صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ النَّوَافِلِ · حديث 2475
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ [ص:227] الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الْمَغْرِبِ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الْعِشَاءِ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا»، قَالَ: فَقُلْتُ: قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا؟ قَالَتْ: «يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا»، قُلْتُ: فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا؟ قَالَتْ: «إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا، ثُمَّ يُصَلِّي قَبْلَ الْفَجْرِ رَكْعَتَيْنِ». [5: 34]
عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے نبی اکرمﷺ کی نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرمﷺ ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کرتے تھے‘ پھر آپ تشریف لے جاتے تھے اور نماز ادا کرتے تھے۔ پھر آپ واپس آکر دو رکعات ادا کرتے تھے‘ پھر آپ مغرب کی نماز کےلئے تشریف لے جاتے تھے‘ پھر آپ واپس آکر دو رکعات ادا کرتے تھے۔ پھر آپ عشاء کےلئے تشریف لے جاتے تھے‘ پھر آپ واپس آکر دو رکعات ادا کرتے تھے۔ پھر آپ رات کے وقت نو رکعات ادا کرتے تھے میں نے دریافت کیا: آپ یہ بیٹھ کر ادا کرتے تھے یا کھڑے ہو کر ادا کرتے تھے۔ سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: آپ رات کے وقت کھڑے ہو کر طویل نماز ادا کیا کرتے تھے میں نے دریافت کیا: جب آپ کھڑے ہو کر قرأت کرتے تھے ( تو رکوع کیسے کرتے تھے ) سیّدہ عائشہؓ نے جواب دیا جب آپ کھڑے ہو کر تلاوت کرتے تھے‘ تو رکوع میں بھی کھڑے ہو کر جاتے تھے اور جب آپ بیٹھ کر تلاوت کرتے تھے‘ تو رکوع بھی بیٹھے ہوئے کر لیتے تھے اس کے بعد آپ فجر سے پہلے دو رکعات( سنت ) ادا کرتے تھے۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ الصَّیْرَفِیُّ،
Hadith 2475
