۔

قُلْتُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← [ص:149] ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 4416

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4417

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنِ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَهَ الْأَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ» - قَالَهَا [ص:266] ثَلَاثًا فِي عَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ -*. عَبْدُ الْمَلِكِ هُوَ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو غیراللہ کے نام پر جانور ذبح کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو زمین کی حد بندی کو تبدیل کرے اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی جو نابینا شخص کو بھٹکا دے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو اپنے ماں باپ کو گالی دے۔ اللہ تعالیٰ نےاس شخص پر لعنت کی ہے، جو اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو قوم لوط کے سے عمل کا مرتکب ہو “۔ (راوی بیان کرتے ہیں) قوم لوط کے عمل کے بارے میں آپﷺ نے تی مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی۔ عبدالملک نامی راوی ابو عامر عقدی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 4417

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4418

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، [ص:267] حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرِهِمَا»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت نہیں کرتا جو کسی مرد یا عورت کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرتا ہے “۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، [ص:267] ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4418

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4419

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَاللِّسَانُ يَزْنِي، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ، وَيُحَقِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ”دونوں آنکھیں زنا کرتی ہیں، زبان زنا کرتی ہے، دونوں ہاتھ زنا کرتے ہیں، دونوں پاؤں زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے یا اسے جھٹلا دیتی ہے “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 4419

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4420

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ [ص:268] إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهُ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَتَبَ اللَّهُ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَى، أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ: فَزِنَى الْعَيْنُ النَّظَرُ، وَزِنَى اللِّسَانِ النُّطْقُ، وَالنَّفْسُ تَتَمَنَّى ذَلِكَ وَتَشْتَهِي، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو گناہ کے ساتھ اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو، جس کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا ہے، نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ”اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کے نصیب میں زنا کا حصہ لکھ دیاہے، جس تک وہ لامحالہ پہنچے گا، تو آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا، بولنا ہے اور نفس خواہش اور آرزو کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تردید کرتی ہے “۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهُ بِاللَّمَمِ مِمَّا ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ يَعْنِي ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ [ص:268] إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 4420

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr