Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3848

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ1، عَنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ -أَوْ قَالَ: بِزِمَامِهِ- فَقَالَ: "أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ: "أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ " قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: "فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ " فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ: "أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ؟ " قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: "فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ " فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، قَالَ: "أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامِ؟ " قُلْنَا: بَلَى، فَقَالَ: "فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ يَبْلُغُ مَنْ هُوَ أوعى له منه" 2. [2:2]

حضرت ابو بکر ہ رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کرتے ہیں: آپ نے اپنے اونٹ پر وقوف کیا ہوا تھا، جس کی لگام کو کسی صاحب نے تھاما ہوا تھا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: آج کون سا دن ہے، تو ہم لوگ خاموش رہے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس کے نام کے علاوہ کوئی اور نام تجویز کریں گے نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم خاموش رہے۔ ہم نے یہ سمجھا کہ شاید آپ اس کا کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ ذوالحج نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے، تو ہم خاموش رہے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس نام کی بجائے دوسرا نام تجویز کریں گے تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ قابل احترام شہر نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہاری جانیں تمہارا مال تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابل احترام ہے۔ خبر دار ! تم میں سے ہر موجود شخص غیر موجود تک تبلیغ کر دے، کیونکہ (ممکن ہے) موجود شخص اس شخص تک یہ بات پہنچا دے جو اس سے زیادہ بہتر طور پر اسے محفوظ ر کھے۔

"أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامِ؟ قُلْنَا: بَلَى، ← "فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، ← "أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ؟ قُلْنَا: بَلَى، ← "فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، ← "أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قُلْنَا: بَلَى، ← "أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، ← بِزِمَامِهِ- ← وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ -أَوْ ← النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3848

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3849

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أيوب الطوسي، قال: حدثنا سفيان ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعَ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي، فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لمن الحمس فما شأنه واقفا ها هنا1. [13:5]

محمد بن جبیر اپنے والد (حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ عنہہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میرا اونٹ گم ہو گیا میں اس کی تلاش میں عرفہ آیا، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو عرفہ میں لوگوں کے ہمراہ وقوف کئے ہوئے دیکھا میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ، تو حمس سے تعلق رکھتے ہیں یہ یہاں وقوف کیوں کئے ہوئے ہیں؟

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سفيان ابن عيينة ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3849

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3850

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِجَمْعٍ، فَقُلْتُ: هَلْ عَلَيَّ مِنْ حَجٍّ؟ قَالَ: "مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وقضى تفثه" 1. [65:3]

حضرت عر وہ بن مضرس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت مزدلفہ میں موجود تھے میں نے عرض کی : کیا مجھ پر حج کرنا لازم ہے( یعنی میرا حج ہو گیا ہے یا میں دوبارہ کروں؟) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص ہمارے ساتھ روانہ ہونے تک اس جگہ پر وقوف کیے رہا اور وہ اس سے پہلے عرفات سے رات کے وقت یا دن کے وقت روانہ ہو چکا ہو، تو اس نے اپنے حج کو پورا کر لیا اور اپنی نذر کو مکمل کر لیا۔

أَتَيْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ بِجَمْعٍ، فَقُلْتُ: هَلْ عَلَيَّ مِنْ حَجٍّ؟ ← عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3850

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3851

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، حَدَّثَنَا1 سَعِيدُ2 بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، وَإِسْمَاعِيلَ، وَزَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَ: "مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا هَذِهِ، ثُمَّ أَقَامَ مَعَنَا وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فقد تم حجه" 3. [10:3]

حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو مزدلفہ میں وقوف کیے ہوئے دیکھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جس نے ہمارے ہمراہ یہ نماز ادا کی پھر وہ ہمارے ساتھ مقیم رہا اور وہ اس سے پہلے رات کے وقت یا دن کے وقت عرفہ میں وقوف کر چکا ہو، تو اس نے اپنے حج کو مکمل کر لیا۔

رَأَيْتُ النَّبِيَّ وَهُوَ وَاقِفٌ بِالْمُزْدَلِفَةِ، ← عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، وَإِسْمَاعِيلَ، وَزَكَرِيَّا، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3851

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3852

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قال: "إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ مَلَائِكَةَ أَهْلِ السَّمَاءِ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي هَؤُلَاءِ جَاءُونِي شعثا غبرا" 1. [2:1]

حاجیوں کے عرفات میں وقوف کے وقت اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کا اظہار کرنے کا تذکرہ

انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي هَؤُلَاءِ جَاءُونِي شعثا غبرا" ← "إِنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ مَلَائِكَةَ أَهْلِ السَّمَاءِ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3852

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3853

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ -هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ-، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ أَيَّامٍ أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَيَّامِ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ" قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هُنَّ1 أَفْضَلُ أَمْ عِدَّتُهُنَّ جِهَادًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: "هُنَّ2 أَفْضَلُ مِنْ عِدَّتِهِنَّ جِهَادًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَا مِنْ يوْمٍ أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ يوْمِ عَرَفَةَ يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِأَهْلِ الْأَرْضِ أَهْلَ السَّمَاءِ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عبادي شعثا غبرا ضاحين3 جاؤوا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَرْجُونَ رَحْمَتِي، وَلَمْ يَرَوْا عَذَابِي، فَلَمْ يُرَ يَوْمٌ أَكْثَرُ عِتْقًا من النار من يوم عرفة" 4. [2:1] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : ھِشَامٌ ھٰذَا ھُوَ ھِشَامُ بْنُ اَبِیْ عَبْدِ اللہِ الدَّسْتُوَئِیُّ ، وَالدَّسْتَوَاءُ قُرْیَۃٌ مِّنْ قُرَی الْاَھْوَازِ ، وَاِنَّمَا سُمِّیَ الدَّسْتُوَائَِّ لِاَنَّہٗ کَانَ یَبِیعُ الثِّیَابَ الَّتِی تُحْمَلُ مِنْھَا فَنُسِبَ اِلَیْھَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اللہ کے نزدیک ذوالحج کے دس دنوں سے زیادہ فضیلت والے دن اور کوئی نہیں ہیں۔ راوی کہتے ہیں: ایک صاحب نےعرض کی: یا رسول اللہ! یہ دن زیادہ فضیلت رکھتے ہیں یا اتنے ہی دن اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے گزارنا زیادہ فضیلت ر کھتے ہیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ دن اتنے ہی دن اللہ کی راہ میں جہاد کے دوران گزارنے سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرفہ کے دن سے زیادہ فضیلت والا دن اور کوئی نہیں ہے اس دن میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور آسمان والوں کے سامنے اہل زمین پر فخر کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے: میرے ان بندوں کو دیکھو یہ بکھرے ہوئے بال لے کر اورغبار آلود ہو کر آئے ہیں یہ دور دراز علاقوں سے آئے ہیں یہ میری رحمت کی امید رکھتے ہیں انہوں نے میرے عذاب کو نہیں دیکھا ہوا ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:)، تو ایسا کوئی دن نظر نہیں آیا جس دن میں عرفہ کے دن سے زیادہ تعداد میں لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہوں"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ہشام نامی یہ راوی ہشام بن ابو عبداللہ دستوائی ہے۔ دستواء اہواز کی ایک بستی ہے۔ ان کا نام دستوائی اس لئے رکھا گیا کیونکہ یہ دستواء سے لا کر کپڑے فروخت کیا کرتے تھے تو ان کی نسبت اس شہر کی طرف ہو گئی۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٌ -هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3853

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3854

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقُشَيْرِيُّ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِئَتَيْنِ، حَدَّثَنَا سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوا عَنْ عُرَنَةَ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوا عَنْ مُحَسِّرٍ، فَكُلُّ فِجَاجِ مِنًى مَنْحَرٌ، وَفِي كُلِّ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ذبح" 1. [43:3]

حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " عرفات سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے تم لوگ عرنہ سے بلند ہو جاو اور مزدلفہ سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے اور تم لوگ محسر سے بلند ہو جاو منیٰ کا ہر راستہ قربانی کی جگہ ہیں اور تمام ایام تشریق میں ذبح کیا جا سکتا ہے"۔

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقُشَيْرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3854

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3855

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أبي الزبير، عن أبي معبد، عن بن عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ رديف رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَقَفَ يُهَلِّلُ، وَيُكَبِّرُ اللَّهَ وَيَدْعُوهُ، فَلَمَّا نَفَرَ دَفَعَ النَّاسُ، فَصَاحَ: "عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ" فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ، إِهْرَاقَ الْمَاءَ، وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَكِبَ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمُزْدَلِفَةَ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ وَقَفَ، فَلَمَّا نَفَرَ، دَفَعَ النَّاسَ، فَقَالَ حِينَ دَفَعُوا: "عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ". وَهُوَ كَافٌّ رَاحِلَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ بَطْنَ مِنًى، قَالَ: "عليكم بحصا الخذف الذي1 يرمى به الْجَمْرَۃَ وَھُوَ فِیْ ذٰلِکَ یُھِلُّ حَتّٰی رَمَی الْجَمْرَۃَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے سواری پر سوارتھے۔ نبی اکرم ﷺ ٹھہرنے کے دوران لا الہ الا اللہ پڑھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ کی کبریا ئی کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا مانگتے رہے۔ جب آپ روانہ ہوئے ، تو لوگ روانہ ہو چکے تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے بلند آواز میں انہیں حکم دیا آرام سے چلو جب آپ گھاٹی میں پہنچے ، تو آپ نے پانی بہایا اور وضو کیا پھر آپ سوار ہوئے جب آپ مزدلفہ تشریف لائے، تو آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں جب آپ نے صبح کی نماز ادا کر لی، تو آپ ٹھہرے رہے جب آپ روانہ ہوئے، تو لوگ بھی روانہ ہوئے جب لوگ روانہ ہوئے ، تو آپ نے فرمایا: تم لوگ آرام سے چلو نبی اکرم ﷺ بھی اپنی سواری کی لگام کو کھینچے ہوئے تھے، یہاں تک کہ جب آپ منیٰ کے نشیبی حصے میں داخل ہوئے، تو آپ نے فرمایا: تم پر ایسی کنکریاں چننا لازم ہیں جو چٹکی میں آ جائیں، وہ جمر ہ کو ماری جائیں گی اور اس مقام پر نبی اکرم ﷺ تلبیہ پڑھتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے جمرہ کی رمی کر لی۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3855

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3856

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشُ قُطَّانَ الْبَيْتِ، وَكَانُوا يُفِيضُونَ مِنْ مِنًى، وَكَانَ النَّاسُ يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: 199] 1. [64:3]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قریش بیت اللہ کے نگران تھے وہ لوگ منیٰ سے روانہ ہو جاتے تھے جبکہ دوسرے لوگ عرفات سے روانہ ہوتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: " تم لوگ بھی وہیں سے واپس جاو جہاں سے لوگ واپس جاتے ہیں"۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3856

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3857

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عن كريب مولى بن عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ، نَزَلَ فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" فَرَكِبَ فَلَمَّا1 جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ، نَزَلَ فَتَوَضَّأَ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ، فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ، فَصَلَّاهُمَا وَلَمْ يُصَلِّ بينهما شيئا 2. [27:5]

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ عرفہ سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب آپ گھاٹی میں پہنچے، تو آپ سواری سے نیچے اترے۔ آپ نے پیشاب کیا پھر آپ نے وضو کیا آپ نے مبالغے کے ساتھ وضو نہیں کیا میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نماز ادا کریں گے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز آگے جا کے ہو گی پھر آپ سوار ہوئے، یہاں تک کہ آپ مزدلفہ تشریف لے آئے۔ پھر آپ سواری سے اترے آپ نے وضو کرتے ہوئے مبالغے کے ساتھ وضو کیا پھر نماز کھڑی ہوئی آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر آپ ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنی رہائشی جگہ پر بٹھا لیا پھر عشاء کی نماز کے لئے اقامت کہی گئی نبی اکرم ﷺ نے یہ دونوں نمازیں ادا کیں آپ نے ان کے درمیان (کوئی اور نفل نماز) ادا نہیں کی۔

أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← كريب مولى بْنُ عَبَّاسٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3857

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3858

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ1، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بالمزدلفة جميعا2. [47:4]

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں۔

أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بالمزدلفة جميعا2. ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3858

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3859

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جبير قال: صلى بنا بن عُمَرَ بِجَمْعِ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، وَحَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي ذَلِكَ المكان مثل ذلك 1. [47:4]

سعید بن جبیر بیان کرتےہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہمیں مزدلفہ میں مغرب کی نماز میں تین رکعات پڑھائیں جب انہوں نے سلام پھیرا ،تو وہ پھر کھڑے ہوئے اور انہوں نے عشاء کی دو رکعات پڑھائیں۔ انہوں نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم ﷺ نے اس جگہ پر ان لوگوں کو اسی طرح نماز پڑھائی تھی۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3859

chevron_left Previous
1…131415…22
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr