صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 545
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، [ص:303] قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ الْأَنْصَارِيَّ، أَنَّ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ سَأَلَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ: أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا فَفَعَلَ، وَخَتَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ بِدَفْعِهِ إِلَيْهِمَا فَأَمَّا عُيَيْنَةُ، فقَالَ: مَا فِيهِ؟، فقَالَ: فِيهِ مَا أُمِرْتُ بِهِ فَقَبَّلَهُ وَعَقَدَهُ فِي عِمَامَتِهِ، وَأَمَّا الْأَقْرَعُ، فقَالَ: أَحْمِلُ صَحِيفَةً لَا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ؟ فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَتِهِ فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ، فقَالَ: «أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟ » فَابْتُغِيَ فَلَمْ يُوجَدْ، فقَالَ [ص:304] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ ارْكَبُوهَا صِحَاحًا، وَكُلُوهَا سِمَانًا، كَالْمُتَسَخِّطِ آنِفًا، إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا يُغْنِيهِ؟، قَالَ: «مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ»: أَرَادَ بِهِ عَلَى دَائِمِ الْأَوْقَاتِ وَفِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْكَبُوهَا صِحَاحًا» كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّاقَةَ الْعَجْفَاءَ الضَّعِيفَةَ يَجِبُ أَنْ يُتَنَكَّبَ رُكُوبُهَا إِلَى أَنْ تَصِحَّ، وَفِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَكُلُوهَا سِمَانًا» دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ النَّاقَةَ الْمَهْزُولَةَ الَّتِي لَا نِقْيَ لَهَا يُسْتَحَبُّ تَرْكُ نَحْرِهَا إِلَى أَنْ تَسْمَنَ. [2: 49]
حضرت سہل بن حنظلہ انصاری ؓ بیان کرتے ہیں: عیینہ اور اقراع نے نبی اکرمﷺ سے کوئی چیز مانگی ۔ نبی اکرمﷺ نے حضرت معاویہ ؓ کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان کے لئے وہ چیز لکھ دیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر نبی اکرمﷺ نے اس پر مہر لگا دی۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ان دونوں کے سپرد کر دیں عیینہ نے دریافت کیا۔ اس میں کیا ہے ‘ تو حضرت معاویہ ؓ نے جواب دیا۔ اس میں وہ کچھ تحیری ہے ‘ جو مجھے حکم دیا گیا تھا۔ عیینہ نے اسے قبو کر لیا اور اسے اپنے عمامے میں باندھ لیا ‘ لیکن اقرع نے کہا : میں ایک ایسا صحیفہ اٹھا کر لے جاؤں جس کے بارے میں مجھے پتہ ہی نہیں ہے کہ اس میں کیا تحریر ہے ۔ یہ تو دھوکے کے صحیفے کی مانند ہو گا۔ حضرت معاویہ ؓ نے نبی اکرمﷺ کو ان دونوں کے قول کے بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرمﷺ اپنے کسی کام کے سلسلے میں باہر تشریف لائے آپ ایک اونٹ کےپاس سے گزرے جو مسجد کے دروازے کے پاس بندھا ہوا تھا۔ یہ دن کے ابتدائی حصے کی بات ہے ‘ جب آّپ دن کے آخری حصے میں وہاں سے گزرے‘ تو ہوہ اونٹ اسی حالت میں موجود تھا۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ اسے تلاش کیا گیا۔ وہ نہیں ملا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ان جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سےڈرو۔ ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب یہ تندرست ہوں اور انہیں اس وقت کھاؤ جب ی موٹے تازے ہوں پھر نبی اکرمﷺ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : جو شخص کوئی چیز مانگے اور اس کے پاس وہ چیز موجو د ہو‘ جو اسے بے نیاز کر دے‘ تو وہ جہنم کے انگارے زیادہ کرتا ہے اس شخص نے عرض کی :یا رسول اللہ ! جو چیز اسے بے نیاز کر دے اس سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس کا صبح اور شام کا کھانا۔ ( امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ اس کا صبح اور شام کا کھانا ‘‘ اس سے مراد یہ ہے : ہمیشہ ایسا کرے۔ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ تم صحیح ہونے کی حالت میں ان پر سواری کرو‘‘۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بیمار اور کمزور اونٹنی کے حوالے سےیہ بات لازم ہے :جب تک وہ تندرست نہیں ہو جاتی اس پر سواری کرنے سے گریز کیا جائے‘ اور نبی اکرمﷺکا یہ فرمان : ’’ تم انہیں اس وقت کھاؤ جب یہ موٹے تازے ہو جائیں‘‘۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے ‘ ایسی کمزور اونٹنی جس کے اندر گوا ہی نہیں ہو ‘ اس کے حوالے سے یہ بات مستحب ہے کہ اس کو اس وقت تک قربان نہ کیا جائے ‘ جب تک وہ موٹی تازی نہیں ہو جاتی۔
أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Hadith 545
