Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 533

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً، فَرَّجَ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ [ص:292] كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». [1: 2]

سالم اپنے والد ( حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ) کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرتا وہ اسے اس کے حال پر نہیں چھوڑتا ۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرتا ہے ‘ جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف کو دور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی پریشانیوں کو دور کرے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرےگا‘‘۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← لَيْثٌ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 533

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 534

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَا قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ وَأَبِي سُورَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "من سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا والآخرة ومن فرج عن مسلمذكر تَفْرِيجِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا الْكَرْبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّنْ كَانَ يُفَرِّجُ الْكَرْبَ فِي الدُّنْيَا عَنِ الْمُسْلِمِينَ [534] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَا قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ وَأَبِي سُورَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَۃً فَرَّجَ اللہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَاللہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کان العبد فی عون أخیہ ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : ’’جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی پریشانی کو دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی پریشانیوں کو دور کرے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں مشغول رہتا ہے ‘ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ وَأَبِي سُورَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، بِعُكْبَرَا،

Hadith 534

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 535

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ [ص:294] الْجُعْفِيُّ *، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ: {عَبَسَ وَتَوَلَّى} [عبس: 1] فِي ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، قَالَتْ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُولُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرْشِدْنِي، قَالَتْ: وَعِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرِضُ عَنْهُ وَيُقْبِلُ عَلَى الْآخَرِ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فُلَانُ أَتَرَى بِمَا أَقُولُ بَأْسًا» فَيَقُولُ: لَا، فَنَزَلَتْ {عَبَسَ وَتَوَلَّى} [عبس: 1]. [5: 4]

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتے ہیں: یہ آیت ’’ اس نے ماتھے پر بل ڈال لیا اور منہ پھیر لیا ‘‘ یہ حضرت عبد اللہ بن ام مکتومؓ نابینا کے بارے میں نازل ہوئی ۔ سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے: اے اللہ کے نبی ! آپ میری رہنمائی کیجئے سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ۔ اس وقت نبی اکرمﷺ کےپاس مشرکین کے بڑوں میں سے ایک فرد بیٹھا تھا۔ نبی اکرمﷺ ان سے منہ پھیرتے رہے اور اس کی طرف متوجہ رہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے فلاں ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں جو بات کہہ رہا ہوں اس میں کوئی حرج ہے ‘ تو وہ جواب دیتا :جی نہیں ‘ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ’’ اس نے ماتھے پر بل ڈال لئے اور منہ پھیر لیا)

لَا، فَنَزَلَتْ ← وَعِنْدَ النَّبِيِّ رَجُلٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يُعْرِضُ عَنْهُ وَيُقْبِلُ عَلَى الْآخَرِ، ← يَا نَبِيَّ الله أرْشِدْنِي، ← أتَى النَّبِيَّ فَجَعَلَ ← أُنْزِلَتْ: فِي ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 535

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 536

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عن سمي عن أبي صالحذكر رَجَاءِ الْغُفْرَانِ لِمَنْ نَحَّى الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ [536] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشِیْ بِطَرِیْقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِیْقِ فَاَخَذَہُ فَشَکَرَ اللہُ لَہٗ فَغَفَرَ لَہٗ

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ایک شخص ایک مرتبہ راستے میں جا رہاتھا اسے راستے میں کانٹوں کی ایک شاخ نظر آئی اس نے اسےلیا ( اور ایک طرف کر دیا) ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت کر دی ‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں : ) اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بلندو برتر ہے کہ وہ اپنے بندے کا شکر ادا کرے‘ کیونکہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ بھلائی کر کے ان کے ساتھ آغاز کرتاہے ‘ اور پھر اسے ان پر مکمل کر کے ان پر فضل کرتا ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کے عمل سے راضی ہو جانا ‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شکر شمار ہو گا‘ جو بندے کے اس فعل پر ہو گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، ← طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ ← أبي صالحذكر رَجَاءِ الْغُفْرَانِ لِمَنْ نَحَّى الْأَذَى ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 536

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 537

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ" 1. [3: 6]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ایک مرتبہ ایک شخص ایک راستے سے جا رہا تھا اسے راستے میں کانٹوں کی ٹہنی ملی۔ اس نے اسے پرے کر دیا‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت کر دی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 537

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 538

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ الْكَتَّانِيُّ بِالْأُبُلَّةِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ من الخير إلا غصن شوك كانذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي نَحَّى غُصْنَ الشَّوْكِ عَنِ الطَّرِيقِ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا غَيْرَهُ [538] أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ الْكَتَّانِيُّ بِالْأُبُلَّةِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ إِلَّا غُصْنُ شَوْكٍ كَانَ عَلَی الطَّرِیْقِ کَانَ یُؤْذِی النَّاسَ فَعَزَلَہٗ فَغْفِرَلہ ۔(6:3)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’تم سے پلے لوگوں میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا ‘ تو اس کے نامی اعمال میں کانٹو کی ٹہنی کے علاوہ اور کوی بھلائی نہیں ملی ۔ وہ ٹہنی ایک راستے میں پڑی ہوی تھی‘ تو لوگوں کو اذیت دیتی تھی ‘ اس شخص نے اسے پرے کر دیا تھا‘ تو اس شخص کی مغفرت ہو گئی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ الْكَتَّانِيُّ بِالْأُبُلَّةِ

Hadith 538

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 539

أخبرنا بن قتيبة حدثنا بحر بن نصر أخبرنا بن وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السمح حدثه عن بن حُجَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "غُفِرَ لِرَجُلٍ أَخَذَ غُصْنَ شَوْكٍ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ ذَنْبُهُ ما تقدم من ذنبه وما تأخر" 2. [3: 6]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ایک ایسے شخص کے گزشتہ اور آئندہ تمام گناہوں کی مغفرت ہو گئی’ جس نے لوگوں کے راستے میں سے کانٹو ں کی ٹہنی لی تھی ( اور ایک طرف کر دی تھی ) ‘‘۔

طَرِيقِ النَّاسِ ذَنْبُهُ ما تقدم من ذنبه وما تأخر" ← "غُفِرَ لِرَجُلٍ أَخَذَ غُصْنَ شَوْكٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن حُجَيْرَةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السمح ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← بن قتيبة

Hadith 539

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 540

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ بن عَجْلَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صالحذكر رَجَاءِ الْغُفْرَانِ لِمَنْ أَمَاطَ الْأَذَى عَنِ الْأَشْجَارِ وَالْحِيطَانِ إِذَا تَأَذَّى الْمُسْلِمُونَ بِهِ [540] أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ بن عَجْلَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَعَ َجُلٌ لَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ غُصْنَ شَوْکٍ عَنِ الطَّرِیِْ اِمَّا کَانَ فِیْ شَجَرَۃٍ فَقَطَعَہٗ فَاَلْقَاہُ وَاِمَّا کَانَ مَوْضُوعًا فَاَطَہُ فَشَکَرَ اللہُ لَہٗ بِھَا فَاَدْ خَلَہُ الْجَنَّۃَ

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ایک شخص نے راستے سے کانٹوں کی شاخ ایک طرف کی دی۔ اس شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا ‘ یا تو شاخ درخت میں لگی ہوئی تھی اور اس نے کااسے کاٹ کر ایک طرف رکھ دیا تھا یا پھر راستے میں رکھی ہوئی تھی ‘ تو اس نے اسےپرے کر دیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا‘‘۔ امام ابن حبان فرماتے ہیں: روایت کے یہ الفاظ ’’ اس نے کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا تھا ‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے مسلمان ہونے کے علاوہ اور کوئی نیک کام نہیں کیا تھا۔

نَزَعَ َجُلٌ لَمْ یَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ غُصْنَ شَوْکٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن عَجْلَانَ ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ← الْأَشْجَارِ وَالْحِيطَانِ إِذَا تَأَذَّى الْمُسْلِمُونَ بِهِ ← أَبِي صالحذكر رَجَاءِ الْغُفْرَانِ لِمَنْ أَمَاطَ الْأَذَى ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن عَجْلَانَ ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ

Hadith 540

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 541

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ2 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَةَ عَنْ أَبِي الْوَازِعِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عمل اَنْتَفِعُ بِہٖ قَالَ نَحِّ الْاَذَی عَنْ طَرِیْقِ المسلمین

حضرت ابو بکرہؓ بیان کرتے ہیں:میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! آپ کسی ایسے عمل کی طرف رہنمائی کیجئے جس کےذریعے میں نفع حاصل کروں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو پرے کر دو۔ ( امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) ابان بن صمعہ نامی راوی عتبہ ٖغلام کے والد ہیں ‘ اور ابو وازع راوی کا نام جابر بن عمرو ہے ‘ اور ابو برزہ کا نام نضلہ بن عبید ہے۔

قُلْتُ ← أَبِي بَرْزَةَ: ← أَبِي الْوَازِعِ ← أَبَانَ بْنِ صَمْعَةَ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 541

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 542

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ قَالَ حَدَّثَنَا بن وهب قال أخبرنا يونس عن بن شِهَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الضَّالَّةُ تردذكر إِعْطَاءِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا الْأَجْرَ لِمَنْ سَقَى كل ذات كبد حرى [542] أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ قَالَ حَدَّثَنَا بن وهب قال أخبرنا يونس عن بن شِهَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الضَّالَّةُ ترد عَلٰی حَوْضِی فَھَلْ فِیْھَا اَجْرٌ اِنْ سُقَیْتُھَا قَالَ اسْقِھَا فَاِنَّ فِیْ کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ حری أجر ۔(2:1)

حضرت محمود بن ربیعؓ بیان کرتے ہیں: حضرت سراقہ بن جعشمؓ نے عرض کی :یا رسول اللہ ! کوئی گم شدہ اونٹ میرے حوض پر آجاتا ہے ‘ تو اگر میں اسے پانی پلا دیتا ہوں ‘ تو کیا اس کا اجر کو ہو گا؟ نبی اکرمﷺ نےفرمایا : ’’ تم اسے پانی پلاد و‘ کیونکہ ہر جاندار کے ساتھ اچھائی کر نے کا اجر ہوتا ہے۔

مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ، ← بن قتيبة

Hadith 542

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 543

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا الليث عن بن عجلان عن القعقاع بن حكيم وزيد عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قال "دَنَا رَجُلٌ إِلَى بِئْرٍ فَنَزَلَ فَشَرِبَ مِنْهَا وَعَلَى الْبِئْرِ كَلْبٌ يَلْهَثُ فَرَحِمَهُ فَنَزَعَ إِحْدَى خُفَّيْهِ فَغَرَفَ لَهُ فَسَقَاهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فأدخله الجنة" 1. [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ ایک شخص ایک کنویں کے پاس ہوا‘ وہ اس کے اندر اترا ‘ اس نے اس میں سےپانی پی لیا ۔ اس کنویں کے کنارے پر ایک کتا ہانپ رہا تھا۔ اس شخص کو اس پر رحم آیا ۔ اس نےپانے ایک موزے کو اتارا او ر اس میں پانی بھر کر اس کتے کو پلا دیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اسےجنت میں داخل کر دیا ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← القعقاع بن حكيم وزيد ← بن عَجْلَانَ ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، بِالْفُسْطَاطِ،

Hadith 543

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 544

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ، [ص:302] وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ، اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا، فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ، يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبُ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلَ الَّذِي بَلَغَ بِي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ، فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ، فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟، فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ». [3: 6]

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ایک مرتبہ ایک شخص کسی راستے پر جا رہا تھا۔ اسے شدید پیاس محسوس ہوئی۔ اسے ایک کنواں ملا وہ اس کے اندر اتر گیا۔ اس نے اس میں سے پانی پیا اور جب وہ باہر نکلا‘ تو وہاں ایک کتا ہانپ رہا تھا۔ وہ پیاس کی شدت کی وجہ سے زمین چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے سوچا اس کتے کو بھی اس طرح پیا لگی ہو گی ‘ جس طرح مجھے لگی تھی۔ وہ کنویں کے اندد اترا اس نےاپنے موزے میں پانی بھرا پھر اس نے منہ کےذریعے اس موزے کو پکڑا اور اوپر چڑھ آیا پھر اس نے کتےکو پانی پلایا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت کر دی۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا جانوروں ( کے ساتھ اچھا سلوک کرنے ) پر ہمیں اجر ملےگا ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا :ہر جاندار کے ساتھ ( اچھا سلوک کرنے پر ) اجر ملتا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ، [ص:302] وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 544

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr