Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3812

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ الشَّیْبَانِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ النَّرْسِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ ،قَالَ: سَاَلْتُ اَبَا الطُّفَیْلِ ، فَقُلْتُ : الْاَطْرَافُ الثَّلَاثَۃُ الَّتِیْ تسْنَدْ بِالْکَعَبَۃِ ؟ ، قَالَ اَبُوْ الطُّفَیْلِ : سَاَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْھَا ، فَقَالَ : اِنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّا الظَّھْرَانِ فِیْ صُلْحِ قُرَیْشٍ ، بَلَغَ اَصْحَابَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ قُرَیْشًا کَانَتْ تَقُوْلُ : تُبَایعُونَ ضُعَفَاءَ ، قَالَ اَصْحَابُہُ ، یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ اَکَلْنَا مِنْ ظِھْرِ نَا ،فَاَکَلْنَا مِنْ شُحُومِھَا ، وَحَسَوْنَاَ مِنَ الْمَرَقِ ، فَاَصْبَحْنَا غَدًا حَتّٰی نَدْخُلَ عَلَی الْقَوْمِ ، وَبِنَاجِمَامٌ ، قَالَ : لَا وَلٰکِنْ ائْتُونِیْ بِفَضْلِ اَزْوَادِکُمْ ، فَبَسَطُوا اَنْطَاعَھُمْ ثُمَّ جَمَعُوا عَلَیْھَا مِنْ اَطْعِمَاتِھِمْ کُلَّھَا ، فَدَعَا لَھُمْ فِیھَا بِالْبَرَکَۃِ ، فَاَکَلُوا حَتّٰی تَضَلَّعُوا شِبَعًا ، فَاَکْفَتُوا فِیْ جُرَبِھِمْ فُضُولَ مَا فَضَلَ مِنْھَا ، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَلٰی قُرَیْشٍ ، وَاجْتَمَعَتْ قُرَیْشٌ نَحْوَالْحَجَرِ ، اضْطَبَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِاَصْحَابِہٖ : لَا یَرَی الْقَوْمُ فِیکُمْ غَمِزَۃً ، وَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ الْیَمَانِیَ ، وَتَغَیَّنَتْ قُرَیْشٌ ، مَشَی ھُوَ وَاَصْحَابُہُ حَتّٰی اسْتَلَمُوْا الرُّکْنَ الْاَسْوَدَ ، فَطَافَ ثَلَاثَۃَ اَطْوَافٍ ، فَلِذٰلِکَ تَقُوْلُ قُرَیْشٌ وَھُمْ یَمُرُّونَ بِھِمْ یَرْمُلُوْنَ : لَکَانَّھُمُ الْغِزْلَانُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَکَانَتْ سُنَّۃً

ابن خیثم بیان کرتے ہیں: میں نے ابو طفیل سے دریافت کیا: میں نے کہا: وہ تین اطراف جن میں خانہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگائی جاتی ہے، تو ابو طفیل نے بتایا : میں نے اس بار ے میں حضرت ابن عباس سے دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: قریش کے ساتھ صلح کے موقع پر جب نبی اکرم ﷺ نے مرالظہر ان کے مقام پر پڑاو کیا، تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کو یہ بات پتہ چلی کہ قریش یہ کہتے ہیں: تم لوگوں نے کمزور لوگوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اگر ہم اپنی قر بانی کے جانوروں کا گوشت کھائیں اور ان کی چربی کو کھائیں او ر اس کا شوربہ پی لیں( تو ہمارے جسموں میں طاقت آ جائے گی) ، تو ہم کل صبح مکہ میں داخل ہو ں گے اور ا س وقت ہم طاقت ور نظر آئیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں بلکہ تم اپنے زادِ سفر میں سے بچ جانیوالی چیزیں لے کر آو پھر لوگوں نے اپنے دستر خوان بچھائے اور اس پر اپنے کھانے کی تمام چیزیں جمع کر دیں ،تو نبی اکرمﷺ نے ان چیزوں کے بارے میں برکت کی دعا کی، تو انہوں نے اسے کھایا ، تو ان کے پیٹ بھر گئے۔ انہوں نے باقی بچ جانے والی چیزیں اپنے تھیلوں میں ڈال لی، جب نبی اکرم ﷺ قریش کے سامنے آئے تو قریش کے سامنے آئے تو قریش حجرا سود کے سامنے اکٹھے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے اضطباع ( کے طور پر کپڑے کو لپیٹا)، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ان لوگوں کو تمہارے اندر کمزوری نہیں نظر آنی چاہئے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے رکن یمانی کا استلام کیا۔ اس وقت قریش دوسری طرف ہو گئے (یعنی نظر نہیں آتے تھے) نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب عام رفتا ر سے چلتے تھے، یہاں تک کہ حجرا سود کا استلام کر لیتے ( تو پھر دوڑنا شروع کر دیتے تھے)، تو نبی اکرم ﷺ نے تین طواف ا س طرح کئے یہ حضرات دوڑتے ہوئے قریش کے پاس گزرتے ، تو قریش یہ کہتے تھے: یہ ہرنوں کی طرح دوڑ رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، تو یہ سنت ہے۔

اَبُوْ الطُّفَیْلِ سَاَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْھَا فَقَالَ ← سَاَلْتُ اَبَا الطُّفَیْلِ فَقُلْتُ الْاَطْرَافُ الثَّلَاثَۃُ الَّتِیْ تسْنَدْ بِالْکَعَبَۃِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3812

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3813

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الحجر إلى الحجر1. [35:5] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : رَمَلَ النَبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَیْتِ ثَلَاثًا ، وَمَشَی اَرْبَعًا ، کَذٰلِکَ قَالَہُ جَعفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِیْ رِوَایَۃِ اَصْحَابِہٖ عَنْہُ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَاخْتَصَرَ مَالِکٌ الْخَبَرَ وَلَمْ یَذْکُرْ اَنَّہٗ رَمَلَ ثَلَاثًا ، وَمَشَی اَرْبَعًا ، فَکَانَ الرَّمَلُ لِعِلَّۃٍ مَعْلُوْمَۃٍ ، وَھِیَ اَنْ یَّرَاھُمْ الْمُشْرِکُوْنَ جُلَدَاءَ ، لَا ضَعْفَ بِھِمْ ، فَارْتَفَعَتْ ھٰذِہِ الْعِلَّۃُ ، وَبَقِیَ الرَّمِلُ فَرِضَا عَلٰی اُمَّۃٍ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ

امام جعفر صادق رضی اللہ عنہہ اپنے والد کا (امام محمد باقر رضی اللہ عنہہ ) حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ "نبی اکرم ﷺ نے حجر سے لے کر حجر تک رمل کیا تھا"۔(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ بیت اللہ کا رمل کیا چار مر تبہ عام رفتار سے چلے۔ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہہ نے اپنی روایت میں یہ بات اسی طرح نقل کی ہے، جو حضرت جابر رضی اللہ عنہہ سے منقول ہے جیسا کہ ان کے شاگردوں نے اسے نقل کیا ہے۔ جب کہ امام مالک نے اس روایت کو مختصر طور نقل کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات نقل نہیں کی کہ نبی اکرم ﷺ تین چکروں میں بھاگ کر چلے تھے اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے تھے تو یہ رمل کسی متعین علت کی وجہ سے تھا اور وہ علت یہ تھی کہ مشرکین ان لوگوں کو دیکھ لیں کہ وہ تندرست لوگ ہیں ان میں کمزوری نہیں ہے جب یہ علت ختم ہو گئی تو علت کا حکم نبی اکرم ﷺ کی امت کے لئے قیامت کے دن تک فرض کے طور پر باقی رہ گیا۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3813

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3814

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذَّھْلِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ ، عَنْ اَبِیْ الطُّفَیْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِاَصْحَابِہٖ حِینَ اَرَادُو دُخُولَ مَکَّۃَ فِیْ عُمْرَتِہٖ بَعدَ الْحدَیْبِیَۃِ : اِنَّ قَوْمَکُمْ غَدًا سَیَرَوْنَکُمْ ، فَلَیَرَوْنَکُمْ ، جُلَدَاءَ ، فَلَمَّا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ استَلَمُوْا الرُّکْنَ ، ثُمَّ رَمَلُوا ، وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَھُمْ حَتّٰی اِذَا بَلَغُوا الرُّکْنَ مَشَوْ اِلٰی الرُّکنْنِ الْاَسْوَدِ ، ثُمَّ رَمَلُوا حَتّٰی بَلَغُوا الرَّکْنَ ، فَعَلَ ذٰلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَشَی الْاَرْبَعَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: حدیبیہ کے بعد عمرہ کے موقع پر جب نبی اکرم ﷺ کے اصحاب مکہ میں داخل ہونے لگے، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: لوگ کل تمہیں دیکھیں ، تو تمہیں مضبوط دیکھیں جب یہ لوگ مسجد میں داخل ہوئے، تو انہوں نے حجرا سود کا استلام کیا پھر انہوں نے رمل کیا نبی اکرم ﷺ بھی ان کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ یہ لوگ رکن یمانی تک پہنچے، تو عام رفتار سے چلتے ہوئے حجرا سود تک آئے پھر بھاگنے لگے جب رکن یمانی تک پہنچے ( تو پھر عام رفتار سے چلنے لگے) ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا (جبکہ باقی کے) چار طوافوں میں عام رفتار سے چلتے رہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3814

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3815

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ بن شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ محمد بن بكر الصديق رضى الله تعالى عَنْهُ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: "أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوَا الْكَعْبَةَ، اقْتَصَرُوا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: "لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ" قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عائشة سمعت هذا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يتم على قواعد إبراهيم1. [6:3] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ لَئِنْ کَانَتْ عَائِشَۃُ سَمِعَتْ ھٰذَا مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَفْظَۃً ، ظَاھِرُھَا التَّوَقُّفُ عَنْ صِحَّتِھَا مُرَادُھَا ابْتِدَاءِ اِخْبَارٍ عَنْ سَیْءٍ یَاْتِی بِتَیَقُّنِ شَیْءٍ مَاضٍ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم نے اس بات کا جائزہ نہیں لیا کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا تھا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! تو آپ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر لوٹا کیوں نہیں دیتے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تمہاری قوم زمانہ کفر کے اتنا قریب نہ ہوتی ( تو میں ایسا کر دیتا) راوی بیان کرتےہیں: اس پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ فرمایا: اگ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے، تو میرا خیال ہے اسی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے حطیم کی طرف والے دورکنوں کے استلام کو ترک کر دیا تھا، کیونکہ بیت اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل تعمیر نہیں ہوا تھا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول " اگر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی ہے" ان الفاظ سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ اس روایت کے بارے میں توقف کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ اس سے مراد ہے کہ وہ ایک چیز کے بارے میں اطلاع کا آغاز کر رہے ہیں جو اس سے پہلے یقینی طور پر آچکی ہے۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3815

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3816

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: "يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أن قومك حديث عهد بالجاهلية لَهَدَمْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أُدْخِلَ فِيهِ مَا أَخْرَجُوا مِنْهُ فِي الْحِجْرِ، فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ نَفَقَتِهِ، وَأَلْصَقْتُهُ بِالْأَرْضِ، وَوَضَعْتُهُ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ، وَجَعَلْتُ له بابين بابا شرقيا وباب غَرْبِيًّا". قَالَ: فَكَانَ هَذَا الَّذِي دَعَا ابْنَ الزبير إلى هدمه وبنائه1. [6:3]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا اگر تمہار ی قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی ، تو میں بیت اللہ کو منہدم کروا کے اس میں وہ حصہ داخل کر دیتا جو انہوں نے اس میں سے نکال دیا تھا جو حطیم ہے ان لوگوں کے پاس خرچ کم ہو گیا تھا، تو انہوں نے اسے زمین کے ساتھ ملا دیا اور میں اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق تعمیر کرتا میں اس کے دو دروازے بناتا ۔ ایک دروازہ مشرق کی سمت ہوتا اور ایک مغرب کی سمت ہوتا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اسی وجہ سے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا کے اس کی تعمیر نو کروائی تھی۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3816

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3817

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ الْعَبْدِیُّ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنِ الْاَسْوَادِ ، اَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ سَاَلَ الْاَسْوَادَ ، وَکَانَ یَاْتِی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا ، وَکَانَتْ تُفْضِی اِلَیْہِ ، قَالَ الْاَسْوَادُ قَالَتْ عَائِشَۃُ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا اَنَّ قَوْمَکِ حَدِیثُ عَھْدٍ بِجَاھِلِیَّۃٍ ، لَھَدَمْتُ الْکَعْبَۃَ ، وَجَعَلْتُ لَھَا بَابَیْنِ ، فَھَدَمہُ ابْنُ الزُّبَیْرِ وَجَعَلَ لَھَا بَابَیْنِ

اسود بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسود سے سوال کیا وہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا جا یا کرتے تھے اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان پر خصوصی شفقت کرتی تھیں۔ اسود نے بتایا: سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی، تو میں خانہ کعبہ کو منہدم کروا دیتا اور اس کے دو دروازے بنواتا"۔ راوی کہتے ہیں: اس لئے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا کے اس کے دو دروازے بنوائے تھے۔

عَائِشَةَ ← الْاَسْوَادُ ← الْاَسْوَادِ اَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ سَاَلَ الْاَسْوَادَ وَکَانَ یَاْتِی عَائِشَۃَ وَکَانَتْ تُفْضِی اِلَیْہِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3817

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3818

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَهْدِمَ الْكَعْبَةَ وَيَبْنِيهَا: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ خَالَتِي أَنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لَهَا: "يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، ثُمَّ زِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْ بِهَا حِينَ بَنَتِ الْبَيْتَ، وَجَعَلَتَ لَهَا بَابَيْنِ بابا شرقيا وبابا غربيا، وألزقتها بالأرض" 1. [34:3]

سعید بن میناء بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا : یہ اس وقت کی بات جب انہوں نے خانہ کعبہ کو منہدم کروا کے اس کی تعمیر نو کا ارادہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا : سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جو میری خالہ ہیں میری خالہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تھا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا! اگر تمہاری قوم زمانہ شرک کے اتنا قریب نہ ہوتی، تو میں خانہ کعبہ کو منہدم کروا کے اس میں حطیم کے چھ بالشت حصے کا اضافہ کرواتا کیونکہ قریش نے اس کی تعمیر کرتے ہوئے اس حصے کو چھوڑ دیا تھا اور میں اس کے دو دروازے بناتا اور ایک مشرقی دروازہ ایک مغربی دروازہ اور میں اس کے دروازوں کو زمین کے ساتھ رکھتا ۔

وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَهْدِمَ الْكَعْبَةَ وَيَبْنِيهَا: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ خَالَتِي ← ابْنُ الزُّبَيْرِ ← سعيد بن ميناء، ← سليم بن حيان، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3818

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3819

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ بن جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: لَمْ يَطُفْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طوافه الأول1. [19:4]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نے صفا اور مروہ کےدرمیان صرف ایک مرتبہ طواف کیا تھا جو پہلی مرتبہ کیا تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← بن جُرَيْجٍ ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3819

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3820

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أُنَادِي بِالْمُشْرِكِينَ، فَكَانَ عَلِيٌّ إِذَا صَحِلَ1 صَوْتُهُ، أَوِ اشْتَكَى حَلْقُهُ، أَوْ عَيِيَ مِمَّا يُنَادِي، نَادَيْتُ مَكَانَهُ. قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي: أَيَّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَقُولُونَ؟ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ: "لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ" فَمَا حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، "وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مدة، فَمُدَّتُہُ اِلٰی اَرْبَعَۃِ اَشْھُرٍ ، فَاِذَا قُضِیَ اَرْبَعَۃُ اَشْھُرٍ ، فَاِنَّ اللہَ بَرِیءٌ مِّنْ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُوْلُہُ ، قَالَ : فَکَانَ الْمُشْرِکُوْنَ یَقُوْلُوْنَ : لَا بَلْ شَھْرٌ یَضْحَکُوْنَ بِذٰلِکَ

محر ر بن ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہہ کے ساتھ مشرکین کے بارے میں اعلان کر رہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہہ کی آواز جب بیٹھ گئی اور ان کے حلق میں درد شروع ہو گیا اور وہ بلند آواز میں اعلان کرنے کے قابل نہ رہے، تو ان کی جگہ یہ اعلان کرنے لگا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سے دریافت کیا: آپ لوگوں نے کیا اعلان کیا تھا، تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ نے بتایا: ہم لوگ یہ کہہ رہے تھے اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، تو اس سال کے بعد کسی مشرک نے حج نہیں کیا اور کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا اور جنت میں صرف مومن داخل ہو گا اور جس شخص کے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان کسی مدت تک کا کوئی معاہدہ ہے ، تو اس کے ختم ہونے کی مدت چار ماہ ہے جب چار ماہ گزر جائیں گے ، تو اللہ تعا لیٰ اور اس کے رسول مشرکین سے لا تعلق ہوں گے۔ تو مشرکین اس بات کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے: جی نہیں، ایک مہینہ ہی کافی ہے۔

أَبِيهِ ← الْمُحْرَّر بْنُ أَبِي هُرَيْرَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← الْمُغِيرَةِ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3820

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3821

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وهب قال: أخبرنا يونس، عن بن شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقبلك ما قبلتك1. [8:5]

سالم بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ نےحجر اسود کو بوسہ دیا اور بولے: اللہ کی قسم! میں یہ بات جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو تمہیں بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا ، تو میں تمہیں بوسہ نہ دیتا۔

قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ، ثُمَّ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ، ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3821

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3822

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شريك قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ جَاءَ لِلْحَجَرِ فَقَبَّلَهُ، وَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَمَا تَضُرُّ، وَلَوْلَا إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقبلك ما قبلتك1. [8:5]

عابس بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہہ حجرا سود کے پاس آئے اس کو بوسہ دیا اور بولے: میں یہ بات جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو تم نہ کوئی نفع دے سکتے ہو اور نہ کوئی نقصان پہنچا سکتے ہو اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو تمہیں بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہو تا، تو میں تمہیں بوسہ نہ دیتا۔

عُمَرَ أَنَّهُ جَاءَ لِلْحَجَرِ فَقَبَّلَهُ، ← عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3822

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3823

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَيْفَ صَنَعْتَ فِي اسْتِلَامِ الْحَجَرِ؟ " فَقُلْتُ: اسْتَلَمْتُ وَتَرَكْتُ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "أصبت" 1. [38:4]

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم نے حجرا سود کا استلام کرتے ہوئے کیا ، کیا؟ میں نے عرض کی: میں نے اس کا استلام کیا اور پھر اسے چھوڑ دیا نبی اکرمﷺ نےفرمایا: تم نے ٹھیک کیا۔

"أصبت" ← لِيَ النَّبِيُّ "كَيْفَ صَنَعْتَ فِي اسْتِلَامِ الْحَجَرِ؟ فَقُلْتُ: اسْتَلَمْتُ وَتَرَكْتُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الثَّوْرِيُّ ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3823

chevron_left Previous
1…101112…22
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr