Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1894

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَھْدِیٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ، قَالَ رَاَی حُذَیْفَۃُ رَجُلًا عِنْدَ اَبْوَابِ کِنْدَۃَ یَنْقُرُ، قَالَ: مُذْکَمْ صَلَّیْتَ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ ؟ قَالَ: مُنْذُ اَرْبَعِینَ سَنَۃً ؟ قَالَ: لَوْ مُتَّ، مُتَّ عَلٰی غَیْرِ الْفِطْرَۃِ الَّتِیْ فُطِرَ عَلَیْھَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اِنَّ الرَّجُلَ لَیُخَفِّفُ وَیُتِمُّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ

زید بن وہب بیان کرتے ہیں: حضرت حذیفہ ؓ نے ’کندہ‘ کے دروازوں کے نزدیک ایک شخص کو ٹھونگے مارتے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا: تم کتنے عرصے سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو۔ اس نے جواب دیا: چالیس سال سے تو حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا: اگر تم اسی حالت میں مرتے ہو‘ تو تم اس فطرت کے علاوہ مرو گے جس پر حضرت محمدﷺ کو مبعوث کیا گیا تھا۔ آدمی نماز مختصر پڑھ لے لیکن رکوع اور سجود مکمل ادا کرے۔

منذ أربعين سنة ← مُذْکَمْ صَلَّیْتَ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ ← رَاَی حُذَیْفَۃُ رَجُلًا عِنْدَ اَبْوَابِ کِنْدَۃَ یَنْقُرُ، ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1894

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1895

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْنَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا یُوْنُسُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عَبْدِاللٰہِ بْنِ حُنَیْنٍ، اَنَّ اَبَاہُ حُنَیْنٍ، اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہٗ اَنَّہٗ سَمِعَ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ، یَقُوْلُ : نَھَانِیْ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ اَقْرَاَ رَاکِعًا وَسَاجِدًا

حضرت علی بن ابو طالبؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے‘ میں رکوع یا سجدے کے دوران تلاوت کروں۔

نَھَانِیْ رَسُوْلُ اللٰہِ اَنْ اَقْرَاَ رَاکِعًا وَسَاجِدًا ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَنَّهُ ← اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عَبْدِاللٰہِ بْنِ حُنَیْنٍ، اَنَّ اَبَاہُ حُنَیْنٍ، اَنَّ اَبَاہُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْنَۃَ،

Hadith 1895

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1896

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ، مَوْلٰی ثَقِیْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سُحَیْمٍ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِاللٰہِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ کَشَفَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السِّتَارَۃَ، وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍ، فَقَالَ: اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّہٗ لَمْ یَبْقَ مِنْ مُّبَشِرَاتِ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ، یَرَاھَا الْمُسْلِمُ اَوْ تُرٰی لَہٗ ثُمَّ قَالَ: اَلَا اِنِّیْ نُھِیتُ اَنْ اَقْرَاَ رَاکِعًا وَسَاجِدًا، اَمَّا الرُّکُوْعُ، فَعَظِّمُوْا فِیْہِ الرَّبَّ، وَاَمَّا السُّجُوْدُ، فَاجْتَھِدُوا جِی الدُّعَا ءِ، فَقَمِنٌ اَنْ یُسْتَجَابُ لَکُمْ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے پردہ ہٹایا۔ لوگ حضرت ابوبکر ؓ کے پیچھے صفیں بنائے ہوئے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے لوگوں! نبوت کے مبشرات میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں‘ جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے یا جو اسے دکھائے جاتے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا: خبردار مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے‘ میں رکوع یا سجدے کے دوران تلاوت کروں۔ جہاں تک رکوع کا تعلق ہے‘ تو تم اس پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے‘ تو تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو کیونکہ وہ اس لائق ہوگی‘ اسے تمہارے لئے مستجاب کیاجائے۔

كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِاللٰہِ بْنِ مَعْبَدٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 1896

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1897

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ، وَاَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الْاَعْمِشِ، عَنْ سَعْدِبْنِ عُبَیْدَۃَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِبْنِ اَحْنَفَ، عَنْ صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَکَعَ جَعَلَ یَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ : سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی

حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی جب آپ رکوع میں گئے ‘ تو آپ نے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ پڑھنا شروع کیا‘ پھر جب آپ سجدے میں گئے تو آپ نے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی پڑھا۔

سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی ← صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللٰہِ فَلَمَّا رَکَعَ جَعَلَ ← حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← الْمُسْتَوْرِدِبْنِ اَحْنَفَ، ← سَعْدِبْنِ عُبَیْدَۃَ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ نُمَیْرٍ، وَاَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، ← اَبُوْبَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1897

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1898

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ مُوْسٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُاللٰہِ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ اَیُّوْبَ الْغَافِقِیُّ، عَنْ عَمِّہِ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: (فَسَبِّحْ بَاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ) ، (قَالَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوھَا فِیْ رُکُوْعِکُمْ، فَلَمَّا نَزَلَ ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی)) قَالَ : اجْعَلُوھَا فِیْ سُجُوْدِکُمْ

حضرت عقبہ من عامر ؓ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی۔ ’’ تم اپنے عظیم پروردگار کے اسم کی تسبیح بیان کرو ‘‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اسے اپنے رکوع میں شامل کر لو جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تم اپنے اعلیٰ عظیم پروردگار کے اسم کی تسبیح بیان کرو ‘‘تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اسے اپنے سجود میں شامل کر لو‘‘۔ حضرت عقبہ من عامر ؓ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی۔ ’’ تم اپنے عظیم پروردگار کے اسم کی تسبیح بیان کرو ‘‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اسے اپنے رکوع میں شامل کر لو جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تم اپنے اعلیٰ عظیم پروردگار کے اسم کی تسبیح بیان کرو ‘‘تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اسے اپنے سجود میں شامل کر لو‘‘۔

لَمَّا نَزَلَتْ: (فَسَبِّحْ بَاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ) ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَمِّہٖ ← مُوسَی بْنُ اَیُّوْبَ الْغَافِقِیُّ، ← عَبْدُاللٰہِ، ← حِبَّانُ مُوْسٰی، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1898

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1899

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِیْدٌ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ مُّطَرِّفِ بْنِ عَبْدِاللٰہِ بْنِ الشِّخِّیرِ، اَنَّ عَا ئشَۃَ، اَنْبَاَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ فِیْ رُکُوْعِہٖ، وَفِیْ سُجُوْدِہِ: سُبُّوحٌ، قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائکَۃِ وَالرُّوحِ

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ رکوع اور سجدوں میں یہ پڑھا کرتے تھے۔ ’’ ہر طرح کے عیب سے پاک ہے وہ مقدس ہے‘ جو فرشتوں اور روح الامین کا پروردگار ہے۔‘‘

مُّطَرِّفِ بْنِ عَبْدِاللٰہِ بْنِ الشِّخِّیرِ، اَنَّ عَا ئشَۃَ، اَنْبَاَتْہُ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 1899

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1900

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سُحَیْمٍ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِاللٰہِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَشَفَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السِّتَارَۃَ، وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍ، فَقَالَ : اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّہٗ لَمْ یَبْقَ مِنْ مُّبَشِّرَاتِ النُّبُوَّۃِ اِلَّا الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ یَرَاھَا الْمُسْلِمُ اَوْ تُرٰی لَہٗ ثُمَّ قَالَ : الَااِنِیْ نُھِیْتُ اَنْ اَقْرَاَ رَاکِعًا، اَوْ سَاجِدًا، اَمَّا الرُّکُوْعُ، فَعَظِّمُوْا فِیْہِ الرَّبَّ، وَاَمَّا السُّجُوْدُ، فَا جْتَھِدُوافِی الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ اَنْ یُسْتَجَابَ لَکُمْ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے پردہ ہٹایا لوگ حضرت ابوبکرؓ پیچھے صفیں بنائے ہوئے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! نبوت کے مبشرات میں سے صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں‘ جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے یا جو اسے سکھائے جاتے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا: خبردار مجھے رکوع یا سجدے کی حالت میں تلاوت کرنے سے منع کیا گیا ہے جہاں تک رکوع کا تعلق ہے‘ تو تم اس میں پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے‘ تو تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو۔ وہ اس لائق ہو گی‘ اسے تمہارے لئے مستجاب کیا جائے۔

كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِاللٰہِ بْنِ مَعْبَدٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ

Hadith 1900

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1901

اَخْبَرَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ اِسْحَاقَ الْاَنْمَاطِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاھِیقمَ الدَّوْرَقِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاج، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ: اَکْبَرَنِیْ مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْاَعْرَجِ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ رَافِعٍ ،عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا رَکَعَ قَالَ: اللّٰھُمَّ لَکَ رَکَعْتُ ، وَبَکَ آمَنْتُ ، وَلَکَ اَسْلَمْتُ ، اَنْتَ رَبِّی، خَشَعَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ ، وَمُخِّیْ ، وَعَظْمِیْ، وَمَااسْتَقَلَّتْ بِہ قَدَمِی لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ جب رکوع میں جاتے تھے ، تو یہ پڑھتے تھے۔ اے اللہ ! تیرے لئے میں نے رکوع کیا تجھ پر ہی میں ایمان لایا تیرے لئے میں نے اسلام قبول کیا، تو میرا پروردگار ہے۔ میری سماعت میری بصارت میرا گودا میری ہڈیاں میرے پٹھے اور میرے دونوں پاؤں پر جو چیز قائم ہے (یعنی میرا پورا وجود) اللہ کے حضور جھکا ہوا ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگارہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِاللہِ بْنِ الْفَضْلِ، ← اَکْبَرَنِیْ مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاھِیقمَ الدَّوْرَقِیُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ

Hadith 1901

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1902

اَخْبَرَنَا عُمِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ،قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَنْعَتُ لَنَا صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَقُوْمُ فَیْصَلِّیْ، فَاِ ذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ، قُلْنَا: قَدْنَسِیَ مِنْ طُوْلِ الْقِیَامِ

ثابت بنانی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت انس بن مالک ؓ کو سنا ۔انہوں نے ہمارے سامنے نبی اکرمﷺ کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا،جب نبی اکرمﷺ نماز ادا کر رہے ہوتے تھے، تو آپ رکوع سے جب سر اٹھاتے تھے تو آپ کے قیام کے طوالت کی وجہ سے ہم یہ سوچتے تھے ، شاید آپ (سجدے میں جانا) بھول گئے ہیں۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1902

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1903

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَبُو النَّضْرِ ھَاشِمُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَمِّہِ الْمَاجِشُونِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنِ الْاَعْرَجِ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ رَافِعٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ علَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا رَکَعَ قَالَ: اللھُمَّ لَکَ رَکَعْتُ ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَلَکَ اَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَکَ سَمْعِی، وَبَصَرِی ، وََمُخِّی ، وَعِظَامِی، وَعَصَبِیْ ، وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ، سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، رَبَّنَاوَلَکَ الْحِمْدُ مِلْ ءَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ، وَمِلْ ءَ مَابَیْنَھُمَا وَمِلْ ءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْءٍ بَعْدُ۔

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب رکوع میں جاتے تھے ، تو یہ پڑھتے تھے۔ اے اللہ ! میں نے تیرے لئے رکوع کیا میں تجھ پر ایمان لایا میں نے تیرے لئے اسلام قبول کیا میری سماعت میری بصارت میرا گودا میری ہڈیاں اور میرے پٹھے تیری بارگاہ میں جھکے ہوئے ہیں۔ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تھے ، تو یہ پڑھتے تھے۔ اللہ تعالی نے اس شخص کی بات کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ہے۔ اے ہمارے پروردگار ہر طرح کی حمد تیرے لئے مخصوص ہے، جو آسمانوں اور زمین جتنی بھری ہوئی ہو اور ان دونوں کے درمیان جو جگہ ہے۔ اتنی بھری ہوئی ہو۔ اس کے بعد جس چیز کو تو چاہے اتنی بھری ہوئی ہو۔

كان رسول الله إذا ركع ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← الْأَعْرَجِ ← عمه الماجشون بن أبي سلمة ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← اَبُو النَّضْرِ ھَاشِمُ الْقَاسِمِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1903

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1904

اَخْبَرَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ اِسْحَاقَ الْاَنْمَاطِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الدَّوْرَقِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاج، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ رَافِعٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ: اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمِ کَانَ اِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ فِی الصَّلَاۃِ قَالَ: اللھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْءَ الْاَرضِ ، وَمِلْءَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْءٍ بَعْدُ

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں:۔ نبی اکرمﷺ نماز کے دوران جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو آپ یہ پڑھتے تھے۔ اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار ! حمد تیرے لئے مخصوص ہے جو آسمانوں جتنی بھری ہوئی ہو۔ زمین جتنی بھری ہوئی ہو اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے اتنی بھری ہوئی ہو۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ

Hadith 1904

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1905

اَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الْاَنْصَارِیُّ ، بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ مُسْھِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ، عَنْ عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ، عَنْ قَزَعَۃَ بْنِ یَحْیٰی عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ ، قَالَ: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْ ءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْ ءَ الْاَرْضِ ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْءٍ بَعْدُ، اَھْلُ الثَّنَاءِ وَالْمِحْدِ، اَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَکُلُّنَا لَکَ عَبْد، لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ، وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الجَدُّ

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ جب سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ پڑھ لیتے ، تھے ، پھر آپ یہ پڑھتے تھے۔ اے ہمارے پروردگار ! تیرے لئے مخصوص ہے، جو آسمانوں جتنی بھری ہوئی ہو زمین جتنی بھری ہوئی ہو اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے اتنی بھری ہوئی ہو، تو تعریف اور بزرگی کا اہل ہےوہ چیز ست سے زیادہ حق ہے، جو ایک بندے نے کہی ہے۔ ویسے ہم سب تیرے بندے ہیں(اس بندے نے یہ کہاہے) جسے تو عطا کردے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں ہے اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَزَعَۃَ بْنِ یَحْیٰی ← عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الْاَنْصَارِیُّ بِدِمَشْقَ،

Hadith 1905

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr