صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1188
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ2 اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ. قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ: "مَنْ هَذِهِ"؟ قُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَرْحَبًا يَا أُمَّ ھَانِیْءٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِہِ ، قَامَ فَصَلّٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِیْ ثَوْبٍ وَّاحِدٍ ، ثُمَّا انْصَرَفَ ، فَقُلْتُ لَہٗ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَعَمَ ابْنُ اُمِّی عَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ رِضْوَانُ اللہُ عَلَیْہِ اَنَّہٗ قَاتِلٌ رَجُلًا اَجَرْتُہُ: فُلَانُ بن ھُبَیْرَۃَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَدْ اَجَرْنَا مَنْ اَجَرْتِ یَا اُمُّ ھَانِیْءٍ وذلک صحی۔5:8
سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب ؓ بیان کرتی ہیں : میں فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئی تو میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا۔ آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ ؓ نے کپڑے کے ذریعے پردہ تان رکھا تھا ۔ سیدہ ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے سلام کیا : تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون ہے میں نے عرض کی ام ہانی بنت ابو طالب، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ام ہانی کو خوش آمدیدپھر جب آپ غسل کر کے فارغ ہوئے تو آپ نے کھرے ہو کر ااٹھ رکعات نماز ادا کی جس میں آپ نے ایک ہی کپرے کو التحاف کے طور پر لپیٹا ہوا تھا ۔ جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں جائے حضرت علی بن ابو طالب یہ کہتے ہیں ، وہ ایک ایسے شخص کو قتل کر دیں گے، جسے میں پناہ دے چکی ہوں ، یعنی فلاں بن ہبیرہ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ام ہانی جسے تم نے پناہ دی اسے ہم بھی پبناہ دیتے ہیں۔ ( سیدہ ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں ) یہ چاشت کے وقت کی بات ہے۔
أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،
Hadith 1188
