صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 533
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً، فَرَّجَ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ [ص:292] كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». [1: 2]
سالم اپنے والد ( حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ) کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرتا وہ اسے اس کے حال پر نہیں چھوڑتا ۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرتا ہے ‘ جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف کو دور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی پریشانیوں کو دور کرے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرےگا‘‘۔
أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← لَيْثٌ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Hadith 533
