صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1894
اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَھْدِیٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنِ الْاَعْمَشِ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ، قَالَ رَاَی حُذَیْفَۃُ رَجُلًا عِنْدَ اَبْوَابِ کِنْدَۃَ یَنْقُرُ، قَالَ: مُذْکَمْ صَلَّیْتَ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ ؟ قَالَ: مُنْذُ اَرْبَعِینَ سَنَۃً ؟ قَالَ: لَوْ مُتَّ، مُتَّ عَلٰی غَیْرِ الْفِطْرَۃِ الَّتِیْ فُطِرَ عَلَیْھَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اِنَّ الرَّجُلَ لَیُخَفِّفُ وَیُتِمُّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: حضرت حذیفہ ؓ نے ’کندہ‘ کے دروازوں کے نزدیک ایک شخص کو ٹھونگے مارتے ہوئے دیکھا تو دریافت کیا: تم کتنے عرصے سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو۔ اس نے جواب دیا: چالیس سال سے تو حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا: اگر تم اسی حالت میں مرتے ہو‘ تو تم اس فطرت کے علاوہ مرو گے جس پر حضرت محمدﷺ کو مبعوث کیا گیا تھا۔ آدمی نماز مختصر پڑھ لے لیکن رکوع اور سجود مکمل ادا کرے۔
منذ أربعين سنة ← مُذْکَمْ صَلَّیْتَ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ ← رَاَی حُذَیْفَۃُ رَجُلًا عِنْدَ اَبْوَابِ کِنْدَۃَ یَنْقُرُ، ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Hadith 1894
