Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ التَّمَتُّعُ · حديث 3920

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ1، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَذَكَرَ أَبُو يَعْلَى آخَرَ مَعَهُ قَالَا: سَمِعْنَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ مَوَالِيهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي لَمْ أَحُجَّ قَطُّ، فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ بِالْعُمْرَةِ أَمْ بِالْحَجِّ؟ قَالَتِ: ابْدَأْ بِأَيِّهِمَا شِئْتَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ صَفِيَّةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ لِي مِثْلَ مَا قَالَتْ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِ صَفِيَّةَ، فَقَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "يَا آلَ مُحَمَّدٍ مَنْ حَجِّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فِي حَجَّةٍ" 2. [78:1] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو عِمْرَانَ هَذَا اسْمُهُ أَسْلَمُ أبو عمران من ثقات أهل مصر

ابو عمران بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنے غلاموں کے ہمراہ حج کیا وہ بیان کرتے ہیں : میں اُمّ المومنین سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عر ض کی: اے اُمّ المومنین ! میں نے کبھی حج نہیں کیا تھا، تو کیا میں عمرے سے آغاز کروں یا پہلے حج کر لوں ؟ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم ان دونوں میں سے جسے چاہو پہلے کر لو، وہ بیان کرتے ہیں: پھر میں اُمّ المومنین سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی خد مت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے اس بار ے میں دریافت کیا: انہوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا جو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں : پھر میں سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے انہیں سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیان کرے بارے میں بتایا، تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد ر فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " اے محمد کے گھر والو! تم میں سے جو شخص حج کرے وہ حج میں عمرے کا بھی ذکر کرے(یعنی تلبیہ پڑھتے ہوئے ایسا کرے )۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ابو عمران نامی راوی کا نام اسلم ابو عمران ہے اور یہ مصر سے تعلق رکھنے والے ثقہ راوی ہیں۔

أَبُو عِمْرَانَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← أَبُو يَعْلَى آخَرَ مَعَهُ، ← حَيْوَةُ، ← الْمُقْرِئُ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door to enjoyment · Hadith 3920

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ التَّمَتُّعُ · حديث 3921

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَا نخلط بغيره، فقدمنا مكة لأربع ليالي خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عَمْرَةً وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى النِّسَاءِ، فَقُلْنَا بَيْنَنَا: لَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، فَنَخْرُجُ إِلَيْهَا وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي لَأَبَرُّكُمْ وَأَصْدَقُكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَأَحْلَلْتُ". فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْتِعَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بل للأبد" 1. [65:3]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ صرف حج کا تلبیہ پڑھا اس میں کوئی دوسری چیز شامل نہیں کی ذوالحج کی چار تاریخ کو ہم لوگ مکہ آ گئے۔ جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور صفا و مروہ کی سعی کر لی، تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرے میں تبدیل کر لیں اور ہم اپنی خواتین کے لئے حلال ہو جائیں ہم نے آپ میں یہ کہا: ہمارے اور عرفہ میں صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں ہم جب عرفہ کی طرف جائیں گے، تو ہماری شرمگاہوں سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛ میں تم سب سےزیادہ نیکو کار اور تم سب سے زیادہ سچا ہوں ۔ اگر قربانی کا جانور ساتھ نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا۔ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عر ض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا یہ سہولت اس سا ل لے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door to enjoyment · Hadith 3921

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ التَّمَتُّعُ · حديث 3922

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى1، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ مَوَالِيهِ قَالَ: فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي لَمْ أَحُجَّ قَطُّ، فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ بِالْحَجِّ أَمْ بِالْعُمْرَةِ؟ فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتَ فَاعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ، وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ، فَذَهَبْتُ إِلَى صَفِيَّةَ، فَقَالَتْ لِي مِثْلَ ذَلِكَ، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِ صَفِيَّةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "يَا آلَ مُحَمَّدٍ مَنْ حَجِّ مِنْكُمْ، فَلْيُهِلَّ2 بِعُمْرَةٍ في حج" 3. [11:5]

ابو عمران بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنے غلاموں کے ہمراہ حج کیا وہ بیان کرتے ہیں: میں سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی : اے اُمّ المومنین ! میں نے پہلے حج نہیں کیا ، تو اب میں پہلے حج کروں یا عمرہ کروں؟ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو حج کرنے سے پہلے عمرہ کر لو او ر اگر چاہو، تو حج کرنے کے بعد عمرہ کر لینا پھر میں سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے بھی مجھ سے یہی بات ارشاد فرمائی میں واپس سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہیں سیّد ہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے بارے میں بتایا، تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " اےمحمد کے گھر والو! تم میں سے جو شخص حج کرے وہ حج میں عمرے کا بھی تلبیہ پڑھے"۔

أَبُو عِمْرَانَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door to enjoyment · Hadith 3922

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ التَّمَتُّعُ · حديث 3923

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّهُ سَمِعَ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ فِي حَجَّةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُ: لَا يَفْتِي بِالتَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا، فَقَالَ لَهُ سعد بن أبي وقاص: بئس ما قلت يا بن أَخِي، فَوَاللَّهِ لَقَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وفعلناه معه 1. [1:4]

محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں:۔ انہوں نے ضحاک بن قیس کو سنا یہ اس موقع کی بات ہے جب حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہہ (اپنے عہد خلافت میں) حج کے لئے آئے تھے ضحاک یہ کہہ رہے تھے حج کے ہمراہ عمرہ کو شامل کرنے کی سہولت کا فتویٰ وہ شخص دیگا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ناواقف ہو گا اس پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہہ نے ان سے کہا: میرے بھتیجے تم نے بہت غلط بات کہی ہے اللہ کی قسم! نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیا تھا آپ کے ہمراہ ہم نے بھی ایسا کیا تھا۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door to enjoyment · Hadith 3923

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ التَّمَتُّعُ · حديث 3924

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَکَّۃِ ، فَطُفْنَا بِالْبَیْتِ ، وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، ثُمَّ قَامَ فِینَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ لَمْ یَکُنْ مِنْکُمْ سَاقَ ھَدْیًا فَلْیَحْلِلْ وَلْیَجْعَلْھَا عَمْرَۃً ، فَقُلْنَا حِلٌّ مِّنْ ذَا یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟، قَالَ : الْحِلُّ کُلُّہُ ، فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ ، وَلَبِسْنَا ، وَتَیَّبْنَا بِالطِّیبِ ، فَقَالَ اُنَاسٌ ، مَاھٰذَا الْاَمْرُ ،نَاْتِی عَرَفَۃَ ، وَاُبُورُنَا تَقْطُرُ مَنِیًّا ؟ ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ فِینَا کَالْمُغْضَبِ ، فَقَالَ : وَاللہِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ اَنِّی اَتْقَاکُمْ ، وَلَوْ عَلِمْتُ اَنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مَا سُقْتُ الْھَدْیَ ، فَاسْمَحُوا بِمَا تُؤْمَرْونَ ، بِہٖ ، فَقَامَ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعقشُمٍ ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عُمْرَتُنَا ھٰذِہِ الَّتِی اَمَرْتَنَا بِھَا اَلِعَامِنَا ھٰذَا اُمْ لِلْاَبَدِ ؟ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : بَلْ لِلْاَبَدٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے اور مکہ آ گئے ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا صفا اور مروہ کی سعی کی پھر نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : تم میں سے جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں ہے و ہ احرام کھول دے اور اسے عمرے میں تبدیل کر دے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! ہم کس حد تک احرام ختم کر یں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مکمل طور پر ( راوی کہتے ہیں) ہم نے اپنے بیویوں کے ساتھ صحبت بھی کی، سلے ہوئے کپڑے بھی پہن لئے، خوشبو بھی لگا لی کچھ لوگوں نے یہ بات کہی۔ اب تو یہ ہوگا، جب ہم عرفہ کی طرف جائیں گے، تو ہماری شرمگاہوں سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہو ں گے۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی آ پ ہمارے درمیان یو ں کھڑےہوئے جیسے غصے کے عالم میں ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا:اللہ کی قسم! تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ پرہیز گار ہو ں اور مجھے پتہ چلا ہے کہ تم نے یہ بات کہی ہے۔ اگر میں نے قربانی کا جانور ساتھ نہ لیا ہو تا (تو میں بھی احرام کھول دیتا) تمہیں، جس چیز کا حکم دیا جائے اس کی پیروی کیا کرو حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! عمرے کے بارے میں حکم اس سال کے لئے خاص ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے۔

بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ قَامَ فِینَا النَّبِیُّ ← خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَکَّۃِ فَطُفْنَا ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door to enjoyment · Hadith 3924

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ التَّمَتُّعُ · حديث 3925

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ فَقَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي1، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ" 2. [65:3]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا ہے آ پ نے عمرے کے بعد احرام نہیں کھولا۔ نبی اکر مﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ہوا ہے اور قربانی کا جانور ساتھ رکھا ہوا ہے اس لئے جب تک میں قربانی نہیں کرتا اس وقت تک احرام نہیں کھو لوں گا۔

لِرَسُولِ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا، وَلَمْ تَحْلِ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ ← حَفْصَۃَ: أَنَّھَا ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door to enjoyment · Hadith 3925

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ التَّمَتُّعُ · حديث 3926

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ1 يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَلَمْ يُهْدِ، فَلْيَحِلَّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَأَهْدَى، فَلَا يَحِلَّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ". قالت عائشة: وكنت ممن أهل بعمرة 2. [11:5]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حجتہ الوداع کے موقع پر ہم نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم میں سے کوئی صرف حج کا تلبیہ پڑھ رہا تھا اور کوئی صرف عمرے کا تلبیہ پڑھ رہا تھا اور اس نے قربانی کا جانور بھی ساتھ رکھا ہوا تھا۔ نبی ا کرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص عمرے کا تلبیہ پڑھ رہا ہے اور اس نے قر بانی کا جانور ساتھ نہیں رکھا وہ احرام کھول دے اور جو شخص عمرے کا تلبیہ پڑھ رہا تھا ۔ اور اس نے قربانی کا جانور ساتھ رکھا ہوا ہے، تو وہ احرام نہ کھولے جو شخص حج کا تلبیہ پڑھ رہا تھا وہ اپنے حج کو مکمل کرے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھی جو عمرے کا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door to enjoyment · Hadith 3926

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ التَّمَتُّعُ · حديث 3927

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ كَانَ مِنْكُمْ قَدْ سَاقَ هَدْيًا، فَلْيُهِلَّ بِحَجٍّ مَعَ عُمْرَتِهِ ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا". قَالَتْ: فَحِضْتُ لَيْلَةَ عَرَفَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي حَجَّتِي؟ قَالَ: "امْتَشِطِي وَدَعِي الْعُمْرَةَ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ". قَالَتْ: فَحَجَجْتُ، فَبَعَثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بكر فأعمرني مكان عمرتي التي تركتها1. [11:5]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حجتہ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ میں نے عمرے کا تلبیہ پڑھا میں قربانی کا جانور ساتھ نہیں لے جا سکی۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لایا ہو اسے عمرے کے ہمراہ حج کاتلبیہ بھی پڑھنا چاہئے پھر وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا۔ جب تک وہ ان دونوں سے فارغ نہیں ہو جاتا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: عرفہ کی رات مجھے حیض آ گیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اب میں اپنے حج کے بارے میں کیا کروں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنے بالوں میں کنگھی کر لو اور عمرے کو چھوڑ دو اور حج کا تلبیہ پڑھو۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے حج کر لیا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابو بکر رضی اللہ عنہہ کو میرے ہمراہ بھیجا ۔ انہوں نے میرے اس عمرے کی جگہ مجھے عمرہ کروا یا جو رہ گیا تھا۔

فَحِضْتُ لَيْلَةَ عَرَفَةَ، فَقُلْتُ: ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ، ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door to enjoyment · Hadith 3927

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ التَّمَتُّعُ · حديث 3928

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَخِي عَمْرَةَ، عَنْ عُمَرَةَ عَنْ1 عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ طَافَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَحِلَّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سَاقَ هَدْيًا، قَالَتْ: وَأَتَيْنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟. قَالُوا: ذَبَحَ رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أزواجه2. [1:4]

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب ذیقعدہ ختم ہونے میں پانچ دن رہ گئے تھے۔ تو ہم نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا جو شخص بیت اللہ کا طواف کر چکا ہو وہ احرام کھول دے، البتہ وہ شخص نہیں کھولے گا ، جس کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہمارے پاس گائے کا گوشت آیا، تو میں نے دریافت کیا: یہ کہاں سے آیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: اللہ کے رسول نے اپنی ازواج کی طرف سے (گائے ) ذبح کی ہے۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَخِي عَمْرَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door to enjoyment · Hadith 3928

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ التَّمَتُّعُ · حديث 3929

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، فلما دَنَوْنَا مِنْ مَکَّۃَ ،اَمَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ھَدْیً ، اِذَا طَافَ بِالْبَیْتِ ، وَسَعَی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، اَنْ یَّحِلَّ ، قَالَتْ عَائِشَۃُ فَدَخَلَ عَلَیْنَا یَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا ھٰذَا ؟ قَالَ : نَحَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ اَزْوَاجِہِ قَالَ یَحْیٰی : فَذِکَرْتُ ھٰذَا الْحَدِیثِ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ : اَتَتْکَ وَاللہِ بِالْحَدِیثِ عَلٰی وَجْھِہِ

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ذیقعد ہ ختم ہونے میں پانچ دن باقی رہ گئے تھے ، تو ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے ہمار ا ارادہ صرف حج کرنے کا تھا جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود نہیں ہے جب وہ بیت اللہ کا طواف کر لے اور صفا اور مروہ کی سعی کر لے، تو احرام کھول دے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قربانی کے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت آیا، تو میں نے دریافت کیا: یہ کہاں سے آیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے (گائے) قربان کی ہے۔ یحیٰی نامی روای کہتے ہیں: میں نے یہ روایت قاسم بن محمد کے سامنے ذکر کی، تو انہوں نے فر مایا: اللہ کی قسم! تم نے حدیث کو صحیح طور پر بیان کیا ہے۔

عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door to enjoyment · Hadith 3929

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ مَا جَاءَ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى الله عليه وسلم واعتماره · حديث 3930

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ1 يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسِ، أَنَّهُ سمع النبي يقول: "لبيك عمرة وحجا" 2. [11:5]

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: " میں عمرہ اور حج کرنے کے لئے حاضر ہوں"۔

"لبيك عمرة وحجا" ← النَّبِيِّ ← أَنَسِ، أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← حُمَيْدٍ ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter What came during the Hajj and Umrah of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 3930

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ مَا جَاءَ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى الله عليه وسلم واعتماره · حديث 3931

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ أَنَّ الْحَسَنَ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَقَرَنَ القوم معه1. [11:5]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حج اور عمرے کو جمع کر دیا تھا اور آپ کے ہمراہ کچھ لوگوں نے بھی ان دونوں کو جمع کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْأَشْعَثُ أَنَّ الْحَسَنَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter What came during the Hajj and Umrah of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 3931

chevron_left Previous
1…19202122
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr