Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1882

: اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَبِیْ یَعْفُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ، یَقُوْلُ صَلَّیْتُ اِلٰی جَنْبِ اَبِیْ ، فَطَبَّقْتُ بَیْنَ کَفَّیَّ، ثُمَّ وَضَعْتُھُمَابَیْنَ فَخِذِیَّ ، فَنَھَانِیْ عَنْ ذٰلِکَ ، وَقَالَ: کُنَّا نَفْعَلُ ھٰذَا، فَنُھِینَا عَنْہُ ، وَاُمِرْ نَا اَنْ نَضَعَ عَلَی الرُّکَبِ

مصعب بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز ادا کی میں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق دی پھر میں نے انہیں اپنے دونوں زانوں کے درمیان رکھ لیا تو میرے والد نے مجھے اس سے منع کیا، اور فرمایا ہم پہلے ایسا کیا کرتے تھے، پھر ہمیں اس سے منع کردیا گیا، اور ہمیں یہ حکم دیا گیا، ہم (اپنے ہاتھ) گھٹنوں پر رکھیں۔

اَنْ نَضَعَ عَلَی الرُّکَبِ ← ذٰلِکَ وَقَالَ: کُنَّا نَفْعَلُ ھٰذَا، فَنُھِینَا عَنْہُ وَاُمِرْ ← صَلَّیْتُ اِلٰی جَنْبِ اَبِیْ فَطَبَّقْتُ بَیْنَ کَفَّیَّ، ثُمَّ وَضَعْتُھُمَابَیْنَ فَخِذِیَّ فَنَھَانِیْ ← مُصْعَبَ بْنَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ← اَبِیْ یَعْفُورٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 1882

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1883

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، حدَّثَنَا اَسْحَاقُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الطَّالَقَانِیُّ ، حَدَّثَنَا وَکِیع ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِْ خَالِدٍ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ ، عَنْ مُّصْعَبِ بْنِ سَعْدِ) بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ، قَالَ کُنْتُ اِذَا صَلَّیْتُ ، طَبَّقَتْ ، وَوَضَعْتُ یَدَیَّ بَیْنَ رُکْبَتَیَّ ، فَرَاَنِیْ سَعْد ، فَقَالَ: کُنَّا نَفْعَلُ ھٰذَا ، فَنُھِینِا عَنْہُ، وَاُمِرْنَا بِالرُّکَبِ

مصعب بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں: میں جب نماز اداکرتا تھا تو میں تطبیق کیا کرتا تھا اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھا کرتا تھا۔ میرے والد حضرت سعد ؓ نے مجھے (ایسا کرتے ہوئے) دیکھا تو ارشاد فرمایا : پہلے ہم اس طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں اس سے منع کر دیا گیا، اور ہمیں گھٹنوں (پر ہاتھ رکھنے کا) حکم دیا گیا

کُنَّا نَفْعَلُ ھٰذَا فَنُھِینِا عَنْہُ، وَاُمِرْنَا بِالرُّکَبِ ← کُنْتُ اِذَا صَلَّیْتُ طَبَّقَتْ وَوَضَعْتُ یَدَیَّ بَیْنَ رُکْبَتَیَّ فَرَاَنِیْ سَعْد ← مُصْعَبَ بْنَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ← الزبير بن عدي ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِْ خَالِدٍ ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1883

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1884

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ ، لَیْلٰی ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَارِبٍ کَانَ رُکُوْعُ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَفْعُہٗ رَاْسَہٗ بَعْدَ الرُّکُوْعِ ، وَسُجُوْدُہٗ ، وَجُلُوْسُہٗ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ ، قَرِیْبًا مِنَ السَّوَاءِ

حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ کا رکوع، آپ کا رکوع کے بعد سر کو اٹھانا، آپ کا سجدہ کرنا اور آپ کا دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا تقریبا ایک جتنا ہوتا تھا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1884

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1885

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبُو الرَّبِیعِ الزَّھْرَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ قَالَ لَنَا اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ :اِنِّیْ لَا اَلُو اَنْ اُصَلِّیَ بِکُمْ کَمَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ بِنَا ، قَالَ ثَابِت: رَاَیْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَصْنَعُ شَیْئًا لَا اَرَکُمْ تَصْنَعُو نَہٗ ، کَانَ اِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ قَامَ حَتّٰی یَقُوْلَ الْقَائِلُ: لَقَدْ نَسِیَ ، وَاِذَا رفَعَ رَاْسَہٗ مِنَ السَّجْدَۃِ الْاُولٰی ، قَعَدَ حَتّٰی یَقُوْلَ الْقَائِلُ: لَقَدْ نَسِیَ

ثابت نامی راوی بیان کرتے ہیں: حضرت انس بن مالکؓ نے ہم سے فرمایا میں اس حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کروں گا،میں تمہیں اسی طرح نماز پڑھاؤں جس طرح میں نے نبی اکرم ﷺ کو ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ ثابت نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت انس بن مالکؓ کو دیکھا ہے وہ کچھ ایسا کیا کرتے تھے جو میں تمہیں کرتے ہوئے نہیں دیکھتا جب وہ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو کہنے والا یہ کہہ سکتا تھا، شاید یہ (سجدے میں جانا ) بھول گئے ہیں اور جب وہ پہلے سجدے سے سر اٹھا کر بیٹھتے تھے، تو کہنے والا یہ کہہ سکتا تھا، یہ (دوسرے سجدے میں جانا) بھول گئے ہیں۔

لَنَا اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ :اِنِّیْ لَا اَلُو ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1885

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1886

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیْفَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ ، قَال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِیکِ بْنِ اَبِیْ نَمِرٍ ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ، یَقُوْلُ مَا صَلَّیْتُ وَرَاءَ اَحَدٍ قَطُّ اَخَفَّ صَلَاۃً مِنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا اَتَمَّ وَاِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْمَعُ بُکَاءَ الصَّبِیِّ وَرَائَہُ ، فَیُخَفِّفُ مَخَافَۃَ اَنْ تُفْتَنَ اُمُّہُ

شریک بن ابو نمر بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا میں نے کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جو نبی اکرم ﷺ سے زیادہ مختصر اور آپ سے زیادہ مکمل نماز ادا کرتا ہو۔ بعض اوقات نبی اکرمﷺ اپنے پیچھے کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تھے، تو آپ نماز کو مختصر کر دیتے تھے۔ اس اندیشے کے تحت ، کہیں اس بچے کی والدہ آزمائش کا شکار نہ ہو جائے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1886

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1887

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْبٍ السِّنْجِیُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْھَیَّاجِ ، حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْاَرْحَبِیُّ ، حَدَّثَنِیْ عُبَیْدَۃُ بْنُ الْاَسْوَدِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِیْدِ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ الْحِارِثِ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ مُّجَاھِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ جَاءَ رَجُل مِّنَ الْاَنْصَارِ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ ، کَلِمَات اَسْاَلُ عَنْھُنَّ ، قَالَ: اجْلِسْ ، وَجَاءَرَجُل مَّنْ ثَقِیْفٍ ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ ، کَلَمَات اَسْاَلُ عَنْھُنَّ ، فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: سَبَقَکَ الْاَنْصَارِیُّ ، فَقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: اِنَّہٗ رَجُل غَرِیْب، وَاِنَّ لِلْغَرِیْبِ حَقَّا ، فَابْدَاْ بِہ ، فَاَقْبَلَ عَلَی الثَّقَفِیِّ ، فَقَالَ : اِنْ شِئْتَ اَجَبْتُکَ عَمَّاکُنْتَ تَسْاَلُ ، وَاِنْ شِئْتَ سَاَلْتَنِیْ وَاُخْبِرْکَ ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ ، بَلْ اَجِئْنِیْ عَمَّا کُنْتُ اَسْاَلُکَ ، قَالَ : جِئْتَ تَسْاَلُنِیْ عَنِ الرُّکُوْعِ ، وَالسُّجُوْدِ ، وَالصَّلَاۃِ ، وَالصَّوْمِ ، فَقَالَ: لَا وَالَّذِی بَعَثَکَ بَالْحَقِّ مَا اَخْطَاْتَ مِمَّا کَانَ فِیْ نَفْسِی شیْئًا ، قَالَ:فَاِذَا رَکَعْتَ ، فَضَعْ رَاحَتَیْکَ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ ، ثُمَّ فَرِّجْ بَیْنَ اَصَابِعِکَ ، ثُمَّ اَمْکُتْ حَتّٰی یَاْخُذَ کُلُّ عُضْوٍ مَاْخَذَہُ ، وَاِذَا سَجَدْتَ ، فَمَکِّنْ جَبْھَتَکَ ، وَلَاتَنْقُرُ نَقْرًا ، وَصَلِّ اَوَّلَ النَّھَارِ وَآخِرَہُ ، فَقَالَ :یَانَبِیَّ اللہِ ، فَاِنْ اَنَا صَلَّیْتُ بَیْنَھُمَا ؟ قَالَ:فَاَنْتَ اِذًا مُصَلِّیْ ، وَصُمْ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ ، ثَلَاثَ عَشْرَۃَ ، وَاَرْبَعَ عَشْرَۃَ ، وَخَمْسَ عشْرَۃَ ، فَقَامَ الثَّقَفِیُّ ، ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَی الْانْصَارِیِّ ، فَقَالَ:اِنْ شِئْتَ اَخْبَرْتُکَ عَمَّا جِئْتَ تَسْاَلُ ، وَاِنْ شِئْتَ سَاَلْتَنِیْ فَاُخْبِرْکَ ، فَقَالَ:لَایَانَبِیَّ اللہِ ، اَخْبَرَنِیْ عَمَّاجِئْتُ اَسْاَلُکَ ، قَالَ:جِئْتَ تَسْاَلُنِیْ عَنِ الْحَاجِّ مَالَہٗ حِیْنَ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ؟ وَمَالَہٗ حِیْنَ یَقُوْمُ بِعَرَفَاتٍ؟ وَمَالَہٗ حِیْنَ یَرْمِی الْجِمَارَ؟ وَمَالَہٗ حِیْنَ یَحْلِقُ رَاْسَہُ؟ وَمَالَہٗ حَیْنَ یَقْضِی آخِرَ طَوَافٍ بِالْبَیْتِ؟ فَقَالَ:یَانَبِیَّ اللہِ ، وَالَّذِی بَعَثَکَ بَالْحَقِّ مَااَخْطَاْتَ مِمَّا کَانَ فِیْ نَفْسِی شَیْئًا ، قَالَ:فَاِنَّ لَہٗ حِیْنَ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہ اَنَّ راحِلَتَہٗ لَا تخْطُو خُطْوَۃً اِلَّا کُتِبَ لَہٗ بِھَا حَسَنَۃ ، اَوْحُطَّتْ عَنُْ بِھَا خَطِیئَۃ ،فَاِذَا وَقَفَ بِعَرَفَۃَ ، فَاِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ یَنْزِلُ اِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا ، فَیَقُوْلُ :انْظُرُوْا اِلٰی عِبَادِی شُعْشًا غُبْرًا ، اشْھَدُوا اَنِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَھُمْ ذُنُوْبَھُمْ ، وَاِنْ کَانَ عَدَدَ قَطْرِ السَّمَاءِ وَرَمْلِ عَالِجٍ ، وَاِذَا رَمَی الجِمَارَ لَا یَدْرِی اَحَد مَا لَہٗ حَتّٰی یُوَفَّاہُ الْقِیَامَۃِ ، وَاِذَا حَلَقَ رَاْسَہٗ فَلَہٗ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ سَقَطَتْ مِنْ رَاْسِہِ نُور یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَاِذَا قَضَی آخِرَ طَوَافِہِ بِالْبَیْتِ خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِہ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ اُمُّہُ

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! کچھ کلمات ہیں ، جن کے بارے میں ، میں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ فرمایا: تم بیٹھ جاؤ پھر ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! کچھ کلمات ہیں جن کے بارے میں ، میں جانناچاہتا ہوں ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا:انصاری شخص تم سے سبقت لے گیا ہے ۔ انصاری نے کہا:یہ شخص مسافر ہے اور مسافر کا حق ہوتا ہے آپ اس سے آغاز کیجئےتو نبی اکرمﷺ ثقفی شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس چیزکے بارے میں بتا دیتا ہوں ، جس کے بارے میں تم دریافت کرنا چاہتے تھے اور اگر تم چاہوتو تم مجھ سے پوچھ لو میں تمہیں بتا دیتاہوں۔اس شخص نے عرض کی :یارسول اللہ (ﷺ)!آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیے جس کے بارے میں ، میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم مجھ سے رکوع و سجود نماز اور روزے کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے تھے ، تو اس نے کہا:جی ہاں !اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔ میرے ذہن میں جو تھا آپ نے اس کے بارے میں کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا:جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاںاپنے گھٹنوں پر رکھ لو تم اپنی انگلیوں کے درمیان کشادگی رکھو اور تم اتنی دیر وہاں ٹھہرے رہو‘ ہر عضو اپنی جگہ پر آجائے۔ جب تم سجدے میں جاؤ تو اپنی پیشانی کو جما کر رکھو تم ٹھونگ نہ مارو تم دن کے ابتدائی حصے اور اس کے آخری حصے میں نماز ادا کرو۔ اس نے عرض کی:اے اللہ کے نبی ! اگر میں ان دونوں کے درمیان میں نماز ادا کر لیتا ہوں ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:پھر تم نمازی ہوگئے۔ تم ہر مہینے میں تیرہ چودہ اور پندرہ تاریخ کو روزے رکھو تو وہ ثقفی شخص کھڑا ہوا پھر نبی اکرم ﷺ اس انصاری کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتا دیتا ہوں ، جس کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے تم آئے ہو اور اگر تم چاہو تو تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں خبردوں گا اس نے عرض کی :جی نہیں۔ اے اللہ کے نبی! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتا دیجئے جس کے بارے میں، میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:تم مجھ سے حاجی کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے تھے، جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں جب وہ عرفات میں قیام کرتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں جب وہ جمرات کو کنکریاں مارتا ہے ،تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں جب وہ اپنے سر کو منڈواتا ہے،تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں۔ اس شخص نے عرض کی :اے اللہ کے نبی! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، جو چیز میرے ذہن میں تھی اس کے بارے میں آپ نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :اس شخص کے لئے حکم یہ ہے ، جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے ، تو اس کی سواری جو بھی قدم اٹھاتی ہے اس کے بدلے میں اس شخص کو نیکی ملتی ہے یا اس کے کسی گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے، جب وہ حاجی عرفہ میں وقوف کرتا ہے، تو اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے:میرے ان بکھرے ہوئے بالوں اور غبار آلود (اجسام ) والے بندوں کو دیکھو تم لوگ گواہ ہو جاؤ ، میں نے ان کے گناہوں کی مغفرت کردی ہے۔ اگر چہ وہ آسمان(یعنی بارش) کے قطروں کے برابر ہوں اور ریت کے ذروں کے برابر ہوں جب حاجی جمرات کو کنکریاں مارتا ہےتو کوئی شخص یہ نہیں جان سکتا ، اسے کیا اجروثواب ملے گا، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کا اجروثواب مکمل طور پر اسے دیا جائے گا، جب وہ اپنے سر کو منڈواتا ہے،تو اس کے سر سے گرنے والے ہر ایک بال کے عوض میں قیامت کے دن اسے نور نصیب ہوگا اور جب وہ بیت اللہ کا آخری طواف کرتا ہے،تو وہ اپنے گناہوں سے یوں باہر آجاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔

جَاءَ رَجُل مِّنَ الْاَنْصَارِ اِلَی النَّبِیِّ فَقَالَ: ← ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← سِنَانِ بْنِ الْحِارِثِ بْنِ مُصَرِّفٍ ← القاسم بن الوليد ← عُبَيْدَةَ بن الأسود ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْھَیَّاجِ ← الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْبٍ السِّنْجِیُّ

Hadith 1887

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1888

اَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ ، بِا لرَّقَّۃِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عَمَّارِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیْدِ بْنُ اَبِی الْعِشْرِیْنَ، عَنِ الْاَوْزَاعِیِّ ، عَنْ یَّحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَسْوَاُ النَّاسِ سَرَقَۃً الَّذِی یَسْرِقُ صَلَاتَہٗ، قَالَ: وَکَیْفَ یَسْرِقُ صَلَاتَہُ؟ قَالَ: لَا یُتِمُّ رُکُوْعَھَا ، وَلَاسُجُوْدَھَا

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے:’’لوگوں میں سب سے براچوروہ ہے، جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے۔ انہوں نے عرض کی :وہ اپنی نماز کی کیسےچوری کرتاہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:وہ اس کے رکوع اور اس کے سجود کو مکمل ادا نہیں کرتا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْقَطَّانُ بِا لرَّقَّۃِ،

Hadith 1888

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1889

اَخبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِیْرِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ سَعِیْد الْمَقْبُرِیُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ اَبِیق بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بقنِ ھِشَامٍ ، (عَنْ اَبِیْہِ)، اَنَّ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ ، صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، فَخَفَّفَھُمَا، فَقَالَ لَہٗ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْحَارِثِ: یَا اَبَا الْیَقْظَانِ ، اَرَاکَ قَدْ خَفَّفْتَھُمَا ، قَالَ: اِنِّیْ بَادَرْتُ بِھِمَا الْوَسْوَاسَ ، وَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اِنَّ الرَّجُلَ لِیُصَلِّیْ الصّلِّیْ الصَّلَاۃَ ، وَلَعَلَّہُ لَایَکُوْنُ لَہٗ مِنْھَا اِلَّاعُشْرُھَا، اوْتُسْعُھَا ، اَوْثُمُنُھَا ، اَوْ سُبُعُھَا، اَوْ سُدْسُھَا حَتّٰی اَتَی عَلَی الْعَدَدِ

عمربن ابوبکر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں:حضرت عمار بن یاسر ؓ نے دورکعات ادا کی ۔ انہوں نے انہیں مختصر ادا کیا ، تو عبدالرحمن بن حارث نے ان سے کہا:اے ابو یقظان میں نے دیکھا ہے، آپ نے مختصر نماز ادا کی ہے، تو انہوں نے فرمایا:میں نے وسوسے آنے سے پہلے ہی انہیں مکمل ادا کرلیا کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ’’ ایک شخص نماز ادا کرتا ہے اور نماز میں اس کا حصہ صرف دسواں ہوتا ہے یا نواں ہوتا ہے یا آٹھواں ہوتاہے یا ساتواں ہوتا ہےیا چھٹا ہوتاہے، یہاں تک کہ وہ ایک کے عدد تک آئے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← اِنِّیْ بَادَرْتُ بِھِمَا الْوَسْوَاسَ وَاِنِّیْ ← لَہٗ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْحَارِثِ: یَا اَبَا الْیَقْظَانِ اَرَاکَ قَدْ خَفَّفْتَھُمَا ← اَبِیْہِ)، اَنَّ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، فَخَفَّفَھُمَا، ← عُمَرَ بْنِ اَبِیق بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بقنِ ھِشَامٍ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1889

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1890

خْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُسَعِیقدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ سَعِیْدٍ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَدَ خَلَ رَجُل فَصَلّٰی ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ حَتّٰی فَعَلَ ذٰلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بَالْحَقِّ مَااَعْرِفُ غَیْرَ ھٰذَا ، فَعَلِّمْنِی ، قَالَ: اِذَا قُمْتُ اِلَی الصَّلَاۃِ ، فَکَبِّرْ ، وَاقْرَاْ مَا تَیِسَّرَ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْکَعْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَعْتَدِلَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ،وَافْعَلْ ذٰلِکَ فِیْ صَلَاتِکَ کُلِّھَا

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺ مسجد میں تشریف لائے ایک شخص مسجد میں آیا۔ اس نے نماز ادا کی پھر وہ آکر بیٹھ گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:تم واپس جا کر نماز ادا کرو کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی ہے، یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ ایسا کیا ، پھر اس شخص نے عرض کی :اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔مجھے اس کے علاوہ کسی چیز کا علم نہیں ۔ آپ مجھے تعلیم دیجئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہو اور جو قرآن تمہیں آتا ہو اس کی تلاوت کرو پھر تم رکوع میں جاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کرو پھر تم (سر کو) اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدے میں جاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرو پھر(سرکو) اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ تم اپنی پوری نماز اسی طرح ادا کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← یَحْیَی بْنُسَعِیقدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← خْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ مَعْشَرٍ

Hadith 1890

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1891

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، عَنْ مُّلازِمِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِاللٰہِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ شَیْبَانَ الْحَنَفِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ، وَکَانَ اَحَدَ الْوَفْدِ السِّتَّۃِ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللٰہِ صَلَّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّیْنَا مَعَہٗ، فَلَمَحَ بِمُؤَخَّرِ، عَیْنَیْہِ رَجُلًا لَا یُقِرُّ صُلْبَہُ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ، فَقَالَ: اِنَّہٗ لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّمْ یُقِمْ صُلْبَہُ

عبدالرحمٰن بن علی بن شیبان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں‘ جو چھ افراد کے وفد میں سے ایک فرد تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے آپ کی اقتدا ء میں نماز ادا کی۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی دونوں آنکھوں کے گوشے سے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدے کے دوران اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھ رہا تھا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھتا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ الْحَنَفِيِّ، ← عبدِاللهِ بنِ بدرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 1891

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1892

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثؔنٰی ، حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ، حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، وَاَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرِ، عَنْ اَبِیْ مَعْمَرٍ، عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تُجْزِءُ صَلَاۃٌ لَا یُقِیمُ الرَّجُلُ فِیْھَا صُلْبَہُ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ

حضرت ابو مسعودؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:’ وہ نماز درست نہیں ہوتی جس میں آدمی رکوع اور سجود کے دوران اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھتا۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَکِیعٌ، وَاَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1892

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1893

: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْنَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَیْمَانَ، قَالَ: سَمَعْتُ عُمَارَۃَ بْنَ عُمَیْرٍ، عَنْ اَبِیْ مَعْمَرٍ، عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَا تُجْزِءُ صَلَاۃٌ لِاَحَدٍلَا یُقِیمُ صُلْبَہُ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ

حضرت ابو مسعودؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:’ ایسے شخص کی نماز درست نہیں ہوتی جورکوع اور سجود کے دوران اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھتا۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْنَۃَ، ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 1893

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr