Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3860

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ -رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ-: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُفِيضُونَ حَتَّى يَرَوَا الشَّمْسَ عَلَى ثَبِيرٍ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ1. [13:5]

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: زما نہ جاہلیت کے لوگ اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک ثبیر (نامی پہاڑ ) پر سورج کو دیکھ نہیں لیتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے بر خلاف کیا اور آپ سورج کے طلوع ہونے سے پہلے ہی روانہ ہو گئے۔

عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3860

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3861

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَقَدَّمَ مِنْ جَمْعٍ وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَأَذِنَ لَهَا، وَوَدِدْتُ أني استأذنته 1. [65:3]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ سے یہ اجازت مانگی کہ وہ مزدلفہ سے پہلے روانہ ہو جائیں، کیونکہ وہ ایک بھاری بھر کم خاتون تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی (سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) میری یہ خواہش تھی کہ میں بھی آپ سے اجازت لے لیتی۔

أَنَّ الْقَاسِمَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ؛ أَنَّ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3861

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3862

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ بن عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ 1.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے مجھے اان لوگوں کے ہمراہ بھیج دیا تھا ، جنہیں مزدلفہ سے (پہلے ہی ) رات کے وقت بھجوا دیا تھا۔

بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3862

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3863

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، قال: سمعت بن عَبَّاسٍ يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من جمع بليل2. [1:4]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول نے مجھے مزدلفہ سے رات کے وقت بھجوا دیا تھا۔

بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ من جمع بليل2. ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3863

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3864

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ زِيَادٍ السُّوسِيُّ قَالَ: حدثنا بن نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ3، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا4 اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ، فَأُصَلِّيَ الصُّبْحَ بِمِنًى، وَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ. فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: وَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأذن لها 5. [10:4]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میری یہ خواہش ہے کہ میں نے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح اجازت لے لی ہوتی ، جس طرح سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے لی تھی اور میں صبح کی نماز منیٰ میں ادا کرتی جمرہ کو کنکریاں لوگوں کے آنے سے پہلے مار لیتی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت لی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں وہ ایک بھاری بھرکم خاتون تھیں، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت مانگی، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← بن نُمَيْرٍ، ← صَالِحُ بْنُ زِيَادٍ السُّوسَيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3864

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3865

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ مُقَاتِلٍ الشَّيْخُ الصَّالِحُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ سمع بن عَبَّاسٍ يَقُولُ: كُنَّا مِمَّنْ1 قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ ليلة المزدلفة2. [10:4]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم ان لوگوں میں شامل تھے، جنہیں نبی اکرم ﷺ نے اپنے اہل خانہ کے کمزور افراد کے ہمراہ مزدلفہ کی رات (دوسرے لوگوں سے ) پہلے ہی روانہ کر دیا تھا۔

كُنَّا مِمَّنْ1 قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ ليلة المزدلفة2. ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ ← أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ مُقَاتِلٍ الشَّيْخُ الصَّالِحُ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3865

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3866

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا الثَّقَفِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَیُّوْبُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ اَبِیْہٖ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ :کَانَتْ سَوْدَۃُ امْرَاَۃً ضَخْمَۃً ثَبِطَۃً ، فَاسْتَاْذَنَتْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اَنْ تُفِیضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَیْلٍ ، فَاَذِنَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَکَانَتْ عَائِشَۃُ ، تَقُوْلُ : وَدِدْتُّ اَنِّیْ کُنْتُ اسْتَاْذَنْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا اسْتَاْذَنَتْہُ سَوْدَۃُ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا بھاری بھرکم خاتون تھی۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت مانگی کہ وہ مزدلفہ سے(دوسرے لوگوں سے ) رات کے وقت ہی روانہ ہو جائے، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری یہ خواہش تھی کہ میں نے بھی نبی اکرم ﷺ نے اسی طرح اجازت مانگ لی ہوتی، جس طرح سے سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت مانگی تھی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← أَيُّوبَ، ← الثَّقَفِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3866

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3867

أخبرنا بن قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيُّ، حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: كَانَ أَبِي يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى وَيَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم كان يفعله1. [3:5]

اس بات کا تذکرہ کہ امام کے لیے یہ بات مستحب ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ میں سے کمزور افراد کو مزدلفہ سے رات کے وقت ہی آگے بھیج دے

كَانَ أَبِي يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى وَيَذْكُرُ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3867

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ · حديث 3868

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حدثنا بن إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى، فَأَقَامَ بِهَا أَيَّامَ التَّشْرِيقِ الثَّلَاثَ يَرْمِي الْجِمَارَ حَتَّى تَزَولَ الشَّمْسُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ كُلَّ جَمْرَةٍ، وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ تَكْبِيرَةً يَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَعِنْدَ الْوُسْطَى بِبَطْنِ الْوَادِي، فَيُطِيلُ الْمَقَامَ، وَيَنْصَرِفُ إِذَا رَمَى الْكُبْرَى، وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. وَكَانَتِ الْجِمَارُ من آثار إبراهيم صلوات الله عليه1.

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد روانہ ہوئے۔ آپ منیٰ واپس تشریف لے آئے آپ نے ایام تشریق وہاں گزارے وہاں آپ جمرات کو کنکریں مارتے ، یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا آپ ہر جمرہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہتے تھے۔ آپ پہلے اور دوسرے جمرہ کے قریب وادی کے نشیبی حصے میں ٹھہر تے تھے اور طویل قیام کرتے تھے اور جب بڑے جمرہ کو کنکریاں مار لیتے، تو آ پ وا پس جاتے تھے اس کے پاس ٹھہر تے نہیں تھے یہ جمرات حضرت ابراہیم علیہ السلام ( کے واقعہ ) کی نشانیاں ہیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Gate of Ramy Jamrat al-Aqabah · Hadith 3868

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ · حديث 3869

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كهيل، عن الحسن العرني عن بن عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ، فَجَعَلَ يَلْطَحُ بِأَفْخَاذِنَا، وَيَقُولُ: "أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشمس" 1. [22:2]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ بنو عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے چند نوجوان مزدلفہ سے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جمرات کے پاس حاضر ہوئے، تو نبی اکرم ﷺ نے ہمارے زانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے میرے بیٹو! تم اس وقت تک جمرات کو کنکریاں نہ مارنا جب تک سورج نکل نہ آئے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Gate of Ramy Jamrat al-Aqabah · Hadith 3869

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ · حديث 3870

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ1 عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: رَمَى عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّاسَ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سورة البقرة2. [27:5]

ابراہیم بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ نے وادی کے نشیبی حصے سے کنکریاں ماریں، تو میں نے کہا : اے ابو عبدالرحمٰن ! لوگ، تو اوپر کی طرف سے انہیں کنکریاں مارتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر سورہ البقرہ نازل ہوئی تھی۔

رَمَى عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Gate of Ramy Jamrat al-Aqabah · Hadith 3870

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ · حديث 3871

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ، قال: حدثني بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ: "هَاتِ الْقُطْ لِي" فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ، وهي حصى الحذف، فَلَمَّا وَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ، قَالَ: "نَعَمْ، بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ، بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي فِیْ الدِّینِ ، فَاِنَّمَا اَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمُ الْغُلُوُّ فِی الدِّینِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: عقبہ کی صبح نبی اکرم ﷺ اپنی سواری پر وقوف کیے ہوئے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: آگے آو اور مجھے کنکریاں چن دو۔ میں نے آپ کو کنکریاں چن کر دیں جو اتنی چھوٹی تھیں جو چٹکی میں آ سکے جب میں نے انہیں نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر رکھا، تو آپ نے فرمایا: جی ہاں! اسی طرح کی ہونی چاہئے اسی طرح کی ہونی چاہئے تم لوگ دین میں غلو کرنے سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ دین میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبُو الْعَالِيَةِ، ← زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، ← عَوْفٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Gate of Ramy Jamrat al-Aqabah · Hadith 3871

chevron_left Previous
1…141516…22
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr