صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3123
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ1 عَنْ عَمْرَةَ بنت عبد الرحمن اَنَّھَا سَمِعَتْ عَائِشَۃَ ، وَذُکِرَ لَھَا اَنَّ عَبْدَاللہِ ، یَقُوْلُ : اِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبْ بِبُکَاءِ الْحَیِّ ، قَالَتْ عَائِشَۃُ : یَغْفِرُ اللہُ لِاَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَمَا اِنَّہٗ یَکْذِبْ وَلٰکِنَّہٗ نَسِیَ اَوْ اَخْطَا ، اِنَّمَا مَرَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی یَھُودِیَّۃٍ تُبْکَی عَلَیْھَا ، فَقَالَ: اِنَّھُمْ یَبْکُوْنَ عَلَیْھَا وَاِنَّھَا لَتُعَذَّبُ فِیْ قَبْرِھَا
عمرہ بنت عبدالرحمٰن بیان کرتی ہیں: انہوں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنا ان کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ یہ کہتے ہیں: میت کو زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمٰن (یعنی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) کی مغفرت کرے انہوں نے جھوٹ نہیں کہا ہے، لیکن وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہو ئی ہے ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ایک یہودی عورت کے پاس سے گزرے تھے جس پر رویا جا رہا تھا آپ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ اس عورت پر رو رہے ہیں اور اس عورت کو اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔
إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ، ← لَھَا اَنَّ عَبْدَاللہِ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،
Hadith 3123
