صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ مَا جَاءَ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى الله عليه وسلم واعتماره · حديث 3944
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَسَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ، فَقُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي، فَنَزَعَ زِرِّيَ الْأَعْلَى، ثُمَّ نَزَعَ زِرِّيَ الْأَسْفَلَ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا غُلَامٌ يَوْمَئِذٍ شَابٌّ، فَقَالَ: مرحبا يا بن أَخِي، سَلْ عَمَّا شِئْتَ، فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى، وَجَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ، فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ1 مُلْتَحِفٍ بِهَا، كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ، رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا، وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ2، فَصَلَّى بِنَا، فَقُلْتُ: أَخْبَرَنِي عَنْ حَجَّةِ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال بِيَدِهِ وَعَقَدَ تِسْعًا، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي العشر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حاج، فقدم3 المدينة بشر كثير وَھُدَاہُ لِسُلُوْکِ الرَشَادِ
امام جعفر صادق رضی اللہ عنہہ اپنے والد (امام محمد باقر رضی اللہ عنہہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے تمام لوگوں سے تعارف دریافت کیا: یہاں تک کہ جب میری باری آئی، تو میں نے بتایا: میں محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابو طالب ہوں۔ انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف بڑھایا اور میرا اوپر والا بٹن کھولا پھر اس کے نیچے والا بٹن کھولا۔ پھر انہوں نے اپنی ہتھیلی میرے سینے پر رکھی۔ میں ان دنوں نوجوان آدمی تھا۔ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے تمہیں خوش آمدید تم جو چاہو دریافت کرو، تو میں نے ان سےسوال کیا وہ اس وقت نابینا ہو چکے تھے نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی چادر کی طرف بڑھے۔ انہوں نے اسے لحاف کے طور پر لپیٹ لیا جب بھی وہ اسے اپنے کندھے پر رکھنے کی کوشش کرتے، تو اس کا یک کنارہ واپس آ جاتا، کیونکہ وہ چادر چھوٹی تھی، حالانکہ ان کی بڑی چادر ان کے پہلو میں کھونٹی پر لٹکی ہوئی تھی۔ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے حج کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعےاشارہ کرتے ہوئے نو کا عدد بنا یا اور بولے: نبی اکرم ﷺ نو سال تک ٹھہرے رہے۔ آپ نے اس دوران حج نہیں کیا ۔ پھر آ پ نے دسویں سال لوگوں میں حج کا اعلان کروا دیا کہ نبی اکر مﷺ حج کے لئے تشریف لے جا رہے ہیں، تو بہت سے لوگ مدینہ منورہ آ گئے و ہ ب اس بات کے خواہش مند تھے کہ نبی اکرم ﷺ کی پیروی کریں اور آپ کے عمل کی مانند عمل کریں ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہا ں تک کہ جب ہم ذالحلیفہ پہنچے، تو وہاں سیّدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے حضرت محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہہ کو جنم دیا۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پیغام بھجوایا میں کیا کروں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم غسل کر کے کپڑا باندھ لو اور احرام باندھ لو نبی اکرم ﷺ نے ذوالحلیفہ کی مسجد میں نماز ادا کی پھرآپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے، یہاں تک کہ جب میدا ن میں آپ کی اونٹنی سیدھی کھڑی ہوئی اور میں نے حد نگاہ تک دیکھا، تو مجھے نبی اکرم ﷺ کے آگے پیدل اور سوار نظر آئے۔ آپ کے دائیں طرف بھی اسی طرح تھے بائیں طرف بھی اسی طرح تھے۔ آپ کے پیچھے بھی اسی طرح تھے نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے آپ پر قربان نازل ہوتا تھا۔ آپ اس کی تفسیر کو جانتے تھے آپ نے جو بھی عمل کیا ہم نے بھی ویسا ہی عمل کیا ۔ نبی اکر مﷺ نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرنے کا تلبیہ پڑھتے ہوئے یہ پڑھا۔ " اے اللہ ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں حاضر ہوں۔ بے شک حمد اور نعت تیرے لئے مخصوص ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے"۔ لوگ بھی یہی تلبیہ پڑ ھتے رہے نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس پر کچھ نہیں کہا نبی اکرم ﷺ نے اسی تلبیے کو جاری رکھا"۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہماری نیت صرف حج کرنے کی تھی۔ عمرے کا ذہن میں نہیں تھا، یہاں تک کہ جب ہم نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ بیت اللہ آئے، تو نبی اکرم ﷺ نے حجرا سود کا استلام کیا اور آپ نے طواف کے تین چکروں میں دوڑ کے طواف کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چل کر کیا پھر آپ مقام ابراہیم کی طرف بڑ ھ گئے آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ " تم لوگ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو جائے نماز بنا لو"۔ تو نبی اکرم ﷺ نے مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا۔ (امام جعفر صادق رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں:) میرے والد یہ فرمایا کرتے تھے، میرا خیال ہے انہوں نے نبی اکر مﷺ کے حوالے سے یہ بات بھی ذکر کی تھی: نبی اکرم ﷺ نے ان دو رکعات میں سورہ اخلاص اور سورہ الکفرون کی تلاوت کی تھی۔ پھر نبی اکرم ﷺ حجرا سود کی طرف واپس آئے آپ نے اس کا استلام کیا اور پھر آپ اس دروازے سے نکل کر صفا کی طرف تشریف لے گئے۔ جب آپ صفا کے قریب پہنچے، توآپ نے یہ آیت پڑھی۔ " بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں"۔ (پھر آپ نے فرمایا) میں اس سےآغاز کرتا ہوں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیا ہے، تونبی اکرم ﷺ نے صفا سے آغاز کیا۔ آپ اس پر چڑھے جب آپ نے بیت اللہ کو دیکھا، تو آپ نےقبلہ کی طرف رخ کیا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی کبریائی کا اعتراف کیا اور یہ پڑھا: " اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے حمد اسی کے لئے مخصوص ہے وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس نے وعدے کو پورا کیا اپنے بندے کی مدد کی اور (کافروں کے لشکروں) کو اسی نے پسپا کیا"۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ پڑھے اور ان کے درمیان دعا بھی مانگی۔ پھر آپ اس سے اتر کر مروہ کی طرف گئے، یہاں تک کہ جب آپ کے پاوں وادی کے نشیبی حصے میں پہنچے، تو آپ دوڑنے لگے اور جب آپ اوپر کی طرف چڑھنے لگے، تو آپ عام رفتار سے چلنے لگے، یہاں تک کہ آپ مروہ پر تشریف لائے۔ آپ نے مروہ پر بھی اسی طر کیا جس طرح آپ نے صفا پر کیا تھا، یہاں تک کہ جب آپ نے مروہ کا آخری طواف کر لیا، توآپ نے ارشاد فرمایا: مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا، اگر وہ پہلے آ جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور اسے عمرے میں تبدیل کر لیتا ، تو تم لوگوں میں سے جس کے ساتھ قربانی کا جانور موجود نہ ہو وہ احرام کھول دے اور اسے عمرے میں تبدیل کر لے۔ حضرت سراقہ بن جعشم کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! کیا یہ حکم اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے؟ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیں اور ارشاد فرمایا : عمرہ حج میں داخل ہو گیا، یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی (پھر فرمایا) بلکہ ہمیشہ، ہمیشہ کے لئے، بلکہ ہمیشہ، ہمیشہ کے لئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہہ یمن سے نبی اکرم ﷺ کے قربانی کے جانور لے کر آئے۔ انہوں نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس حالت میں پایا کہ وہ احرام کھول چکی تھیں اور رنگے ہوئے کپڑے پہن چکی تھیں اور انہوں نے سرمہ لگایا ہوا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہہ نے ان پر اعتراض کیا، تو انہوں نے بتایا: میرے والد نے اس بات کا حکم دیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہہ عراق میں یہ بات بیان کرتے تھے کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور فاطمہ کی شکایت کرنا چاہی ان کے اس عمل کی وجہ سے جو انہوں نے کیا تھا۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا۔ میں نے ان پر اعتراض کیا ہے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے تم نے جب حج کی نیت کی تھی، تو کیا کہا تھا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہہ نے بیان کیا میں نے عرض کی: اے اللہ! میں اس کے لئے حاضر ہوں جس کی تیرے رسول نے نیت کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے ساتھ، تو قربانی کا جانور ہے، تو تم اب احرام نہ کھولنا۔ راوی بیان کرتے ہیں: قر بانی کے جو جانور حضرت علی رضی اللہ عنہہ یمن سے لے کر آئے تھے اور جو نبی اکرم ﷺ لے کر آئے تھے وہ مل کر ایک سو بنتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: تمام لوگوں نے احرام کھول دیا اور بال چھوٹے کر وا لئے۔ صرف نبی اکرمﷺ نے ایسا نہیں کیا اور جن لوگوں کے ساتھ قر بانی کے جانور تھے انہوں نے ایسا نہیں کیا جب ترویہ کا دن آیا، تو یہ لوگ منیٰ کی طرف حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے۔ نبی اکرمﷺ سوار ہوئے آپ نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز یں ادا کیں پھر آپ تھوڑی دیر ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سورج نکل آیا، تو آپ کے حکم کے تحت آپ کے لئے بالوں سے بنا ہوا ایک خیمہ وادی نمرہ میں لگا دیا گیا۔ نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ مشعر حرام کے قریب وقوف کریں گے جس طرح قریش زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے ، لیکن نبی اکرم ﷺ اس سےآگے گزر گئے اور آپ عرفہ تشریف لے آئے وہاں آپ نے پڑاو کیا ، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا، تو اللہ کے حکم کے تحت آپ کی اونٹنی قصوری پر پالان رکھ دیا گیا۔ نبی اکرم ﷺ وادی کے نشیبی حصے میں لوگوں کو خطبہ دینے کے لئے تشریف لائے پھر آ پ نے ارشاد فرمایا: " بے شک تمہاری جانیں تمہارے مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح تمہارا یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابل احترام ہے۔ خبر دار زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ہر چیز میرے ان پاوں کے نیچے رکھی ہوئی ہے اور زمانہ جاہلیت کے خون معاف کر دئیے گئے ہیں اپنے خون کے بدلوں میں سے سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث کے صاحب زادے کے خون کو معاف کرتا ہوں جو بنولیث میں دودھ پی رہے تھے اور ہذیل قبیلے کے لوگوں نے انہیں قتل کر دیا تھا اور زمانہ جاہلیت کا سود کالعد م قرار دیا جاتا ہے سب سے پہلے میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہہ کے وصول کرنے والے سود کو کالعدم قرار دیتا ہوں وہ سارے کا سارا معاف کر دیا جاتا ہے۔ تم خواتین کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتےرہنا، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی امان کے ہمراہ انہیں حاصل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے ہمراہ ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بچھونے پر ایسے کسی شخص کو نہ بیٹھنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو تم ان کی پٹائی کرو جس میں زیادتی نہ ہو اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں خوراک اور لباس مناسب طور پر فراہم کرو۔ میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کے جا رہا ہوں اکہ اگر تم اسے مضبو طی سے تھام لو، تو تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے وہ اللہ کی کتا ب ہے اور اگر تم لوگوں سے میرے بارے میں دریافت کیا جائے، تو تم کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے عرض کی: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے تبلیغ کر دی ہے اعلان کر دیا ہے اور خیر خواہی کی ہے، تو نبی اکرمﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف بلند کر کے پھر لوگوں کی طرف کیا اور فرمایا: اے اللہ! تو گواہ ہو جا یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر اذان دی گئی پھر اقامت کی گئی۔ نبی کرم ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر اقامت کہی گئی پھر عصر کی نماز ادا کی آپ نے ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل نماز ادا کی۔ پھر نبی اکرم ﷺ سوار ہوئے، یہاں تک کہ آپ وقوف کی جگہ تشریف لائے۔ آپ نے اپنی اونٹنی قصویٰ کے پیٹ کو ان پتھروں کی طر ف رکھا اور جبلِ مشاۃ کو اپنے سامنے کی طرف کر کے قبلہ کی طرف رخ کر لیا۔ آپ وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور زردی رخصت ہو گئی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد نبی اکرم ﷺ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہہ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور روانہ ہو گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی اونٹنی قصویٰ کی لگام کو یوں کھینچا ہوا تھا کہ اس کا سر پالان کے سرے سے لگ رہا تھا، آپ اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے لوگوں سے یہ کہہ رہے تھے: اے لوگو! آرام سے چلو آرام سے چلو جب بھی کوئی پہاڑ راستے میں آتا ( یعنی چڑھا ئی آتی )، تو نبی اکرم ﷺ اس کی لگام کو تھوڑا سا ڈھیلا کر دیتے تھے ، تا کہ وہ اس کے اوپر چڑھ جائے، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ مزدلفہ تشریف لے آئے وہاں آپ نے مغر ب اور عشاء کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ہمراہ ادا کی ۔ آپ نے ان کے درمیان کوئی نفل نماز ادا نہیں کی پھر نبی اکرم ﷺ لیٹ گئے، یہاں تک کہ صبح صادق ہو گئی، توآپ نے فجر کی نماز ادا کی۔ آپ نے صبح صادق ہونے کے بعد ایک اذان اور ایک اقامت کے ہمراہ یہ نماز ادا کی تھی۔ پھر آپ قصویٰ پر سوار ہوئے اور مشعر حرام تک آئے آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اس کی کبریائی بیان کی اس کی معبود یت کا اعتراف کیا اس کی وحدانیت کا اعتراف کیا۔ آپ مسلسل وہاں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ اچھی طرح روشنی ہو گئی، تو آپ سورج کے نکلنے سے پہلے وہاں سے روانہ ہو گئے۔ آپ نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ ایک ایسے صاحب تھے، جن کے بال بڑے خوبصورت تھے اور خود بھی گورے چٹے اور خوبصورت تھے جب نبی اکرم ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے، تو وہاں سے کچھ خواتین گزریں۔ حضرت فضل اللہ عنہہ نے ان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک حضرت فضل رضی اللہ عنہہ کے چہرے پر رکھا اور حضرت فضل رضی اللہ عنہہ کے چہرے کو دوسری طرف موڑ دیا، یہاں تک کہ جب آپ وادی محسر میں تشریف لائے، تو آپ نے (اس اونٹنی کو تھوڑا ) سا حرکت دی (یعنی اس کی رفتار کو کچھ تیز کیا ) پھر آپ اس درمیانی راستے پر آ گئے جو جمرہ کبریٰ کی طرف جاتا ہے، یہاں تک کہ آپ جمرہ آ گئے۔ آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ آپ نے ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہی۔ وہ کنکری اتنی تھی کہ چٹکی میں آ جائے۔ آپ نے وادی کے نشیبی حصے سے کنکریاں ماری تھیں، پھر آپ قربان گاہ کی طرف تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے 63اونٹ اپنے دستِ مبارک کے ذریعے نحر کیے۔ باقی آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہہ کے سپر کر دئیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہہ نے انہیں نحر کیا۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہہ کو اپنی قربانی میں حصہ دار بنا یا تھا۔ پھر آپ کے حکم کے تحت ہر قربانی کا کچھ حصہ لے کر ایک ہنڈیا میں پکا یا گیا ان دونوں صاحبان نے اس کا گوشت کھایا اس کے شوربے کو پیا۔ نبی اکرم ﷺ سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف چلے گئے آپ نے مکہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ بنو عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جن سے لوگ پینے کے لئے آب زمزم لے رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے بنو عبدالطلب تم لوگ پانی نکالو اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہو تا کہ لوگ تمہارے پانی پلانے پر غالب آ جائی گے (یعنی لوگوں کا ہجوم زیادہ ہو جائے گا)، تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا لوگوں نے آپ کی خدمت میں پانی کا ڈول پیش کیا آ پ نے اسے پی لیا۔ روایت کے یہ الفاظ ابن ابی شیبہ کے حوالے سے حسن بن سفیان کے نقل کردہ ہیں۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اگر ہم اس قسم کو تفصیل سے بیان کریں تو اس میں تین سنتیں داخل ہو جائیں گی اور جن اشیاء کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی امت پر اور سب پر فرض ہیں ان میں وضو کرنا، تمیّم کرنا، غسل جنابت کر نا اور نماز ادا کرنا اور حج کرنا اور اس جیسے دیگر امور شامل ہیں جسے اللہ تعالیٰ درست چیز کی توفیق عطا کر دے اور ہدایت کے راسے کی طرف جس کی رہنمائی کر دے اسے ان چیزوں میں زیادہ غورو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے (بلکہ یہ چیزیں لوگوں کو ویسے ہی معلوم ہوتی ہیں)
أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ
Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter What came during the Hajj and Umrah of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 3944
