صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3848
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ1، عَنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ -أَوْ قَالَ: بِزِمَامِهِ- فَقَالَ: "أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ: "أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ " قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: "فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ " فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ: "أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ؟ " قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: "فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ " فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، قَالَ: "أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامِ؟ " قُلْنَا: بَلَى، فَقَالَ: "فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ يَبْلُغُ مَنْ هُوَ أوعى له منه" 2. [2:2]
حضرت ابو بکر ہ رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کرتے ہیں: آپ نے اپنے اونٹ پر وقوف کیا ہوا تھا، جس کی لگام کو کسی صاحب نے تھاما ہوا تھا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: آج کون سا دن ہے، تو ہم لوگ خاموش رہے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس کے نام کے علاوہ کوئی اور نام تجویز کریں گے نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم خاموش رہے۔ ہم نے یہ سمجھا کہ شاید آپ اس کا کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ ذوالحج نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے، تو ہم خاموش رہے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس نام کی بجائے دوسرا نام تجویز کریں گے تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ قابل احترام شہر نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہاری جانیں تمہارا مال تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابل احترام ہے۔ خبر دار ! تم میں سے ہر موجود شخص غیر موجود تک تبلیغ کر دے، کیونکہ (ممکن ہے) موجود شخص اس شخص تک یہ بات پہنچا دے جو اس سے زیادہ بہتر طور پر اسے محفوظ ر کھے۔
"أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامِ؟ قُلْنَا: بَلَى، ← "فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، ← "أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ؟ قُلْنَا: بَلَى، ← "فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، ← "أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قُلْنَا: بَلَى، ← "أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، ← بِزِمَامِهِ- ← وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ -أَوْ ← النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3848
