Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3716

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نقرأه إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَصَحِيفَةً فِي قِرَابِ سَيْفِي، فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا، فَإِذَا فِيهَا شَيْءٌ مِنْ أَسْنَانِ الْإِبِلِ وَالْجِرَاحَاتِ، وَإِذَا فِيهَا: "مَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذَنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَالْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ القيامة صرف ولا عدل" 1. [109:2]

حضرت علی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس کوئی ایسی کتاب نہیں ہے، جس کو ہم پڑھتے ہوں، صرف اللہ کی کتاب ہے یا ایک صحیفہ ہے، جو میری تلوار کی میان میں ہے۔ پھر انہوں نے اس صحیفے کو ہمارے سامنے پڑھا، اس میں اونٹوں کی دیت کے حوالے سے اور زخموں کی دیت کے حوالے سے کچھ احکام تھے اور اس میں ایک یہ بات موجود تھی جو (آزاد شدہ غلام ) اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کر ے اس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں ، تمام لوگوں کی لعنت ہو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے شخص کی کوئی بھی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔ تمام مسلمانوں کی دی ہوئی پناہ ایک جیسی حیثیت رکھتی ہے ان کا عام فرد بھی اسے پورا کرنے کی کوشش کرے گا اور جو کوئی شخص کسی مسلمان کو رسوا کرے گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی ایسے شخص کی قیامت کے دن کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی اور مدینہ منورہ اپنے دونوں کناروں کے درمیان پورے کا پورا قابل احترام ہے جوشخص یہا ں بدعت ایجاد کرے یا بدعتی کو پناہ دے ، تو اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ایسے شخص سے قیامت کے دن کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔

عَلِيًّا ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← سُلَیْمَانَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Hadith 3716

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3717

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ عن علي، قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "المدينة حرم مَابَیْنَ عِیرٍ اِلٰی ثَوْرٍ ، فَمَنْ اَحْدَثَ حَدَثًا فِیھَا ، اَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِینَ ، لَا یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ، ذِمَّۃُ الْمُسْلِمِینَ وَاحِدَۃٌ یَسْعَی بِھَا اِدْنَا ھُمْ فَمَنْ اَخْفَرَ مُسْلِمًا ، فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللہِ ، وَالْمَلَائِکَۃِ ، وَالنَّاسِ اَجْمَعِینَ ، لَا یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ، وَمَنْ وَّالٰی قَوْمًا بَغِیْرِ اِذَنِ مَوَالِیہِ ، فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللہِ ، وَالْمَلَائِکَۃِ ، وَالنَّاسِ اَجْمَعِینَ

حضرت علی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے صرف قرآن کو نوٹ کی گیا تھا یا وہ احکام ہیں جو صحیفے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " مدینہ عیر سے ثور تک حرم ہے جو شخص یہان کوئی بدعت ایجاد کرے یا بدعتی کو پنا ہ دے، تو اس پر اللہ تعالیٰ فرشتون اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی۔ مسلمانوں کی دی ہوئی پناہ یکساں حیثیت رکھتی ہے ۔ ان کا عام فرد بھی اسے پوری کرنے کی کوشش کرے گا جو شخص کسی مسلمان کو رسوا کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی اور جو شخص اپنے آقا کی بجائے خود کو کسی اور کی طرف منسوب کرے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اورتمام لوگوں کی لعنت ہو گی"۔

رَسُولِ اللَّهِ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، ← مَا كَتَبْنَا ← عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 3717

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3718

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ1 عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطِيعًا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: "لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، وَلَمْ يُدْرِكِ الْمُسْلِمُونَ أَحَدًا مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشً غَيْرَ مُطِيعٍ، وَكَانَ اسْمَهُ الْعَاصِ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم مطيعا 2. [95:2]

حضرت مطیع رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: "آج کےبعد قیامت کے دن تک کسی بھی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا"۔ اس دن مسلمانوں کو کفار مکہ سے صرف حضرت مطیع رضی اللہ عنہہ ہاتھ لگے تھے ان کا عاص تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے انکا نام مطیع رکھا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← مطيعا ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ← عَامِرٍ، ← زَکَرِیَّا، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3718

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3719

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ وَالْحَجَبِيُّ وَأَبُو الْوَلِيدِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، فَلَمَّا وَضَعَهُ قِيلَ: هَذَا ابْنُ خَطَلٍ متعلق بأستار الكعبة، فقال: "اقتلوه" 1. [1:4]

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ کے سر پر خود تھا، تو آپ نے اسے اتارا، تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی ابن خطل کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← الْقَعْنَبِيُّ وَالْحَجَبِيُّ وَأَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 3719

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3720

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ1 بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُھَلْھِلٍ ، عَنْ مَنْصُوْرٍ ، عَنْ مُجَاھِدٍ ، عَنْ طَاوْسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ : اِنَّ ھٰذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ ، حَرَّمَہُ اللہُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، لَا یُنَفَّرُ صَیْدُہٗ ، وَلَا یُعْضَدُ شَوْکَہُ ، وَالَا تُلْتَقَطُ اِلَّا مَنْ عَرَّفَھَا ، وَلَایُخْتَلٰی خَلَاؤُہُ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : اِلَّا الْاِذْخِرَ ، فَاِنَّہٗ لِبُیُوْتِھِمْ ، فَقَالَ : اِلَّا الْاِذْخِرَ ، وَلَا ھِجْرَۃَ ، وَلٰکِنْ جِھَادٌ وَلَیَّۃٌ ،وَاِذَا اسْتُنْفِرْ ثُمْ فَانْفِرُوا

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی ا کرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ شہر قابل احترام ہے اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لئے قابل احترام قرار دیا ہے یہاں تک کہ شکار کو بھگایا نہیں جائے گا یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جائے گا اور یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لئے اٹھایا جا سکتا ہے اور یہاں کے پودوں کو اکھیڑا نہیں جائے گا حضرت عباس رضی اللہ عنہہ نے عرض کی: اذخر کی اجازت دے دیں وہ گھروں میں استعمال ہوتی ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اذخر کی اجازت ہے اب ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تم سے (جہاد کے لئے ) نکلنے کے لئے کہا جائے ، تو تم نکل کھڑے ہو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← مُفَضَّلُ بْنُ مُھَلْھِلٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← الْمُفَضَّلُ1 بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ،

Hadith 3720

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3721

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحَلَبِيُّ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، وَإِنَّهُمْ قَالُوا: يا رسول الله بن خَطَلٍ مُتَعَلَّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ؟ فَقَالَ: "اقْتُلُوهُ" فَقُتِلَ1. [1:4]

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! ابن خطل کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے نبیاکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے قتل کر دو، تو اسے قتل کر دیا گیا۔

دَخَلَ النَّبِيُّ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، وَإِنَّهُمْ ← أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الدِّمَشْقِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحَلَبِيُّ بِدِمَشْقَ،

Hadith 3721

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3722

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : فِیْ خَبَرِ انَسِ بْنِ مَالِکٍ دَخَلَ النَبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ ، وَعَلٰی رَاْسِہِ الْمِغْفَرُ ، وَفِیْ خَبَرِ جَابِرٍ اَنَّہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَکَّۃَ ، وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ سَوْدَاءُ ، وَلَمْ یَدْخُلْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ بَغَیْرِ اِحْرَامٍ اِلَّا مَرَّۃً وَاحِدَۃً ، وَھُوَ یَوْمَ الْفَتْحِ ، وَیُشْبِہُ اَنْ یَّکُوْنُ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ کَانَ عَلٰی رَاْسِہِ الْمِغْفَرُ ، وَقَدْ تَعَمَّمَ بِعِمَامَۃٍ سَوْدَاءِ فَوْقَہُ ،فَاِذًا جَابِرٌ ذَکَرَ الْعِمَامَۃَ الَّتِیْ عَایَنَھَا ، وَاِذَا اَنَسٌ ذَکَرَالْمِغْفَرَ الَّذِی رَآہُ مِلْ غَیْرِ اَنْ یَّکُوْنَ بَیْنَ الْخَبَرَیْنِ تَضَادٌّ اَوْتَھَاتُرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ ( مکہ میں ) داخل ہوئے، تو آپ نے سیا ہ عمامہ باندھا ہوا تھا ۔ (امام ابن حبان رحمتہ ا للہ علیہ فرماتے ہیں:) : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکو ر ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ کے سر مبارک پر خود تھا جبکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہہ سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا، حالانکہ نبی اکرم ﷺ احرام کے بغیر مکہ میں صرف ایک مرتبہ داخل ہوئے تھے یہ فتح مکہ کا دن تھا تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس دن میں نبی اکرم ﷺ نے اپنے سرپر خود بھی رکھا ہو اور اس پر سیاہ امامہ بھی باندھا ہو تو حضرت جابر رضی اللہ عنہہ نے عمامے کا ذکر کیا جسے انہوں نے دیکھا تھا اور حضرت انس رضی اللہ عنہہ نے خود کا ذکر کیا جو انہوں نے دیکھا تھا تو اس طرح ان دونوں روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہو گا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3722

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3723

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ: يَثْرِبُ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ" 1. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى" لَفْظَةُ تَمْثِيلٍ، مُرَادُهَا أَنَّ الْإِسْلَامَ يَكُونُ ابْتِدَاؤُهُ مِنَ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ يَغْلِبُ عَلَى سَائِرِ الْقُرَى، وَيَعْلُو عَلَى سَائِرِ الْمُلْكِ، فَكَأَنَّهَا قد أتت عَلَیْھَا ، لَا اَنَّ الْمَدِیْنَۃَ تَاْکُلُ الْقُرَی

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " مجھے ایک ایسی بستی کے بارے میں حکم دیا گیا ہے ، جو تمام بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ لوگ یہ کہتے ہیں: یہ یثرب ہے، حالانکہ یہ مدینہ ہے یہ لوگوں کو یوں باہر نکال دے گا جیسے بھٹی لوہے کے زنگ کو ختم کر دیتی ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " مجھے ایک بستی کے بارے میں حکم دیا گیا ہے، جو دیگر بستیوں کو کھا جائے گی۔" یہ مثال بیان کرنے کے الفاظ ہیں اور اس سےمراد یہ ہے: اسلام کا آغاز مدینہ منورہ سے ہو گا اور پھر وہ دیگر بستیوں پر غالب آجائے گا اور پورے ملک پر غالب آ جائے گا تو یہ اس طرح ہو گا جیسے مدینہ پورے ملک پر غالب آ گیا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ مدینہ دیگر بستیوں کو کھا جائے گا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 3723

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3724

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ, عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ وَيَا بِلَالُ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَتْ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عنه إذا أخذته الحمى يقول: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ ... وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالُ رَحِمَهُ اللَّهُ إذا أقلع عنه يرفع عقيرته1 ويقول: اَلَا لَیْتَ شِعْرِی ھَلْ اَبِیتَنَّ لَیْلَۃً بِوَادٍ وَّحَوْلِی اِذْ خِرٌ وَجَلِیلٌ وَھَلْ اَرِدَنْ یَّوْمًا مِیَاہَ مَجَنَّۃٍ وَھَلْ یَبْدُوَنْ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیلٌ قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَجِئْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاَخْبَرْتُہُ ، فَقَالَ : اللّٰھُمَّ حَبِّبُ اِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃَ کَجُبِّنَا مَکَّۃَ اَوْ اَشَدَّ ، وَصَحِّحْھَا لَنَا ، وَبَارِکْ لَنَا فِیْ صَاعِھَا وَمُدِّھَا ، وَاَنْقُلْ حُمَّاھَا وَاجْعَلْھَا بِالْجُحْفَۃِ ،قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : الْعِلَّۃُ فِیْ دُعَاء، النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بْنَقْلِ الْحُمَّی اِلَی الْجُحْفَۃِ ، اَنَّ الْجُحْفَۃَ حِینَئِذٍ کَانَتْ دَارَ الْبَھُودِ ، وَلَمْ یَکُنْ بِھَا مُسْلِمٌ ، فَمِنْ اَجْلِہٖ ، قَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَانْقُلْ حُمَّاھَا اِلَی الْجُحْفَۃِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہہ کو بخار ہو گیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں ان کے پاس آئی۔ میں نے پو چھا ابا جان آپ کا کیا حال ہے؟ اے بلال آپ کا کیا حال ہے ؟ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ کو بخار ہوا، تو وہ یہ شعر پڑھتے تھے۔ " ہر شخص اپنے گھر والوں کے پاس صبح کرتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہو تی ہے"۔ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہہ، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ، ان کی طبیعت کچھ بہتر ہوتی تھی ، تو وہ بلند آواز میں یہ پڑھتے تھے۔ " ہائے افسوس کیا میں اس وادی میں کبھی رات بسر کر سکو ں گا کہ میرے اردگرد اذخر اور جلیل (مکہ کی مخصوص گھاس ) ہو گی کیا میں کبھی کسی دن مجنہ کے پانی تک پہنچ پاو ں گا کیا شامہ اور طفیل (نامی پہاڑ) میرے سامنے آئیں گے"۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، توآپ نے دعا کی: " اے اللہ ! تو مدینہ کو بھی ہمارے نزدیک اسی طرح محبوب کردے جس طرح ہمیں مکہ سے محبت ہے بلکہ (مدینہ کو ) زیادہ محبوب کر دے اور اسے ہمارے لئے صحت افزاء بنا دے اور ہمارے لئے اس کے صاع اور اس کے مد میں برکت دیدے اور یہاں کے بخار کو یہاں سے منتقل کر دے اور اسے حجفہ منتقل کر دے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : نبی اکرم ﷺ کے، بخار کے حجفہ کی طرف منتقل ہونے، کی دعا کرنے کی علت یہ ہے: ان دنوں حجفہ یہودیوں کی بستی تھی۔ اس لئے نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی " کہ اس کے بخار کو حجفہ کی طرف منتقل کر دے"۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 3724

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3725

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ، وَقَالَ: "إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يحبنا ونحبه" 1. [42:1] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَبَلٌ یُحِبَّہُ ،یُرِیدُ اَھْلَ الْجَبَلِ ، کَقَوْلِہِ جَلَّ وَعَلَا (وَاُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوبِھِمْ الْعِجْلَ بِکُفْرِھِمْ) (البقرۃ :93) یُرِیدُ حُبَّ الْعِجْلِ ، وَکَقَوْلِہِ جَلَّ وَعَلَا (وَاسْاَلِ الْقَرْیَۃَ) (یوسف:82) یُرِیدُ بِہٖ اَھْلَ الْقَرْیَۃِ ، وَالْقَصْدُ فِیہِ اَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ ، فَاَطْلَقَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِطَابَ الْمَقْصُودِ بِہِ الْمَدِیْنَۃَ عَلَی الْجَبَلِ الَّذِی ھُوَ اُحُدٌ عَلٰی سَبِییلِ الْمُقَارَبَۃِ بَیْنَھُمَا وَالْمُجَاوَرَۃِ

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: " بے شک احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان: " ایک پہاڑ جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں"، اس سے مراد پہاڑ پر رہنے والے لوگ ہیں۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: " تو ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں میں بچھڑے کو ڈال دیا گیا" اس سے مراد بچھڑے کی محبت ہے اور اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے۔ " تم بستی سے دریافت کرو" اس سے مراد بستی میں رہنے والے لوگ ہیں۔ اور (حدیث میں مذکور الفاظ) سے مراد اہل مدینہ ہیں تو یہاں نبی اکرم ﷺ نے حدیث کو الفاظ کو یوں استعمال کیا ہے کہ وہ پہاڑ جو اُحد ہے اس سے مقصود مدینہ منورہ لیا ہے، تو یہ ان دونوں کے درمیان مقاربت اور مجا ورت کے طور پر ہو گا۔

"إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يحبنا ونحبه" ← نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى أُحُدٍ، ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← الْقَوَارِيرِيُّ ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Hadith 3725

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3726

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم سمى المدينة طابة 1. [2:1]

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا آپ نے مدینہ منورہ کو "طابہ" کا نام دیا ہے۔

رَسُولَ اللَّهِ سمى المدينة طابة ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ

Hadith 3726

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3727

أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ الْأَصْبَغِ بْنِ عَامِرٍ التَّنُوخِيُّ بِمَنْبِجَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْإِيمَانَ ليأرز1 إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها" 2. [2:1]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بے شک ایمان مدینہ منورہ کی طرف یوں پلٹ آئے گا، جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف پلٹتا ہے"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ الْأَصْبَغِ بْنِ عَامِرٍ التَّنُوخِيُّ بِمَنْبِجَ،

Hadith 3727

chevron_left Previous
1234…22
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr