صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ · حديث 3872
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزبير، عن أبي معبد مولى بن عباس عن بن عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رسول الله صلى الله عليه وسلم، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعَ: "عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ"، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَهُوَ مِنْ مِنًى قَالَ: "عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي تُرْمَى بِهَا الْجَمْرَةَ" قَالَ: وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ 1. [78:1]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جونبی اکرم ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے وہ بیان کرتے ہیں: ۔ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح نبی اکرم ﷺ نے روانگی کے وقت لوگوں سے فرمایا: تم لوگ آرام سے چلو نبی اکرم ﷺ خود بھی اپنی اونٹنی کو آہستہ رفتار سے چلا رہے تھے۔ وادی محسر روح میں آپ نے اپنی اونٹنی کی رفتا کو کچھ تیز کیا۔ یہ وادی منیٰ کا حصہ ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں پر اتنی چھوٹی کنکریاں اختیار کر نا لازم ہے جو چٹکی میں آ جاتی ہوں انہیں جمرات کو مارا جائے گا۔ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جمرہ کی رمی کرنے تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رسول الله ← بْنِ عَبَّاسٍ ← أبي معبد مولى بن عباس ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،
Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Gate of Ramy Jamrat al-Aqabah · Hadith 3872
