Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3740

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أو شهيدا" 1. [2:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " مدینہ منورہ کی سختی اور مشکل پر جو شخص صبر کرے گا میں اس کا " شفیع" ( راوی کو شک ہے یہ الفاظ ہیں)"گواہ" ہوں گا"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو ضَمْرَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3740

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3741

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أيوب، عن نافع عن أبي عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ، فَلْيَمُتْ بِالْمَدِينَةَ فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ مَاتَ بها" 1. [2:1]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " تم میں سے جس شخص کے لئے یہ ممکن ہو کہ وہ مدینہ منورہ میں انتقال کرے اسے مدینہ میں انتقال کرنا چاہئے، کیونکہ جو شخص یہاں فوت ہو گا میں اس کی شفاعت کروں گا"۔

أَبِي عُمَرَ، ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3741

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3742

أخبرنا بن قتيبة، حدثنا حرملة، حدثنا بن وهب، أخبرنا يونس، عن بن شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ الصُّمَيْتَةَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي لَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُهَا تُحَدِّثُ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَمُوتَ إِلَّا بِالْمَدِينَةِ، فَلْيَمُتْ بِهَا، فَإِنَّهُ مَنْ يَمُتْ بِهَا تَشْفَعْ لَهُ، وَتَشْهَدُ لَهُ" 1. [2:1]

سیّدہ صفیہ بنت عبید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " تم میں سے جس شخص کے لئے یہ ممکن ہو کہ وہ مدینہ منورہ میں انتقال کرے اسے یہاں انتقال کرنا چاہئے ، کیونکہ جو شخص یہاں فوت ہو گا یہ اس کی شفاعت کرے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) " یہ اس کے حق میں گواہی دے گا"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← سَمِعْتُهَا تُحَدِّثُ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا ← الصُّمَيْتَةَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي لَيْثٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ، ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3742

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3743

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا بن عُلَيَّةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا، وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ" 1. [2:1] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو سَعِيدٍ مولى المهري من أهل مصر: اسْمُہُ : بَکْرُ بْنُ عُمْرٍو ، وَاَبُوْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیُّ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ اسْمُہُ : کَیْسَانُ مَوْلٰی بَنِیْ لَیْثٍ : ثِقَتَانِ مَاْمُونَانِ رَوَیَا جَمِیْعًا عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اے اللہ ! ہمارے مد اور ہمارے صاع میں ہمارے لیے برکت رکھ دے اور اس برکت کے ہمراہ دو مزید بر کتیں شامل کر دے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): ابو سعید مولیٰ مہری مصر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا نام بکر بن عمرو ہے جبکہ ابو سعید مقبری اہل مدینہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا نام کیسان ہے یہ بنولیث کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ یہ دونوں راوی ثقہ اور ما مون ہیں۔ ان دونوں حضرات نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ سے روایات نقل کی ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← بن عُلَيَّةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3743

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3744

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانَيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَاعُنَا أَصْغَرُ الصِّيعَانِ، وَمُدُّنَا أَصْغَرُ الْأَمْدَادِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا وقليلنا وكثيرنا، واجعل مع البركة بركتين" 1.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں:۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ! ہمارا (اہل مدینہ کا ) صاع سب سے چھوٹا صاع ہے اورہمارا مد سب سے چھوٹا مد ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اے اللہ ! ہمارے لئے ہمارے صاع اور مد اور ہمارے تھوڑے اور زیادہ میں برکت رکھ دے اور اس برکت کے ہمراہ مزید دو برکتیں رکھ دے"۔

قِيلَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانَيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3744

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3745

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ" -يَعْنِي أهل المدينة- 1.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اے اللہ ! ان لو گوں کے ماپنے کے آ لے میں برکت رکھ دے۔ ان کے صاع اور ان کے مد میں برکت رکھ دے"۔ نبی اکرم ﷺ کی مراد اہل مدینہ تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3745

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3746

أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتى إِذَا كُنَّا بِالْحَرَّةِ بِالسُّقْيَا1 قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِيتُونِي بِوِضُوءٍ" فَلَمَّا توضأ قام فاستقبل الْقِبْلَۃَ ثُمَّ کَبَّرَ ثُمَّ قَالَ : اللّٰھُمَّ اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ کَانَ عَبْدُکَ وَخَلِیلُکَ دَعَاکَ لِاَھْلِ مَکَّۃَ بِالْبَرَکَۃِ ، وَاَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُکُ وَرَسُوْلُکَ ، اَدْعُوکَ لِاَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ اَنْ تَبَارَکَ لَھُمْ فِیْ مُدِّھِمْ وَصَاعِھِمْ مِثْلَ مَا بَارَکْتَ لِاَھْلِ مَکَّۃَ مَعَ الْبَرَکَۃِ بَرَکَتِیْنِ

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ " سقیا" کے مقا م پر موجود پتھریلے میدان میں آ گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے پاس وضو کا پانی لے آو۔ جب نبی اکرم ﷺ نے وضو کر لیا، تو آپ کھڑے ہوئے آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا پھر آپ نے تکبیر کہی پھر یہ دعا کی۔ " اے اللہ ! بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور تیرے خلیل تھے۔ انہوں نے اہل مکہ کے لئے تجھ سے برکت کی دعا کی تھی۔ میں "محمد" تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں۔ میں اہل مدینہ کے لئے تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ، تو ان کے مد اور ان کے صا ع میں اسی طرح برکت کو رکھ دے جس طرح ، تو نے اہل مکہ کے لئے برکت رکھی تھی او ر اس برکت کے ہمراہ دو مزید برکتیں رکھ دے۔

خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ حتى إِذَا كُنَّا بِالْحَرَّةِ بِالسُّقْيَا1 ← عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، أَنَّهُ ← عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3746

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3747

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوَا الثَّمَرَ، جَاؤُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فإذا أخذه رسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَأَنَا أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَا بِهِ لِمَكَّةَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ"، ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ يَرَاهُ، فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ 1. [12:5]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: جب لوگ پہلا پھل دیکھتے تھے، تو اسے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لاتے تھے نبی اکرم ﷺ اسے لیتے اور یہ دعا مانگتے تھے۔ " اے اللہ ! ہمارے پھلوں میں ہمارے لئے برکت رکھ دے ہمارے شہر میں ہمارے لئے برکت رکھ دے ہمارے صاع اور مد میں ہمارے لئے برکت رکھ دے اے اللہ! بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں۔ انہوں نے مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی تھی اور میں مدینہ کے لئے تجھ سے دعا کرتا ہوں جو اس کی مانند ہو جو انہوں نے مکہ کے لئے دعا کی تھی اور اس کے ہمراہ اتنی ہی مزید ہو"۔ پھر نبی اکرم ﷺ وہاں موجود نظر آنے والے سب سے چھوٹے بچے کو بلاتے اور آپ وہ پھل اسے عطا کر دیتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3747

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3748

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَبِسَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ خَرَجَ. قَالَتْ: فَأَمَرْتُ بَرِيرَةَ جَارِيَتِي تَتْبَعُهُ، فَتَبِعَتْهُ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعُ فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ، فَأَخْبَرَتْنِي، فَلَمْ أَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحْتُ، ثُمَّ إِنِّي ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: "إِنِّي بُعِثْتُ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عليهم" 1. [7:3]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک رات نبی اکرم ﷺ اٹھے آپ نے کپڑے پہنے (یعنی چادر اوڑھی) اور باہر تشریف لے گئے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اپنی کنیزہ بریرہ کو نبی اکرم ﷺ کے پیچھے جانے کی ہدایت کی وہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے گئی۔ نبی اکرم ﷺ بقیع تشریف لائےوہاں اللہ کو منظو ر تھا آپ ٹھہرے رہے۔ پھر آپ واپس تشریف لے گئے، تو بریرہ آپ سے پہلے آ گئی۔ اس نے مجھے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے کچھ ذکر نہیں کیا، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی، تو میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا، تا کہ میں ان کے لئے دعا ء رحمت کروں"۔

أُمِّهِ أَنَّهَا ← عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3748

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3749

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حدثنا بن مَهْدِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "قَوَائِمُ الْمِنْبَرِ رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ" 1. [2:1]

سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: " میرے اس (منبر ) کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں"۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← بن مَهْدِيٍّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3749

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3750

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ومنبري على حوضي" 1. [2:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " میرے گھر اور میرے منبر کی درمیانی جگہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہو گا"۔ ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): ان دونوں روایات میں جو الفاظ منقو ل ہیں اس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کرچکے ہیں کہ عرب اپنے محاورے میں بعض اوقات کسی مقصود چیز کا اسم اس کے سبب کے لئے استعمال کر لیتے ہیں۔ جب کوئی مسلمان نبی اکرم ﷺ کے منبر کے پاس اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کر کے اس کا قرب حاصل کرتا ہے اور اس کی قبولیت کی امید ہوتی ہے اور اس کا ثواب جنت ملنے کی امید ہوتی ہے اور اس کا ثواب جنت ملنے کی اُمید ہوتی ہے، تو یہاں مقصود کے اسم کو جو جنت ہے اس کے سبب کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور وہ منبر ہے اسی طرح نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " جنت کے باغوں میں سے ایک باغ " اسی طرح نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " میرا منبر میرے حوض پر ہے" اس سے مراد یہی ہے کہ آدمی کو یہ اُمید رکھنی چاہئے کہ وہ حوض کو ثر سے مشروب حاصل کرے گا اور جنت کے باغات میں پہنچے گا۔ دنیا میں اس جگہ پر اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی وجہ سے (وہاں پہنچے گا) یہ نبی اکرم ﷺ کے ا س فرمان کی مانند ہو گا" بیمار کی عیادت کرنے والا جنت کے باغ میں ہوتا ہے۔" تو جب بیمار کی عیادت کرنے والا شخص اپنی عیادت کے وقت میں ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کے لئے جنت کے باغ میں پہنچنے کی اُمید کی جا سکتی ہے اور یہی مقصود ہے، تو یہاں مقصود کا اسم اس کے سبب کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس کی مثال نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے" جنت تلواروں کے سائے تلے ہے" اس کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں، جنہیں ہم عنقریب اس کتا ب میں آگے چل کر نقل کریں گے۔ اگر اللہ نے چاہا۔

"مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ومنبري على حوضي" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3750

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3751

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ بن شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةَ مَا ذَعَرْتُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حرام" 1. [2:2]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ فرماتے ہیں: اگر میں مدینہ منورہ میں کسی ہرن کو چرتا ہوا دیکھوں ، توا سے پکڑنے کی کو شش نہیں کروں گا، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " یہ دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ حرم ہے"۔

لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةَ مَا ذَعَرْتُهَا، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3751

chevron_left Previous
1…456…22
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr