صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3812
اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ الشَّیْبَانِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ النَّرْسِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ ،قَالَ: سَاَلْتُ اَبَا الطُّفَیْلِ ، فَقُلْتُ : الْاَطْرَافُ الثَّلَاثَۃُ الَّتِیْ تسْنَدْ بِالْکَعَبَۃِ ؟ ، قَالَ اَبُوْ الطُّفَیْلِ : سَاَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْھَا ، فَقَالَ : اِنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّا الظَّھْرَانِ فِیْ صُلْحِ قُرَیْشٍ ، بَلَغَ اَصْحَابَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ قُرَیْشًا کَانَتْ تَقُوْلُ : تُبَایعُونَ ضُعَفَاءَ ، قَالَ اَصْحَابُہُ ، یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ اَکَلْنَا مِنْ ظِھْرِ نَا ،فَاَکَلْنَا مِنْ شُحُومِھَا ، وَحَسَوْنَاَ مِنَ الْمَرَقِ ، فَاَصْبَحْنَا غَدًا حَتّٰی نَدْخُلَ عَلَی الْقَوْمِ ، وَبِنَاجِمَامٌ ، قَالَ : لَا وَلٰکِنْ ائْتُونِیْ بِفَضْلِ اَزْوَادِکُمْ ، فَبَسَطُوا اَنْطَاعَھُمْ ثُمَّ جَمَعُوا عَلَیْھَا مِنْ اَطْعِمَاتِھِمْ کُلَّھَا ، فَدَعَا لَھُمْ فِیھَا بِالْبَرَکَۃِ ، فَاَکَلُوا حَتّٰی تَضَلَّعُوا شِبَعًا ، فَاَکْفَتُوا فِیْ جُرَبِھِمْ فُضُولَ مَا فَضَلَ مِنْھَا ، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَلٰی قُرَیْشٍ ، وَاجْتَمَعَتْ قُرَیْشٌ نَحْوَالْحَجَرِ ، اضْطَبَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِاَصْحَابِہٖ : لَا یَرَی الْقَوْمُ فِیکُمْ غَمِزَۃً ، وَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ الْیَمَانِیَ ، وَتَغَیَّنَتْ قُرَیْشٌ ، مَشَی ھُوَ وَاَصْحَابُہُ حَتّٰی اسْتَلَمُوْا الرُّکْنَ الْاَسْوَدَ ، فَطَافَ ثَلَاثَۃَ اَطْوَافٍ ، فَلِذٰلِکَ تَقُوْلُ قُرَیْشٌ وَھُمْ یَمُرُّونَ بِھِمْ یَرْمُلُوْنَ : لَکَانَّھُمُ الْغِزْلَانُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَکَانَتْ سُنَّۃً
ابن خیثم بیان کرتے ہیں: میں نے ابو طفیل سے دریافت کیا: میں نے کہا: وہ تین اطراف جن میں خانہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگائی جاتی ہے، تو ابو طفیل نے بتایا : میں نے اس بار ے میں حضرت ابن عباس سے دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: قریش کے ساتھ صلح کے موقع پر جب نبی اکرم ﷺ نے مرالظہر ان کے مقام پر پڑاو کیا، تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کو یہ بات پتہ چلی کہ قریش یہ کہتے ہیں: تم لوگوں نے کمزور لوگوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اگر ہم اپنی قر بانی کے جانوروں کا گوشت کھائیں اور ان کی چربی کو کھائیں او ر اس کا شوربہ پی لیں( تو ہمارے جسموں میں طاقت آ جائے گی) ، تو ہم کل صبح مکہ میں داخل ہو ں گے اور ا س وقت ہم طاقت ور نظر آئیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں بلکہ تم اپنے زادِ سفر میں سے بچ جانیوالی چیزیں لے کر آو پھر لوگوں نے اپنے دستر خوان بچھائے اور اس پر اپنے کھانے کی تمام چیزیں جمع کر دیں ،تو نبی اکرمﷺ نے ان چیزوں کے بارے میں برکت کی دعا کی، تو انہوں نے اسے کھایا ، تو ان کے پیٹ بھر گئے۔ انہوں نے باقی بچ جانے والی چیزیں اپنے تھیلوں میں ڈال لی، جب نبی اکرم ﷺ قریش کے سامنے آئے تو قریش کے سامنے آئے تو قریش حجرا سود کے سامنے اکٹھے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے اضطباع ( کے طور پر کپڑے کو لپیٹا)، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ان لوگوں کو تمہارے اندر کمزوری نہیں نظر آنی چاہئے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے رکن یمانی کا استلام کیا۔ اس وقت قریش دوسری طرف ہو گئے (یعنی نظر نہیں آتے تھے) نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب عام رفتا ر سے چلتے تھے، یہاں تک کہ حجرا سود کا استلام کر لیتے ( تو پھر دوڑنا شروع کر دیتے تھے)، تو نبی اکرم ﷺ نے تین طواف ا س طرح کئے یہ حضرات دوڑتے ہوئے قریش کے پاس گزرتے ، تو قریش یہ کہتے تھے: یہ ہرنوں کی طرح دوڑ رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، تو یہ سنت ہے۔
اَبُوْ الطُّفَیْلِ سَاَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْھَا فَقَالَ ← سَاَلْتُ اَبَا الطُّفَیْلِ فَقُلْتُ الْاَطْرَافُ الثَّلَاثَۃُ الَّتِیْ تسْنَدْ بِالْکَعَبَۃِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3812
