Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 3168

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْقَطَّانِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ2 اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي أَنْ تُمْسِكُوهَا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَعَنِ الظُّرُوفِ إِلَّا مَا كَانَ فِي سِقَاءٍ وَقَدْ رُخِّصَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ وَإِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَنْ تُمْسِكُوا لُحُومَ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِيُوَسِّعَ ذُو السَّعَةِ مِنْكُمْ على من لم يضح ونهيتك عَنِ الظُّرُوفِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَاءٍ فلا يحل ظرف شيئا ولا يحرمه" 3. [17:4]

آدمی کے لیے یہ بات مباح ہونے کا تذکرہ کہ وہ قبروں اور مرحومین کی زیارت کرے

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْقَطَّانِ

Hadith 3168

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 3169

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ ثُمَّ قَالَ: "اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي فَزُورُوَا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَکِّرُ کُمُ الْمَوْتَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی آپ ﷺ رو پڑے اور آپ ﷺ نے اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی رلا دیا پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ میں ان کی قبر کی زیارت کروں، تو اس نے مجھے اجازت دے دی میں نے اس سے اجازت مانگی کہ میں ان کے لیے دعائے مغفرت کروں ، تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی تم لوگ قبروں کی زیارت کرو، کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلائیں گی۔

زَارَ النَّبِيُّ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ ثُمَّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3169

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 3170

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ1 حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ نَهِيكٍ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْخَصَاصِيَةَ وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا اسْمُكَ؟ " قَالَ: زَحْمٌ, قَالَ: "أَنْتَ بَشِيرٌ" فَكَانَ اسْمُهُ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ؟ ", قُلْتُ: مَا أَصْبَحْتُ أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا كُلُّ خَيْرٍ فَعَلَ اللَّهُ بِي فَأَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: "سَبَقَ هَؤُلَاءِ خيرا كثيرا" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ اَتٰی عَلٰی قُبُوْرِ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَقَالَ : لَقَدْ اَدْرَکَ ھَؤُلَاءِ خَیْرًا کَثِیرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَبَیْنَمَا ھُوَ یَمْشِی اِذْ حَانَتْ مِنْہُ نَظْرَۃٌ ، فَاِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ یَمْشِیْ بَیْنَ الْقُبُورِ وَعَلَیْہِ نَعْلَانِ ، فَنَادَاہُ : یَا صَاحِبَ السِّبْتِیَّتَیْنِ اَلْقِ سِبْتِیَّتَیْکَ فَنَظَرَ فَلَمَّا عَرَفَ الرَّجُلُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، خَلَعَ نَعْلَیْہِ ، فَرَمَی بھِمَا۔ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ کُنْتُ : اَکُوْنَ مَعَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ ، فِی الْجَنَائِزِ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمَقَابِرَ حَدَّثَتْہُ بِھٰذَا الْحَدِیثِ ، فَقَالَ : حَدِیثٌ جَیِّدٌ ، وَرَجُلٌ ثِقَۃٌ ، ثُمَّ خَلَعَ نَعْلَیْہِ فَمَشَی بَیْنَ الْقُبُوْرِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : یُشْبِہُ اَنْ یَکُوْنَ تِلْکَ مِنْ جِلْدِ مَیْتَۃٍ لَمْ تُدْبَغْ ، فَکَرِہَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لُبْسَ جِلْدِ الْمَیْتَۃِ ، وَفِیْ قَوْلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّہٗ لَیَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِھِمْ اِذَا وَلَّوْا عَنْہُ ، دَلِیلٌ عَلٰی اِبَاحَۃِ دُخُولِ الْمَقَابِرِ بِالنِّعَالِ

بشیر بن نہیک بیان کرتے ہیں: حضرت بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہہ نے مجھے یہ حدیث بیا ن کی ہے ان کا نام زمانہ جاہلیت میں زحم بن معبد تھا نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا: تمہارا نام کیا انہوں نے جواب دیا : زحم۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بشیر ہو، تو پھر یہی ان کا نام ہو گیا وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے خصاصیہ کے صاحب زادے! کیا تم نے ایسی حالت میں صبح کی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ سے کوئی ناراضگی ہے۔ میں نے عرض کی: میں نے ایسی حالت میں صبح نہیں کی کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی ناراضگی ہو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی بھلائی مجھے عطا کر دی ہے پھر نبی اکرم ﷺ کچھ مشرکین کی قبروں کے پاس تشریف لے گئے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ بہت زیادہ بھلائی سے آگے چلے گئے ہیں یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپﷺ مسلمانوں کی قبروں کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے بہت زیادہ بھلائی حاصل کر لی ہے یہ بات آپﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اسی دوران آپﷺ چلتے رہے آپ ﷺ کی نظر پڑی، تو ایک شخص قبروں کے درمیان چل رہا تھا اس نے جوتے پہنے ہوئے تھے آپ ﷺ نے اسے بلند آواز میں پکارا اے جوتوں والےشخص! اپنے جوتے اتار دو اس شخص نے دیکھا جب اس شخص نے نبی اکرم ﷺ کو پہچان لیا ، تو اس نے اپنے جوتے اتار کر ایک طرف رکھ دئیے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس بات کا امکان موجود ہے: وہ جوتے کسی مردار کی کھال کے بنے ہوئے ہوں جس کی دباغت نہ کہ گئی ہو۔ اس لئے نبی اکرم ﷺ نے مردار کی کھال کو پہننے کو ناپسند کیا ہو اور نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان" وہ ان لوگوں کی جوتوں کی آہت سنتا ہے جب وہ سے چھوڑکر واپس جاتے ہیں"۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے: جوتے پہن کر قبرستان میں داخل ہونا مباح ہے۔

أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ ← "أَنْتَ بَشِيرٌ" فَكَانَ اسْمُهُ بَيْنَمَا ← زحم ← لَهُ رَسُولُ اللهِ مَا اسْمُكَ؟، ← كَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ ← بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو دَاوُدَ ← بُنْدَارٌ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3170

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 3171

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَقْبَرَةَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ ، وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ قبرستا ن میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ نے یہ پڑھا۔ " اے مومنوں کی قوم کی آبادی والو! تم پر سلام ہو بیشک ہم بھی اگر اللہ نے چاہا ، تو تم سے آملیں گے۔" اس روایت کا تذکرہ جو اس شخص کے موقف کو غلط ثابت کرتی ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ آدمی پر یہ بات لازم ہے کہ جب وہ قبرستان میں داخل ہو تو یہ کہے علیکم السلام یہ نہ کہے السلام و علیک

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 3171

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 3172

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَتْ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ: "السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَانَا وَإِيَّاكُمْ 1 مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُوْنَ ، وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللہُ بِکُمْ لَا حِقُوْنَ ، اللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَھْلِ بَقِیعِ الْغَرْقَدِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب بھی نبی اکرم ﷺ کی ان کے ہاں رات ٹھہرنے کی باری ہوتی تھی، تو نبی اکرمﷺ رات کے آخری حصے میں بقیع کی طرف تشریف لے جاتے تھے اور یہ کہتے تھے۔ " اے مومنوں کی قوم کی بستی کے رہنے والو! تم پر سلام ہو ہمارے پاس اور تمہارے پاس وہ چیز آ جائے گی، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا اور اگر اللہ نے چاہا ، تو ہم بھی تم سے آملیں گے اے اللہ ! تما م اہل بقیع کی مغفرت کر دے۔"

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3172

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 3173

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ اَبِیْہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا خَرَجُوا اِلَی الْمَقَابِرِ یُعَلِّمُھُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا : السَّلامُ عَلٰی اَھْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنِ ، وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ ، اَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ ، وَنَحْنُ لَکُمْ تَبَعٌ ، نَسْاَلُ اللہَ لَنَا وَلَکُمْ الْعَافِیَۃَ

سیلمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب قبرستان تشریف لے جاتے تھے، تو لوگوں کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ وہ یہ پڑھیں۔ " اے مومنوں اور مسلمانوں کی بستی والوں پر سلام ہو اگر اللہ نے چاہا ، تو ہم بھی تم سے آملیں گے تم ہمارے پیش رو ہو اور ہم تمہارے بعد آئیں گے ہم اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے ہیں۔"

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ بُرَیْدَۃَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3173

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 3174

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بن أبي بن سَلُولٍ بَعْدَمَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ فَوَضَعَہ عَلٰی رُکْبَتِہٖ ، وَنَفَثَ عَلَیْہِ مِنْ رِیْقِہِ ، وَاَلْبَسَہٗ قَمِیصَہُ وَاللہُ اَعْلَمُ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ عبداللہ بن ابی کی قبر کے پاس تشریف لائےیہ اس کے قبر میں داخل کر دئیے جانے کے بعد کی بات ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت اسے باہر نکالا گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کو اپنے گھٹنے پر رکھا آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن اس پر ڈالا اور اسے اپنی قمیض پہنائی، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3174

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 3175

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ لَمَّا مَاتَ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ قَالَ: فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَقَالَ: "إِذَا فَرَغْتَ فَآذِنِّي حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ" فَلَمَّا فَرَغَ آذَنَهُ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ جَذَبَهُ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ قَالَ اللَّهُ: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ} قال: فنزلت: (وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِنْھُمْ مَاتَ اَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہِ) (التوبۃ:84) قَالَ فَتَرَکَ الصَّلَاۃَ عَلَیْہِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا، تو اس کا بیٹا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: آپ ﷺ اپنی قمیض مجھے عطا کیجئے، تا کہ میں اسے ( یعنی اپنے باپ کو) اس میں کفن دوں آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ بھی ادا کیجئے اور اس کے لیے دعائے مغفرت بھی کیجئے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنی قمیض اسے عطا کر دی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جن تم ( غسل اور کفن دیکر) فارغ ہو جاو ، تو مجھے اطلاع دے دینا ، تا کہ میں اس کی نماز جنازہ پڑھاوں جب وہ فارغ ہوا اور اس نے نبی اکرم ﷺ کو اطلاع دی اور نبی اکرم ﷺ اس کا جنازہ پڑھنے کے لیے اٹھنے لگے، تو حضرت عمر ر ضی اللہ عنہہ نے آپ ﷺ کو کھینچا اور عرض کی: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس بات سے منع نہیں کیا ہے کہ آپﷺ منافقین کی نماز جنازہ ادا کریں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: " تم ان کے لیے دعائے مغفرت کر و یا تم ان کے لیے دعائے مغفرت نہ کرو۔" راوی بیان کرتے ہیں: تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ " اب تم کبھی بھی ا ن (منافقین میں سے) کسی کی بھی نماز جنازہ ادا نہ کرنا اور اس کی قبر پر کھڑے نہ ہونا۔" راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے ا س کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3175

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 3176

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنِ إِسْحَاقَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقُولُ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَتَى ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أبي بن سَلُولٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ قَدْ وَضَعْنَاهُ فَصَلِّ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ قُمْتُ فِي صَدْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَى عَدُوِّ اللَّهِ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا كَذَا وَكَذَا وَالْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا كَذَا وَكَذَا؟ أُعَدِّدُ أَيَّامَهُ الْخَبِيثَةَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "عَنِّي يَا عُمَرُ", حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ قَالَ: "عَنِّي يَا عُمَرُ فَإِنِّي قَدْ خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ} [التوبة:80] وَلَوْ أَعْلَمُ أَنِّي زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ", قَالَ عُمَرُ: فَعَجَبًا لِجُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ انْصَرَفْتُ عَنْهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ مَشَى مَعَهُ فَقَامَ عَلَى حُفْرَتِهِ حَتَّى دُفِنَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَوَاللَّهِ مَا لَبِثَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَداً وَلا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہِ) (التوبۃ:84) فَمَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی مُنَافِقٍ بَعْدَ ذٰلِکَ ، وَلَا قَامَ عَلٰی قَبْرِہِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ کو یہ بیان کرتے ہو ئے سنا: جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا ، تو اس کا بیٹا عبداللہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! یہ عبداللہ بن ابی ہے، جسے ہم نے ( میت کی چارپائی پر) رکھ دیا ہے آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ ادا کیجئے ، تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے جب آپ ﷺ ا س کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے اٹھے تو میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپﷺ اللہ کے اس دشمن کی نماز جنازہ ادا کریں گے جس نے فلاں دن یہ، یہ بات کہی تھی اور فلاں دن یہ، یہ بات کہی تھی میں نے اس کے متعدد خبیث دن گنوا دئیے، تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دئیے آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو اے عمر! جب میں نے زیادہ تکرار کی، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے چھوڑدو اے عمر، کیونکہ مجھے اختیار دیا گیا ہے میں نے (اپنی پسند یدہ صورت کو) اختیار کر لیا ہےا للہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: " تم ان کے لیےدعائے مغفرت کرو یا ان کے لیے دعائے مغفرت نہ کرو۔" ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا) اگر مجھے یہ پتہ ہو کہ میں ستر مرتبہ سے زیادہ دعائے مغفرت کروں ، تو اس کی مغفرت ہو جائے گی، تو میں اس سے زیادہ مرتبہ کر لوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کہتے ہیں: اب میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے اپنی جرات پر حیران ہوتا ہوں بہرحا ل اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے تھے جب نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ بات کہی، تو میں آپ ﷺ کے سامنے سے ہٹ گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی آپﷺ اس کے جنازے کے ہمراہ گئے آپ ﷺ اس کی قبر کے کنارے کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا گیا، تو آپﷺ واپس تشریف لائے اللہ کی قسم! اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی۔ " ان میں سے جس کسی کا بھی انتقال ہو، تو تم نے اس کی نماز جنازہ کبھی ادا نہیں کرنی اور نہ ہی اس کی قبر پرکھڑے ہونا ہے۔" اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے کسی منافق کی نماز جنازہ ادا نہیں کی اور نہ ہی آپﷺ کسی منافق کی قبر پر کھڑےہوئے۔

عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3176

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 3177

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ1 بْنُ فَضَالَةَ عَنْ رَبِيعَةَ بن سيف الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَبَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَلَمَّا فَرَغْنَا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْصَرَفْنَا مَعَهُ فَلَمَّا حَاذَی بَابَہٗ ، وَتَوَسَّطَ الطَّرِیْقَ ، اِذَا نَحْنُ بِامْرَاَۃٍ مُقْبِلَۃٍ ، فَلَمَّا دَنَتْ اِذَا ھِیَ فَاطِمَۃُ ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا اَخْرَجَکِ یَا فَاطِمَۃُ مِنْ بَیْتِکِ ؟ قَالَتْ : اَتَیْتُ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَھْلَ ھٰذَا الْبَیْتِ ، فَعَزَّیْنَا مِیِّتَھُمْ ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَعَلّکِ بَلَغَتِ مَعَھُمْ الْکَدَی ؟ قَالَتْ : مُعَاذَ اللہِ ، وَقَدْ سَمِعْتُکَ تَذْکُرُ فِیْھَا مَا تَذْکُرُ قَالَ : لَوْ بَلَغْتٍ مَعَھُمُ الْکُدَی مَا رَاَیْتِ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَرَاھَا جَدُّکَ اَبُوْ اَبِیکِ فَسَاَلْتُ رَبِیعَۃَ عَنِ الْکُدَی ، فَقَالَ : الْقُبُوْرُ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَۃَ ، لَوْ بَلَغْتِ مَعَھُمْ الْکُدَی مَا رَاَیْتِ الْجَنَّۃَ یُرِیْدُ مَا رَاَیْتِ الْجَنَّۃَ الْعَالِیَۃِ الَّتِی یَدْ خُلُھَا مَنْ لَّمْ یَرْتَکِبْ مَا نَھٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْہُ ، لِاَنَّ فَاطِمَۃَ عَلِمَتِ النَّھْیَ قَبْلَ ذٰلِکَ ، وَالْجَنَّۃُ ھِیَ جَنَّاتٌ کَثِیرَۃٌ لَا جُنَّۃٌ وَاحِدَۃٌ ، وَالْمُشْرِکُ لَا یَدْخُلُ جَنَّۃً مِنَ الْجِنَّانِ اَصْلًا لَا عَالِیَۃً وَلَا سَافِلَۃً وَلَا مَا بَیْنَھُمَا

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ کسی کو دفن کیا جب ہم فارغ ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ واپس روانہ ہوئےآپ ﷺ کے ہمراہ ہم بھی واپس آرہے تھے جب ہم راستے کے درمیان میں پہنچے ، تو وہاں سامنے سے ایک خاتون آ رہی تھی، جب وہ خاتون قریب ہوئی، تو وہ سّیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا: اے فاطمہ! تم اپنے گھر سے کیوں باہر آئی ہو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں اس گھر والوں کے ہاں گئی تھی میں نے ان کی میت پر ان سے افسوس کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت کیا:شاید تم لوگوں کے ہمراہ کدیٰ (قبرستان) تک بھی گئی ہو گی انہوں نے عرض کی: اللہ کی پناہ میں نے، تو آپﷺ کو اس بارے میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہوا ہے (تو میں وہاں تک کیسے جا سکتی ہوں؟) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم ان لوگوں کے ہمراہ کدیٰ تک گئی ہوتی، تو تم جنت کو اس وقت تک نہ دیکھتی جب تک تمہارا دادا یعنی تمہارے باپ کا باپ اسے نہ دیکھتا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا: کدیٰ سے مراد کیا ہے انہوں نے جواب دیا: قبرستان۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا سّیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہنا کہ" اگرتم ان کے ساتھ کدیٰ کے ساتھ گئی ہوتی تو تم جنت کو نہ دیکھتی"۔ اس سے نبی اکرمﷺ کی مراد یہ ہے: تم جنت کے اس بلند درجے کو نہ دیکھتی جہاں وہ لوگ داخل ہوتے ہیں جنہوں نے ایسی کس چیز کا ارتکاب نہیں کیا ہوتا جس سے نبی اکرم ﷺ نے منع کیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے: سّیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس سے پہلے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کی ممانعت سے واقف تھیں اور جنت کے کئی درجات ہیں ایک درجہ نہیں ہے اور مشرک شخص سرے سے جنت میں داخل ہی نہیں ہوگا نہ اوپر کے مرتبے والی جنت میں اور نہ ہی نیچے کے مرتبے والی جنت میں اور نہ ہی درمیان والی میں۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Hadith 3177

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 3178

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَعَنَ الله زائرات القبور" 1. [109:2]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: " اللہ تعالیٰ نے قبرستان جانے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 3178

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ · حديث 3179

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنِ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ الْقُبُوْرِ ، وَالْمُتَّخِذَاتِ عَلَیْھَا الْمَسَاجِدَ ، وَلسُّرُجَ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے قبرستا ن جانے والی عورتوں اور قبروں پر سجدہ گاہ بنانے یا چراغ لگانے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ الْقُبُوْرِ وَالْمُتَّخِذَاتِ عَلَیْھَا الْمَسَاجِدَ وَلسُّرُجَ۔ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 3179

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr