Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3824

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأحمر، [عن عبيد اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ] 1 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ، وَقَالَ: مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقبله2. [1:4]

نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے حجرا سود کا استام کرنے کے بعد اپنے ہاتھ کو بوسہ دیا اور بولے: جب سے میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسے بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اس کے بعد میں نے اسے کبھی ترک نہیں کیا۔

مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يقبله2. ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ، ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3824

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3825

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عكرمة عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: طَافَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ ، فَاِذَ اَتَیْنَا اِلَی الرُّکْنِ ، اَشَارَ اِلَیْہِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف کیا جب ہم حجرا سود کے مد مقابل آئے، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی طرف اشارہ کیا۔

طَافَ النَّبِیُّ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ فَاِذَ اَتَیْنَا اِلَی الرُّکْنِ اَشَارَ اِلَیْہِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَارِثِ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3825

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3826

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يحيى القطان، عن بن جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: سَمِعْتُ النبي وهو صلى الله عليه وسلم يَقُولُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْحَجَرِ: "رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النار" 1. [12:5]

حضرت عبدالل بن سائب رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو رکن یمانی اور حجرا سود کے درمیان یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: " اے ہمارے پرو ردگار ! تو ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے"۔

النَّبِيَّ وَهُوَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ؛ ← بن جُرَيْجٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3826

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3827

أخبرنا بن قتيبة قال: حدثنا يزيد بن وهب قال: حدثني الليث بن سعد، عن بن شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمْ أَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ1. [3:5]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو بیت اللہ کے صرف دو یمانی رکنوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دیکھا ہے۔

لَمْ أَرَ رَسُولُ اللَّهِ يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ1. ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يزيد بن وهب ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3827

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3828

أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دينار عن بن عُمَرَ قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ وَمَا وَجَدَ لَهَا مُنَاخًا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أُخْرِجَتْ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي، فَأُنِيخَتْ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا النَّاسُ رَجُلَانِ: بَرٌّ تَقِيٌّ كَرِيمٌ عَلَى رَبِّهِ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ هَيِّنٌ عَلَى رَبِّهِ" ثم تلا: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا} [الحجرات: 13] . حَتَّى قَرَأَ الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ: "أَقُولُ هَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي ولكم" 1. [8:5]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ موقع پر نبی اکرم ﷺ نے اپنی اونٹنی قصواء پر طواف کیا تھا۔آپ نے اپنی چھڑی کے ذریعے حجرا سود کا استلام کیا۔ آپ کو اونٹنی کو بٹھانے کے لئے مسجد میں کوئی جگہ نہیں ملی، یہاں تک کہ اسے وادی کے نشیبی حصے کی طرف لے جا کر بٹھا یا گیا پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور یہ بات ارشاد فرمائی۔ " اما بعد ! اے لوگو بے شک اللہ تعالیٰ نے تم سے زمانہ جاہلیت کی خرابیوں کو ختم کر دیا ہے۔ اے لوگو! لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنے پروردگار کے نزدیک نیک اور معزز ہوں اور وہ جو اپنے پروردگار کے نزدیک گناہگار بدبخت اور بے حیثیت ہوں پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ " اے لوگو! بے شک ہم نے تمہیں مذکر اور مونث سے پیدا کیا ہے ہم نے تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کیا ہے، تا کہ تم ایک دوسرے کی شناخت حاصل کرو"۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت مکمل تلاوت کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: میں یہ بات کہتا ہوں میں اپنے لئے اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔

بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ← مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3828

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3829

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وهب، قال: أخبرنا يونس، عن بن شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ بن عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بمحجن1. [1:4]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کیا تھا آپ نے اپنی چھڑی کے ذریعے حجرا سود کا استلام کیا تھا۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3829

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3830

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّقَّامِ1 بِتُسْتَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي شَاكِيَةٌ، فَقَالَ: "طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ". قَالَتْ: ففعلت2. [1:4]

سیّدہ زینبت بنت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بیمار ہونے کی شکایت کی آپ نے فرمایا: تم لوگوں سے پرے ہو کر طواف کر لو۔ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں: میں نے ایسا ہی کیا۔

ففعلت2. ← "طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ". ← شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ أَنِّي شَاكِيَةٌ، ← أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← مالک بن أنس ← مَعْن بن عيسی ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّقَّامِ1 بِتُسْتَرَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3830

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3831

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حجاج، عن بن جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ عن بن عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يقوده بيده1. [19:2]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جسے ایک دوسرا شخص ساتھ لے کر چل رہا تھا اور اس نے اس کی ناک میں نکیل ڈالی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبار ک کے ذریعے اسے کاٹ دیا اور پھر آ پ نے اسے یہ ہدایت کی: وہ اسے اپنے ہاتھ کے ساتھ پکڑ کر ساتھ لے کر چلے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، أَنَّ طَاوُسًا ← بن جُرَيْجٍ ← حجاج، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3831

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3832

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عن بن جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا أخبره عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَ قَالَ: "قَدَّهُ بيده" 1. [19:2]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:۔ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کا خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک شخص کے پاس سے گزر ہوا جس نے رسی سے ہاتھ بندھوا کے د وسرے شخص کے ہاتھ میں (رسی کا دوسرا سرا ) دیا ہوا تھا یا اس کے علاوہ شاید کوئی اور چیز تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے کاٹ دیا اور فرمایا : تم ( اس کا) ہاتھ پکڑا کر اسے ساتھ لے کر چلو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، أَنَّ طَاوُسًا ← بن جُرَيْجٍ ← حجاج، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3832

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3833

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ اَنَّھَا قَالَتْ : شَکَوْتُ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنِّی اَشْتَکِی ، فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : طُوفِیْ مِنْ وَّرَاءِ النَّاسِ ، وَاَنْتِ رَاکِبَۃٌ ، قَالَتْ : فَطُفْتُ ، وَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَئِذٍ یُصَلِّی اِلٰی جَنْبِ الْبَیْتِ ، وَھُوَ یَقْرَاُبِ اطُّورِ وَکِتَابٍ مَسْطُورٍ

سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں شکایت کی کہ میں بیمار ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں سے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو۔ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو میں نے طواف کر لیا۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت خانہ کعبہ کے پہلو کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے آپ سورہ طور کی تلاوت کر رہے تھے۔

"طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ". ← شكوت إلى رسول الله أنى أشتكى, ← أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3833

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3834

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ عن عائشة قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ، حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: "مَا لَكِ أَنَفِسْتِ؟ " فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: "هَذَا أَمَرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي البيت". وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عن نسائه البقر1. [82:1]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے ہماری نیت صرف حج کرنے کی تھی، جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے ، تو مجھے حیض آ گیا ۔ نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے ، تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے کیا تمہیں حیض آ گیا ہے ؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لئے مقرر کر دیا ہے۔ تم وہ تمام چیزیں ادا کرو جو حاجی کرتے ہیں، البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے ایک گائے قربان کی تھی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3834

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3835

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ اِدْرِیْسَ ،قَالَ : حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بُْ اَبِیْ بَکْرٍ ، عَنْ مَالِکٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ ،عَنْ اَبِیْہٖ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، اَنَّھَا قَالَتْ: قَدِمْتُ مَکَّۃَ ، وَاَنَا حَائِضٌ لَمْ اَطُفْ بِالْبَیْتِ ، وَلَا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، فَشَکَوْتُ ذٰلِکَ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : افْعَلِی مَا یَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ اَنْ لَا تَطُو فِیْ بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْھُرِی

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں: میں مکہ آئی مجھے حیض آ چکا تھا۔ میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور صفا و مروہ کی سعی نہیں کی میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم وہ تمام کام کرو جو حاجی کرتے ہیں، البتہ تم پاک ہونے تک بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔

قَدِمْتُ مَكَّةَ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مَالِكٍ، ← اَحْمَدُ بُْ اَبِیْ بَکْرٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3835

chevron_left Previous
1…111213…22
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr