Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1188

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ2 اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ. قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ: "مَنْ هَذِهِ"؟ قُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَرْحَبًا يَا أُمَّ ھَانِیْءٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِہِ ، قَامَ فَصَلّٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِیْ ثَوْبٍ وَّاحِدٍ ، ثُمَّا انْصَرَفَ ، فَقُلْتُ لَہٗ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَعَمَ ابْنُ اُمِّی عَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ رِضْوَانُ اللہُ عَلَیْہِ اَنَّہٗ قَاتِلٌ رَجُلًا اَجَرْتُہُ: فُلَانُ بن ھُبَیْرَۃَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَدْ اَجَرْنَا مَنْ اَجَرْتِ یَا اُمُّ ھَانِیْءٍ وذلک صحی۔5:8

سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب ؓ بیان کرتی ہیں : میں فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئی تو میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا۔ آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ ؓ نے کپڑے کے ذریعے پردہ تان رکھا تھا ۔ سیدہ ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے سلام کیا : تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون ہے میں نے عرض کی ام ہانی بنت ابو طالب، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ام ہانی کو خوش آمدیدپھر جب آپ غسل کر کے فارغ ہوئے تو آپ نے کھرے ہو کر ااٹھ رکعات نماز ادا کی جس میں آپ نے ایک ہی کپرے کو التحاف کے طور پر لپیٹا ہوا تھا ۔ جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں جائے حضرت علی بن ابو طالب یہ کہتے ہیں ، وہ ایک ایسے شخص کو قتل کر دیں گے، جسے میں پناہ دے چکی ہوں ، یعنی فلاں بن ہبیرہ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ام ہانی جسے تم نے پناہ دی اسے ہم بھی پبناہ دیتے ہیں۔ ( سیدہ ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں ) یہ چاشت کے وقت کی بات ہے۔

أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 1188

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1189

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عن بن طَاوُسٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، قأتيته، فَجَاءَهُ أَبُو ذَرٍّ بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٍ، قَالَتْ: إِنِّي لَأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ، قَالَتْ: فَسَتَرَهُ أَبُو ذَرٍّ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ سَتَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا ذَرٍّ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانَ ركعات وذلك في الضحى1. 8:5

سیدہ ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ کے بالائی حصے میں پڑاو کئے ہوئے تھے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو حضرت ابو ذر غفاری ب ایک بڑے برتن میں پانی لے کر آپ کے لئے حاضر ہوئے۔ سیدہ ام ہانی بیان کرتی ہیں، میں نے اس برتن میں آٹھے کا نشان دیکھا ۔سیدہ ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں : پھر حضرت ابو ذر غفاری نے آپ کے لئے پردہ تان لیا پھر آپ نے غسل کیا پھر نبی اکرم ﷺ نے پردہ تان لیا اور حضرت ابو ذر غفاری نے غسل کیا پھر نبی اکرم ﷺ نے آٹھ رکعات نماز ادا کی ۔ یہ چاشت کے وقت کی بات ہے۔ ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : )اس بات کا امکان موجود ہے، فتح مکہ کے دن جب نبی اکرم ﷺ نے غسل کیا تھا تو ، تو آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ ؓ اور حضرت ابو ذر غفاری نے پردہ تان لیا ہو ۔ جو ایک ہی کپڑے کے ذریعے ہو ، تو ام ہانی کے غلام ابو مرہ نے وہ روایت نقل کر دی جس میں صرف حضرت فاطمہ کا ذکر ہوا اور مطلب بن حنطب نے وہ روایت نقل کر دی جس میں صرف حضرت ابو ذر غفاری ؓ کا ذکر ہوا ۔ اس صورت میں ان دونوں روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں رہتا، کیونکہ اس دن میں نبی اکرم ﷺ نے صرف ایک ہی بار غسل کیا تھا ۔ یہی وجہ ہے، جب حضرت ابو ذر غفاری ؓ نے غسل کرنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے پردہ تان لیا ، سیدہ فاطمہ ؓ نے ایسا نہیں کیا تھا ۔

إِنِّي لَأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ، ← نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ بِأَعْلَى مَكَّةَ، قأتيته، فَجَاءَهُ أَبُو ذَرٍّ بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٍ، ← أُمِّ هَانِئٍ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← بن طاوس، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1189

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1190

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، قَالَتْ: أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ. قَالَتْ: فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ فَغَسَلَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الْأَرْضَ فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ مِلْءَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ تَنَحَّی غَیْرَ مَقَامِہٖ ذٰلکَ ، فَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ثُمَّ أتیتہ بالمندیل فردہ۔5:2

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: میری خالہ دیسہ میمونہ ؓ نے مجھے یہ بات بتائی وہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کے لئے غسل جنابت کے لئے پانی رکھا گیا۔ سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دو مرتبہ یا تین مرتبہ دھوئے ۔ پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پانی میں داخل کیا پھر آپ نے اپنی شرم گاہ کو صاف کیا، پھر آپ نے اپنے بائیں ہاتھ پانی انڈیل کر اسے دھویا۔ آپ نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا ۔ پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ زمین پر رکھ کر اسے ا چھی طرح ملا ۔ پھر آپ نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا ۔ پھر آپ نے اپنے سر پر دونون ہاتھ ملا کر پانی بہایا پھر آپ اپنی جگہ سے ایک طرف ہٹ گئے پھر آپ نے اپنے دونون پاوں دھو لئے پھر میں رومال لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا۔؎

أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ. ← حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1190

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1191

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: وَصَفَتْ عَائِشَةُ غُسْلَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنَ الْجَنَابَةِ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ، ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثم يصب عليه الماء1. 2:5

ابو سلمہ عبد الرحمٰن بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کیا وہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوتے تھے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے تھے اور اپنی شرم گاہ پر لگی چیز کو دھوتے تھے۔ پھر آپ تین مرتبہ کلی کرتے تھے۔ ناک میں پانی ڈالتے تھےپھر اپنے بازووں اور چہرے کو تین مرتبہ دھوتے تھے۔ پھر آپ اپنے سر پر پانی بہاتے تھے۔ پھر آپ اپنے پورے جسم پر پانی بہا لیتے تھے۔

وَصَفَتْ عَائِشَةُ غُسْلَ رَسُولِ اللَّهِ، مِنَ الْجَنَابَةِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1191

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1192

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى1 الْقَزَّازُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ: أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ جَمِيعًا؟ قَالَتْ: نَعَمْ، الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يَجْنُبُ وَلَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ، أَبْدَأُهُ فَأُفْرِغُ عَلَى يَدِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَغْمِسَهُمَا في الماء2 3. 1:4

معاذہ عدو یہ بیان کرتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے دریافت کیا : کیا کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ ایک ہی برتن میں غسل جنابت کر سکتی ہے، جبکہ وہ دونون ایک ساتھ غسل کریں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے جواب دیا : جی ہاں، پانی پاک ہوتا ہے اسے جنابت لاحق نہیں ہوتی میں اور ب ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے تھے۔ میں پہلے آپ کے ہاتھ پر پانی بہاتی تھیاس سے پہلے کہ آپ اپنا ہاتھ پانی میں داخل کریں۔

نَعَمْ، الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يَجْنُبُ وَلَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ: أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ جَمِيعًا؟ ← مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1192

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1193

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ، نَشْرُعُ فِيهِ جميعا1. 50:3

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : میں اور نبی اکرم ﷺ ایک ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے تھے ۔ ہم اس میں سے ایک ساتھ غسل شروع کرتے تھے۔

وَرَسُولُ اللَّهِ، مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ، نَشْرُعُ فِيهِ جميعا1. ← کُنْتُ أَغْتَسِلُ ← عَائِشَةَ ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 1193

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1194

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، نَغْتَرِفُ مِنْهُ جميعا2. 1:4

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : میں اور نبی اکرم ﷺ ایک ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے تھے۔ ہم دونون اس میں سے چلو سے پانی لیا کرتے تھے۔

وَرَسُولُ اللَّهِ، مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، نَغْتَرِفُ مِنْهُ جميعا2. ← کُنْتُ أَغْتَسِلُ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1194

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1195

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، يَبْتَدِرُ فيقول: "أبقي لي، أبقي لي" 1. 1:4

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں اور نبی اکرم ﷺ ایک برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ آپ آغاز کرتے ہوئے فرماتے تھے۔ میرے لئے بھی باقی رہنے دینا میرے لئے بھی باقی ( پانی ) رہنے دینا ۔

وَرَسُولُ اللَّهِ، نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، يَبْتَدِرُ فيقول: "أبقي لي، أبقي لي" ← عَائِشَةُ: كُنْتُ ← مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1195

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1196

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَانَ اِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، بَدَاَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ، ثُمَّ تَوَضَّاَ کَمَا یَتَوَضَّاُ لِلصَّلاۃِ، ثُمَّ یُدْخِلُ اَصَابِعَہٗ فِی الْمَاءِ ، فَیُخَلِّلُ بِھَا اُصُوْلَ شَعْرِہِ ، ثُمَّ یَصُبُّ عَلٰی اَرْسِہِ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ بَیَدِہِ ، ثُمَّ یُفِیضُ الْمَاءَ عَلٰی سَائِرِ جَسَدِہِ۔5:2

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ جب غسل جنابت کرتے تھے، تو سب سے پہلے دونوں ہاتھ دھوتے تھے پھر وضو کرتے تھے۔ جس طرح آپ نماز کے لئے وضو کرتے تھےپھر آپ اپنا ہاتھ پانی میں داخل کرتے تھے اس کے ذریعے اپنے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے تھے پھر آپ اپنے سر تین لپ پانی کے بہا لیتے تھے پھر آپ اپنے پورے جسم پر پانی بہا لیتے تھے

مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1196

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1197

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بن أبي سُفْیَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمُ بْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَۃَ تَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَغْتَسِلُ فِیْ حِلَابٍ مِثْلَ ھٰذِہِ وَاَشَارَ اَُبُو عَاصِمٍ بِکَفَّیْہِ یَصُبُّ عَلٰی شق الأیمو ثم یأخذ بکفیہ فیصب علی سائر جسدہ۔5:2

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ حلاب میں غسل کرتے تھے۔ ( اس سے مراد وہ برتن ہے جس میں اونٹنی کا دودھ آجاتا ہے ) وپ اتنا ہوتا تھا ابو عا صم نے اپنے دونون ہاتھوں کے ذریعے اشارہ کر لے یہ بات بتائی۔ نبی اکرم ﷺ اپنے دائیں پہلو پر پانی انڈیلتے تھے پھر اپنے دونون ہاتھوں میں پانی لے کر جسم پر بہا لیتے تھے۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 1197

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1198

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أبو خيثمة، قال: حدثنا بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن رافع عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ اَنَّھَا قَالَتْ لِلنَّبِیِّ ،صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّیْ امْرَاَۃٌ اَشُدُّ ضَفْرَ رَاْسِی ، اَفَاَحُلُّہُ لِغُسْلِ الْجَنَابَۃِ ؟ فَقَالَ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّمَا یَکْفِیکِ اَنْ تَحْثِی عَلٰی رَاْسِکِ ثَلَاثَ حَثَیَاتٍ مِنْ مَّاءٍ ، ثُمَّ تُفِیضِی علیک الماء ، فإذا أنت قد طھرت۔4:3

سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : میں ایسی خاتوں ہوں جس نے اپنے بالوں کی مینڈھیاں کی ہوتی ہیں ، یا باندھی ہوتی ہیں۔ کیا میں جنابت کے لئے انہیں کھول لیا کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے لئے اتنا کافی ہے، اپنے سر پر تین لپ بہا لیا کرو ۔ اپنے پورے جسم پر مانی بہا لو اس طرح تم پاک ہو جاو گی۔

لِلنَّبِیِّ اِنِّیْ امْرَاَۃٌ اَشُدُّ ضَفْرَ رَاْسِی اَفَاَحُلُّہُ لِغُسْلِ الْجَنَابَۃِ ← أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← بن عُيَيْنَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1198

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1199

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ صَفِيَّةَ1، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً2 أَتَتِ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْحَيْضِ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَتَأْخُذُ فِرْصَةً فَتَوَضَّأَ بِهَا وَتَطْهُرَ بِهَا. قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: "تَطَهَّرِي بِهَا". قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ فَاسْتَتَرَ النَّبِيُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِيَدِهِ وقال: سُبْحَانَ اللہِ اطَّھَّرِی بِھَا قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَجْتَذَبْتُ المرأۃ وقلت تتبعین بھا أثر الدم۔1:50

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے آپ سے غسل حیض کے بارے میں دریافت کیا ، تو ب نے اسے ہدایت کی کہ پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل کرے پھر وہ روئی لے کر اس کے ذریعے وضو کرے پاکیزگی حاصل کرے اس نے عرض کی : میں کیسے پاکیزگی حاصل کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ میں اس کے ذریعے کیسے پاکیزگی حا صل کروں تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک چہرے پر رکھ لیا اور فرمایا سبحان اللہ تم اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرو سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور میں نے اسے بتایا کہ تم اس کے ذریعے خون کے نشانات صاف کرو۔

عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 1199

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr