Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 566

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَرَّاءُ أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا تَحَابَّ اثْنَانِ فِي اللَّهِ، إِلَّا كَانَ أَفْضَلَهُمَا أَشَدُّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ». [1: 2]

حضرت انس بن مالک ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب بھی د و لوگ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سےمحبت رکھتے ہیںُ تو ان دونوں میں سے افضل ہو شخص ہوتا ہے ‘جو اپنے ساتھی سے زیادہ شدید محبت رکھتا ہو‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← سَعْدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَرَّاءُ أَبُو الْحَسَنِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 566

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 567

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ الْجَهْمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا، وَالْمَكْرُ، وَالْخِدَاعُ فِي النَّارِ» [00: 00]

حضرت عبد اللہ ؓ ‘ روایت کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا ہے : ’’ جو شخص ہمیں دھوکا دے‘ اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘ مکر اور دھوکا جہنم میں ہوں گے‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← أَبِي ← عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ الْجَهْمِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 567

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 568

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ خَبَّثَ عَبْدًا [ص:328] عَلَى أَهْلِهِ، فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا، فَلَيْسَ مِنَّا». [00: 00]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : ’’جو شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی بیوی کے حوالے سے دھوکا دے ‘ وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر کے حوالے خلاف کر دے‘ وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 568

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 569

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو الْجَهْمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: [ص:329] سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ وَلَّى عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا لِلَّهِ، قَالَ: «فَهَلْ أَعْلَمْتَهُ ذَاكَ؟ » قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَأَعْلِمْ ذَاكَ أَخَاكَ»، قَالَ: فَاتَّبَعْتُهُ فَأَدْرَكْتُهُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ، قَالَ هُوَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ قُلْتُ: لَوْلَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَنِي أَنْ أُعْلِمُكَ لَمْ أَفْعَلْ.

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اسی دوران ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے آپ کو سلام کیا پھر وہاں سے چلا گیا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ تعالیٰ کی خاطر اس شخص سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے ؟ میں نے عرض کی: جی نہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم یہ بات اپنے بھائی کو بتا دو۔ میں اس شخص کے پیچھے گیا۔ میں اس تک پہنچ گیا۔ میں نے اسے کندھے سے پکڑا۔ میں نے اسے سلام کیا اور میں نے یہ کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ کی خاطر آپ سے محبت رکھتا ہوں‘ تو انہوں نے بھی یہ کہا : اللہ کی قسم ! میں بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر آپ سےمحبت رکھتا ہوں۔ میں نے بتایا : اگر اللہ کے نبی ! نے مجھےاس بات کا حکم نہ دیا ہوتا کہ میں آپ کو یہ بتا دوں ‘ تو میں ایسا نہ کرتا۔ اس روایت کو نقل کرنے میں ازرق بن علی نامی راوی منفرد ہے اور یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ وَلَّى عَنْهُ، فَقُلْتُ: ← بَيْنَا ← ابْنِ عُمَرَ ← [ص:149] ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو الْجَهْمِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 569

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 570

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيُعْلِمْهُ». [1: 95]

حضرت مقدام بن معدی کرب ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت رکھتا ہو ‘ تو وہ اسےبتا دے‘‘۔

الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، ← حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 570

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 571

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ كِتَابَةً، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ، [ص:331] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ مَرَّ رَجُلٌ، فقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا الرَّجُلَ، قَالَ: «هَلْ أَعْلَمْتَهُ ذَاكَ؟ »، قَالَ: لَا، قَالَ: «قُمْ أَعْلِمْهُ»، فَقَامَ إِلَيْهِ، فقَالَ: يَا هَذَا، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، قَالَ: أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص وہاں سے گزرا حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: یا رسول اللہ ! میں اس شخص سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اٹھو اور اسے یہ بتاؤ ‘ تو وہ شخص اٹھ کر اس کے پاس گیا اور بولا : اے صاحب ! اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ‘ تو ان صاحب نے جواب دیا: جس ذات کی خاطر آپ مجھ سے محبت رکھتے ہیں وہ ذات آپ سے بھی محبت رکھے۔

كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ، فقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٌ، [ص:331] ← أَبِي ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ كِتَابَةً،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 571

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 572

أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، قَالَ: فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ، قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟، قَالَ: أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ، فقَالَ لَهُ: هَلْ لَهُ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا؟، قَالَ: لَا، غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّهُ فِي [ص:332] اللَّهِ، قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ، إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ». [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لئے دوسری بستی میں گیا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو متعین کیا۔ جب وہ شخص اس فرشتے کے پاس پہنچا ‘ تو فرشتے نے دریافت کیا۔ تم کہاں رہے ہو ‘ تو اس نے نے بتایا میں اس بستی میں اپنے بھائی سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے اس سے کہا: کی اس نے تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کی تھی جس کا تم بدلہ دینا چاہتےہو۔ اس شخص نے جواب دیا: جی نہیں۔ میں اللہ کی خاطر اس شخص سے محبت رکھتا ہوں‘ تو فرشتے نے کہا : میں اللہ کی طرف سے پیغام رساں کے طور پر تمہاری طرف آیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ تم سے اسی طرح محبت رکھتا ہے‘ جس طرح تم اللہ تعالیٰ کی وجہ سے اس شخص سے محبت رکھتے ہو‘‘۔

لَا، غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّهُ فِي [ص:332] اللَّهِ، ← لَهُ: هَلْ لَهُ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا؟، ← أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ، ← أين تريد ← فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ، ← النَّبِيِّ «أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 572

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 573

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ، يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ، قِيلَ: مَنْ هُمْ لَعَلَّنَا نُحِبُّهُمْ؟، قَالَ: هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِنُورِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ أَرْحَامٍ وَلَا انْتِسَابٍ، وُجُوهُهُمْ نُورٌ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ، وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ»، ثُمَّ قَرَأَ: {أَلَا إِنَّ [ص:333] أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} [يونس: 62]. [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’بیشک اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ بندے ایسےبھی ہیں ‘ جو نبی نہیں ہیں ‘ لیکن انبیاء اور شہداء ان پر رشک کرتے ہیں ۔ دریافت کیا گیا ‘ وہ کون لوگ ہیں؟ ( ہمیں بھی اس بارے میں بتایا جائے) تاکہ ہم ان سے محبت رکھیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو کسی رشتے داری یا کسی اور نسبت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی رضا کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں ان کے چہرے نوروالے ہوں گے اور یہ نور کے بنے ہوئے منبروں پر ہوں گے۔ جب لوگ خوف ذدہ ہوں گے اس وقت انہیں کوئی خوف نہیں ہو گا‘ جب لوگ غمگین ہوں گے اس وقت انہیں کوئی غم نہیں ہو گا پھر آپ نے یہ تلاوت کی: ’’ خبر دار بیشک اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ لوگ غمگین ہوں گے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 573

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 574

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي». [1: 2]

حضرت ابوہرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے جلال کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنا سایہ رحمت عطا کروں گا ۔ ایک ایسے دن میں‘ جب میرے سائے کےعلاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْحُبَابِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 574

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 575

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَإِذَا فَتًى بَرَّاقُ الثَّنَايَا، وَإِذَا النَّاسُ مَعَهُ، إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ، أَسْنَدُوهُ إِلَيْهِ، وَصَدَرُوا عَنْ رَأْيِهِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقِيلَ: هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، هَجَّرْتُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِالتَّهْجِيرِ، وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، قَالَ: فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ، ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ، فقَالَ: آللَّهُ؟ قُلْتُ: آللَّهُ، فَأَخَذَ بِحَبْوَةِ رِدَائِي فَجَذَبَنِي إِلَيْهِ وَقَالَ: أَبْشِرْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ: «قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ، وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، كَانَ سَيِّدَ قُرَّاءِ أَهْلِ الشَّامِ فِي [ص:337] زَمَانِهِ، وَهُوَ الَّذِي أَنْكَرَ عَلَى مُعَاوِيَةَ مُحَارَبَتَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حِينَ، قَالَ لَهُ: مَنْ أَنْتَ حَتَّى تُقَاتِلَ عَلِيًّا، وَتُنَازِعُهُ الْخِلَافَةَ، وَلَسْتَ أَنْتَ مِثْلَهُ، لَسْتَ زَوْجَ فَاطِمَةَ وَلَا بِأَبِي الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَلَا بِابْنِ عَمِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْفَقَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُفْسِدَ قُلُوبَ قُرَّاءِ الشَّامِ، فقَالَ لَهُ: إِنَّمَا أَطْلُبُ دَمَ عُثْمَانَ، قَالَ: فَلَيْسَ عَلِيٌّ قَاتِلَهُ، قَالَ: لَكِنَّهُ يَمْنَعُ قَاتِلَهُ عَنْ أَنْ يُقْتَصَّ مِنْهُ، قَالَ: اصْبِرْ حَتَّى آتِيَهُ، فَأَسْتَخْبِرَهُ الْحَالَ، فَأَتَى عَلِيًّا وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ، قَالَ لَهُ: مَنْ قَتَلَ عُثْمَانَ؟، قَالَ: اللَّهُ قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ، عَنَى: وَأَنَا مَعَهُ مَقْتُولٌ، وَقِيلَ: أَرَادَ اللَّهُ قَتْلَهُ، وَأَنَا حَارَبْتُهُ، فَجَمَعَ جَمَاعَةَ قُرَّاءِ الشَّامِ وَحَثَّهُمْ عَلَى الْقِتَالِ. [1: 2]

ابو ادریس خولانی بیان کرتے ہیں :میں مسجد دمشق میں داخل ہوا ‘ تو وہاں ایک نوجوان موجود تھا جس کے سامنے کے دانت انتہائی چمک دار تھے ۔ اس کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے جب ان لوگوں کے درمیان کسی چیز ؟ کے بارے میں اختلاف ہوتا تھا‘ تو وہ لوگ اس کی طرف رجوع کرتے تھے اور اس کی رائے پر عمل کرتےتھے۔ میں نے اس نوجوان کے بارے میں دریافت کیا‘ تو بتایا گیا کہ یہ حضرت معاذ بن جبل ؓ ہیں ۔اگلے دن میں جلدی آ گیا‘ تو میں نے دیکھا کہ وہ نوجوان مجھ سےپہلے وہاں پہنچ چکا تھا۔ میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئےپایا ۔ ابو ادریس کہتے ہیں :میں ان صاحب کا انتظار کرتا رہا‘ یہاں تک کہ انہوں نے نے نماز مکمل کر لی‘ تو میں سامنے کی طرف سے ان کے پاس آیا۔ میں نے انہیں سلام کیا اور میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! میں اللہ کی خاطر آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا اللہ تعالیٰ کی خاطر؟ میں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ کی خاطر‘ انہوں نے میری چادر گا کنارہ پکڑا اور مجھے اپنی طرف کھینچا اور بالے: تم یہ خوشخبری حاصل کر لو میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : میری محبت ان لوگوں کے لئے لازم ہو گئی ہے ‘جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں۔ میری خاطر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھتے ہیں اور میری خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں‘‘۔ ( امام ابن حبا نؒ فرماتےہیں:) ابو ادریس خولانی نامی راوی کا نام عائذ اللہ بن عبداللہ ہے۔ یہ اپنے زمانے میں شام سے تعلق رکھنے والے علم قرأت کے ماہرین کے سردار ہیں۔ یہ وہ صاحب ہیں‘جنہوں نے حضرت معاویہ ؓ کےحضرت علیؓ کیخلاف جنگ کرنے کا انکا ر کیا تھا۔ جب انہوں نے حضرت معاویہ ؓ سے یہ کہا: آپ کون ہوتےہیں ‘ جو حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ کریں اور خلاف کے حوالے سے ان کے ساتھ جھگڑا کریں۔ آپ ان کی مانند نہیں ہیں۔ آپ سیدہ فاطمہ ؓ ( جیسی خاتون کے ) شوہر نہیں ہیں۔ آپ حضرت مام حسن ؓ اور حضرت امام حسین ؓ ( جیسے حضرات ) کے والد نہیں ہیں۔ آپ نبی اکرمﷺ کے چچا زاد نہیں ہیں ‘ تو حضرت معاویہ ؓ اس بات سے ڈر گئے کہ کہیں وہ شام کے قاریوں کے ذہن خراب نہ کر دیں۔ تو حضرت معاویہ ؓ نے اس سے کہا: میں حضرت عثمانؓ کے خون کےبدلے کا طلبگار ہوں‘ تو انہوں نےکہا حضرت علیؓ نے تو انہیں قتل نہیں کیا ‘ تو حضرت معاویہؓ نے کہا‘ لیکن وہ حضرت عثمان ؓ کے قاتل سے قصاص لینے میں رکاوٹ سن رہے ہیں ‘ تو انہوں نے کہا آپ صبر سے کام لیں میں ان کے پاس جاتا ہوں اور حقیقت حال جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ پھر حضرت علیؓ کےپا س آئے اور انہیں سلام کیا اور پھر ان سے کہا: حضرت عثمان ؓ کو کس نے قتل کیا ہے ؟ تو حضرت علیؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کیا ہے ‘ اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں۔ حضرت علیؓ کی مراد یہ تھی: ان کے ساتھ میں بھی مقتول ہوں۔ اور ایک قول یہ ہے : ان کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور میں نے اس بارے میں بچنے کی کوشش کی۔ ( لیکن ابو ادریس خولانی حضرت علیؓ کے الفاظ کا مفہوم نہیں سمجھ سکے اور انہوں نے شام کی ایک جماعت کواکٹھا کیا اور انہیں ( حضرت علی ؓ سے جنت کرنے کی ترغیب دی)۔

أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 575

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 576

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ، قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟، قَالَ: أَزُورُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ، فقَالَ: هَلْ لَهُ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا؟، قَالَ: لَا، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّهُ فِي اللَّهِ، قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ». [3: 6]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لئے دوسری بستی میں گیا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو متعین کیا۔ جب وہ شخص اس فرشتے کے پاس پہنچا ‘ تو فرشتے نے دریافت کیا۔ تم کہاں رہے ہو ‘ تو اس نے نے بتایا میں اس بستی میں اپنے بھائی سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے اس سے کہا: کی اس نے تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کی تھی جس کا تم بدلہ دینا چاہتےہو۔ اس شخص نے جواب دیا: جی نہیں۔ میں اللہ کی خاطر اس شخص سے محبت رکھتا ہوں‘ تو فرشتے نے کہا : میں اللہ کی طرف سے پیغام رساں کے طور پر تمہاری طرف آیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ تم سے اسی طرح محبت رکھتا ہے‘ جس طرح تم اللہ تعالیٰ کی وجہ سے اس شخص سے محبت رکھتے ہو‘‘۔

أين تريد ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ اليَشْكُريّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 576

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 577

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ أَبِي زُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِغَيْرِ دُنْيَا أَرْجُو أَنْ أُصِيبَهَا مِنْكَ، وَلَا قَرَابَةَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، قَالَ: فَلِأَيِّ شَيْءٍ؟ قُلْتُ: لِلَّهِ، قَالَ: فَجَذَبَ حُبْوَتِي، ثُمَّ قَالَ: أَبْشِرْ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمِ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ» ثُمَّ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فَأَتَيْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ مُعَاذٍ، فقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: «حُقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَحُقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَنَاصِحِينَ فِيَّ، وَحُقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ، وَحُقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ، وَهُمْ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ بِمَكَانِهِمْ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَوْبٍ، يَمَانِيٌّ، تَابِعِيٌّ، مِنْ أَفَاضِلِهِمْ وَأَخْيَارِهِمْ، وَهُوَ الَّذِي قَالَ لَهُ الْعَنْسِيُّ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِنَارٍ عَظِيمَةٍ، فَأُجِّجَتْ وَخَوَّفَهُ أَنْ يَقْذِفَهُ فِيهَا إِنْ لَمْ يُوَاتِهِ عَلَى مُرَادِهِ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَقَذَفَهُ فِيهَا، [فَلَمْ تَضُرَّهُ] فَاسْتَعْظَمَ ذَلِكَ، وَأَمَرَ بِإخْرَاجِهِ مِنَ الْيَمَنِ، فَأُخْرِجَ فَقَصَدَ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ؟، فَأَخْبَرَهُ، فقَالَ لَهُ: مَا فَعَلَ الْفَتَى الَّذِي أُحْرِقَ؟، فقَالَ: لَمْ يَحْتَرِقْ، فَتَفَرَّسَ فِيهِ عُمَرُ أَنَّهُ هُوَ، فقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِاللَّهِ، أَنْتَ أَبُو مُسْلِمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ عُمَرُ حَتَّى ذَهَبَ بِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَسُرَّا بِذَلِكَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: [ص:340] الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أُرَانَا فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَنْ أُحْرِقَ فَلَمْ يَحْتَرِقْ، مِثْلَ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقِيلَ: إِنَّهُ كَانَ لَهُ امْرَأَةٌ صَبِيحَةُ الْوَجْهِ، فَأَفْسَدَتْهَا عَلَيْهِ جَارَةٌ لَهُ، فَدَعَا عَلَيْهَا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعْمِ مَنْ أَفْسَدَ عَلَيَّ امْرَأَتِي. فَبَيْنَمَا الْمَرْأَةُ تَتَعَشَّى مَعَ زَوْجِهَا إِذْ قَالَتِ: انْطَفَأَ السِّرَاجُ؟، قَالَ زَوْجُهَا: لَا، فَقَالَتْ: فَقَدْ عَمِيتُ، لَا أُبْصِرُ شَيْئًا، فَأُخْبِرَتْ بِدَعْوَةِ أَبِي مُسْلِمٍ عَلَيْهَا، فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ: أَنَا قَدْ فَعَلْتُ بِامْرَأَتِكَ ذَلِكَ، وَأَنَا قَدْ غَرَّرْتُهَا وَقَدْ تُبْتُ، فَادْعُ اللَّهَ يَرُدُّ بَصَرِي إِلَيَّ، فَدَعَا اللَّهَ وَقَالَ: اللَّهُمَّ رُدَّ بَصَرَهَا، فَرَدَّهُ إِلَيْهَا. [1: 2]

ابو مسلم خولانی بیان کرتےہیں :میں نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے کہا : اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں‘ لیکن کسی دنیاوی وجہ سے نہیں رکھتا کہ جس کے بارے میں مجھے یہ امید ہو کہ مجھے آپ کی طرف سے وہ مل جائے گی اور نہ ہی میرے اور آپ کے درمیان کو قرابت ہے‘ جس کی وجہ سے میں یہ محبت رکھتا ہوں۔ حضرت معاذ نے دریافت کیا: تو پھر کسی وجہ سے رکھتے ہو؟ میں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے راوی کہتے ہیں : انہوں نے میری چادر کا کنارہ کھنچا اور پھر ارشاد فرمایا : اگر تم سچ کہہ رہے ہو ‘ تو تم یہ خوشخبری حاصل کر لو۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ اس دن عرش کے سائے میں ہوں گے۔ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا اور ان لوگوں کے مقام پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں وہاں سے نکلا اور حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے انہیں حضرت معاذؓ کی نقل کردہ حدیث سنائی ‘ تو حضرت معاذ بن صامت ؓ نے بتایا : میں نے نبی اکرمﷺ کو اپنے پروردگار کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ’’ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ) میری محبت ‘ میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگوں کے لئے لازم ہو گئی ہے۔میری محبت ’ میری خاطر ایک دوسرے کی خیرخواہی رکھنے والے لوگوں کے لئے لازم ہے ۔ میری محبت ‘ میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والوں کے لئے لازم ہو گئی ہے میری محبت ‘ میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لئے لازم ہو گئی ہے ۔ یہ لوگ نور کے منبروں پر ہوں گے اور ان کے مقام پر انبیاء اور صدیقین رشک کریں گے‘‘۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) ابو مسلم خولانی نامی راوی کا نام عبدا للہ بن ثوب ہے۔ یہ یمانی ہیں‘ تو تابعی ہیں۔ یہ تابعین میں سے مٖیل رکھنے والے اور بہتر لوگوں میں سے ایک ہیں۔ یہ وہ ہیں ‘ جن سے عنسی نے یہ کہا تھا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہوکہ میں اللہ تعالیٰ کا رسو ل ہوں ‘ تو انہوں نے جواب دیا : جی نہیں۔ اس نے جواب دریافت کیا : کی اتم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسو ل ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ عنسی کے حکم کے تحت ڈھیر ساری آگ جلائی گئی ‘ تو انہیں ڈرایا دھمکایا گیا کہ انہیں اس میں ڈال دیا جائیگا ‘ اگر وہ اس کی مراد میں اس کا ساتھ نہیں دیں گے‘ لیکن انہوں نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ تو اس نے انہیں آک میں ڈال دیا‘ لیکن انہیں آگ کا کوئی نقصا ن نہیں ہو ا‘ تو عنسی نے اس بات کو بہت بڑا شمار کیا۔ اس کے حکم کے تحت انہیں یمن بھجوا دیا۔ انہیں وہاں سے نکالا گیا ‘ تو یہ مدینہ منورہ آ گئے وہاں ان کی ملاقات حضرت عمر بن خطابؓ سے ہوئی ۔ انہوں نے ان سے دریافت کیا : اں سے آئے ہو؟ انہوں نے اس بارے میں بتایا ۔ حضرت عمرؓ نے ان سے دریافت کیا : اس نوجوان کا کیا بنا جس کو جلایا گیا تھا‘ تو انہوں نے بتایا : وہ جلا نہیں۔ حضرت عمرؓ نے اندازہ لگا لیا کہ یہی وہ صاحب ہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا:میں تمہیں اللہ کے نام کی قسم دیتا ہوں تم ابو مسلم ہو۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں۔ تو حضرت عمرﷺ ان کا ہاتھ تھام کر انہیں حضرت ابو بکرؓ کے پاس لے گئے اور انہوں نے انہیں پورا واقعہ سنایا ‘ تو وہ دونوں حضرات اس پر بہت خوش ہوئے۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: ہر طرح کی حمد‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے ہمیں اس امت میں ایسا شخص دکھایا ہے ‘ جسے حضرت ابراہیم ؑ کی طرح جلایا گیا ‘ لیکن وہ جلا نہیں‘‘۔ یہ بات بھی بیان کی گئی ہے : ان کی اہلیہ بہت خوبصورت تھیں ۔ ان کی ایک پڑوسن نے اس خاتون کو خراب کرنے کی کوشش کی ‘ تو انہوں نے اس کو بد دعا دی : اے اللہ ! جوی میری بیوی کو خراب کرنا چاہتا ہے ‘تو اسے اندھا کر دے ‘ تو وہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی رات کا کھانا کھا رہی تھی۔ اسی دوران اس نے دریافت کیا : کی اتم نے چراغ بجھا دیا ہے ؟ اس کے شوہر نے جواب دیا: جی نہیں‘ تو اس نے کہا میں اندھی ہو گئی ہوں۔ مجھے نظر نہیں آ رہا۔ پھر اس عورت کو ابو مسلم کی اس دی گئی بد دعا کے بارے میں بتایا گیا ‘ تو وہ عورت ان کے پاس آئی اور بولی : میں نے آپ کی بیوی کے بارے میں اس طرح کرنے کی کوشش کی تھی۔ میں نے اسے دھوکہ بھی دیااب میں توبہ کرتی ہوں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ میری بینائی کو واپس کر دے۔انہوں نے اللہ سے دعا کی اور یہ کہا : اے اللہ ! اس عورت کی بینائی کو واپس کر دے‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بینائی کو واپس کر دیا۔

قُلْتُ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِغَيْرِ دُنْيَا أَرْجُو ← أبى مسلم الخولاني ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ ← أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ ← مَخْلَدُ بْنُ أَبِي زُمَيْلٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 577

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr