Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1942

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَحْمِدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُّسْلِمِ بْنِف اَبِیْ مَرْیَمَ عَنْ عَلِیّ بْنِ عَبْدِد الرَّحْمٰنِ الْمُعَاوِیِّ، اَنَّہٗ قَالَ: رَآنِیْ ابْنُ عُمَرَ وَآنَا اَعْبَثُ بِالْحَصَی فِی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا انْصرَفَ نَھَابِیْ وَقَالَ: اصْنَعْ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہ ِ وَسَلَّمَ، یَصْنَعُ، قَالَ: کَانَ اِذَا جَلَسَ فِی الصَّلَاۃِ وَضَعَ کَفَّہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنَی، وَقَبَضَ اَصَابَعَہُ کُلَّھَا ، وَاَشَارَ بِاُصْبُعِہِ الَّتِیْ تَلِی الْاِبْھَامَ ، وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْریٰ عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْریٰ۔

علی بن عبدالرحمٰن معاوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے مجھے دیکھا، میں نماز کے دوران کنکریوں سے کھیل رہا تھا جب انہوں نے نماز مکمل کی تو مجھے (ایسا کرنے سے ) منع کیا، اور ارشاد فرمایا:تم اس طرح کرو جس طرح بنی اکرمﷺ کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا: جب نبی اکرمﷺ نماز کے دوران بٹیھتے تھے ،تو آپ اپنی دائیں ہتھیلی کو اپنے دائیں زانوں پر رکھتے تھے۔ آپ اپنی تمام انگلیوں کو سمیٹ لیتے تھے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے آپ اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنے بائیں زانو پر رکھتے تھے۔

اصْنَعْ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللہِ یَصْنَعُ، ← اَعْبَثُ بِالْحَصَی فِی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا انْصرَفَ نَھَابِیْ ← رآني ابن عمر ← عَلِیّ بْنِ عَبْدِد الرَّحْمٰنِ الْمُعَاوِیِّ، اَنَّہٗ ← مُّسْلِمِ بْنِف اَبِیْ مَرْیَمَ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1942

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1943

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ خَالِدٍ الْاَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ اَبَیْہِ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا جَلَسَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ، افْتَرَشَ الْیُسْریٰ، وَنَصبَ الْیُمْنَی ، وَوَضَعَ اِبْھَا مَہٗ عَلَی الْوُسْطَی ، وَاَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ، وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْریٰ عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْریٰ، وَاَلْقَمَ کَفَّہُ الْیُسْریٰ رُکْبَتَہٗ۔

عامر بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ جب دورکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھتے تھے، تو آپ بائیں ٹانگ کو بچھالیتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیتے تھے۔ آپ اپنے انگوٹھے کو درمیانی انگلی پر رکھنے پر رکھتے تھے اور شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتےتھے۔ آپ اپنی بائیں ہتھیلی کو بائیں زانوپر رکھتے تھے آپ اپنی بائیں ہتھیلی کو گھٹنے پر رکھتے تھے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← عُثْمَانُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1943

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1944

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمَذَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عَامَرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ البَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا تَشَھَّدَ وَضَعَ یَدَہُ الْیُسْریٰ عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْریٰ وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنَی ، وَاَشَارَ بِاُصْبُعِہِ السَّبَّابَۃِ لَایُجَاوِزُ بَصَرُہُ اِشَارَتَہٗ۔

عامر بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تھے، تو آپ اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو پر رکھتے اور دایاں ہاتھ دائیں زانو پر رکھتے تھے آپ اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کیا کرتے تھے اور آپ کی نگاہ آپ کے اشارے سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔

عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1944

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1945

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوسُفَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اِدْرِیسَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ وَّائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ، وَھُمْ یَنْفُضُونَ اَیْدِ یَھُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّیَابِ ، فَقُلْتُ: لَاَ نْظُرَنَّ اِلٰی صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللہِ ، صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَکَبَّرَ حَتّٰی افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی رَاَیْتُ اِبْھَامَیْہِ قَرِیْبًا مِنْ اُذُنَنْہِ، قَالَ: ثُمَّ اَخَذَ شِمَالَہٗ بِیَمِیْنِہ ، فَلَمَّا رَکَعَ فَفَعَ یَدَیْہِ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَاْسَہٗ قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، ثُمَّ کَبَّرَ ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ ، ثُمَّ سَجَدَ، فَوَضَعَ رَاْسَہٗبَیْنَ یَدَیْہِ فِی الْمَوْضِعِ مَنْ وَّجْھِہِ، فَلَمَّا جَلَسَ افْتَرَشَ قَدَمیْہِ ، وَوَضَعَ مِرْفَقَہُ الْاَیْمَنَ عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنَی ، خِنْصَرَہُ وَالَّتِیْ تَلِیھَا ، وَجَمَعَ بَیْنَ اِبْھَامِہ وَالْوُسْطَی ، وَرَفَعَ الَّتِیْ تَلِیھَا یَدْعُوبَھَا

عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے حضرت وائل بن حجرؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ہم لوگ مدینہ منورہ آئے،تو لوگ اپنے ہاتھ اپنے کپڑوں (یعنی چادروں ) کے اندر رکھے ہوئے تھے میں نے سوچا ، میں نبی اکرمﷺ کی نماز کا ضرور جائزہ لوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں۔آپ نے تکبیرکہی نماز کا آغاز کیا، اور رفع یدین کیا ،یہاں تک کہ میں نے آپ کے انگوٹھوں کو آپ کے کانوں کے قریب دیکھا۔ راوی بیان کرتے ہیں:پھر آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیاجب آپ رکوع میں گئے ، تو آپ نے رفع یدین کیاجب آپ نے اپنا سر اٹھایا، تو آپ نے سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ پڑھا پھر آپ نے تکبیرکہی اور رفع یدین کیا، پھر آپ سجدے میں چلے گئے۔ آپ نے اپنا سردونوں ہاتھوں کے درمیان چہرے کے مد مقابل رکھا جب آپ بیٹھے تو آپ نے اپنے دونوں پاؤں کو بچھا لیا اور دائیں کہنی دائیں زانو پررکھا آپ نے ست سے چھوٹی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کو بند کیا۔ اپنے انگوٹھے اور درمیانی انگلی کو اکٹھا کیا، اور اس کے ساتھ والی انگلی(یعنی شہادت کی انگلی) کو بلند کیا۔ آپ نے اس کے ہمراہ دعا پڑھی۔

وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1945

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1946

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، حَدَّثَنَا مُجَاھِدُ بْنُ مُوْسٰی الْمُخَرِّمِیُّ ، حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ حَرْبٍ الْمَدَائَنِیُّ ، حَدَّثَنَا عِصَامُ قُدَامَۃَ الْجَدَلِیُّ ، اَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ نُمَیْرٍ الْخُزَاعِیُّ ، اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہُ اَنَّہٗ رَاَی رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّلَاۃِ وَاضِعًا الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنَی، رَافِعًا اُصْبُعَہُ السَّبَّابَۃَ قَدْ حَنَاھَا شَیْئًا وَھُوَیَدْعُو

مالک بن نمیر خزاعی بیان کرتے ہیں: ان کے والد نے انہیں یہ بات بتائی ہے انہوں نے نبی اکرمﷺ کو نماز کے دوران اپنا دایاں ہاتھ دائیں زانو پر رکھے ہوئے دیکھا ہے۔ نبی اکرمﷺ نےشہادت کی انگلی اٹھائی ہوئی تھی اور آپ نے اس کو تھوڑا سا جھکا یا ہواتھا اور آپ دعا مانگ رہے تھے۔

مَالِکُ بْنُ نُمَیْرٍ الْخُزَاعِیُّ اَنَّ اَبَاہُ ← عِصَامُ قُدَامَۃَ الْجَدَلِیُّ ← شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ الْمَدَائِنِيُّ ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1946

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1947

اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اَبِیْ مَرْیَمَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمُعَاوِیِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ رَاَی رَجُلًا یُحَرِکُ الْحَصَی بِیَدِہِ وَھُوَفِی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لَہٗ عَبْدُ اللہِ: لَا تُحَرِّکِ الْحَصَی وَاَنْتَ فِی الصَّلَاۃِ ، فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ، وَلٰکِنِ اصْنَعْ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ، قَالَ: فَوَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ، وَاَشَارَ بِاُصْبُعِہِ الَّتِیْ تَلِی الْاِبْھَامَ اِلَی الْقِبْلَۃِ ، وَرَمَی بِبَصَرِہِ اِلَیْھَا اَوْ نَحْوَھَا ، ثُمَّ قَالَ: ھٰکَذَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے ایک شخص کو نماز کے دوران اپنے ہاتھ کے ذریعے کنکریوں کو حرکت دیتے ہوئے دیکھا جب اس نے نماز مکمل کی تو حضرت عبداللہ نے اس سے فرمایاتم نماز کے دوران کنکریوں کو حرکت نہ دو کیونکہ یہ عمل شیطان کی طرف سے ہوتا ہے بلکہ تم اس طرح کرو جس طرح نبی اکرمﷺ کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں:پھر حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے زانو پر رکھا اور انہوں نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کے ذریعہ قبلہ کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے اپنی نگاہ اس انگلی کی طرف(راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں)اس انگلی کی سمت رکھی۔ پھر انہوں نے فرمایا :میں نے نبی اکرمﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1947

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1948

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُشَیْم، قَالَ: اَخْبَرَنَا حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، وَالْمُغِیْرَۃُ، وَالْاِعْمَشُ ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِللہِ ، قَالَ: کُنَّا اِذَا جَلَسْنَا خَلْفَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّلَاۃِ ، نَقُوْلُ: السَّلَامُ عَلَی اللہِ ، اللسَّلَامُ عَلٰی جِبْرِیلَ، السَّلَامُ عَلٰی مِیکَائِیلَ السَّلَامُ عَلٰی فُلانٍ، السَّلَامُ عَلٰی فُلانٍ، فَالْتَفَتَ اِلَیْنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ ، فَقُوْلُوْا: التَّحِیَّاتُ لِلہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ،الَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ ، فَاِ نَّکُمْ اِذَا فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلٰی کُلِّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْارْضِ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں:پہلے ، جب ہم نبی اکرمﷺ کے پیچھے نماز میں بیٹھتے تھے ، تو ہم یہ پڑھتے تھے: اللہ تعالٰی پر سلام ہو حضرت جبرائیل پر سلام ہو حضرت میکائل پر سلام ہو فلاں پر سلام ہو فلاں پر سلام ہو نبی اکرمﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے ۔ آپ نے فرمایا:اللہ تعالٰی تو خود سلامتی عطا کرنے والا ہے تم لوگ ہی پڑھو۔ ہر طرح کی زبانی جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہیں۔اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالٰی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالٰی کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، حضرت محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (نبی اکرمﷺ نے فرمایا) جب تم لوگ ایسا کرلو گے تو تم آسمان اور زمین میں موجود ہر نیک بندے پر سلام بھیج دوگے۔

عَبْدِللہِ ← أَبِي وَائِلٍ ← حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، وَالْمُغِیْرَۃُ، وَالْاِعْمَشُ ← هُشَيْمٌ ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1948

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1949

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: کُنَّا نَقُوْلُ: السَّلَامُ عَلَی اللہِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَاتَقُوْلُوْا: السَّلَامُ عَلَی اللہِ ، فَاِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ وَاَمَرَھُمْ بِالتَّشَھُّدِ: التَّحِیَّاتُ لَلہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ پہلے یہ پڑھا کرتے تھے۔ اللہ تعالٰی پر سلام ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ یہ نہ کہو اللہ تعالٰی پر سلام ہو کیونکہ اللہ تعالٰی خود سلامتی عطا کرنے والا ہے نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو تشہد (کہ یہ کلمات پڑھنے ) کا حکم دیا۔ تمام زبانی جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالٰی کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالٰی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ ہم پر اور اللہ تعالٰی کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، حضرت محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

کُنَّا نَقُوْلُ: السَّلَامُ عَلَی اللہِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← حَمَّادٌ، ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1949

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1950

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُوْلِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْاَعْمَشِ ، وَاَبِیْ ھَاشِمٍ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ،وَعَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ، عَنِ الْاَسْوَدِ ، وَاَبِی الْاَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: کُنَّا لَا نَدْرِی مَا نَقُوْلُ فِی الصَّلَاۃِ ، نَقُوْلُ: السَّلَامُ عَلٰی جِبْرِیلَ ، السَّلَامُ عَلٰی مِیکَائِیلَ، فَعَلَّمَنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمِ، وَقَالَ: اِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ ، فَاِذَا جَلَسْتُمْ فِی الرَّکْعَتَیْنِ فَقُوْلُوْا: التَّحِیَّاتُ لِلہِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیَّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ ، وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ ۔ قَالَ اَبُوْ وَائِلٍ فِیْ حَدِیْثِہِ عَنْ عَبْدِ اللہِ : اِذَا قُلْتُھَا اَصَابَتْ کُلَّ مَلَکٍ مُقَرَّبٍ، وَنَبِیٍّ مُرْسَلٍ، وَعَبْدٍ صَالِحٍ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہِ اِلَّا اللہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدٍا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں:پہلے ہمیں یہ نہیں پتہ تھا، ہمیں نماز کیا پڑھنا چاہئے ، تو ہم یہ کہا کرتے تھے حضرت جبرائیل پر سلام ہو حضرت میکائیل پر سلام ہو پھر نبی اکرم ﷺ نے ہمیں تعلیم دی آپ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالٰی تو خود سلامتی عطا کرنے والا ہے، جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو یہ پڑھو۔ تمام زبانی جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو۔ اللہ تعالی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ ابووائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے حوالے سے منقول اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ (نبی اکرمﷺ نے فرمایا) جب تم یہ کلمات پڑھ لوگے تو ہر مقرب فرشتے ہر مرسل نبی اور ہر نیک بندے تک یہ سلام پہنچ جائے گا(تم یہ بھی پڑھو) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الأَسْوَدِ وَأَبِي الأَحْوَصِ ← أَبِي وَائِلٍ وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ← مَنْصُورٍ، وَالْاَعْمَشِ وَاَبِیْ ھَاشِمٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1950

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1951

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَااَبُو الْعَلِیْدِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ ، قَالاَ : اَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اَبُوْ اِسْحَاقَ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اَبُو الْاَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللٰہِ ، قَالَ : کُنَّا لَا نَدْرِی مَا نَقُوْلُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ ، اِلَّا اَنْ نُسَبِّحَ وَنُکَبِّرَ وَنُحَمِّدَ اَبَّنَا ، وَاِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَیْرِ وَخَوَاتِمَہٗ ، اَوْ قَالَ جَوَامِعَہٗ ، وَاِنَّہٗ قَالَ لَنَا : اِذَا قَعَدْتُمْ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ فَقُوْلُوْا : التَّحِیَّاتُ لِلٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللٰہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ ، ثُمَّ لِیَتَخَیَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ مَا اَعْجَبَہٗ ، فَلْیَدْعُ بِہِ رَبَّہُ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا ‘ ہمیں دو رکعات پڑھنے کے بعد ( تشہد کے دوران ) کیا پڑھنا چاہئے صرف یہ پتہ تھا ‘ ہمیں تسبیح بیان کرنی چاہئے ، تکبیر پڑھنی چاہئے اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرتی چاہئے۔ حضرت محمد ﷺ کو بھلائی کو کھولنے والی چیزوں اور بھلائی کے مجموعوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) بھلائی کے بارے میں جامع باتوں کا علم عطا کیا گیا۔ آپ نے ہم سے یہ فرمایا جب تم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھو تو تم یہ پڑھو : ’’ تمام زبانی ، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ حضرت محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ( نبی اکرمﷺ نے فرمایا ) پھر دعا کے بارے میں آدمی کو اختیار ہے وہ جو چاہے اپنے پروردگار سے دعا مانگے‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← حَدَّثَنَااَبُو الْعَلِیْدِ وَمُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1951

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1952

اَخْبَرَنَا اَجْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی ، حَدَّثَنَا کَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ ، حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ اَبُو الزُّبَیْرِ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، وَطَاوٗسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَلِّمُنَا التَّشَھُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ :التَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّہِ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، سَلَّامٌ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللٰہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّہِ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیا کرتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے ( تشہد کے کلمات یہ ہیں ) ’’ برکت والی زبان عبادات اور پاکیزہ دعائیں اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ اے نبی آپ پر سلام ہو۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں‘ حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں۔‘‘

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، وَطَاوٗسٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ← اَجْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1952

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1953

اَخْبَرَنَا بْنُ قُتَیْبَۃَ ، مِنْ کِتَا بِہٖ ، قَالَ :حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ مَوْھِبٍ ، قَالَ :اَخْبَرَنِی اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، وَطَاوٗسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَلِّمُنَا التَّشَھُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ ، کَانَ یَقُوْلُ :التَّحِیَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّہِ ، السَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللٰہِ وَبَرَکَاتُہُ ، سَلَّامٌ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللٰہِ الصَّالِحِیْنَ ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللٰہُ ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّہِ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ ہمیں تشہد کی تعلیم اس طرح دیتے جس طرح ّپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ یہ پڑھا کرتے تھے : ’’ برکت والی زبانی عبادات اور پاکیزہ عبادات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ اے نبی آپ پر سلام ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں‘ حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں‘‘۔

کَانَ رَسُوْلُ اللٰہِ یُعَلِّمُنَا التَّشَھُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ کَانَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ، وَطَاوٗسٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بْنُ قُتَیْبَۃَ مِنْ کِتَا بِہٖ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The Book of Prayer · Hadith 1953

chevron_left Previous
1…678910
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr