Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1954

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ ، مَوْلٰی ثَقِیْفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّیْتُ ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، وَطَاوٗسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَلِّمُنَا التَّشَھُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَکَانَ یَقُوْلُ :التَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّہِ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، سَلَّامٌ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللٰہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّہِ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے آپ یہ پڑھا کرتے تھے: ’’ برکت والی زبانی عبادات اور پاکیزہ عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں‘‘۔

کَانَ رَسُوْلُ اللٰہِ یُعَلِّمُنَا التَّشَھُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ فَکَانَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، وَطَاوٗسٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّیْتُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1954

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1955

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا عِیسَی بْنُ یُوْنُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ ، عَنْ شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، قَالَ : کُنَّا اِذَا جَلَسْنَا خَلْفَ رَسُوْلِ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْنَا : السَّلَامُ عَلَی اللہِ قَبْلَ عِبَادِہٖ ، السَّلَامُ عَلیٰ جِبْرِیلَ ، السَّلَامُ عَلیٰ مِیکَا ئیلَ ، السَّلَامُ عَلیٰ فُلانٍ وَفُلَانٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاۃِ قَالَ : اِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ ، فَاِذَا جَلَسَ اَحَدُکُمْ فِی الصَّلَاۃِ فَلْیَکُنْ مِنْ اَوَّلِ قَوْلِہِ : التَّحِیَّاتُ لِلہِ ، وَالصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَلَّامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ، فَاِذَا قَالَھَا اَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِی السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللٰہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ ، ثُمَّ یَتَخَیَّرْ مِنَ الدُّعَءِ مَا اَحَبَّ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : پہلے ‘ جب ہم نبی اکرمﷺ کے پیچھے ( نماز کے دوران ) بیٹھتے تھے ‘ تو ہم یہ پڑھتے تھے اللہ تعالیٰ پر ’’ اس کے بندوں سے پہلے سلام ہو جبرائیل پر سلام ہو حضرت میکائیل پر سلام ہو فلاں پر اور فلاں پرسلام ہو جب نبی اکرمﷺ کے نماز مکمل کی تو آپ نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ تو خود سلامتی عطا کرنے والا ہے‘ جب کوئی شخص نماز کے دوران بیٹھے تو اسے سب سے پہلے یہ پڑھ لینا چاہئے۔ ’’ تمام جسمانی اور زبانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہو، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔‘‘ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں) جب بندہ یہ کلمات پڑھ لے گا ‘ تو آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے تک ( سلام ) پہنچ جائے گا۔ ( اس کے بعد آدمی یہ پڑھے )’’ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ حضرت محمدﷺ اس کے بندے اوراس کے رسول ہیں‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں) پھر دعا کے حوالے سے آدمی کو اختیار ہے‘ جو وہ پسند کرے( وہ دعا مانگ لے )

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1955

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1956

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْجَرَادِیُّ، بِالْمَوْصِلِ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ زُرَیْقٍ الرَّسْعَنِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا الثَّوْرِیُّ، عَنِ الْاَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، وَحُصَیْنٍ، وَاَبِیْ ھَاشِمٍ ، وَحَمَّادِ بْنِ اَبِیْ سُلَیْمَانَ، عَنْ اَبِیْ وَائلٍ، وَاَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِی الْاَحْوَصِ، وَالْاَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللہِ، قَالَ : کُنَّا لَا نَدْرَی مَا نَقُوْلُ فِی الصَّلَاۃِ، نَقُوْلُ : السَّلَامُ عَلَی اللہِ، السَّلَامُ عَلیٰ جِبْرِیلَ ، السَّلَامُ عَلیٰ مِیکَا ئیلَ ، فَعَلَّمَنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : اِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ، فَاِذَا جَلَسْتُمْ فِیْ رَکْعَتَیْنِ، فَقُوْلُوْا : التَّحِیَّاتُ لِلہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَلَّامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ۔ قَالَ اَبُوْ وَائِلٍ فِیْ حَدِیْثِہِ، عَنْ عَبْدِ اللہِ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ اِذَا قُلْتَھَا، اَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فَی السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ ۔ وَقَالَ اَبُوْ اِسْحَاقَ فِیْ حَدِیْثِہِ، عَنْ عَبْدِ اللہِ : اِذَا قُلْتَھَا اَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ مُقَرَّبٍ وَنَبِیٍّ مُرْسَلٍ، اَوْ عَبْدٍ صَالِحٍ ۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : ہمیں یہ نہیں معلوم تھا ‘ نماز میں کیا پڑھیں۔ ہم یہ پڑھا کرتے تھے اللہ تعالیٰ پر سلام ہو حضرت جبرائیل پر سلام ہو۔ حضرت میکائیل پر سلام ہو‘ تو نبی اکرمﷺ نے ہمیں تعلیم دی۔ آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ خود سلامتی عطا کرنے والا ہے‘ جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو یہ پڑھو۔ ’’ تمام زبانی جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہو، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں پر سلام ہو۔‘‘ ابو وائل نامی راوی نے اپنی روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں۔ ’’ جب تم یہ پڑھ لو گے تو آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے تک( تمہارا سلام ) پہنچ جائے گا۔‘‘ ابو اسحق نامی راوی نے اپنی روایت میں حضرت عبداللہ ؓ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ ’’ جب تم انہیں پڑھ لو گے تو ہر مقرب بندے اور مرسل نبی ( راوی کو شک یے شاید یہ الفاط ہیں:) نیک بندے تک ( تمہارا سلام ) پہنچ جائے گا‘‘۔ ( پھر تم یہ پڑھو) ’’ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ‘ حضرت محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ وَالْأَسْوَدِ ← اَبِیْ وَائلٍ، وَاَبِیْ اِسْحَاقَ، ← الْاَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، وَحُصَیْنٍ، وَاَبِیْ ھَاشِمٍ وَحَمَّادِ بْنِ اَبِیْ سُلَیْمَانَ، ← الثَّوْرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّسْعَنِيُّ، ← اَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْجَرَادِیُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1956

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1957

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعِرٍ، عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی، عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ : قُلْنَا : یَا رَسُوْلَ اللہِ، قَدْعَلِمْنَا السَّلَامَ عَلَیْکَ، فَکَیْفَ الصَّلَاۃُ عَلَیْکَ ؟ قَالَ : قُوْلُوْا : اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَآلِ اِبْرَاھِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ، ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَآلِ اِبْرَاھِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ

حضرت کعب بن عجرہؓ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ( ﷺ ) ہمیں یہ تو پتہ چل گیا ہے‘ آپ پرسلام کیسے بھیجنا ہے‘ ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم لوگ یہ پڑھو: ’’ اے اللہ !تو حضرت محمد اور حضرت محمد کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا۔ بے شک تو لائق حمد ار بزرگی کا مالک ہے اور تو حضرت محمد اور حضرت محمد کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پر برکت نازل کی : بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔‘‘

قُلْنَا ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← مِسْعَرٍ، ← وَكِيعٌ، ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1957

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1958

(سند حدیث) : اَخْبَرَنَا عُمَرُبْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِیُّ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نُعَیْمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْمُجْمِرِ، اَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ الْاَنْصَارِیَّ، اَخْبَرَہُ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْاَنْصَارِیِّ اَنَّہٗ قَالَ : اَتَانَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِیْ مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، فَقَالَ بَشِیرُ بْنُ سَعْدٍ، اَمَرَنَا اللہُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَنْ نُصَلِّیَ عَلَیْکَ، فَکَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ؟ قَالَ : فَسَکَتْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی تَمَنَّیْنَا اَنَّہٗ لَمْ یَسْاَلْہُ، ثُمَّ قَالَ : قُوْلُوْا : اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ، ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ، فِی الْعَالَمِیْنَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ، وَالسَّلَامُ کَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ

حضرت ابو مسعودؓ بیں کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت حضرت سعد بن عبادہ کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے‘ تو حضرت بشیر بن سعدؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ) ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے‘ ہم آپ پر درود بھیجیں‘ تو ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ خاموش رہے‘ یہاں تک کہ ہم نے یہ آرزو کی‘ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا پھر نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا : تم یہ پڑھو: ’’ اے اللہ !تو حضرت محمد اور حضرت محمد کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا‘ اور تو حضرت محمدپر اور حضرت محمد کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پر تمام جہانوں میں برکت نازل کی : بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔‘‘ ( نبی اکرمﷺ نے فرمایا) سلام کا طریقہ اسی طرح ہے‘ جس طرح تم جان چکے ہو۔

نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ، ← (سند حدیث)

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1958

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1959

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ، وَکَتَبْتُہٗ مِنْ اَصْلِہِ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبُو الْاَزْھَرِ اَحْمَدُ بْنُ الْاَزْھَرِ، وَکَتَبْتُہٗ مِنْ اَصْلَہِ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبِیْ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ : وَحَدَّثَنِیْ۔ فِی الصَّلَاۃِ عَلیٰ رَسُوْلِاللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلّٰی عَلَیْہِ فِیْ صَلَاتِہٖ۔ مُحَمَّدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ التَّیْمِیُّ، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ زَیْدِ عَبْدِ رَبِّہِ، عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: اَقْبَلَ رَجُلٌ حَتّٰی جَلَسَ بَیْنَ یَدَی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَہٗ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ، اَمَّا السَّلَامُ عَلَیْکَ فَقَدْ عَرَفْنَاہُ، فَکَیْفَ نُصَلِّیْ عَلَیْکَ اِذَا نَحْنُ صَلَّیْنَا فِی صَلَاتِنَا، صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ؟ قَالَ: فَصَمَتَ حَتّٰی اَحْبَیْنَا اَنَّ الرَّجُلَ لَمْ یَسْاَلْہُ، قَالَ: اِذَا صَلَّیْتُمْ عَلَیَّ فَقُوْلُوْا: اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ

امام ابن خزیمہ نے اپنی سند کے ساتھ ابن اسحاق نامی راوی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ہو کہتے ہیں انہوں نے مجھے نبی اکرمﷺ پر درود بھیجنے کے بارے میں روایت بیان کی تھی جب کوئی شخص نماز کے دوران آپ پر درود بھیجتا ہے۔ حضرت ابو مسعود بیان کرتے ہیں: ایک شخص آیا اور نبی اکرمﷺ کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ اس وقت ہم آپ کے پاس موجود تھے۔ اس شخص نے عرض کی : جہاں تک آپ پر سلام بھیجنے کا تعلق ہے اس کا ہمیں پتہ چل گیا ہے‘ جب ہم نماز پڑھ رہے ہوں ‘ تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر درود نازل کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ خاموش رہے‘ یہاں تک کہ ہم نے یہ بات پسند کی ‘ اس شخص نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جب تم مجھ پر درود بھیجنے لگو تو تم یہ پڑھو۔ ’’ اے اللہ !تو امی نبی حضرت محمدﷺ اور حضرت محمد ﷺ کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم ؑاور حضرت ابراہیم ؑ کی آل پر درود نازل کیا‘ اور تو امی نبی حضرت محمدﷺ پر اور حضرت محمد ﷺ کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پربرکت نازل کی : بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔‘‘

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1959

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1960

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ، مَوْلٰی ثَقِیْفٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوْسٰی الْقَطَّانُ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِءُ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَیْوَۃُبْنُ شُرَیْحٍ، قَالَ : حَدَّثَنِی اَبُوْ ھَانِیْءٍ حُمَیْدُ ھَانِیْءٍ، اَنَّ اَبَا عَلِیِّ عَمْرَوبْنَ مَالِکٍ الْجَنْبِیَّ، حَدَّثَہُ اَنَّہٗ سَمِعَ فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ، یَقُوْلُ: سَمِعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا یَدْعُو فِیْ صَلَاتِہٖ، لَمْ یَحْمَدِ اللہَ، وَلَمْ یُصَلِّ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: عَجِلَ ھٰذَا ثُمَّ دَعَاہُ فَقَالَ لَہٗ: اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ فَلْیَبْدَاْ بِتَحْمِیْدِ اللہِ وَالثَّنَاءِ عَلَیْہِ، ثُمَّ لِیُصَلِّ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَیَدَعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ

حضرت فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو نماز کے دوران دعا مانگتے ہوئے سنا: اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بھی بیان نہیں کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھی نہیں بھیجا تھا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس شخص نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پھر آپ نے اسے بلوایا اور اس سے فرمایا جب کوئی شخص نماز ادا کرے( یا دعا مانگنے لگے) تو اسے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کرنی چاہئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہئے۔ اس کے بعد وہ جو چاہے دعا مانگے۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← أَنَّهُ ← اَبُوْ ھَانِیْءٍ حُمَیْدُ ھَانِیْءٍ، اَنَّ اَبَا عَلِیِّ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ الْجَنْبِیَّ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← الْمُقْرِءُ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1960

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1961

اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَرُوبَۃَ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرٍوالْبَجَلِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ مُعَوِیَۃَ، قَالَ : حَدَّثَنِی الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ، قَالَ : اَخَذَ عَلْقَمَۃُ بِیَدِیْ، فَحَدَّثَنِیْ اَنَّ عَبْدَاللہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ، اَخَذَ بِیَدِہٖ، وَاَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخَذَ بِیَدِ عَبْدِاللہِ، فَعَلَّمَہُ التَّشَھُّدَ فِی الصَّلَاۃِ: التَّحِیَّاتُ لِلٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ۔ قَالَ زُھَیْرٌ: ثُمَّ رَجَعْتُ اِلٰی حِفْظِی۔ قَالَ: فَاِذَا قُلْتَ ھٰذَا فَقَدْ قَضَیْتَ صَلَاتَکَ اِنْ شِئْتَ اَنْ تَقُوْمَ فَقُمْ، وَاِنْ شِئْتَ اَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ

قاسم بن مغیرہ بیان کرتے ہیں۔ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی‘ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ان کا ہاتھ پکڑا تھا اور یہ بات بیان کی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں نماز کے دوران تشہد کے کلمات تعلیم دیئے تھے ( جو درج ذیل ہیں:) ’’ تمام زبانی ،جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہو، ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں پر سلام ہو۔‘‘ زہیر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میں نے حسن کے حوالے سے جب اس حدیث کو نوٹ کیا تھا تو میں نے یہ بات یاد رکھی تھی‘ پھر زہیر نے اپنے حافظے کی بنیاد پر حسن کے حوالے سے روایت کے بقیہ الفاظ نقل کئے جو درج ذیل ہیں: ’’ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں حضرت محمد اللہ کےبندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘ زہیر نامی راوی کہتے ہیں: پھر میں نے اپنی یادداشت کی طرف رجوع کیا جس میں روایت کے یہ الفاظ ہیں۔ ’’ جب تم یہ پڑھ لو گے تو تم اپنی نماز کو مکمل کر لو گے اگر اتنا اٹھنا چاہو تو اٹھ جاؤ اگر بیٹھے رہو‘‘

أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← زُھَیْرُ بْنُ مُعَوِیَۃَ، ← عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرٍوالْبَجَلِیُّ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1961

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1962

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلیٰ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِیْعِ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخِیْمِرَۃَ، قَالَ : اَخَذَ عَلْقَمَۃُ بِیَدِیْ، وَاَخَذَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ، بِیَدِ عَلْقَمَۃَ، وَاَخَذَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، فَعَلَّمَہُ التَّشَھُّدَ: التَّحِیَّاتُ لِلٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ: فَاِذَا فَرَغْتَ مِنْ ھٰذَا فَقَدْ فَرَغْتَ مِنْ صَلَاتِکَ، فَاِنْ شِئْتَ فَاثْبُتْ، وَاِنْ شِئْتَ فَانْصَرِفْ

حسن بن حر قاسم بن مخیمرہ کا بیان نقل کرتے ہیں۔ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا (انہوں نے یہ بتایا )‘ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے علقمہ کا ہاتھ پکڑا تھا اور نبی اکرمﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا ہاتھ پکڑا تھا اور انہیں تشہد ( کے کلمات) تعلیم دیئے تھے( جو درج ذیل ہیں:) ’’ تمام زبانی ،جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ‘حضرت محمد اللہ کےبندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: جب تم( یہ پڑھ کر ) فارغ ہو جاؤ گے تو تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ گے اگر تم چاہو تو بیٹھے رہو اور اگر چاہو تو اٹھ جاؤ۔

اَخَذَ النَّبِیَّ بِیَدِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، فَعَلَّمَہُ التَّشَھُّدَ: التَّحِیَّاتُ لِلٰہِ ← اَخَذَ عَلْقَمَۃُ بِیَدِیْ، وَاَخَذَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ، بِیَدِ عَلْقَمَۃَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1962

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1963

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْازْدِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ : اَخْبَرَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْجُعْفِیُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ، قَالَ : اَخَذَ بِیَدِیْ عَلْقَمَۃُ بْنُ قَیْسٍ، قَالَ: اَخَذَ بِیَدِی عَبْدُاللہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: اَخَذَ بِیَدِی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَعَلِّمْنِی التَّشَھُّدَ: التَّحِیَّاتُ لِلٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ: وَزَادِنِیْ فِیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ اَبَانَ، بِھٰذَا الْاِسْنَادِ، قَالَ: فَاِذَا قُلْتَ ھٰذَا فَاِنْ شِئْتَ فَقُمْ

قاسم بن مخیمرہ بیان کرتے ہیں۔ علقمہ بن قیس نے میرا ہاتھ پکڑا وہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے میرا ہاتھ پکڑا وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے تشہد کے کلمات کی تعلیم دی( جو درج ذیل ہیں) ’’ تمام زبانی ،جسمانی مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبیﷺ آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ‘حضرت محمد اللہ کےبندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘ حسن بن حر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے محمد بن حبان نامی راوی نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے‘ جس میں یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں۔ ’’ جب تم یہ پڑھ لو گے تو پھر اگر تم چاہو تو اٹھ جاؤ۔‘‘

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1963

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1964

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ، مَوْلٰی ثَقِیْفٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا یُوْسُفُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ : حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعِرٌ، وَشُعْبَۃُ، عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی، عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، قَالَ : اَلَا اُھْدِی لَکَ ھَدِیَّۃً؟ قُلْنَا: بَلٰی، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ، قَدْ عَرَفْنَا کَیْفَ السَّلَامُ عَلَیْکَ، فَکَیْفَ الصَّلَاۃُ عَلَیْکَ؟ فَقَالَ: قُوْلُوْا: اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ، اللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ

عبدالرحمٰن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں: حضرت کعب بن عجرہؓ ( نے مجھ سے فرمایا) کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں۔ ہم نے کہا: جی ہاں، انہوں نے بتایا: میں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ ! ہمیں یہ بات پتہ چل گئی ہے‘ آپ پر سلام کیسے بھیجنا ہے‘ تو آپ پر درود کیسے بھیجا جائے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم یہ پڑھو: ’’ اے اللہ ،حضرت محمدﷺ اور حضرت محمدﷺ کی آل پر درود نازل فرما، جس طرح حضرت ابراہیمؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کی آل پر درود نازل کیا۔ بے شک تو لائق حمد و بزرگی کا مالک ہے۔ اے اللہ ! تو حضرت محمد ﷺاور حضرت محمدﷺ کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے حضرت ابراہیم کی آل پر برکت نازل کی بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔‘‘

قُلْتُ ← اَلَا اُھْدِی لَکَ ھَدِیَّۃً؟ قُلْنَا: بَلٰی، ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← مِسْعِرٌ، وَشُعْبَۃُ، ← وَكِيعٌ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1964

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1965

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نُعَیْمُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْمُجْمِرُ، اَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ الْاَنْصَارِیَّ، اَخْبَرَہُ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْاَنْصَارِیِّ اَنَّہٗ قَالَ: اَتَانَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِیْ مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، فَقَالَ بَشِیْرُ بْنُ سَعْدٍ، اَمَرَنَا اللہُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَنْ نُصَلِّیَ عَلَیْکَ، فَکَیْفَ نُصَلِّی عَلَیْکَ؟ قَالَ : فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی تَمَنَّیْنَا اَنَّہٗ لَمْ یَسْاَلْہُ، ثُمَّ قَالَ: قُولُوا: اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ،کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ، وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیدٌ، وَالسَّلَامُ کَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ

حضرت ابو مسعود انصاریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم اس وقت حضرت سعد بن عبادہؓ کی محفل میں موجود تھے۔ حضرت بشیر بن سعدؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے‘ تو ہم آپ پر کیسے بھیجیں۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ خاموش رہے‘ یہاں تک کہ ہم نے یہ آرزو کی‘ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم یہ پڑھو۔ ’’ اے اللہ ! توحضرت محمدﷺ اور حضرت محمدﷺ کی آل پر درود نازل کرجس طرح تو نے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا‘ اور حضرت محمد ﷺاور حضرت محمدﷺ کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نےحضرت ابراہیم اور حضرت ابراہیم کی آل پر تمام جہانوں میں برکت نازل کی :بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔‘‘ ( نبی اکرمﷺ نے فرمایا) سلام کا طریقہ اسی طرح ہے جیسے تم جان چکے ہو۔

نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1965

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr