Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3135

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عن بْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" 1. [14:3]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "میت کےگھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔"

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3135

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3136

فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِعَائِشَۃَ ، فَقَالَتْ : وَاللہِ مَا تَحَدِّثُونَ عَنْ کَذَّابِینَ وَلَا مُکَذَّبَیْنِ ، وَاِنَّ لَکُمْ فِیْ الْقُرْآنِ مَا یَکْفِیَکُمْ عَنْ ذٰلِکَ ( وَلَا وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرٰی) (الأنعام :164) وَلٰکِنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ اللہَ یَزِیدُ الْکَافِرَ بِبُکَاءِ اَھْلِہِ عَلَیْہِ

ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہہ کے صاحب زادے ابان کے جنازے میں شریک ہوا وہاں حضرت عبداللہ بن عمر رضی الل عنہما تشریف لائے اور بیٹھ گئے پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تشریف لائے اور بیٹھ گئے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیاتم انہیں رونے سے روکتے نہیں ہو میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے" بے شک میت کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔" تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہہ بھی اس طر ح کی بات ارشاد فرمایا کرتے تھے۔

اِنَّ اللہَ یَزِیدُ الْکَافِرَ بِبُکَاءِ اَھْلِہِ عَلَیْہِ ← ذٰلِکَ وَلَا وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرٰی) (الأنعام وَلٰکِنَّ رَسُوْلُ اللہِ ← کَذَّابِینَ وَلَا مُکَذَّبَیْنِ وَاِنَّ لَکُمْ فِیْ الْقُرْآنِ مَا یَکْفِیَکُمْ ← فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِعَائِشَۃَ فَقَالَتْ وَاللہِ مَا تَحَدِّثُونَ

Hadith 3136

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3136

خَرَجْنَا مَعَ عُمَرَ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِالْبَیْدَاءِ اِذَا رَاکِبٌ فِیْ ظِلِّ شَجَرَۃٍ ، فَقَاسلَ : یَا تَبْکِی فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : یُعَذَّابُ الْمَیِّتِ بِبُکَاءِ اَھْلِہٖ عَلَیْہِ

(حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا) ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہم بیدا کے مقام پر پہنچے، تو وہاں ایک درخت کے سائے میں ایک سوموار موجود تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: اے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جا کر دیکھو یہ سوار کون ہے؟ میں وہاں آیا، تو وہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہہ تھے ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی تھیں انہوں نے مجھ سے فرمایا: میرے پاس صہیب کو بلا کر لاو پھر وہ ان کے ساتھ ہو لیے، یہاں تک کہ مدینہ منورہ تشریف لے آئے وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہہ زخمی ہوئے، تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہہ نے کہا: ہائے میرا بھائی ہائے میرا ساتھی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: اے صہیب تم نہ روؤ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میت کے اہل اخانہ کے اس پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔

Hadith 3136

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3136

فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِعَائِشَۃَ ، فَقَالَتْ : وَاللہِ مَا تَحَدِّثُونَ عَنْ کَذَّابِینَ وَلَا مُکَذَّبَیْنِ ، وَاِنَّ لَکُمْ فِیْ الْقُرْآنِ مَا یَکْفِیَکُمْ عَنْ ذٰلِکَ ( وَلَا وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرٰی) (الأنعام :164) وَلٰکِنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ اللہَ یَزِیدُ الْکَافِرَ بِبُکَاءِ اَھْلِہِ عَلَیْہِ

پھر انہوں نے اس بات کا تذکرہ سّیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا ، تو سّیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ کی قسم! تم لوگ جھوٹے لوگوں کی طرف سے یا جن کو جھٹلایا گیا ہو ان کی طرف سے بات بیان نہیں کر رہے، لیکن تمہارے لیے وہ دلیل کافی ہے، جو قرآن میں ہے اور اس بارے میں ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) " کوئی وزن اٹھانے والا کسی دوسرے کا وزن نہیں اٹھاتا۔" نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا:" بے شک اللہ تعالیٰ کافر شخص کے اہل خانہ کے اس پر رونے کی وجہ سے کافر کے عذاب میں اضافہ کر دیتا ہے۔"

اِنَّ اللہَ یَزِیدُ الْکَافِرَ بِبُکَاءِ اَھْلِہِ عَلَیْہِ ← ذٰلِکَ وَلَا وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرٰی) (الأنعام وَلٰکِنَّ رَسُوْلُ اللہِ ← کَذَّابِینَ وَلَا مُکَذَّبَیْنِ وَاِنَّ لَکُمْ فِیْ الْقُرْآنِ مَا یَکْفِیَکُمْ ← فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِعَائِشَۃَ فَقَالَتْ وَاللہِ مَا تَحَدِّثُونَ

Hadith 3136

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3137

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَمَّا مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ لَهُمْ: لَا تَبْكُوا فَإِنَّ بُكَاءَ الْحَيِّ عَذَابٌ1 لِلْمَيِّتِ قَالَتْ عَمْرَةُ: فَسَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَهُودِيَّةٍ وَأَهْلُهَا يَبْكُونَ عَلَيْهَا: "إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا" 2. [14:3]

عبداللہ بن ابو بکر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہہ کا انتقال ہوا، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے گھر والوں سے کہا: تم لوگ نہ روؤ، کیونکہ زندہ کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتاہے۔ عمرہ نامی خاتون بیان کر تی ہیں: میں نے سّیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر (یعنی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر ) رحم کرے نبی اکرمﷺ نے ایک یہودی عورت اور اس پر رونے والے اس کے اہل خانہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا: " یہ لوگ رو رہے ہیں اور اس عورت کو اس کی قبر میں عذا ب دیا جا رہا ہے۔"

عَمْرَةُ: فَسَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ إِنَّمَا ← لَهُمْ: لَا تَبْكُوا فَإِنَّ بُكَاءَ الْحَيِّ عَذَابٌ1 لِلْمَيِّتِ ← أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَمَّا مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3137

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3138

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : کُلُّ ابْنِ آدَمَ یَاْکُلُہُ التُّوَابُ اِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ ، مِنْہُ خُلِقَ ، وَفِیْہِ یُرَکَّبُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " ابن آدم کے وجود کو مٹی کھا جاتی ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے مخصوص مقام کے، اسی سے اس کی تخلیق ہوئی ہے اور اسی سے اس کی تخلیق ہو ئی ہے اور اسی سے اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 3138

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3139

أخبرنا بن قتيبة حدثنا بن أَبِي السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فِي الْإِنْسَانِ عَظْمٌ لَا تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ أَبَدًا مِنْهُ يُرَكَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالُوا: وَأَيُّ عَظْمٍ ھُوَ یَا رَسُوْلَ اللہِ ؟ قَالَ : عَجْبُ الذَّنَبِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " انسان کے جسم میں ایک ہڈی کا مخصوص حصہ ہے، جسے زمین کبھی نہیں کھاتی اسی سے اسے قیامت کے دن زندہ کیا جائے گا۔" لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہﷺ ! وہ کون سی ہڈی ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: " ریڑھ کی ہڈی کا مخصوص مقام"۔

وَأَيُّ عَظْمٍ ھُوَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← بن قتيبة

Hadith 3139

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3140

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَأْكُلُ التُّرَابُ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ ذَنْبِهِ" قِيلَ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "مِثْلُ حبة خردل منه ينشأ" 2. [66:3]

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " انسان کے پورے وجود کو مٹی کھا جاتی ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے مخصوص مقام کے۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ ! یہ کیا چیز ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہی رائی کے دانے جتنی چیز ہے، جس کے ذریعے اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السمح ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3140

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr