Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4397

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِقَامَةُ حَدٍّ بِأَرْضٍ خَيْرٌ لِأَهْلِهَا مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”کسی سرزمین پر حد کا قائم ہونا وہاں کے رہنے والوں کے لیے چالیش دن تک مسلسل بارش ہونے سے زیادہ بہتر ہے “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 4397

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4398

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ، [عَنْ جَرِير بْنِ يَزِيد، عَنْ أَبِي زُرعَة بن عَمْرو] * عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَدٌّ يُقَامُ فِي الْأَرْضِ خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”زمین پر حد کا قائم ہوجانا چالیس دن تک بارش ہونے سے زیادہ بہترہے “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← جَرِير بْنِ يَزِيد، ← عِيسَى بْنُ يَزِيدَ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4398

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4399

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، [ص:245] قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الصَّامِتِ، ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: جَاءَ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ بِالزِّنَى، يَقُولُ: أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا، وَفِي ذَلِكَ يَعْرِضُ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ: «أَنِكْتَهَا؟ »، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: «هَلْ غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِيهَا كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟ »، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: «فَهَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا؟ »، قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مِثْلَ مَا يَأْتِي الرَّجُلَ مِنِ امْرَأَتِهِ حَلَالًا، قَالَ: «فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟ »، قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرْجَمَ فَرُجِمَ، فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا، فَمَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: «أَيْنَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ؟ »، فَقَالَا: نَحْنُ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُمَا: «كُلَا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ»، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ هَذَا الرَّجُلِ آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكَلِ هَذِهِ الْجِيفَةِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ الْآنَ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسلمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے اپنی ذات کے بارے میں چار مرتبہ زنا کرنے کی گواہی دی اس نے یہ کہا: میں نے ایک عورت کے ساتھ حرام طور پر (صحبت کی ہے) نبی اکرم ﷺ اس سے اعراض کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب وہ پانچویں مرتبہ آیا، تو نبی اکرمﷺ نے اس سے دریافت کیا: کیا تم نے اس عورت کے ساتھ صحبت کی ہے اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہاری شرم گاہ اس کی شرم گاہ میں یوں غائب ہو گئی تھی جس طرح سرمہ دانی میں سلائی گم ہو جاتی ہے یا کنویں میں رسی چلی جاتی ہے اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تم جانتے ہو زنا کیاہے۔ اس نے جواب دیا : جی ہاں میں نے اس عورت کے ساتھ حرام طور پر وہ عمل کیا جو کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ حلال طور پر کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تم یہ کہہ کر کیا چاہتے ہو اس نے عرض کی: میں یہ چاہتا ہوں کہ آپﷺ مجھے پاک کر دیں، تو نبی اکرمﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے سنگسار کر دیا جائے ، تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے اصحاب میں سے دو آدمیوں کو سنا ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے یہ کہہ رہا تھا: ذرا اس شخص کی طرف دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا پردہ رکھا تھا، لیکن اس نے اپنے آپ کو ایسی حالت میں کر دیا کہ اسے کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ ان دونوں کی بات پر خاموش رہے پھر آپ کا گزر ایک مردار گدھے کے پاس سے ہوا جس کا پاؤں اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: فلاں اور فلاں شخص کہاں ہیں؟ ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہم یہاں ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے ان دونوں سے فرمایا: تم دونوں اس گدھے کا مردار کھا لو ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی مغفرت کرے اس کون کھا سکتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نے ابھی تھوڑی دیر پہلے اس شخص کی عزت پر حملہ کیا ہے وہ اس مردار کو کھانے سے زیادہ برا ہے اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ شخص اس وقت جنت کی نہروں میں ہے۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 4399

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4400

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْهِضْهَاضِ الدَّوْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ الْأَبْعَدَ قَدْ زَنَى، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكَ وَمَا [ص:247] يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى»، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْأَبْعَدَ قَدْ زَنَى، فَقَالَ: «وَيْلَكَ وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى»، فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْأَبْعَدَ قَدْ زَنَى، قَالَ: «وَيْلَكَ وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى»، قَالَ: أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا مِثْلَ مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ، فَأَمَرَ بِهِ فَطُرِدَ وَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْأَبْعَدَ قَدْ زَنَى، قَالَ: «وَيْلَكَ وَمَا يُدْرِيكَ مَا الزِّنَى»، قَالَ: «أَدْخَلْتَ وَأَخْرَجْتَ؟ »، قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ تَحَمَّلَ إِلَى شَجَرَةٍ، فَرُجِمَ عِنْدَهَا حَتَّى مَاتَ، فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِصَاحِبِهِ: وَأَبِيكَ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْخَائِبُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَرُدَّهُ حَتَّى قُتِلَ كَمَا يَقْتُلُ الْكَلْبُ، فَسَكَتَ عَنْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلَةٌ رِجْلُهَا، فَقَالَ: «كُلَا مِنْ هَذَا»، قَالَا: مِنْ جِيفَةِ حِمَارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَالَّذِي نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا أَكْثَرُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَفِي نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَتَقَمَّصُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ماعز نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: دور والے نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو کیا تم جانتے ہو کہ زنا کیا ہے پھر نبی اکرمﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا، تو اسے وہاں سے نکال دیا گیا پھر وہ دوسری مرتبہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! دور کے ایک شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو تمہیں کیا پتہ زنا کیا ہے اسے پھر وہاں سے نکال دیا گیا پھر وہ تیسری مرتبہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہارا سیتاناس ہو تمہیں کیا پتہ زنا کیا چیز ہے اس نے عرض کی: میں نے ایک عورت کے ساتھ حرام طور پر وہی کام کیا ہے، جو کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا، تو اسے وہاں سے نکال دیا گیا وہ چوتھی مرتبہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! دور کے شخص نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو تمہیں کیا پتہ ہے کہ زنا کیا کیا ہوتا ہے کیا تم نے اندر داخل کیا اور باہر نکالا اس نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرمﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے سنگسار کر دیا جائے جب اسے پتھر لگنے لگے تو اس نے درخت کی آڑ لی پھر اسے اس درخت کے پاس سنگسار کر دیا گیا، یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد نبی اکرمﷺ گزر رہے تھے آپﷺ کے ہمراہ آپ ﷺ کے کچھ اصحاب بھی تھے ان میں سے ایک صاحب نے اپنے ساتھی سے کہا تمہارے باپ کی قسم یہ شخص خسارے کا شکار ہونے والا ہے یہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں کئی مرتبہ حاضر ہوا ہر مرتبہ نبی اکرمﷺ اسے واپس کرتے رہے، یہاں تک کہ اسے یوں قتل کر دیا گیا جس طرح کتے کو مارا جاتا ہے، تو نبی اکرمﷺ ان دونوں کے حوالے سے خاموش رہے، یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ کا گزر ایک گدھے کے مردار جسم کے پاس سے ہوا جس کا پاؤںاوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم دونوں اسے کھاؤ ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! کیا گدھے کے مردار کو کھائیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نے اپنے بھائی کی عزت پر جو حملہ کیا ہے وہ اس سے زیادہ (بڑا گناہ ہے) اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے وہ شخص اب جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔

إِنَّ الْأَبْعَدَ قَدْ زَنَى، ← جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْهِضْهَاضِ الدَّوْسِيِّ، ← أَبِي الزبير المكي ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← محمد بن الحارث البزار ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 4400

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4401

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَخَضْخَضُ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے جب حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنگسار کروایا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے اسے دیکھا ہے، وہ جنت کی نہروں میں تیر رہا ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4401

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4402

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، بِعَسْقَلَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّتْهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ»، ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ، أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا»

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں: قریش ایک مخزومی خاتون کے معاملے میں بہت پریشان تھے جس نےچوری کی تھی لوگوں نے کہا: اس خاتون کے بارے میں کون نبی اکرمﷺ کے ساتھ بات کرے گا، تو کسی نے کہا: یہ جرات صرف اسامہ بن زید کر سکتے ہیں جو نبی اکرمﷺ کے محبوب ہیں جب حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں بات کی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اللہ کی ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ پھر نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: پہلے کے لوگ اس لیے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ جب ان میں سے بڑے خاندان کا کوئی شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کمزور خاندان کا شخص چوری کرتا تھا تو وہ اس پر حد جاری کر دیا کرتے تھے اللہ کی قسم ! اگر محمد کی صاحبزادی فاطمہ نے چوری کی ہوتی ، تو میں اس کا ہاتھ بھی ضرور کٹوا دیتا۔

رَسُولُ اللَّهِ «أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ»، ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، ← وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، ← مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ ← عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّتْهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ،

Hadith 4402

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4403

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، [ص:251] قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيِّهَا، فَقَالَ: «أَحْسِنْ إِلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا»، فَلَمَّا وَضَعَتْ أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا، فَشُدَّ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ عَلَى سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ جَلَّ وَعَلَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «وَهِمَ الْأَوْزَاعِيُّ فِي كُنْيَةِ عَمِّ أَبِي قِلَابَةَ إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ مِنْ ثِقَاتِ التَّابِعِينَ وَسَادَاتِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ»

حضرت عمران ابن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے آپﷺ مجھ پر حد قائم کریں نبی اکرم ﷺ نے اس کے سرپرست کو بلوایا اور فرمایا: اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو جب تک یہ بچے کو جنم نہیں دیتی جب یہ بچے کو جنم دیدے تو تم اسے میرے پاس لے آنا جب اس عورت نے بچے کو جنم د ے دیا، تو وہ شخص اس عورت کو نبی اکرمﷺ کی خدمت میں لے آیا نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اس کے کپڑے کو مضبوطی سے باندھا گیا پھر آپ کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا پھر نبی اکرمﷺ نے اس خاتون کی نماز جنازہ ادا کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپﷺ ایک ایسی عورت کی نماز جنازہ ادا کریں گے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس نے ایک ایسی توبہ کی ہے، اگر اسے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ستر افراد پر تقسیم کیا جائے ، تو ان سب کے لیے کافی ہو ، کیا تمہیں اس سے زیادہ افضل اور کوئی شخص ملتا ہے،، اس نے اپنی ذات کو اللہ کے لیے قربان کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) امام اوزاعی کو ابوقلابہ کے چچا کی کنیت ذکر کرنے میں وہم ہوا ہے، کیونکہ گھوڑا ٹھوکر کھا جاتا ہے انہوں نے یہ کہا ہے: یہ روایت ابو قلابہ کے حوالے سے ان کے چچا ابو مہاجر کے حوالے سے منقول ہے حالانکہ ان کے چچا کی کنیت ابو مہلب ہے اور ان کا نام عمرو بن معاویہ بن زید جرمی ہے یہ ثقہ تابعین میں سے ہیں اور اہل بصرہ کے سرداروں میں سے ہیں۔

أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَالَتْ: ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← عَمِّہٖ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْأَوْزَاعِيُّ، [ص:251] ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ،

Hadith 4403

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4404

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَخَضْخَضُ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ نے حضرت ماعز بن مالک کو سنگسار کروایا تو آپﷺ نے فرمایا: میں نے اسے جنت کی نہروں میں ترتے ہوئے دیکھا ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4404

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4405

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ*، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ مِنَّا، وَقَالَ: «مَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْهُنَّ حَدًّا فَعُجِّلَتْ لَهُ عُقُوبَتُهُ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ، وَمَنْ أُخِّرَ عَنْهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ»

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیا ن کرتےہیں: نبی اکرمﷺ نے ہم سے بھی اسی طرح بیعت لی جس طرح ہماری خواتین سے لی تھی آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص ان میں سے کسی ایک قابل حد چیز کا مرتکب ہو جائے اور اسے دنیا میں سزا دے دی جائے ، تو یہ چیز اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس شخص سے یہ بات مؤخر ہو جائے (یعنی اسے دنیا میں سزا نہ ملے) تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو گا اگر وہ چاہے گا، تو اس پر رحم کر دے گا اور اگر چاہے گا، تو اسے عذاب دیدے گا۔

أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ مِنَّا، ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 4405

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4406

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهُمْ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ»

حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب فساد ہی فساد ہوں گے، جو شخص اس امت میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرے، جبکہ وہ لوگ اکٹھے ہوں ، تو اسے تلوار کے ذریعے قتل کر دو، خواہ وہ جو کوئی بھی ہو “۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَرْفَجَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 4406

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4407

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ، بِدِمَشْقَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا ثَلَاثَةَ نَفَرٍ: التَّارِكُ لِلْإِسْلَامِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ»، قَالَ الْأَعْمَشُ، فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ، فَحَدَّثَنِي عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ایسے کسی بھی شخص کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ، جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، البتہ تین لوگوں کا حکم مختلف ہے، اسلام کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہونے والا شخص ، شادی شدہ زانی اور وہ شخص جسے کسی دوسرے (کے قتل کے بدلے میں ) قتل کیا جائے “۔ اعمش بیا ن کرتے ہیں : میں نے یہ روایت ابراہیم کو سنائی تو انہوں نے مجھے اسود کے حوالے سے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول اسی کی مانند روایت سنائی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ بِدِمَشْقَ،

Hadith 4407

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4408

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”کسی ایسے شخص کا خون بہانا جائز نہیں ہے، جو اس بات کی گواہی دیتا ہو، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور” میں“ اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ، البتہ تین لوگوں کا حکم مختلف ہے، شادی شدہ زانی ، جان کے بدلے میں جان، اور اپنے دین (یعنی دین اسلام) کو ترک کر کے (مسلمانوں کی ) جماعت سے علیحدہ ہونے والا شخص (یعنی انہیں قتل کیا جائے گا) “۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4408

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr