صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْحَلْقُ وَالذَّبْحُ · حديث 3884
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِمِنًى ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ، فَطَافَ بِهِ1. [1:4] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الله تعالى عَنْهُ: فِي خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ یُفِیضُ یَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ یَرْجِعَ ، فَیُصَلِّی الطُّھْرَ بِمِنًی ،وَفِیْ خَبَرِ اَنَسٍ اَنَّہٗ صَلَّی الطُّھْرَ ، وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ ، وَالْعِشَاءَ ، وَرَقَدَ رَقْدَۃً بِمِنًی ، ثُمَّ رَکِبَ اِلَی الْبَیْتِ ، فَطَاطَ بِہٖ ، فَجَعَلَ اَنَسٌ طَوَافَہُ لِلزِّیَارَۃِ بِاللَّیْلِ ،وَاَخْبَرَنَا ابْنُ عُمَرَ اَنَّہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَافَ الزِّیَارَۃَ قَبْلَ الظُّھْرِ ،وَتِلْکَحَجَّۃٌ وَاحِدَۃٌ ،وَطَوَافٌ وَاحِدٌ لِلزِّیَارَۃِ وَالَّذِی یَجْمَعُ بَیْنَ الْخَبَرَیْنِ بِہٖ ، اَنَّہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃَ ، وَنَحَرَ ، ثُمَّ تَطَیَّبَ لِلزِّیَارَۃِ ، ثُمَّ اَفَاضَ ، فَطَافَ بِالْبَیْتِ طَوَافَ الزِّیَارَۃٍ ، ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی مِنًی ، فَصَلّٰی الطُّھْرَ بِھَا وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَرَقَدَ رَقْدَۃً بِھَا ،ثُمَّ رَکِبَ اِلَی الْبَیْتِ ثَانِیًا ، فَطَافَ بِھَا طَوَافًا اٰخَرَ بِاللَّیْلِ دُونَ اَنْ یَّکُوْنَ بَیْنَ الْخَبَرَیْنِ تَضَادٌ اَوْتَھَاتَرٌ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ظہر اور عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں پھر منیٰ میں تھوڑی دیر کے لئے سو گئے۔ پھر آپ سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف آئے اور اس کا طواف کیا۔ (امام ابن حبا ن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کر دہ روایت میں یہ بات مذکور ہے نبی اکرم ﷺ قربانی کے دن روانہ ہوئے تھے پھر آپ واپس تشریف لے آئے تھے اور آپ نے منیٰ میں ظہر کی نماز ادا کی تھی جب کہ حضرت انس رضی اللہ عنہہ سے منقول روایات میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی تھیں پھر آپ منیٰ میں تھوڑی دیر کے لئے سو گئے تھے پھر آپ سوار ہو کر بیت اللہ گئے پھر آپ نے اس کا طواف کیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف زیارت رات کے وقت کیا تھا۔ جب کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف زیارت ظہر سے پہلے کیا تھا تو یہ ایک ہی حج کی بات ہے اور ایک ہی مرتبہ طواف زیارت کیا تھا تو جن حضرات نے ان دونوں روایات کو جمع کیا ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جمرہ عقبیٰ کی رمی کی ، قربانی کی پھر آپ نے طواف زیارت کیا اور خوشبو لگائی پھر آپ روانہ ہوئے آپ نے بیت اللہ کا طواف زیارت کیا پھر آ پ منیٰ تشریف لے آئے وہاں آپ نے ظہر کی نماز ادا کی۔ عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں پھر وہاں کچھ دیر کے لئے سو گئے۔ پھر آپ سوار ہو کر دوبار بیت اللہ کی طرف گئے اور وہاں آپ نے رات کے وقت دوسری مرتبہ طواف کیا تو اس طرح ان دونوں روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of slaughtering and slaughtering · Hadith 3884
