Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3123

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ1 عَنْ عَمْرَةَ بنت عبد الرحمن اَنَّھَا سَمِعَتْ عَائِشَۃَ ، وَذُکِرَ لَھَا اَنَّ عَبْدَاللہِ ، یَقُوْلُ : اِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبْ بِبُکَاءِ الْحَیِّ ، قَالَتْ عَائِشَۃُ : یَغْفِرُ اللہُ لِاَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَمَا اِنَّہٗ یَکْذِبْ وَلٰکِنَّہٗ نَسِیَ اَوْ اَخْطَا ، اِنَّمَا مَرَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی یَھُودِیَّۃٍ تُبْکَی عَلَیْھَا ، فَقَالَ: اِنَّھُمْ یَبْکُوْنَ عَلَیْھَا وَاِنَّھَا لَتُعَذَّبُ فِیْ قَبْرِھَا

عمرہ بنت عبدالرحمٰن بیان کرتی ہیں: انہوں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنا ان کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ یہ کہتے ہیں: میت کو زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمٰن (یعنی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) کی مغفرت کرے انہوں نے جھوٹ نہیں کہا ہے، لیکن وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہو ئی ہے ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ایک یہودی عورت کے پاس سے گزرے تھے جس پر رویا جا رہا تھا آپ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ اس عورت پر رو رہے ہیں اور اس عورت کو اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔

إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ، ← لَھَا اَنَّ عَبْدَاللہِ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 3123

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3124

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عازب عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتًا حِینَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : ھٰذِہِ اَصْوَاتُ الْیَھُودِ تُعَذَّبُ فِیْ قُبُوْرِھَا

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے سورج غروب ہونے کے وقت ایک آواز سنی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ یہودیوں کی آواز ہے جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔ اس بات کی اطلاع کاتذکرہ کہ لوگوں میں سے جس شخص کو قبر میں عذاب دیا جا تا ہے تو جانور اس کی آواز کو سنتے ہیں

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3124

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3125

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ فيه قبور مهم وهم يَقُولُ: "اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ", فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِلْقَبْرِ عَذَابٌ ؟ قَالَ نَعَمْ ، وَاِنَّھُمْ لَیُعَذَّبُوْنَ فِیْ قُبُوْرِ ھِمْ تَسْمَعُہُ الْبَھَائمُ

سیّدہ اُمّ مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے میں ا س وقت بنو نجاز کے ایک باغ میں تھی جس میں ان کی کچھ قبریں تھیں نبی اکرم ﷺ یہ فرما رہے تھے قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا قبر میں عذاب ہو گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں ان لوگوں کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے، جسے جانور بھی سنتے ہیں۔

"اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ", فَقُلْتُ: ← فِي حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ فيه قبور مهم وهم ← دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّ مُبَشِّرٍ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3125

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3126

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ قَالَ: "مَتَى دُفِنَ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ؟ " فَقَالُوا:فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسُرَّ بذلك وقال: لَوْلَا اَنْ لَّا تَدَافَنُوْا، لَدَعَوْتُ اللہَ اَنْ یُسْمِعَکُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ ﷺ بنو نجار کے ایک باغ میں داخل ہوئے وہاں آپ ﷺ نے ایک قبر میں سے آواز سنی ، تو آپ ﷺ نے دریافت کیا: اس مردے کو کب دفن کیا گیا تھا لوگوں نے بتایا: زمانہ جاہلیت میں، تو آپ ﷺ اس بات پر خوش ہو گئے آپ ﷺ نے فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہو کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے ، تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کے عذاب (کی آواز) سنائے۔

"مَتَى دُفِنَ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ؟ فَقَالُوا:فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسُرَّ بذلك ← صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ دَخَلَ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 3126

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3127

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ1 فَوَضَعَهَا ثُمَّ بَالَ إِلَيْهَا فَقَالَ بعض الْقَوْمِ انْظُرُوا اِلَیْہِ یَبُولُ کَمَاتَبُولُ الْمَرْاَۃُ ، قَالَ : فَسَمِعَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : وَیْحَکَ مَا عَلِمْتَ مَا اَصَابَ صَاحِبَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کَانُوْا اِذَا اَصَابَھُمْ شَیْءٌ مِنَ الْبَوْلِ ، قَرَضُوا بِالْمَقَارِیضِ فَنَھَا ھُمْ ، فَعُذِّبَ فِیْ قَبْرِہِ

حضرت عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ ﷺ کے دست اقدس میں ڈھال نما کوئی چیز تھی آپ ﷺ نے اسے رکھا اور اس کی طرف رخ کر کے پیشاب کیا۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا: ان کی طرف دیکھو یہ یوں پیشاب کر رہے ہیں ، جس طرح عورت پیشاب کرتی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اس کی بات سن لی اور ارشاد فرمایا: تمہارا ستیا ناس ہو کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے شخص کے ساتھ کیا ہوا تھا ان لوگوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے جسم پر پیشاب لگ جاتا تھا ، تو وہ سے قینچی کے ذریعے کاٹ دیتے تھے ایک شخص نے انہیں اس سے منع کیا، تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔

فَسَمِعَہُ النَّبِیُّ ← بعض الْقَوْمِ انْظُرُوا اِلَیْہِ یَبُولُ کَمَاتَبُولُ الْمَرْاَۃُ ← خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ1 فَوَضَعَهَا ثُمَّ بَالَ إِلَيْهَا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ، ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3127

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3128

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ: "إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ" ثُمَّ قَالَ: "بَلَى أَمَا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَسْعَى بِالنَّمِيمَةِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ" ثُمَّ أَخَذَ عُودًا فَكَسَرَهُ بِاثْنَيْنِ ثُمَّ غَرَزَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى قَبْرٍ ثم قَالَ : لَعَلَّہُ یَخَفِّفُ عَنْھُمَا الْعَذَابَ مَالَمْ َیَیْبَسَا

): حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور ان دونوں کو (بظاہر) کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں جہاں تک ان میں سے ایک کا تعلق ہے، تو یہ چغلی کیا کرتا تھا اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے، تو یہ پیشاب سے نہیں بچتا تھا پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک لکڑی لی پھر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ان میں سے ہر ایک کی قبر پر اسے گاڑھ دیا پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے ایسا اس لیے کیا ہے، تاکہ جب تک یہ دونوں خشک نہیں ہو جاتیں ان دونوں کے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔

مَرَّ النَّبِيُّ عَلَى قَبْرَيْنِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3128

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3129

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بن أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مجاهد عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرَیْنِ فَقَالَ : اِنَّ ھٰذَیْنِ یُعَذَّبَانِ فِیْ غَیْرِ کَبِیرٍ : فِی النَّمِیْمَۃِ وَالْبَوْلِ ، ثُمَّ دَعَا بِجَرِیْدَۃٍ فَکَسَرَھَا ، فَوَصَلَھَا عَلَیْھِمَا ، وَقَالَ: عَسیٰ اَنْ یُخَفَّفَ عَنْھُمَا مَا لَمْ یَیْبَسَا۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : سَمِعَ ھٰذَا الْخَبَرَ مُجَاھِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَمِعَہٗ عَنْ طَاوْسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس، ، فَالطَّرِیْقَانِ جَمِیْعًا مَحْفُوْظَانَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ دو قبرون کے پاس سے گزرے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان دونوں کو (بظاہر) کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں رہا انہیں چغلی کرنے اور پیشاب (سے نہ بچنے ) کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک شاخ منگوائی اسے توڑا اور ان دونوں می قبروں پر لگا دیا اور ارشاد فرمایا: ( میں نے ایسا ا س لیے کیا ہے)، تا کہ جب تک یہ دونوں خشک نہیں ہو تیں ان کے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) مجاہد نے یہ روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت طاوس کے حوالے سے حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی ہے۔ تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← بن أَبِي عَدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 3129

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3130

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عن نافع عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَیْہِ مَقْعَدُہُ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ ، اِنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ ، فَمَنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ ، وَاِنْ کَانَ مَنْ اَھْلِ النّارِ ، فَمَنْ اَھْلِ النَّارِ ، یُقَالُ : ھٰذَا مَقْعَدُکَ حَتّٰی یَبْعَثَکَ اللہُ اِلَیْہِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے، تو اس کا ٹھکانہ صبح و شام اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ اہل جنت میں سے ہو، تو اہل جنت کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور اگر وہ اہل جہنم مین سے ہو، تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور اسے یہ کہا جاتا ہے یہ تمہارا ٹھکانہ ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی طرف بھیج دے گا۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 3130

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3131

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْلَا اَنْ لَّا تَدَاقْنُوْا لَدَعَوْتُ اللہَ اَنْ یُسْمِعَکُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ

): حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہو کہ تم ایک دوسرے کو دفن کر نا چھوڑ و گے، تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کا عذاب سنائے"۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3131

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3132

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عُمَرَ لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ1 عَلَيْهِ حَفْصَةُ فَقَالَ لَهَا عُمَرُ: يَا حَفْصَةُ أَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: "إن المعول عليه يعذب" فقالت: بلى2. [56:3]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: جب حضرت عمر رضی الل عنہہ زخمی ہوئے، تو سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان پر واویلہ کیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے ان سے فرمایا : اے حفصہ ! کیا تم نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے، جس پر واویلہ کیا جائے اسے عذاب دیا جائے گا، تو سّیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی ہاں۔

بَلٰی ← «إِنَّ الْمُعْوَلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← لَهَا عُمَرُ: يَا حَفْصَةُ أَمَا ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عُمَرَ لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ1 عَلَيْهِ حَفْصَةُ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3132

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3133

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ بن أبي مليكة عن بن عَبَّاسٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْكَافِرَ لِيَزْدَادَ عذابا ببعض بكاء أهله عليه" 1. [56:3]

): حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سّیدہ عائشہ رضی الل عنہا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " کافر کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے کافر کے عذاب میں اضافہ ہوتا ہے۔"

عَائِشَةَ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← بن أبي مليكة ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3133

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3134

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ بِحَرَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ" فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ: مَنْ قَالَهُ قَالَ: عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ2. [14:3]

محمد بن سیرین روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔" راوی کہتے ہیں: میں نے محمد بن سیرین سے دریافت کیا: یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہہ نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے بیان کی ہے۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُبَيْحٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ بِحَرَّانَ

Hadith 3134

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr