Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1966

اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنِ سَابِقٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ، قَالَ : حَدَّثَنَا یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ الْمَاجِشُوْنُ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ آخِرُ مَا یَقُوْلُ بَیْنَ التَّشَھُّدِ وَالتَّسْلِیْمِ: اللہُمَّ اغْفِرْلِی مَا قَدَّمْتُ، وَمَا اَخَّرْتُ، وَمَا اَسْرَرْتُ، وَمَا اَعْلَنْتُ، وَمَا اَسْرَفْتُ، وَمَااَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّی، اَنْتَ الْمُقَدَّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخَّرُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان سب سے آخر میں یہ پڑھتے تھے۔ ’’ اے اللہ!میں نے جو پہلے کیا جو بعد میں کروں گا‘ جو پوشیدہ طور پر کیا‘ اور جو اعلانیہ طور پر کیا‘ اور جو زیادتی کی اور ہر وہ چیز جس کے بارے میں‘ تو مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے‘ تو اس سب کے حوالے سے میری مغفرت کردے۔ بےشک تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘

عَلِيٍّ، ← عُبَیْدِ اللہِ بْنِ رَافِعٍ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِيهِ ← یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ الْمَاجِشُوْنُ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← بَحْرُ بْنِ سَابِقٍ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1966

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1967

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ، حَدَّثَنِیْ حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، قَالَ : سَمِعْتُ اَبَا ھُرَیْرَۃَ، یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا فَرَغَ اَحَدُکُمْ مِنَ التَّشَھُّدِ الْاٰخِرِ، فَلْیَتَعَوَّذْ بِاللہِ مِنْ اَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب کوئی شخص آخری تشہد پڑھ کر فارغ ہو‘ تو اسے چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے جہنم کے عذاب سے قبر کے عذاب سے زندگی اور موت کی آزمائش سے دجال کے شر سے۔‘‘

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1967

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1968

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ الْفَضْلِ الْکَلَاعِیُّ، بِحِمْصَ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُوبْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِیْدٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبِی، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ اَبِی حَمْزَۃَ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَدْعُو فِی الصَّلَاۃِ: اللہُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُبِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَاَعُوذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَاَعُوذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ، وَاَعُوذُبِکْ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، اللہُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُبِکَ مِنَ الْمَاثِمِ وَالْمَغْرَمِ قَالَتْ: فَقَالَ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللہِ مَا اَکْثَرَ مَا تَسْتَعِیْذُ مِنَ الْمَغْرَمِ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَکَذَبَ، وَوَعَدَ فَاَخْلَفَ

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نماز کے دوران یہ دعا مانگا کرتے تھے: ’’ اے اللہ ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہو اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں دجال کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ قرض سے اکثر پناہ مانگتے ہیں۔ ( اس کی حکمت کیا ہے) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب آدمی مقروض ہو‘ تو وہ بات کرتے ہوئے غلط بیانی کرتا ہے وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُوبْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِیْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1968

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1969

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ : اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ : اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّھْرِیِّ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: لَمَّا رَفَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْاٰخِرَۃِ مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ، قَالَ: اللہُمَّ اَنْجِ الْوَلِیْدَ بْنَ الْوَلِیْدِ، وَسَلَمَۃَ بْنَ ھِشَامٍ، وَعَیَّاشَ بْنَ اَبِیْ رَبِیعَۃَ، اللہُمَّ اشْدُدْ وَطْاَتَکَ عَلیٰ مُضَرَ، وَاجْعَلْھَا عَلَیْھِمْ سِنِیْنَ کَسِنِیْ یُوسُفَ

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ نے صبح کی نماز کی آخری رکعت سے سر اٹھایا ( یعنی رکوع سے اٹھے) تو آپ نے یہ دعا مانگی: ’’ اے اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابوربیعہ کو نجات عطا کر‘ اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنی سختی نازل کر اور ان پر حضرت یوسف کے زمانے کی سی قحط سالی مسلط کر دے‘‘۔

لَمَّا رَفَعَ رَسُوْلُ اللہِ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْاٰخِرَۃِ مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1969

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1970

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیْفَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَھْدَلَۃَ، عَنْ زِرِّبْنِ حُبَیْشٍ اَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ کَانَ قَائِمًا یُصَلِّی، فَلَمَّا بَلَغَ رَاْسَ الْمِائَۃِ مِنْ النِّسَءِ، اَخَذَ یَدْعُو، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: سَلْ تُعْطَہٗ، ثَلَاثًا، فَقَالَ: اللہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ اِیْمَانًا لَا یَرْتَدُّ، وَنَعِیْمًا لَا یَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ اَعْلیٰ جُنَّۃِ الْخُلْدِ

زربن جیش بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے جب انہوں نے سورۃالنساء ک ایک سو آیات کی تلاوت کر لی‘ تو وہ دعا مانگنے لگے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی تو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ دعا مانگی: ’’ اے اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو مرتد نہ ہو اور ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو اور جنت الخلد کے اعلیٰ درجہ میں حضرت محمدﷺ کے ساتھ کا سوال کرتا ہوں۔‘‘

عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1970

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1971

اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا فِی الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ، فَصَلّٰی صَلَاۃً خَفَّفَھَا، فَمَرَّ بِنَا فَقِیْلَ لَہٗ: یَا اَبَا الْیَقْظَانِ، خَفَّفْتَ الصَّلَاۃَ، قَالَ: اَوَ خَفِیفَۃً رَاَیْتُمُوْھَا؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: اَمَا اِنِّیْ قَدْ دَعَوْتُ فِیْھَا بِدُعَاءٍ قَدْ سَمِعْتُہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ثُمَّ مَضَی، فَاَتْبَعَہٗ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ، قَالَ عَطَاءٌ:اتَّبَعَہٗ اَبِیْ۔ وَلٰکِنَّہٗ کَرِہَ اَنْ یَّقُوْلَ اتَّبَعْتُہٗ، فَسَاَلَہٗ عَنِ الدُّعَاءِ، ثُمَّ رَجَعَ فَاَخْبَرَھُمْ بِالدُّعَاءِ: اللہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبَ، وَقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ، اَحْیِنِیْ مَا عَلِمْتَ الْحَیَاۃَ خَیْرًالِی، وَتَوَفَّنِیْ اِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًالِی، اللہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَشْیَتَکَ فِی الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ، وَکَلِمَۃَ الْعَدْلِ وَالْحَقِّ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَاَسْاَلُکَ الْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنَی، وَاَسْاَلُکَ نَعِیمًا لَا یَبِیدُ، وَقُرَّۃَ عَیْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَاَسْاَلُکَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَاَسْاَلُکَ بَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَاَسْاَلُکَ لَذَّۃَالنَّظَرِ اَلٰی وَجْھِکَ، وَاَسْاَلُکَ الشَّوْقَ اِلٰی لَقَا ئِکَ، فِیْ غَیْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّۃٍ، وَلَا فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، اللہُمَّ زَیِّنَّا بِزِینَۃِ الْاِیمَانِ، وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مُھْتَدِینَ

عطاء بن سائب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں‘ ہم لوگ مسجد میں موجود تھے۔ اسی دوران حضرت عمار بن یاسرؓ اندر آئے انہوں نے نماز ادا کی اور مختصر ادا کی پھر وہ ہمارے پاس سے گزرے تو انہیں کہا گیا: اے ابویقظان آپ نے مختصر نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: تم نے جو نماز دیکھی ہے وہ مختصر ہے۔ ہم نے جواب دیا: جی ہاں انہوں نے فرمایا: میں نے تو اس میں وہ دعا بھی پڑھی ہے‘ جو میں نے نبی اکرمﷺ کو پڑھتے ہوئے سنا ہے‘ پھر وہ تشریف لے گئے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب ان کے پیچھے گئے۔ عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے‘ میرے والد ان کے پیچھے گئے تھے لیکن انہیں یہ کہنا اچھا نہیں لگا‘ میں ان کے پیچھے گیاتھا۔ اس نے ان سے اس دعا کے بارے میں دریافت کیا: وہ واپس آیا اور ان لوگوں کو اس دعا کے بارے میں بتایا: ( اس کے الفاظ یہ تھے ) ’’ اے اللہ! میں تیرے غیب کے علم اور اپنی مخلوق پر تیری قدرت کے وسیلے سے یہ سوال کرتا ہوں‘ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھنا جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو ار تو مجھے اس وقت موت دے دینا جب موت میرے حق میں بہتر ہو اے اللہ! میں غیب اور شہادت( ہر حالت) میں تجھ سے ڈرنے کا سوال کرتا ہوں ار ناراضگی اور رضامندی( ہر حالت میں) انصاف اور حق کی بات کہنے ( کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ) اور میں غربت اور خوشحالی ( دونوں حالتوں میں ) میانہ روی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ میں تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہیں ہوگی اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں جو منقطع نہیں ہوگی۔ میں تیرے فیصلے پر تجھ سے رضامندی کا سوال کرتا ہوں اور میں مرنے کے بعد زندگی کی ٹھنڈک ( یعنی مرنے کے بعد کی اچھی زندگی ) کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور میں تیرے دیدار کی لذت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں میں تیری بارگاہ میں حاضری کے شوق کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔( یہ سب کچھ ) کسی نقصان کے بغیر اور گمراہ کرنے والی آزمائش کے بغیر ہو‘ اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے آراستہ کر دے اور ہمیں ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔‘‘

أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1971

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1972

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ : اَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ : اَخْبَرَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیِّبِ، وَاَبُوْ سَلَمَۃَ، اَنَّھُمَا سَمِعَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ، یَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ حِیْنَ یَفْرُغُ مِنْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ مِنَ الْقِرَائَۃِ وَیُکَبِّرُ وَیَرْفَعُ رَاسَہُ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ، یَقُوْلُ وَھُوَ قَائِمٌ:اللہُمَّ اَنْجِ الْوَلِیْدَ بْنَ الْوَلِیْدِ، وَسَلَمَۃَ بْنَ ھِشَامٍ، وَعَیَّاشَ بْنَ اَبِیْ رَبِیعَۃَ، وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ، اللہُمَّ اشْدُدْ وَطْاَتَکَ عَلیٰ مُضَرَ، وَاجْعَلْھَا عَلَیْھِمْ کَسِنِیْ یُوسُفَ، اللہُمَّ الْعَنْ لِحْیَانَ، وَرِعْلًا، وَذَکْوَانَ، وَعُصَیَّۃً عَصَتِ اللہَ وَرَسُوْلُہٗ ثُمَّ بَلَغَنَا اَنَّہٗ تَرَکَ ذٰلِکَ لَمَّا نَزَلَتْ: ( لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْیَتُوْبَ عَلَیْھِمْ اَوْ یُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب فجر کی نماز میں قرأت کر کے فارغ ہوتے تو آپ تکبیر کہتے ( ہوئے رکوع میں چلے جاتے) پھر آپ اپنے سر کو اٹھاتے اور سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ پڑھتے پھر آپ قیام کی حالت میں ہی یہ دعا مانگتے: ’’ اے اللہ ! تو ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابوربیعہ اور کمزور اہل ایمان کو نجات عطا کر اے اللہ ! تو مضر قبیلےپر اپنی سختی نازل کر اور ان پر حضرت یوسفؑ کے زمانے کی سی قحط سالی نازل کر دے۔ اے اللہ! لحیان، زعل، ذکوان اور عصیہ قبیلے پر لعنت کر انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم تک یہ روایت پہنچی ہے‘ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی اکرمﷺ نے اس عمل کو ترک کر دیا۔ ’’ تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے خواہ اللہ تعالیٰ انہیں ‘ توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے۔ بےشک وہ لوگ ظالم ہیں۔‘‘

اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ← حِیْنَ یَفْرُغُ مِنْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ مِنَ الْقِرَائَۃِ وَیُکَبِّرُ وَیَرْفَعُ رَاسَہُ: ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیِّبِ، وَاَبُوْ سَلَمَۃَ، اَنَّھُمَا سَمِعَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1972

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1973

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ الْبَزَّارُ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُ رَیْعٍ، وَیَحْیِی الْقَطَّانُ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْنِیُّ، عَنْ اَبِیْ مِجْلَزٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَھْرًا بَعْدَ الرُّکُوْعِ یَدْعُو عَلیٰ حَیٍّ مِنْ اَحْیَاءِ الْعَرَبِ، رِعْلٍ، وَذَکْوَانَ، وَقَالَ: عُصَیَّۃٌ عَصَتِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۔ اَبُوْ مِجْلَزٍ اسْمُہٗ: لَا حِقُ بْنُ حُمَیْدٍ

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک ماہ تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی تھی جس میں آپ عربوں کے کچھ قبائل رعل اور ذکوان کے خلاف دعائے ضرر کرتے رہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: عصیہ قبیلے کے لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔‘‘ ابومجلز نامی راوی کا نام لاحق بن حمید ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← سُلَیْمَانُ التَّیْنِیُّ، ← یَزِیدُ بْنُ زُ رَیْعٍ، وَیَحْیِی الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ الْبَزَّارُ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1973

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1974

اَخْبَرَنَا اَبُوْا یَعْلٰی، قَالَ : حَدَّثَنَاکَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ اَبِی الْعَلَاءِ، عَنْ شَدَّادِبْنِ اَوْسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ فِیْ صَلَاتِہٖ: اللہُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلّکَ الثَّبَاتَ فِی الْاَمْرِ، وَعَزِیمَۃَ الرُّشْدِ، وَشُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ قَلْبًا سَلِیْمًا، وَاَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ، وَاَعُوذَبِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ

حضرت شداد بن اوسؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نماز میں یہ پڑھا کرتے تھے۔ ’’ اے اللہ! میں ایمان پرثابت قدمی کا ہدایت میں عزیمت کا تیری نعمتوں پر شکر کا تیری اچھے طریقے سے عبادت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں میں تجھ سے سلامتی والے دل کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے اس چیز کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہے اور میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو تیرے علم میں ہے اور میں ہر اس چیز ( یعنی گناہ یا کوتاہی کے حوالے) سے تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہو‘‘۔

شَدَّادِبْنِ اَوْسٍ ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَدَّثَنَاکَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ، ← اَبُوْا یَعْلٰی،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1974

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1975

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی، حَدَّثَنَا اِسْحَا قُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْمَرْوَرِیُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی، عَنْ صُھَیْبٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھَمَسَ شَیْئًا لَا نَفْھَمُہٗ، فَقَالَ: اَفَطِنْتُمْ لِی؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: اِنِّی ذَکَرْتُ نَبِیًّا مِنَ الْاَنْبِیَاءِ اُعْطِیَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِہٖ فَقَالَ: مَنْ یَّقُوْمُ لِھٰؤُلَاءِ؟ فَاَوْحَی اللہُ اِلَیْہِ: اَنِ اخْتَرْ لِقَوْمِکَ اِحْدٰی ثَلَاثٍ: اِمَّا اَنْ اُسَلَّطَ عَلَیْھِمْ عَدُوًّا مِنْ غَیْرِھِمْ، اَوِ الْجُوْعَ، اَوِ الْمَوْتَ، فَاسْتَشَارَ قَوْمَہٗ فِیْ ذٰلِکَ، فَقَالُوْا: اَنْتَ نَبِیُّ اللہِ نَکِلُ ذٰلِکَ اِلَیْکَ خِرْلَنَا، فَقَامَ اِلٰی صَلَاتِہٖ۔ وَکَانُوا اِذَا فَزِعُوْا فَزِعُوْا اِلَی الصَّلَاۃِ۔ فَصَلّٰی مَا شَاءَاللہُ، فَقَالَ:اَیْ رَبِّ اَمَّا عَدُوُّھُمْ مِنْ غَیْرِھِمْ وَالْجُوْعُ فَلَا، وَلٰکِنِ الْمَوتُ، فَسُلِّطَ عَلَیْھِمُ الْمَوْتَ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ، فَمَاتَ مِنْھُمْ سَبْعُونَ اَلْفًا، فَھَمْسِی الَّذِی تَرَوْنَ اَنْ اَقُوْلَ : اللّٰہُمَّ بِکَ اُقَاتِلُ، وَبِکَ اُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ

حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے پست آواز میں کوئی بات کہی جس کو ہم سمجھ نہیں سکے۔ آپ نے دریافت کیا :کیا تم نے میری بات سمجھ لی ہے ہم نے عرض کی :جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :میں نے ایک نبی کا ذکر کیا ہے جنہیں ان کی قوم سے تعلق رکھنے والے کچھ لشکر دیئے گئے‘ تو انہوں نے دریافت کیا :کون ان کا سامنا کرسکتا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی تم اپنی قوم میں سے ایک تہائی حصے کو اختیار کرو یا تو میں ان پر ایسا دشمن مسلط کروں گا‘ جو دوسروں میں سے ہوگا یا ان پر بھوک یا موت مسلط کردوں گا۔ اس نبی نے اس بارے میں اپنی قوم سے مشورہ کیا۔ ان لوگوں نے عرض کی :اے اللہ کے نبی! ہم یہ معاملہ آپ کے سپرد کرتے ہیں۔ آپ ہمارے لئے اسے اختیار کر لیجئے‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ وہ لوگ جب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے‘ تو نماز کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس نبی نے جتنا اللہ کو منظور تھا نماز ادا کی پھر انہوں نے عرض کی :اے میرے پروردگار جہاں تک دوسری قوم سے تعلق رکھنے والے ان کے دشمن کے تسلط کا تعلق ہےیا بھوک کا تعلق ہے‘ تو وہ ان پر مسلط نہ ہو‘ البتہ موت ہو جائے‘ تو ان پر تین دن تک کی موت کو مسلط کیا گیا تو ان میں سے ستر ہزار لوگ انتقال کر گئے۔ ابھی جو تم نے میری سرگوشی دیکھی تھی۔ اس میں‘ میں نے یہ دعا کی تھی۔ ’’اے اللہ! میں تیری مدد سے لڑائی کرتا ہوں اور تیری مدد سے حملہ کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔‘‘

اَفَطِنْتُمْ لِی؟ قُلْنَا: نَعَمْ، ← کَانَ رَسُوْلُ اللہِ ھَمَسَ شَیْئًا لَا نَفْھَمُہٗ، ← صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← اِسْحَا قُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْمَرْوَرِیُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1975

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1976

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیْفَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ الطَّیَالِسِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ یَّزِیدِ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ اَبِی الْخَیْرِ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّہٗ قَالَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِیْ دُعَاءً اَدْعُو بِہٖ فِیْ صَلَاتِی، قَالَ: قُلِ: اللّٰہُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِی ظُلْمًا کَثِیْرًا وَلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ، فَاغْفِرْلِی، مَغْفِرَۃً مِنْ عِنْدِکَ، وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیْمُ

حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی۔ آپ مجھے کسی ایسی دعا کی تعلیم دیجئے جو میں نماز کے دوران مانگ لیا کروں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم یہ پڑھا کرو۔ ’’ اے اللہ! میں نے اپنے اوپر بہت زیادہ ظلم کیا ہے اور گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے‘ تو اپنی بارگاہ سے میری مغفرت عطا کر دے اور مجھ پر رحم کر بے شک تو مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے‘‘۔

لِرَسُولِ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي. ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1976

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1977

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ھَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِاللہِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ عَمِّہِ الْمَاجِشُونِ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ رَافِعٍ، عَنْ عَلِیٍّ رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْہِ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اِذَا سَجَدَ قَالَ: اللّٰھُمَّ لَکَ سَجَدْتُ، وَبِکَ اَمَنْتُ، وَلَکَ اَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْھِی لَلَّذِی خَلَقَہُ وَصَوَّرَہُ فَاَحْسَنَ صُوَرَہُ، وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہُ، فَتَبَارَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب سجدے میں جاتے تو یہ پڑھتے تھے: ’’ اے اللہ! میں نے تیرے لئے سجدہ کیا میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرے لئے اسلام قبول کیا۔ میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے‘ جس نے اسے پیدا کیا اسے شکل و صورت عطا کی ہے اور بڑی خوبصورت شکل و صورت عطا کی ہے‘ جس نے اسے سماعت اور بصارت عطا کی ہے‘ تو اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے‘ جو سب سے بہترین خالق ہے‘‘۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ اِذَا سَجَدَ ← عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← الْأَعْرَجِ ← عَمِّہِ الْمَاجِشُونِ، ← عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِاللہِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ، ← هاشم بن القاسم ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1977

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr