صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1200
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ خَبَّرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّ امْرَأَةً سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْحَيْضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْهُ؟ قَالَ: "تَأْخُذِي1 فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَتَوَضَّئِينَ بِهَا". قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَوَضَّئِينَ بِهَا" قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَوَضَّئِينَ بِهَا" قَالَتْ عَائِشَةُ: فعرفت الذي يريد، فجبذتها إلى فعلمتها2. 50:1
سیدہ عائشہ صدیقہ ب بیان کرتی ہیں: ایک خاتون نبی اکرم ﷺ سے حیض کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ اس کے بعد غسل کیسے کرے گی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم مشک لگا ہوا روٹی کا ٹکڑا لو اور اس کے ذریعے وضو کرو اس نے عرض کی: میں اس کے ذریعے کیسے وضو کروں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس کے ذریعے وضو کرو۔ اس نے عرض کی : میں اس کے ذریعے کیسی وضو کروں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس کے ذریعے وضو کرو سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: مجھے نبی اکرم ﷺ کی مراد کا پتہ چل گیا تھا ۔ اس لئے میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور طریقہ بتایا۔
كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ ← "تَأْخُذِي1 فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَتَوَضَّئِينَ بِهَا". ← الْحَيْضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْهُ؟ ← عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّ امْرَأَةً سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ، ← مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ خَبَّرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا ← الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ← حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Hadith 1200
