Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَصْلٌ · حديث 3908

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ ، ثُمَّ دَخَلَ مَکَّۃَ ، وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَفْعَلُہُ ، وَاِنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَکَّۃَ مِنْ کَدَاءِ الثِّنِیَّۃِ الْعُلْیَا الَّتِی بِالْبَطْحَاءِ ، وَخَرَجَ مِنْ ثِنِیَّۃِ السُّفْلٰی

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ذی طویٰ میں رات بسر کی پھر آپ نے صبح کی نماز ادا کی اس کے بعد مکہ میں داخل ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ مکرمہ میں بطحا میں موجود بالائی گھاٹی کداء کی طرف سے داخل ہوئے تھے اور (واپس جاتے ہوئے ) آپ زیریں گھاٹی کی طرف سے تشریف لے گئے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Season · Hadith 3908

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَصْلٌ · حديث 3909

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا خَرَجَ مِنْ مَکَّۃَ خَرَجَ مِنْ طَرِیْقٍ الشَّجَرَۃِ ، وَاِذَا رَجَعَ رَجَعَ مِنْ طَرِیْقِ الْمُعَرَّسِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب مکہ سے باہر تشریف لے گئے تھے، تو آپ شجرہ کے راستے سے تشریف لے گئے تھے اور جب آپ واپس تشریف لائے تھے، تو آپ معرس کے راستے سے تشریف لائے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْجُمَحِيُّ، ← هَارُونُ بْنُ مُوسَی الْفَرَوِيُّ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Season · Hadith 3909

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْقِرَانُ · حديث 3910

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنِ الصَّبِيِّ1 بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّهُ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ، فَقَالَ: هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم 2. [11:5]

صبی بن معبد بیان کرتے ہیں: انہوں نے حج اور عمرے کا احرام ایک ساتھ باندھ لیا۔ انہوں نے (بعد میں ) اس بات کا تذکرہ حضرت عمر رضی اللہ عنہہ سے کیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: تمہاری رہنمائی تمہارے نبی کی سنت کی طرف کی گئی ہے۔

هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ ← ذَلِكَ لِعُمَرَ، ← الصَّبِيِّ1 بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّهُ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of the Qur’an · Hadith 3910

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْقِرَانُ · حديث 3911

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ بن عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: كَثِيرًا مَا كُنْتُ آتِي الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ أَنَا وَمَسْرُوقٌ نَسْأَلُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: کُنْتَ امْرَأً نَصْرَنِیًّا ، فَاَسْلَمْتُ ، فَاَھْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ ،فَسَمِعَنِیْ سَلْمَانُ بْنُ رَبِیعَۃَ وَزَیْنُ بْنُ صُوحَانَ ، وَاَنَا اُھِلُّ بِھِمَا بِالقَادِسِیَّۃِ ، فَقَالَا : لَھٰذَا اَضَلُّ مِنْ بَعِیرِ اَھْلِہٖ ، فَکَاَنَّمَا حُمِلَ عَلَیَّ بِلَلِمَتِھِمَا جَبَلٌ حَتّٰی قَدِمْتُ مَکَّۃَ فَاَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَھُوَ بِمِنً ، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ ، فَاَقْبَلَ عَلَیْقھِمَا ، فَلَا مُھَمَا ، وَاَقْبَلَ عَلَیَّ ،فَقَالَ : ھُدِیتَ لِسُنَّۃِ بَنِیِّکَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّتَیْنِ

ابو وائل شفیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں : میں اکثر صبی بن معبد کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ میں اور مسروق ان سے ان کے واقعہ کے بارے میں دریافت کرتے تھے، انہوں نے بتایا: میں ایک عیسائی شخص تھا۔ میں نے اسلام قبول کیا میں نے حج اورعمرے کا احرام باندھ لیا۔ سیلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان نے مجھے (حج اور عمرے کا ایک ساتھ ) تلبیہ پڑھتے ہوئے سا ، میں (قادسیہ ) میں ان دونوں کا تلبیہ پڑھ رہا تھا، تو ان دونوں نے کہا: یہ شخص اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہے، تو ان دونوں کی اس بات سے گویا میرے اوپر پہاڑ جتنا وزن آ گیا، یہاں تک کہ جب میں مکہ آیا، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ ا س وقت منیٰ میں موجود تھے میں نے اس بات کا تذکرہ ان کے سامنے کیا ، تو انہوں نے ان دونوں کو ملامت کی اور میری طرف رخ کیا اور بولے : تمہاری تمہارے نبی کی سنت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے یہ بات انہوں نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی۔

أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← بن عُيَيْنَةَ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of the Qur’an · Hadith 3911

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْقِرَانُ · حديث 3912

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ثم لا يحل حتى يحل منهما جميعا". قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجَّھِمْ ، وَاَمَّا الَّذِینَ اَھَلُّوْا بِالْحَجِّ ، وَجَمَعُوا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ ، فَاِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا ، قَالَتْ : فَقَدِمْتُ مَکَّۃَ ، وَاَنَا حَائِضٌ ، لَمْ اَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلَا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، فَشَکَوْتُ ذٰلِکَ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : انْقُضِی رَاْسَکِ وَامْتَشِطِی وَاَھِلِّی بِالْحَجِّ ،وَدَعِی الْعُمْرَۃَ ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ ، فَلَمَّا قَضَیْنَا الْحَجَّ اَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ اِلَی التَّنْعِیمِ ، فَاعْتَمَرْتُ ، فَقَالَ : ھٰذِہِ مَکَانُ عُمْرَتِکِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حجتہ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ار کاشاد فرمایا: جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہو وہ حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھے اور وہ اس وقت احرام نہیں کھولے گا ، جب تک وہ ان دونوں سے فارغ نہیں ہو جاتا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا ( یا جو عمرے کا تلبیہ پڑھ رہے تھے) انہوں نے بیت اللہ کا طواف کرنے اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کو کھول دیا جب وہ لوگ منیٰ سے واپس آئے، تو انہوں نے اپنے حج کے لئے دوسری مرتبہ طواف کیا، البتہ جن لوگوں نے حج کا تلبیہ پڑھا تھا انہوں نے حج اور عمرے کو جمع کر دیا تھا، تو انہوں نے ایک ہی مرتبہ طواف کیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں مکہ آئی ، تو مجھے حیض آ چکا تھا میں بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کر سکی اور صفا و مروہ کی سعی بھی نہیں کر سکی میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے بالوں کو کھول دو کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ پڑھو اور عمرے کو چھوڑ دو۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ایسا ہی کیا میں نے حج مکمل کر لیا، تو نبی اکر مﷺ نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابو بکر کے ہمراہ تنعیم بھیجا ،تووہاں سے میں نے (عمرے کا تلبیہ پڑھا ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے اس عمرے کی جگہ ہو گیا۔

خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of the Qur’an · Hadith 3912

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْقِرَانُ · حديث 3913

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بن موسى وَاَیُّوْبُ السَّخْتِیَانِیُّ ، وَعُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، اَنَّہٗ جَمَعَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ ، وَطَاطَ لَھُمَا سَبْعًا ، وَسَعَی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ سَبْعًا ، وَقَالَ : ھٰکَذَا رَاَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْعَلُ

نافع بیا ن کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حج اور عمرے کو جمع کیا۔ انہوں نے ان دونوں کے لئے سات مرتبہ طواف کیا اور سات مرتبہ سعی کی اور یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of the Qur’an · Hadith 3913

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْقِرَانُ · حديث 3914

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرَ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ بن جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا لِحَجَّتِهِ وعمرته 1. [8:5]

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے صفا اور مروہ کا طوا ف صرف ایک مرتبہ کیا تھا جو آپ کے حج اور عمرے (دونوں ) کے لئے تھا۔

لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا لِحَجَّتِهِ وعمرته ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of the Qur’an · Hadith 3914

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْقِرَانُ · حديث 3915

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم قال: "مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ طَافَ لَھُمَا طَوَافًا وَاحِدً ا ، ثُمَّ لَمْ یَحِلَّ حَتّٰی یَحِلَّمِنْ حَجَّتِہٖ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص حج اور عمرے کو جمع کر لے وہ ان دونوں کے لئے ایک مرتبہ طواف کرے گا اور وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا، جب تک اس سے فارغ نہیں ہو جاتا"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ الزُّھْرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of the Qur’an · Hadith 3915

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْقِرَانُ · حديث 3916

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ کَفَاہُ لَھُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ ، وَلَا یَحِلَّ حَتّٰی یَوْمِ النَّحْرِ ، ثُمَّ یَحِلُّ مِنْھُمَا جَمِیْعًا

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص حج اور عمرے کو اکٹھا کر لے تو ایک ہی طواف ان دونوں کے لئے کافی ہو گا اور ایسا شخص اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا ، جب تک قربانی کا دن نہیں آ جاتا پھر وہ ان دونوں کا احرام ایک، ہی دفعہ کھولے گا"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of the Qur’an · Hadith 3916

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْقِرَانُ · حديث 3917

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مالك، عن بن شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا". قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: "انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ". قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: "هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ". قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى بِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، وَجَمَعُوا الحج والعمرة فإنما طافوا طوافا واحدا 1. [11:5]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حجتہ الوداع کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم نے عمرے کاتلبیہ پڑھا پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہو وہ عمرے کے ساتھ حج کا بھی تلبیہ پڑھے پھر وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا، جب تک وہ ان دونوں سے فارغ نہیں ہو جاتا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب میں مکہ آئی، تو مجھے حیض آ گیا میں نے بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کیا اور صفا و مروہ کی سعی بھی نہیں کی۔ میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی، تو آ پ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے با ل کھول کر ان میں کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ پڑھنا شرو ع کر و اور عمرے کو چھوڑ دو۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ایسا ہی کیا جب ہم نے حج مکمل کر لیا، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابو بکر کے ہمراہ تنعیم بھیجا وہاں سے میں نے عمرہ کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے عمرے کی جگہ ہو گیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ پڑھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیا۔ پھر انہوں نے منیٰ سے واپس آنے کے بعد حج کے لئے دوسری مرتبہ طواف کیا جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے حج کا تلبیہ پڑھا تھا انہوں نے حج اور عمرے کو جمع کر لیا تھا ، تو انہوں نے ایک ہی مرتبہ طواف کیا تھا۔

خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of the Qur’an · Hadith 3917

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْقِرَانُ · حديث 3918

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ وحرم الحج حتى نزلنا بسرف، قالت: فخرج صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: "مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، وَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عَمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَلَا". قَالَتْ: فَالْآخِذُ بِهَا، وَالتَّارِكُ لَهَا مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَتْ: فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ورجال من أصحابه، فكانوا أهل قُوَّةٍ، فَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْيُ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهُ؟ ". قلت: قد سمعت قولك لأصحابك، فمنعت العمرة، قَالَ: "وَمَا شَأْنُكِ؟ ". قَالَتْ: لَا أُصَلِّي. قَالَ: "فَلَا يَضُرُّكِ إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدم كتب الله عليك ما كتب عليهن، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ فَعَسَى أَنْ تُدْرِكِيهَا". قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فِي حَجِّهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى، فَطَهَرْتُ ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى، فَأَفَضْتُ الْبَيْتَ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الْآخَرِ حَتَّى نزل المحصب، ونزلنا معه، فدعا عبد الرحمن بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ افْرُغَا، ثُمَّ ائْتِيَا هُنَا فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي". قَالَتْ: فَخَرَجْتُ لِذَلِكَ حَتَّى فَرَغْتُ، وفرغت من الطَّوَافِ ،ثُمَّ جِئْتُہُ سَحْرًا ، فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ھَلْ فَرَغْتُمْ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاَذِنَ الرَّحِیلِ فِیْ اَصْحَابِہٖ ، فَارْتَحَلَّ النَّاسُ ،فَمَرَّ بِالْبَیْتِ قَبْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ ، فَطَافَ بِہٖ ، ثُمَ خَرَجَ ، فَرَکِبَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّھًا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم حج کے مہینوں میں حج کی راتوں میں حج کے قابل احترام (مخصوص موسم میں) نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہم نے سرف کے مقام پر پڑاو کیا ،تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس قربانی کا جانور موجود نہ ہو اور وہ اسے عمرے میں تبدیل کرنا چاہتا ہو وہ ایسا کر لے اور جس کے پاس قربانی کا جانور موجود ہو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کچھ لوگوں نے اسے موقوف کر دیا اور کچھ لوگوں نے اسے ترک کر دیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ اور کچھ افراد کا تعلق تھاجو صاحب حیثیت تھے اور ان کے ساتھ قر بانی کا جانور موجو د تھا وہ عمر ہ ( کر کے احرام نہیں کھول ) سکتے تھے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو، تو میں نے عرض کی: میں نے آپ کا وہ فرمان سنا ہے، جو آپ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا ہے، لیکن میں عمرہ نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیوں تمہیں کیا ہوا میں نے عرض کی: میں نماز ادا نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔ تم آدم کی بیٹیوں سے تعلق رکھنے والی ایک عورت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر بھی وہی چیز مقرر کی ہے، جو ان پر مقرر کی ہے۔ تم اپنے حج کو جاری رکھو۔ عنقریب تم اسے (یعنی عمرے کو ) پا لوگی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ حج کے لئے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم منیٰ آ گئے اور میں پاک ہو گئی۔ پھر میں منیٰ سے نکلی میں نے بیت اللہ کا طواف افاضہ کیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر میں نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ آخری روانگی میں نکلی، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے وادی محصب میں پڑاو کیا۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی پڑاو کیا۔ نبی ا کرم ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابو بکر رضی اللہ عنہہ کو بلایا اور ارشاد فرمایا: تم اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاو اسے عمرے کا احرام بندھوا لاو۔ تم دونوں فارغ ہو کر یہاں آ جانا میں تم دونوں کا انتظا کروں گا، جب تک تم آ نہیں جاتے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس موقع پر میں نکلی، یہاں تک کہ میں (عمرہ کر کے فارغ ہو گئی) اور میں طواف کر کے فارغ ہوئی پھر میں سحری کے وقت آ پ کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ فارغ ہوگئے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے سا تھیوں کو روانگی کا حکم دیا۔ ہم نے روانگی کی تیاری کر لی نبی اکرم ﷺ کا گزر بیت اللہ کے پاس ، صبح کی نماز سے پہلے ہوا آپ نے اس کا طواف کیا پھر (مکہ مکرمہ سے ) تشریف لے گئے اور مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of the Qur’an · Hadith 3918

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْقِرَانُ · حديث 3919

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالذَّرَارِيُّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "من لم يكن معه هدي فَلْيَحِلَّ". فَقُلْنَا: أَيُّ الْحِلِّ؟ فَقَالَ: "الْحِلُّ كُلُّهُ". فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اشْتَرِكُوا فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ". قَالَ: فَجَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا بَلْ لِلْأَبَدِ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّمَا خُلِقْنَا الْآنَ، أَرَأَيْتَ الْعَمَلَ الَّذِي نَعْمَلُ بِهِ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ أَمْ مِمَّا نَسْتَقْبِلُ؟. فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ، الْأَقْلَامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ"، اَمْ مِمَّا نَسْتَقْبِلُ ؟ ، فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَا بَلْ فِیمَا جَفَّتْ بِہِ الْاَقْلَامُ ، وَجَرْتْ بِہِ الْمَقَادِیرُ ، قُلْتُ : فَفِیمَ الْعَمَلُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اعْمَلُوا ، فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے جب ہم مکہ آئے، تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی۔ نبی اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا: جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود نہ ہو وہ احرام کھو ل دے۔ ہم نے کہا: کس حد تک حلال ہونا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مکمل طور پر۔ جب تلبیہ کا دن آیا، تو ہم نے حج کا احرام باندھ لیا نبی اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا: تم لوگ ایک اونٹ اور ایک گائے میں حصے دار بن جاو۔ سات آدمیوں کی طرف سے ایک قربانی ہو۔ راوی کہتے ہیں: حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہہ آئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! ہمارے اس عمرے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیا یہ اس سال کے لئے مخصوص ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ہمارے سامنے دینی احکام کو یوں بیان کیجئے جس طرح ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں۔ عمل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو آدمی کرتا ہے کیا اس بارے میں قلم خشک ہو چکا ہے اور تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے یا یہ از سر نو کچھ ہوتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں بلکہ اس بارے میں قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے؟ میں نے دریافت کیا: پھر عمل کیوں کیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لئے وہ چیز آسا ن کر د ی جاتی ہے (جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے) (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) وہ روایات جو ہم نے ذکر کی ہیں۔ ان میں نبی اکرم ﷺ کے حج افراد کرنے ، یا حج تمتع یا حج قران کرنے کاتذکرہ ہے۔ اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس سے لے کر ہمارے آج کے دن تک ائمہ کے درمیان اختلاف رہا ہے۔ معطلہ فرقے کے افراد اور دیگر اہل بدعت اس حوالے سے ہمارے ائمہ پر طعن و تشنیع کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں: آ پ لوگوں نے ایک ہی فعل ، ایک ہی فرد اور ایک ہی حالت کے بارے میں تین متضاد روایات نقل کی ہیں او ر آپ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ نقل کے اعتبار سے یہ تینوں روایات صحیح ہیں حالانکہ عقل آپ کے موقف کو تسلیم نہیں کرتی کیو نکہ یہ بات ناممکن ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرمﷺ نے حج افراد بھی کیا ہو ، حج قران بھی کیا ہو اور حج تمتع بھی کیا ہو۔ تو جب یہ بات درست (طور پر ثابت ) ہو گئی کہ نبی اکرم ﷺ ایک ہی حالت میں حج قران ، تمتع اور افراد کرنے والے نہیں تھے تو یہ بات بھی ثابت ہو جائے گی کہ ان روایات کو قبول کرنا ضروری ہے جو عقل کےموافق ہوں۔ بعض اوقات آ پ کےلئے یہ بات جائز ہوتی ہے کہ آپ کسی صحیح حدیث کو اختیار نہ کریں، آپ اس پر عمل نہ کریں ، یا کسی دوسری روایت کو اس پر ترجیح دیں، جس طرح آپ نے ان تین روایات کے بارے میں کیا ہے،تو پھر آپ کے مخالف فریق کے لئے بھی یہ بات جائز ہو گی کہ وہ اس روایت کو اختیار کر لے جسے آپ نے ترک کر دیا او ر اس روایت کو ترک کر دے جسے آپ نے اختیار کیا ہو۔ ( ابن حبان کہتے ہیں) اس بات کا قائل شخص اگر خلوت میں اپنے پروردگار کی بار گاہ میں گریہ وزاری کرتا اور اس سے یہ دعا مانگتا کہ ( اللہ تعالیٰ اسے ) حق اور ہدایت تک پہنچا دے ، تا کہ وہ شخص " ایک " اور "غالب " (معبود ) کی عطا کر دہ توفیق کے ذریعے روایات کے درمیان تطبیق دینے ، اور آثار میں تضاد کی نفی کرنے کے لئے رہنمائی کا طلب گار ہوتا۔ ( تو اسے پتہ چل جاتا ) نبی اکرم ﷺ سے منقول روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا ہے ۔ اور نہ ہی ان میں سے کوئی روایت کسی دوسری روایت کی تکذیب کرتی ہے جبکہ وہ نقل کے اعتبار سے مستند طور پر ثابت ہو۔ جس سے علم حدیث کے ماہرین آگاہ ہوں اور نبی اکرم ﷺ کی طرف (منسوب کی جانے والی ) جھوٹی باتوں اور آپ ﷺ کی سنت ( پر کئے جانے والے اعتراضات کو ) پرے کرنے والے (حضرات محد ثین ) جو نبی اکرم ﷺ سے مستند طور پر منقول حدیث کوآپ کے بعد آنے والے آپ کی امت کے کسی بھی دوسرے شخص کے قول پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان روایات کے درمیان تطبیق دینے کی صورت یوں ہو گی۔ جب نبی اکرم ﷺ نے احرام باندھا تو آ پ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ امام مالک نے زہری ، عروہ کےحوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ جب نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے تو آپ صرف عمرہ کا تلبیہ پڑھتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ "سرف" کے مقام پر پہنچے تو آپ نے اپنے اصحاب کو وہ حکم دیا ، جس کا ذکر ہم نے افلح بن حمید کے حوالے سے منقول روایت میں کیا ہے۔ تو اس وقت صحابہ کرام میں سے بعض حضرات نے حج افراد کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا، بعض حضرا ت اپنے عمرہ کے تلبیہ پر برقرار رہے، (انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی) اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے ( حج اور عمرہ ) دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پڑھا۔ یہاں تک کہ آپ مکہ میں داخل ہوگئے۔ آپ کے وہ اصحاب جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے کر آئے تھے ان کی بھی یہی حالت تھی۔ نبی اکرم ﷺ کے حج قران کے بارے میں جو بھی روایات نقل کی گئی ہیں۔ یہ اس وقت کے بارے میں ہیں جب صحابہ کرام نے نبی اکرمﷺ کو عمرہ کے ساتھ حج کو شامل کر کے ان دونوں کا ایک سات تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھا ۔ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ تشریف لے آئے۔ جب نبی اکرم ﷺ مکہ تشریف لے آئے، آپ ﷺ نے ( بیت اللہ کا ) طواف کر لیا (صفا و مروہ کی ) سعی کر لی، تو جو لوگ قربانی کا جانور ساتھ نہیں لائے تھے اور عمرہ کا تلبیہ پڑھتے رہے تھے۔ آپ نے انہیں دوسری مرتبہ یہ حکم دیا کہ وہ تمتع کر کے احرام کھول دیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قر بانی کا جانور ساتھ لانے کی وجہ سے آ پ کا تلبیہ رہ گیا، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کے بعض اصحاب جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لائے تھے۔ انہوں نے احرام ختم نہیں کیا کیونکہ انہوں نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ نے احرام ختم نہیں کیا۔ یہاں تک کہ یہ صورتحال ہوئی کہ نبی اکرم ﷺ غصے کے عالم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔ جب ترویہ کا دن آیا تو تمتع کرنے والوں نے ( نئے سرے سے حج کا ) احرام باندھا، نبی اکرم ﷺ منیٰ کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ اس وقت صرف حج کا تلبیہ پڑھ رہے تھے، آپ آغاز میں جو عمرہ کا تلبیہ پڑھ رہے تھے، وہ تو آپ ﷺ کے مکہ مکرمہ تشریف لانے کے بعد خانہ کعبہ کا طواف کرنے ، صفا و مروہ کی سعی کرنے سے ادا ہو چکا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو یہ بات بیا ن کی ہے: نبی اکرم ﷺ نے صرف حج ( کا تلبیہ پڑھا ) اس سے ان کی مراد و ہ وقت ہو گا جب نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ سے منیٰ کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ اس طرح ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا کر ے جو اس کی بارگاہ کا قرب دلاتی ہے اور اس کے قریب کرتی ہے۔ (یعنی ) جب احادیث مستند طور پر ثابت ہو جائیں، تو ان کے سامنے جھک جائیں، اور انہیں قبول کرنے کے لئے سرتسلیم خم کر دیں اور جب ہمیں صحیح حقیقت کے ادراک کی توفیق نصیب نہ ہو تو ہم احادیث پر اعتراج کرنے ، غلط آراء اور غلط قیاس کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے آپ پر الزام عائد کریں اور اپنے آپ کے ساتھ عیب کو لاحق کریں۔ (یعنی اسے اپنی ذاتی خامی سمجھیں ) بے شک وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) سب سے بہتر مسئول ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ← الْمُلاَئِيُّ وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of the Qur’an · Hadith 3919

chevron_left Previous
1…1819202122
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr