صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3728
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا صالح بن زياد السوسي، حدثنا بن1 نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ2، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها" 3. [42:3] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْاِیمَانُ لَیَارِزُ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ یُرِیدُ بِہٖ اَھْلَ الْاِیمَانِ، وَذٰلِکَ اَنَّ الْمَدِیْنَۃَ خَشِنَۃٌ فَفْرَۃٌ ذَاتُ بَسَابِسَ وَدَکَادِکَ ، مَنَعَ اللہُ جَلَّ وَعَلَا عَنْھَا طَیّبَاتِ اللَّذَّاتِ فِی الْاَعْیُنِ وَالْاَنْفُسِ ، وَقَدَّرَ فِیھَ اَقْوَاتَھَا لِمَنْ طَلَبَ اللہَ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ ، فَلَا یَرْکُنْ اِلَیْھَا اِلَّاکُلُّ مُشَمَّرٍ ، عَنْ ھٰذِہِ الْفَانِیَۃِ الزَّائِلَۃِ ، وَلَا قَطَنَھَا اِلَّا کُلُّ مُنْقَلِعٍ بِکُلِّیَّتِہِ اِلَی الْاٰخِرَۃِ الدَّائِمَۃِ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " بےشک ایمان مدینہ منورہ کی طرف یوں پلٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف پلٹتا ہے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان "ایمان مدینہ منورہ کی طرف سمٹ آئے گا" اس سے مراد اہل ایمان ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے : مدینہ منورہ ایک خشک علاقہ ہے جہاں خشک زمین اور ریت کے ٹیلے زیادہ ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے وہ چیزیں نہیں رکھی ہیں جو آنکھوں اور جان کو لذیذ اور پاکیزہ محسوس ہوتی ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے گھر کی طلب کا ارادہ کرتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں خوراک رکھی ہے ۔ اس لئے مدینہ منورہ کی طرف صرف وہی شخص مائل ہو سکتا ہے، جو اس فنا ہونے والی اور زائل ہو جانے والی دنیا سے لا تعلق ہو اور اس کی طرف وہی شخص راغب ہو سکتا ہے، جو مکمل طور پر ہمیشہ رہنے والی آخرت کی طرف متوجہ ہو۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← بن نُمَيْرٍ، ← صَالِحُ بْنُ زِيَادٍ السُّوسَيُّ ← أَبُو عَرُوبَةَ،
Hadith 3728
