Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْحَلْقُ وَالذَّبْحُ · حديث 3884

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِمِنًى ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ، فَطَافَ بِهِ1. [1:4] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الله تعالى عَنْهُ: فِي خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ یُفِیضُ یَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ یَرْجِعَ ، فَیُصَلِّی الطُّھْرَ بِمِنًی ،وَفِیْ خَبَرِ اَنَسٍ اَنَّہٗ صَلَّی الطُّھْرَ ، وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ ، وَالْعِشَاءَ ، وَرَقَدَ رَقْدَۃً بِمِنًی ، ثُمَّ رَکِبَ اِلَی الْبَیْتِ ، فَطَاطَ بِہٖ ، فَجَعَلَ اَنَسٌ طَوَافَہُ لِلزِّیَارَۃِ بِاللَّیْلِ ،وَاَخْبَرَنَا ابْنُ عُمَرَ اَنَّہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَافَ الزِّیَارَۃَ قَبْلَ الظُّھْرِ ،وَتِلْکَحَجَّۃٌ وَاحِدَۃٌ ،وَطَوَافٌ وَاحِدٌ لِلزِّیَارَۃِ وَالَّذِی یَجْمَعُ بَیْنَ الْخَبَرَیْنِ بِہٖ ، اَنَّہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَمَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃَ ، وَنَحَرَ ، ثُمَّ تَطَیَّبَ لِلزِّیَارَۃِ ، ثُمَّ اَفَاضَ ، فَطَافَ بِالْبَیْتِ طَوَافَ الزِّیَارَۃٍ ، ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی مِنًی ، فَصَلّٰی الطُّھْرَ بِھَا وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَرَقَدَ رَقْدَۃً بِھَا ،ثُمَّ رَکِبَ اِلَی الْبَیْتِ ثَانِیًا ، فَطَافَ بِھَا طَوَافًا اٰخَرَ بِاللَّیْلِ دُونَ اَنْ یَّکُوْنَ بَیْنَ الْخَبَرَیْنِ تَضَادٌ اَوْتَھَاتَرٌ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ظہر اور عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں پھر منیٰ میں تھوڑی دیر کے لئے سو گئے۔ پھر آپ سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف آئے اور اس کا طواف کیا۔ (امام ابن حبا ن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کر دہ روایت میں یہ بات مذکور ہے نبی اکرم ﷺ قربانی کے دن روانہ ہوئے تھے پھر آپ واپس تشریف لے آئے تھے اور آپ نے منیٰ میں ظہر کی نماز ادا کی تھی جب کہ حضرت انس رضی اللہ عنہہ سے منقول روایات میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی تھیں پھر آپ منیٰ میں تھوڑی دیر کے لئے سو گئے تھے پھر آپ سوار ہو کر بیت اللہ گئے پھر آپ نے اس کا طواف کیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف زیارت رات کے وقت کیا تھا۔ جب کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے طواف زیارت ظہر سے پہلے کیا تھا تو یہ ایک ہی حج کی بات ہے اور ایک ہی مرتبہ طواف زیارت کیا تھا تو جن حضرات نے ان دونوں روایات کو جمع کیا ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جمرہ عقبیٰ کی رمی کی ، قربانی کی پھر آپ نے طواف زیارت کیا اور خوشبو لگائی پھر آپ روانہ ہوئے آپ نے بیت اللہ کا طواف زیارت کیا پھر آ پ منیٰ تشریف لے آئے وہاں آپ نے ظہر کی نماز ادا کی۔ عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں پھر وہاں کچھ دیر کے لئے سو گئے۔ پھر آپ سوار ہو کر دوبار بیت اللہ کی طرف گئے اور وہاں آپ نے رات کے وقت دوسری مرتبہ طواف کیا تو اس طرح ان دونوں روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of slaughtering and slaughtering · Hadith 3884

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْحَلْقُ وَالذَّبْحُ · حديث 3885

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعَ، فَصَلَّى الظهر بمنى1. [8:5]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ قربانی کے دن تشریف لے گئے پھر آپ واپس تشریف لائے اور آپ نے منیٰ میں ظہر کی نماز ادا کی۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of slaughtering and slaughtering · Hadith 3885

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ رَمْيُ الْجِمَارِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ · حديث 3886

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قال: حدثنا بن إدريس1، عن جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضَحَّى، ثُمَّ رَمَى سَائِرَهُنَّ عند الزوال 2. [8:5]

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے قربانی کے دن چاشت کے وقت جمرہ کو کنکریاں ماریں، تو آپ نے باقی دنوں میں زوال کے وقت کنکریاں ماری تھیں۔

رَمَى رَسُولُ اللَّهِ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضَحَّى، ثُمَّ رَمَى سَائِرَهُنَّ عند الزوال ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← جُرَيْجٍ، ← بن إدريس، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of throwing pebbles on the days of sunrise · Hadith 3886

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ رَمْيُ الْجِمَارِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ · حديث 3887

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ، عَنِ بن شهاب، عن سالم عن بن عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الْأُولَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةَ قِيَامًا طَوِيلًا، فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ ذَاتَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا، ثُمَّ يَنْصَرِفُ، وَيَقُولُ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يفعل1. [27:5]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ پہلے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے تھے ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہتے تھے پھر آگے بڑھ جاتے اور قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو جاتے وہ طویل قیام کرتے تھے اور دعا مانگتے تھے۔ دونوں ہاتھوں کو بلند کرتے تھے پھر ذات عقبہ والے جمرہ کو وادی کے نشیبی حصے سے کنکریاں مارتے تھے وہ اس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے پھر واپس آ جاتے تھے اور یہ کہتے تھے: میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of throwing pebbles on the days of sunrise · Hadith 3887

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ رَمْيُ الْجِمَارِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ · حديث 3888

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يوما 1. [42:4]

مکہ میں موجود چرواہوں کے لیے یہ بات مباح ہونے کا تذکرہ کہ وہ جمرہ کی رمی کو جمع کر لیں اور دو دن کی رمی ایک ہی دن میں کر لیں

أَبِيهِ ← أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← بن عُيَيْنَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of throwing pebbles on the days of sunrise · Hadith 3888

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ رَمْيُ الْجِمَارِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ · حديث 3889

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي نافع عن بن عُمَرَ أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أن يبيت بمكة ليالي من أجل سقايته، فأذن له1. [10:4]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہہ نے نبی اکرم ﷺ سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ منیٰ کی راتیں مکہ میں بسر کریں اس کی وجہ یہ تھی۔ انہوں نے (حاجیوں کو ) پانی پلانا ہوتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔

نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of throwing pebbles on the days of sunrise · Hadith 3889

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ رَمْيُ الْجِمَارِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ · حديث 3890

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : اَخْبَرَاَ عِیسَی بْنُ یُونُسَ ،عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْعَبَّاسِ اَنْ یَّبِیتَ بِمَکَّۃَ اَیَّامَ مِنًی مِنْ اَجْلِ سِقَایَتِہِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہہ کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ منیٰ کے دنوں کی راتیں مکہ میں بسر کرے، کیونکہ انہوں نے حاجیوں کو (آب زمزم ) پلانا ہوتا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← اَخْبَرَاَ عِیسَی بْنُ یُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of throwing pebbles on the days of sunrise · Hadith 3890

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ رَمْيُ الْجِمَارِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ · حديث 3891

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ السَّكْسَكِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أن يبيت بمكة ليالي مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ مِنْ أَجْلِ السقاية 1. [10:4]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کر تے ہیں: حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہہ نے نبی اکرم ﷺ سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ منیٰ کی راتیں مکہ میں بسر کرے، کیونکہ انہوں نے (حاجیوں کو آب زمزم ) پلانا ہوتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے پلانے کی خدمت کی وجہ سے انہیں اس بات کی اجازت دے دی۔

نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ السَّكْسَكِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ، بِمَكَّةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of throwing pebbles on the days of sunrise · Hadith 3891

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ رَمْيُ الْجِمَارِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ · حديث 3892

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ1 الشَّرْقِيِّ2، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "الْحَجُّ عَرَفَاتٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ، فَقَدْ أَدْرَكَ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ". قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ: لَيْسَ عِنْدَكُمْ بِالْكُوفَةِ حَدِيثٌ أَشْرَفُ وَلَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا 3. [10:4]

اس بات کی اطلاع کا تذکرہ جو منیٰ کے ایام کے بارے میں ہے اور اس شخص سے حرج ساقط ہونے کے بارے میں ہے جو دو دن گزرنے کے بعد وہاں سے پہلے ہی چلا جاتا ہے

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ الدِّيلِيُّ ← بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of throwing pebbles on the days of sunrise · Hadith 3892

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ رَمْيُ الْجِمَارِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ · حديث 3893

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ بن عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ، ثُمَّ صَلَّى عُثْمَانُ بَعْدَ أَرْبَعًا1 وَكَانَ بن عُمَرَ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ بِصَلَاتِهِ، فَإِذَا صَلَّى وحده صلى أربعا2. [8:5]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ منیٰ میں دو رکعات ادا کرتے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہہ اور عثمان بھی ( دو رکعات ہی ادا کرتے تھے) پھر اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہہ نے یہاں چار رکعات ادا کرنا شروع کر دیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما امام کی اقتداء میں اس کی نماز کے مطابق نماز ادا کرتے تھے جب تنہا نماز ادا کرتے تھے ، تو چار رکعات ادا کرتے تھے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of throwing pebbles on the days of sunrise · Hadith 3893

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ رَمْيُ الْجِمَارِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ · حديث 3894

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ بن عَبَّاسٍ قَالَ: عُكَاظُ وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقٌ كَانَتْ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ كَأَنَّهُمْ تَأَثَّمُوا أَنْ يَتَّجِرُوا فِي الْحَجِّ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: 198] في مواسم الحج 1. [64:3]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: عکاظ، ذوالجاز یہ زمانہ جاہلیت کے بازار تھے ( جو حج کے موقع پر لگا کرتے تھے ) جب اللہ تعالیٰ نے اسلام ) کو غلبہ عطا کر دیا) ، تو لوگوں نے حج کے موقع پر تجارت کرنے کو گناہ سمجھا لوگوں نے اس بار ے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا: تو یہ آیت نازل ہوئی۔ " تم لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہے، اگر تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرتے ہو"۔ ( اس سے مراد یہ ہے ) کہ حج کے موقع پر ایسا کرتے ہو۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of throwing pebbles on the days of sunrise · Hadith 3894

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْإِفَاضَةُ مِنْ مِنًى لِطَوَافِ الصَّدْرِ · حديث 3895

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ1 قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ بن عُمَرَ وَمَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ بن عُمَرَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الْمُحَصَّبَ 2. [8:5]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہہ وادی محصب میں پڑاو کیا کرتے تھے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← بن عُمَرَ وَمَعْمَرٌ، ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Gate of the Fidaha from Mina to the chest ring · Hadith 3895

chevron_left Previous
1…161718…22
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr