Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3704

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ وَيُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ذَكَرَ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خَطَبَ، فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ"، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَكُلُّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فَسَكَتَّ عَنْهُ حَتَّى أَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: "لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بها. ذروني ما تركتم، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عن أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ، فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ، فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ". وَذَكَرَ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ نَزَلَتْ في ذلك: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: 101] 1 [2:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض قرار دیا ہے۔ ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہر سال ؟ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ اپنا سوال دہرایا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا ، تو یہ لازم ہو جاتا ا ور اگر یہ لازم ہو جاتا ، تو تم اسے اد ا نہیں کر پاتے جن معاملات کے بارے میں ، میں تمہیں بتاتا نہیں ہوں تم ان معاملات میں مجھے رہنے دیا کرو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے بکثرت (غیر ضروری ) سوالات کرنے اور ان سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے جب میں تم لوگوں کو کسی چیز سے منع کروں، تو اس سے اجتناب کرو اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس پر عمل کرو۔ انہوں نے یہ بات بھی ذکر کی کہ سورۃ مائدہ میں موجود ہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی تھی۔ " ا ے ایمان والو! ایسی چیزوں کے با رے میں دریافت نہ کرو کہ اگر انہیں تمہارے سامنے ظاہر کر دیا جائے، تو تمہیں برا لگے"۔

مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ وَيُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3704

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3705

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ،1 قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ، فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ" فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَوَفِي كُلِّ عَامٍ؟ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ يَعْرِضُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: "لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ، لَمَا قُمْتُمْ بِهِ" ثُمَّ قَالَ: "ذَرُونِي مَا تركتم، فإنما ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِسْؤَالِھِمْ ، وَاخْتِلَافِھِمْ عَلٰی اَنْبِیَائِھِمْ ، فَمَا اَمَرْتُکُمْ مِنْ شَیْءٍ فَاْتُوا مِنقہُ مَااسْتَطَعْتُمْ ، وَمَا نَھَیْتُکُمْ مِنْ شَیْءٍ فَاجْتَنِبُوْہُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض قرار دیا ہے۔ ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: کیا ہر سال میں ، یہاں تک کہ انہوں نے تین مرتبہ یہ سوال کیا، لیکن نبی اکرم ﷺ نے ان سے اعراض کیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا اور اگر یہ لازم ہو جاتا ، تو تم اسے ادا نہیں کر لے پاتے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب معاملات میں ، میں تمہیں ترک کر دیتا ہوں تم ان میں مجھے رہنے دو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے (غیر ضروری ) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے میں تمہیں، جس چیز کے بارے میں حکم دوں جہاں تک تم سے ہو سکے اسے بجا لا و جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں، تو تم اس سے اجتناب کرو۔

"لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ، لَمَا قُمْتُمْ بِهِ" ثُمَّ ← ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ يَعْرِضُ عَنْهُ، ثُمَّ ← أَوَفِي كُلِّ عَامٍ؟ حَتَّى ← "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ" فَقَامَ رَجُلٌ، ← خَطَبَ رَسُولَ اللَّهِ النَّاسُ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3705

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3706

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ،عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِیْنَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَجَّ بِنَسَائِہِ قَالَ : اِنَّمَا ھِیَ ھٰذِہِ الْحِجَّۃُ ، ثُمَّ عَلَیْکُمْ بِظُھُوْرِالْحُصُرِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : خِطَابُ ھٰذَا الْخَبَرِ وَقَعَ عَلٰی بَعْضِ النِّسَاءِ، اَرَادَ بِہٖ نِسَاءَۃُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَالْقصْدُ فِیہِ بَعْضُ الْاَحْوَالِ ، وَھُوَ الْحَالُ الَّذِی لَا یَکُوْنُ عَلَیْھِنَّ اِقَامَۃُ الْفَرَائِضِ فِیہِ کَالصَّلَاۃِ ،وَالْحَجِّ ، وَمَا اَشْبَھَھُمَا

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کے ہمراہ حج کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک یہ حج ہے اور پھر تم پر گھر میں رہنا لازم ہیں۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : اس روایت کے الفاظ بعض خواتین کے لئے استعمال ہوئے ہیں اور اس سے مراد نبی اکرم ﷺ کی ازواج ہیں اور اس میں قصد بعض حالتوں کا کیا گیا ہے۔ اور یہ وہ حالت ہے کہ جب ان خواتین پر اس حالت کے دوران فرائض کو قائم کرنا لازم نہیں تھا جیسے نماز ادا کرنا اور اس جیسے دیگر امور۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3706

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3707

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قَوْلِهِ: {بَرَاءَةٌ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ} [التوبة: 1] ، قَالَ: لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، اعْتَمَرَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ، ثُمَّ أَمَّرَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى تِلْكَ الحجة1. [1:4]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں۔ " اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے اظہار لا تعلقی ہے"۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ حنین سے واپس تشریف لائے، تو جعرانہ " سے عمرہ کیا تھا پھر آپ نے اس حج کے موقع پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ کو امیر مقرر کیا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قَوْلِهِ: {بَرَاءَةٌ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ} [التوبة: ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 3707

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3708

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بْنِ زِيَادَةَ بْنِ الطُّفَيْلِ اللَّخْمِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ بِعَسْقَلَانَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَاقِفًا بِالْحَزْوَرَةِ يَقُولُ: "وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أخرجت منك ما خرجت" 1. [2:1]

حضرت عبداللہ بن عدی زہری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ اپنی سواری پر حزورہ کے مقام پر وقوف کئے ہوئےتھے اور یہ فرما رہے تھے۔ " (اے مکہ) اللہ کی قسم! بے شک تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر (حصہ) ہے اور تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اللہ کی زمیں میں سے سب سےپسندیدہ (جگہ ہے) اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ گیا ہوتا، تو میں تجھ سے نہ نکلتا"۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَاقِفًا ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيَّ، ← الزُّهْرِيِّ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بْنِ زِيَادَةَ بْنِ الطُّفَيْلِ اللَّخْمِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ

Hadith 3708

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3709

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بن الحسن الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ1 خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلْدَةٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي منك، ما سكنت غيرك" 2. [2:1]

حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " (ا ے مکہ ) تو کتنا پاکیزہ شہر ہے؟ اور مجھے کتنا محبوب ہے؟ اگر میری قوم نے مجھے تجھ سے نکالا نہ ہوتا ، تو میں تیرے علاوہ اور کہیں رہائش نہ اختیار نہ کرتا"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← فُضَيْلُ بن الحسن الْجَحْدَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Hadith 3709

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3710

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ صُبَيْحٍ الْحَرَشِيُّ، حَدَّثَنَا مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ: "الرُّكْنُ وَالْمَقَامُ يَاقُوتَتَانِ مَنْ يَوَاقِيتِ الْجَنَّةِ، وَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ طَمَسَ عَلَى نُورِهِمَا، لَأَضَاءَتَا ما1 بين المشرق والمغرب" 2. [2:1]

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں:۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : آپ نے اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگا ئی ہوئی تھی۔ " حجرا سود اور مقام ابراہیم دونوں جنت کے یواقیت میں سے یاقوت ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے نور پر پر دہ نہ ڈالا ہوتا، تو یہ مشرق اورمغرب کے درمیان کی جگہ کو روشن کر دیتے"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ، ← رَجَاءُ بْنُ صُبَيْحٍ الْحَرَشِيُّ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ

Hadith 3710

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3711

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، عَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "أن لِهَذَا الْحَجَرِ لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ يوم القيامة بحق" 1. [2:1]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " (قیامت کے دن ) اس حجرا سو د کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہونگے اور یہ قیامت کے د ن ہر اس شخص کے بارے میں حق کے ہمراہ گواہی دے گا، جس نے اس کا استلام کیا تھا"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ

Hadith 3711

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3712

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثنا بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ هَذَا الرُّكْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ ينطق به ويشهد لمن استلمه بحق" 1.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس حجرا سود کو ضرور ایسی حالت میں اٹھا ئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہو گی، جن کی مدد سے وہ دیکھتا ہو گا اور ایک زبان ہو گی، جس کی مدد سے وہ کلام کرتا ہو گا اور یہ ہر اس شخص کے بارے میں حق کے ہمراہ گواہی دے گا، جس نے اس کا استلام کیا تھا"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← بْنِ خُثَيْمٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3712

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3713

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ، حدثنا حجاج بن شاعر، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ جِبْرِيلَ حِينَ1 رَكَضَ زَمْزَمَ بِعَقِبِهِ جَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَجْمَعُ الْبَطْحَاءَ". قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "رَحِمَ اللَّهُ هَاجَرَ، لَوْ تركتها كانت عينا معينا" 2. [4:3]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب جبرائیل نے زمزم کے مقام پر اپنی ایڑی ماری، تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ نے مٹی کو اکٹھا کرنا شروع کیا ( تا کہ پانی کے گرد آڑ بنا لیں) نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ہاجرہ پر رحم کرے، اگر وہ اسے ایسے ہی رہنے دیتی، تو یہ ایک بہتا ہوا بڑا چشمہ ہوتا ہے"۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَيُّوبَ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← حجاج بن شاعر، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ

Hadith 3713

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3714

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا يَحِلُّ لأحد أن يحمل السلاح بمكة" 1. [2:2]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد رفرماتے ہوئے سنا ہے: " کسی بھی شخص کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ ہو مکہ میں ہتھیار اٹھائے"۔

"لَا يَحِلُّ لأحد أن يحمل السلاح بمكة" ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 3714

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3715

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتْحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَتَلَتْ هُذَيْلُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ كَانَ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ، فَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا حَبَسَ الْفِيلَ عَنْ مَكَّةَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلَا يُلْتَقَطُ سَاقِطُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يَقْتُلَ، وَإِمَّا أَنْ يَفْدِيَ"، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو شَاهٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُبُوا لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ" ثُمَّ قَامَ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ؛ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي قُبُورِنَا وَفِي بُيُوتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إلا الإذخر" 1. [81:2]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لئے مکہ کو فتح کر دیا ، تو ہذیل نے بنو لیث سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو اپنے ایک مقتول کے عوض میں قتل کر دیا یہ زمانہ جاہلیت کا معاملہ تھا اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی۔ آپ کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کو مکہ تک نہیں پہنچنے دیا، لیکن اس نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر غلبہ عطا کیا مجھ سے پہلے کسی بھی شخص کے لئے یہ حلال نہیں ہوا تھا اور میرے بعد بھی یہ کسی کے لئے حلال نہیں ہو گا میرے لئے بھی دن کے ایک مخصوص حصے میں اسے حلال قرار دیا گیا اور یہ اب اس گھڑی کے بعد قابل احترام ہے یہا ں کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جائے گا۔ یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھا یا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے، جس شخص کا کوئی عزیز قتل ہوا تھا اسے دوباتوں میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا یا ، تو وہ (قاتل کو) قتل کر دے یا پھر فدیہ وصول کر لے۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) یمن سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کھڑےہوئے جن کا نام ابو شاہ تھا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ یہ مجھے لکھوا دیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابو شاہ کو لکھ کر دے دو پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہہ کھڑ ے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! صرف اذخر (کاٹنے کی اجازت دیں)، کیونکہ ہم اسے قبرستان میں استعمال کرتے ہیں اور گھروں میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اذخر (کا حکم مختلف ہے یعنی اسے کاٹنےکی اجا زت ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3715

chevron_left Previous
1234…22
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr