Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3836

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ عن بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاۃٌ ، اِلَّا اَنَّ اللہَ اَحَلَّ فِیہِ الْمَنْطِقَ ، فَمَنْ نَطَقَ ، فَلَا یَنْطِقُ اِلَّا بِخَیْرٍ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بیت اللہ کا طواف کرنا بھی نماز (ادا کرنے کی مانند ہے) ، البتہ اللہ تعالیٰ نے اس دوران بات چیت کرنے کو جائز قرار دیا ہے، تو جو شخص ( طواف کے دوران) کوئی بات کرے، تو اسے صرف بھلائی کی بات کرنی چاہئے"۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← طَاوْسٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3836

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3837

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ بِبَلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ1 قَالَ: حَدَّثَنَا أبو غسان، قال: حدثنا عبد السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مَاءً فِی الطَّوَافِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے طواف کے دوران آب زمزم پیا تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← أبو غسان، ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ1 ← هَارُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ بِبَلَدٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3837

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3838

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بن الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَقَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَہُ ، وَھُوَ قَائِمٌ

حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو آب زمزم پیش کیا، تو آپ نے اسے پی لیا آپ نے کھڑے ہو کر اسے پیا تھا۔

سَقَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَہُ وَھُوَ قَائِمٌ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3838

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ السَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ · حديث 3839

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: 158] ، فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطُوفَ بِهِمَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: كَلَّا لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ، كَانَتْ: فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، [وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ] وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ، سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عن ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ ، فَلَاجُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا) (البقرۃ:158) فَمَا اَرَی عَلٰی اَحَدٍ شَیْئًا، اَنْ لَا یَطُوفَ بِھِمَا ، قَالَتْ عَائِشَۃُ :کَلَّا ، لَوْ کَانَتْ کَمَا تَقُوْلُ :کَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لَا یَطَّوَّفَ بِھِمَا ، اِنَّمَا نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ فِی الْاَنْصَارِ ، کَانُوْا یُھِلُّوْنَ لِمَنَاۃَ ، وَکَانَتْ مَنَاۃُ حَذْوَ قُدَیْدٍ ، وَکَانُوْا یَتَحَرَّجُونَ اَنْ یَّطُوفُوا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، فَلَمَّا جَاءَ الْاِسْلَامُ سَاَلُوا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ ، فَاَنْزَلَ اللہُ (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ ، مِنْ شَعَائِرِ اللہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَاِنَّ اللہَ شَاکِرٌ عَلِیمٌ) (البقرۃ:158)

اس روایت کا تذکرہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا حج کرنے والے شخص اور عمرہ کرنے والے شخص کے لیے فرض ہے اس کو ترک کرنے کی گنجائش نہیں ہے

قُلْتُ لِعَائِشَةَ ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Section As-Sa`i between As-Safa and Marwa · Hadith 3839

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ السَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ · حديث 3840

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقلت لَا اَرَاَیْتِ قَوْلَ اللہِ (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ) (البقرۃ:158) اِلٰی اٰخِرِ الْاٰیَۃِ ، فَقُلْتُ لِعَائِشَۃَ : فَوَاللہِ مَا عَلٰی اَحَدٍ جُنَاحٌ اَلَّا یَطُوفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : بِئْسَ مَا قُلْتَ یَا ابْنَ اُخْتِی ، اِنَّ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ لَوْ کَانَتْ عَلٰی مَا اَوَّلْتُھَا عَلَیْہِ ، کَانَتْ فَلَاجُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لَا یَطَّوَّفَ بِھِمَا ، وَلٰکِنَّھَا اِنَّمَا اُنْزِلَتْ فِی الْاَنْصَارِ قَبْلَ اَنْ یُسْلِمُوا ، کَانُوا یُھِلُّوْنَ لِمَنَاۃَ الطَّاغِیَۃِ الَّتِی کَانُوْا یَعْبُدُونَ ، عنْدَ الْمُشَلَّلِ ، وَکَانَ مَنْ اَھْلَّ لَھَا یَتَحَرَّجُ اَنْ یَّطَّوَّفَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، فَلَمَّا اَسْلَمُوْا سَاَلُوا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ ، وَقَالُوْا یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنَّا کُنَّا نَتَحَرَّجُ اَنَّ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، فَاَنْزِلَ اللہُ ( اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّف بِھِمَا) (البقرۃ:158) قَالَتْ عَائِشَۃُ : ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِھِمَا فَلَیْسَ لِاَحَدٍ اَنْ یَّتْرُکَ الطَّوَافَ بِھِمَا قَالَ الزُّھْرِیُّ : اَخْبَرْتُ اَبَا بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ بِالَّذِی حَدَّثَنِیْ عُرْوَۃُ عَنْ عَائِشَۃَ ، فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ : اِنَّ ھٰذَا لَعِلْمٌ ، وَاِنِّی مَاکُنْتُ سَمِعْتُہُ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِّنْ اَھْلِ الْعِلْمِ یَزْعُمُونَ اَنَّ النَّاسَ اِلَّا مَنْ ذَکَرْتِ عَائِشَۃُ مِمَّنْ کَانَ یُھِلُّؒ لِمَنَاۃَ ، کَانُوْا یَطُوفُونَ کُلُّھُمْ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، فَلَمَّا ذَکَرَ اللہُ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ فِی الْقُرْآنِ ، وَلَمْ یَذْکُرِ الطَّوَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، فَاَنْزَلَ اللہُ جَلَّ ذِکْرُہُ ( اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللہِ ، فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتِ ، اَوِ اعْتَمَرَ ، فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا) (البقرۃ:158) قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ ، فَاَسْمَعُ ، ھٰذِہِ نَزَلَتْ فِی الْفَرِیْقَیْنِ کِلَیْھِمَا فِی الَّذِینَ کَانُوْا یَتَحَرَّجُونَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ اَنْ یَّطَّوَّفُوا بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ ثُمَّ تَحَرَّجُوا اَنْ یَّطَّوَّفُوا بِھِمَا فِی الْاِسْلَامِ مِنْ اَجْلِ اَنَّ اللہَ اَمَرَنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَیْتِ ، وَلَمْ یَذْکُرُھُمَا حِینَ ذَکَرَ ذٰلِکَ بَعْدَمَا ذَکَرَ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں:۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیّدہ عائشہ سے دریافت کیا: میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ " بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرتا ہے یا عمرہ کرتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے"۔ میں یہ سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص ان دونوں کا طواف نہیں کرتا، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ایسا ہر گز نہیں ہے ، اگر اس طرح ہوتا جس طرح تم بیان کر رہے ہو، تو آیت یوں ہونی چاہئے تھی۔ " اس شخص پر کوئی گناہ نہیں ہے جو ان کا طواف نہ کرے"۔ (پھر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی) یہ آیت کچھ انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو مناۃ ( نامی بت ) کا احرام باندھتے تھے وہ لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرنے میں حرج محسوس کرتے تھے جب اسلام آیا، تو لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ " بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ اگر وہ ان کا طواف کر لیتا ہے اور جو شخص نفلی طور پر نیکی کرتا ہے، تو بے شک اللہ تعالیٰ شکر قبول کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے"۔ عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: میں نے ان سے کہا: " بے شک صفااور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں" یہ آیت آخر تک ہے۔ میں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم! ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہو گا جو صفا اور مروہ کا طواف نہیں کرتا ، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرما یا: اے میرے بھانجے ! تم نے بہت غلط بات کی ہے اس آیت سے ، اگر وہ مراد ہوتی جو تم بیان کر رہے ہو، تو آیت یوں ہونی چاہئے تھی، تو ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ ان دونوں کا طواف نہیں کرتا در حقیقت یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو اسلام قبول کرنے سے پہلے مناۃ طاغیہ کے نام طاغیہ کے نام کا احرام باندھتے یہ لوگ مشلل کے قریب اس کی عبادت کیا کرتے تھے جو شخص اس کے نام کا احرام باندھتا تھا وہ اس بات کو گناہ سمجھتا تھا کہ صفا اور مروہ کا طواف کرے جب لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا: تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ہم لوگ صفا اور مروہ کا طواف کرنے کو گناہ سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ " بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ ان کا طواف کر لیتا ہے"۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر نبی اکرمﷺ نے ان دونوں کے طواف کو سنت قرار دیا، تو اب کسی شخص کے لئے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ ان دونوں کے طواف کو ترک کرے۔ زہری کہتے ہیں: میں اس روایت کو لے کر ابو بکر بن عبدالرحمٰن کے پاس گیا وہ روایت جو عروہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کےحوالے سے مجھے یہ بیا ن کی تھی ابو بکر بن عبدالرحمٰن نے کہا: یہ واقعی علم ہے میں نے یہ بات پہلے نہیں سنی ہوئی تھی میں نے پہلے کچھ اہل علم کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا تھا پہلے سب لوگ صفا اور مروہ کا طواف کیا کرتے تھے، ماسوائے ان لوگوں کے جن کا ذکر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا ہے، جو مناۃ کے نام کا قربانی کا جانور لے کر جاتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور صفا اور مروہ کے طواف کا ذکر نہیں کیا ( تو اس بارے میں لوگوں کو الجھن ہوئی )، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ " بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے"۔ ابو بکر عبدالرحمٰن نے کہا: تو میں نے یہ سنا کہ یہ آیت دونوں فریقوں کے بارے میں نازل ہوئی تھے ان لوگوں کے بارے میں جو زمانہ جاہلیت میں صفا اور مروہ کا طواف کیا کرتے تھے، تو انہوں نے اسلام میں ان دونوں کے طواف کو گناہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا ہے اور صفا و مروہ کا اس میں ذکر نہیں کیا یہ اس وقت کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ نے صرف بیت اللہ کا طواف کرنے کا ذکر کیا تھا۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ فقلت لَا اَرَاَیْتِ قَوْلَ اللہِ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Section As-Sa`i between As-Safa and Marwa · Hadith 3840

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ السَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ · حديث 3841

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ فِطْرِ بن خليفة عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : اِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُونَ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَمَلَ ، وَاَنَّہٗ سُنَّۃٌ ، فَقَالَ کَذَبُوْ وَصَدَقُوا اِنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَا دَخَلَ مَکَّۃَ وَالْمُشْرِکُوْنَ عَلٰی قُعِیْقِعَانَ ، فَتَحَدَّثُوا اَنَّ مُحَمَّدً صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاَصْحَابَہُ ھَزْلٰی ، فَرَمَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاَمَرَ اَصْحَابَۃُ فَرَمَلُوا ، وَلَیْسَتْ بِسُنَّۃٍ

عا مر بن واثلہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم کے لوگ یہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے رمل کیا ہے اور یہ چیز سنت ہے، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے کچھ بات ٹھیک بیان کی ہے اور کچھ غلط بیان کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تھے، تو مشرکین اس وقت قیقعان میں موجود تھے وہ لوگ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کے بارے میں مذاق اڑانے کے طور پر بات چیت کر رہےتھے ( کہ یہ کمزور لوگ ہیں) ، تو نبی اکرم ﷺ نے رمل کیا اور آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ بھی رمل کریں) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: ) یہ چیز سنت نہیں ہے۔

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ اِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُونَ ← عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ ← فِطْرِ بن خليفة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Section As-Sa`i between As-Safa and Marwa · Hadith 3841

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ السَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ · حديث 3842

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى الصَّفَا يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، وَيَقُولُ: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" يَصْنَعُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيَدْعُو وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذلك1. [12:5]

امام جعفر صادق رضی اللہ عنہہ اپنے والد ( امام محمد باقر رضی اللہ عنہہ) کے حوالے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب صفا پر ٹھہرے ، تو آپ نے تین مرتبہ تکبیر پڑھی اور یہ پڑھا۔ " اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اور ا س کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے"۔ نبی اکرمﷺ نے ایسا تین مرتبہ کہا پھر آپ نے دعا مانگی پھر آپ نے مروہ پر بھی اسی کی مانند کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Section As-Sa`i between As-Safa and Marwa · Hadith 3842

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ السَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ · حديث 3843

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ بن أَبِي أَوْفَى قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ خَرَجَ فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَنَحْنُ نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ، أَوْ يُصِيبُهُ بِشَيْءٍ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو عَلَى الْأَحْزَابِ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمُ وَزَلْزِلْهُمْ، مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهزم الأحزاب، اللهم اهزمهم" 1. [12:5]

حضرت ابد ابو عوفیٰ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے عمرہ کیا آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا تھا صفا اور مروہ کا طواف کیا۔ ہم آپ کو اہل مکہ سے بچا رہے تھے کہ کوئی شخص آپ کو تیر نہ مار دے یا کوئی اور چیز نہ مار دے۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو ( دشمنوں کے ) لشکروں کے خلاف یہ دعا کرتے ہوئے سنا : " اے اللہ ! انہیں پسپا کر دے انہیں لڑکھڑا دے۔ اے کتاب کو نازل کرنے والے اے جلدی حساب لینے والے ( دشمنوں کے لشکروں ) کو پسپا کر دے اے اللہ ! انہیں پسپا کر دے"۔

بن أبي أوفى ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Section As-Sa`i between As-Safa and Marwa · Hadith 3843

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ السَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ · حديث 3844

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ اَبِیْ اَوْفَی ، یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ یَوْمَ الْاَحْزَابِ : اللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیعَ الْحِسَابِ اھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلْھُمْْ یَعْنِی الْاَحْزَابَ

حضرت ابن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے غزوہ حزاب کے دن نبی اکرم ﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: "اے اللہ ! اے کتاب کو نازل کرنے والے جلدی حساب لینے والے، تو ان لوگوں کو پسپا کر دے اور انہیں لڑکھرا دے ( راوی کہتے ہیں) یعنی ( دشمن کے ) لشکروں کو"۔

یَوْمَ الْاَحْزَابِ اللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیعَ الْحِسَابِ اھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلْھُمْْ یَعْنِی الْاَحْزَابَ ← النَّبِيِّ ← ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Section As-Sa`i between As-Safa and Marwa · Hadith 3844

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ السَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ · حديث 3845

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الجريري عَنْ اَبِیْ الطُّفَیْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ اَرَاَیْتَ ھٰذَا الرَّمَلَ بِالْبَیْتِ ثَلَاثَۃَ اَطْوَافٍ ، وَمَشَی اَرْبَعَۃَ اَطْوَافٍ ، اَسُنَّۃٌ ھُوَ ؟ فَاِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُونَ اَنَّہٗ سَنَۃٌ ، فَقَالَ : صَدَقُوقُوا ، وَکَذَبُوْا ، قُلْتُ : مَا قَوْلُکَ صَدَقُوا وَکَذَبُوْا ؟ ، قَالَ : اِنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَکَّۃَ ، فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ : اِنَّ مُحَمَّدًا وَاَصْحَابَہُ لَایَسْتَطِیعُونَ اَنْ یَّطُوفُوا بِالْبَیْتِ مِنَ الْھُزَالِ ، قَالَ : وَکَانُوْ یُحْسُدُونَہٗ ، قَالَ : فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّرْمُلُوا ثَلَاثًا ، وَیَمْشُوا اَرْبَعًا ، قَالَ : فَقُلْتُ لَہُ : اَخْبَرَنِیْ عَنِ الطَّوَافِ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ رَاکِبًا ، سَنَۃٌ ھُوَ؟ ، فَاِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُونَ اَنَّہٗ سَنَۃٌ ، قَالَ : صَدَقُوا وَکَذَبُوْا ، قَالَ قُلْتُ : مَا قَوْلُکَ صَدَقُوا وَکَذَبُوْا؟ ، قَالَ : اِنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَثُرَ عَلَیْہِ النَّاسُ یَقُوْلُوْنَ : ھٰذَا مُحَمَّدٌ ؟ ، ھٰذَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی خَرَجَتِ الْعَوَاتِقُ مِنْ الْبُیُوْتِ ، قَالَ : وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَصْرِفُ النَّاسَ بَیْنَ یَدَیْہٖ ، فَلَمَّا کَثُرَ عَلَیْہِ رَکِبَ ، وَالْمَشْنُی وَالسَّعْیُ اَفْضَلُ

آدمی کے لیے یہ بات مباح ہونے کا تذکرہ کہ وہ کسی علت کے پیش آنے کی وجہ سے صفا و مروہ کے درمیان سعی سوار ہو کر کرے

أَبِي الطُّفَيْلِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Section As-Sa`i between As-Safa and Marwa · Hadith 3845

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3846

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ1 قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: أَخْبِرْنِي عَنْ شَيْءٍ عَقَلْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أين أصلي الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنًى، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ 2. [8:5]

عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ سے دریافت کیا؛ آپ نے مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیں جو آ پ کو نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یاد ہو کہ نبی اکرم ﷺ نے ترویہ کے دن ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: منیٰ میں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: تو نبی اکرم ﷺ نے روانگی کے وقت ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی۔ انہوں نے جواب دیا: ابطح میں۔

بِالْأَبْطَحِ ← قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ ← بِمِنًى، ← شَيْءٍ عَقَلْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ أين أصلي الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ ← سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3846

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى · حديث 3847

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: کَانَ یُھِلُّ بِمِنًی ، فَلَا یُنْکِرُ عَلَیْہِ ، وَیُکَبِّرُ الْمُکَبِّرُ ، فَلَا یُنْکِرُ عَلَیْہِ

محمد بن ابو بکر ثقفی بیان کرتے ہیں: ۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ سے وال کیا یہ دونوں اس وقت منیٰ سے عرفہ کی طرف جا رہے تھے( سوال یہ تھا ) آج کے دن آپ لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ کیا، کیا تھا۔ انہوں نے بتایا: منیٰ میں تلبیہ پڑھنے والا شخص تلبیہ پڑھنے والا شخص تلبیہ پڑھ رہا تھا، تو اس پر انکار کیا گیا اور تکبیر کہنے والا( تکبیر کہہ رہا تھا) تو اس پر بھی انکار نہیں کیا گیا۔

مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the exit from Makkah to Mina · Hadith 3847

chevron_left Previous
1…121314…22
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr