Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4376

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنْذِرُوا، فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يَرُدُّ مِنَ الْقَدْرِ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگ نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر کی کسی چیز کو نہیں بدلتی ہے اس کے ذریعے کنجوس سے مال نکلوایا جاتا ہے“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 4376

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4377

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ النَّذْرُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَلَكِنْ يُسْتَخْرَجُ مِنَ الْبَخِيلِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”نذر کسی چیز کو ختم نہیں کرتی ہے اس کے ذریعے کنجوس سے مال نکلوایا جاتا ہے “۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 4377

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4378

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ ابْنًا لِي كَانَ بِأَرْضِ فَارِسَ فَوَقَعَ بِهَا الطَّاعُونُ، فَنَذَرْتُ إِنِ اللَّهُ نَجَّى لِي ابْنِي أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ، وَإِنَّ ابْنِي قَدِمَ فَمَاتَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنَّمَا نَذَرْتُ أَنْ يَمْشِيَ ابْنِي، وَإِنَّ ابْنِي قَدْ مَاتَ، فَغَضِبَ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ: أَوَلَمْ تُنْهَوْا عَنِ النَّذْرِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ [ص:223] النَّذْرَ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا، وَلَا يُؤَخِّرُهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يَنْزِعُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ»، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُلْتُ لِلرَّجُلِ: انْطَلِقْ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَسَلْهُ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقُلْتُ: مَاذَا قَالَ لَكَ؟ قَالَ: امْشِ عَنِ ابْنِكَ، قَالَ: أَيُجْزِئُ عَنِّي ذَلِكَ، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: «أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى ابْنِكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ»، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَامْشِ عَنِ ابْنِكَ

سعید بن حارث بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے ابو عبدالرحمٰن ! میرا ایک بیٹا فارس کی سرزمین پر موجود تھا وہاں طاعون پھیل گیا میں نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو نجات عطا کر دی تو وہ خانہ کعبہ تک پیدل چل کر جائے گا پھر میر بیٹا (زندہ سلامت) آ گیا، لیکن اس کا انتقال ہو گیا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تم اپنی نذر کو پورا کرو تو اس شخص نے ان سے کہا میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میرا بیٹا پیدل جائے گا میرے بیٹے کا تو انتقال ہو گیا ہے، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور بولے: کیا تم لوگوں کو نذر ماننے سے منع نہیں کیا گیا میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک نذر کسی بھی چیز کو آگے یا پیچھے نہیں کرتی ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے کنجو س سے مال الگ کر دیتا ہے “۔ (راوی بیان کرتے ہیں) جب میں نے یہ صورت حال دیکھی تو میں نے اس شخص سے کہا تم سعید بن مسیّب کے پاس جاؤ اور ان سے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرو وہ ان کے پاس گیا اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا: پھر وہ واپس آیا، تو میں نے دریافت کیا: انہوں نے تمہیں کیا جواب دیا ہے: تو اس نے بتایا : انہوں نے یہ کہا ہے، تم اپنے بیٹے کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ اس نے دریافت کیا: کیا یہ میرے لیے جائز ہو گا، تو سعید بن مسیّب نے کہا: تمہاری کیا رائے ہے، اگر تمہارے بیٹے کے ذمے قرض ہوتا اور تم اسے ادا کر دیتے تو کیا س کی طرف سے ادا ہو جاتا میں نے جواب دیا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: تم اپنے بیٹے کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ۔

كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 4378

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4379

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْفِ بِنَذْرِكَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ وہ مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کریں گے تو نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا: تم اپنی نذر کو پورا کرو۔

نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 4379

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4380

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ، إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ آپﷺپر درود نازل کرے میں نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنی نذر کو پورا کرو۔

ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4380

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4381

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، [ص:226] عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذَرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافِ يَوْمٍ، «فَأَمَرَهُ بِهِ»، قَالَ: فَانْطَلَقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَبَعَثَ مَعِي بِجَارِيَةٍ أَصَابَهَا مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ، قَالَ: فَجَعَلْتُهَا فِي بُيُوتِ الْأَعْرَابِ حَتَّى نَزَلْتُ، فَإِذَا أَنَا بِسَبْيِ حُنَيْنٍ، فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ يَقُولُونَ: قَدْ أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ: اذْهَبْ فَأَرْسِلْهَا، قَالَ: فَذَهَبْتُ فَأَرْسَلْتُهَا قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَلْفَاظُ أَخْبَارِ ابْنِ عُمَرَ مُصَرِّحَةٌ، أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ اعْتِكَافَ لَيْلَةً إِلَّا هَذَا الْخَبَرَ، فَإِنَّ لَفْظَهُ أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ اعْتِكَافَ يَوْمٍ، فَإِنْ صَحَّتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ يَوْمًا أَرَادَ بِهِ [ص:227] بِلَيْلَتِهِ، وَلَيْلَةً أَرَادَ بِهَا بِيَوْمِهَا، حَتَّى لَا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیا ن کی ہے، جب نبی اکرمﷺ حنین سے واپس تشریف لائے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ سے اس نذر کے بارے میں دریافت کیا: جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں ایک دن کا اعتکاف کرنے کے بارے میں مانی تھی، تو نبی اکرمﷺ نے انہیں اسے پورا کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرمﷺ کے آگے روانہ ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے میرے ہمراہ ایک کنیزبھیجی تھی جو حنین کے قیدیوں میں سے تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اسے دیہاتیوں کے گھروں میں ٹھہرا دیا، یہاں تک کہ جب میں نے پڑاؤ کیا، تو میرے سامنے حنین کے کچھ قیدی آئے جو دوڑتے ہوئے باہر نکلے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اللہ کے رسول نے ہمیں آزاد کر دیا ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم جاؤ اور اس کنیز کو آزاد کر دو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو میں گیا اور میں نے اسے آزاد کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) روایت کے الفاظ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کی صراحت کی ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی او ریہ بات اسی روایت میں منقول ہے، کیونکہ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی ، تو اگر یہ الفاظ مستند طور پر ثابت ہو جائیں، تو اس بات کا احتمال موجود ہو گا کہ یہاں دن سے مراد یہ ہے: اس دن کی رات کے ہمراہ (اعتکاف کیا جائے) اور جہاں رات کا لفظ استعمال ہوا س سے مراد یہ ہو کہ اس کا دن ہمراہ ہو گا اس طرح ان دونوں روایتوں کے درمیان کوئی تضاد باقی نہیں رہے گا۔

فَذَهَبْتُ فَأَرْسَلْتُهَا ← عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ: اذْهَبْ فَأَرْسِلْهَا، ← بِسَبْيِ حُنَيْنٍ، فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ يَقُولُونَ: قَدْ أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← فَجَعَلْتُهَا فِي بُيُوتِ الْأَعْرَابِ حَتَّى نَزَلْتُ، فَإِذَا ← فَبَعَثَ مَعِي بِجَارِيَةٍ أَصَابَهَا مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ، ← فَانْطَلَقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ← نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافَ يَوْمٍ فَأَمَرَهُ بِهِ» ← لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ ← نَافِعٍ، [ص:313] ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 4381

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4382

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنِ الْهِقْلِ بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْيَمَانِ الْمَدَنِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ - يَعْنِي إِلَى الْكَعْبَةِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لِغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ»، وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ وَاللَّيْثُ، وَالْهِقْلُ وَالْأَوْزَاعِيُّ كُلُّهُمْ أَقْرَانٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْيَمَانِ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَحُمَيْدٌ أَقْرَانٌ، رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ، قَالَهُ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللَّهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر چل رہا تھا نبی اکرمﷺ نے اس کے بارے میں دریافت کیا: تو لوگوں نے بتایا: اس نے یہ نذر مانی ہے ، وہ پیدل چل کر جائے گا (راوی کہتے ہیں: یعنی خانہ کعبہ تک پیدل چل کر جائے گا) تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے آپ کو تکلیف دینے سے بے نیاز ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ سوا ر ہو جائے۔ لیث، ہقل اور اوزاعی یہ سب ایک ہی زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن یمان، یحییٰ بن سعید اور حمید ایک زمانے سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے ایک دوسرے سے روایات نقل کی ہوئی ہیں یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْيَمَانِ الْمَدَنِيُّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 4382

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4383

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ فَقَالَ: «مَا لَهُ؟ »، قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ مَشْيِ هَذَا فَلْيَرْكَبْ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر جا رہا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا: اس نے پیدل چل کر حج کے لیے جانے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے اسے سوار ہو جانا چاہئے۔

مَشْيِ هَذَا فَلْيَرْكَبْ» ← نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ ← رَأَى النَّبِيُّ رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ فَقَالَ: «مَا لَهُ؟ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4383

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4384

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، قَالَ: «فَمُرْهَا فَلْتَرْكَبْ وَلْتُكَفِّرْ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «يُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً بِالْيَمِينِ، أَوِ النَّذْرِ، لَا كَفَّارَةَ فِيهِ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میری بہن نے اپنے ذمے یہ نذر مانی ہے ، وہ پیدل حج کے لیے جائے گی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے کہہ دو کہ وہ سوار ہو جائے اور کفارہ دیدے۔ (امام ابن حبا ن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس بات کا احتمال موجود ہے، اس عورت نے پیدل چل کر حج کے لیے جانے کی یا تو قسم اٹھائی تھی یا نذر مانی تھی تا ہم نذر میں کفارہ نہیں ہوتا۔

«فَمُرْهَا فَلْتَرْكَبْ وَلْتُكَفِّرْ» ← إِنَّ أُخْتِي جَعَلَتْ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← شَرِيکٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4384

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4385

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو يَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذْ رَأَى رَجُلًا قَائِمًا فِي الشَّمْسِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ فِي الشَّمْسِ فَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلُّ، وَلَا يَتَكَلَّمُ، وَلَا [ص:231] يُفْطِرُ، فَقَالَ: «مُرُوهُ فَلْيَقْعُدْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيَتَكَلَّمْ، وَلْيَصُمْ، وَلْيُفْطِرْ (*)».

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ خطبہ دے رہے تھے اسی دوران آپﷺ نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑے ہوئے دیکھا تو اس کے بارے میں دریافت کیا: لوگوں نے بتایا: یہ ابواسرائیل ہے اس نے یہ نذر مانی ہے، دھوپ میں کھڑا رہے گا اور بیٹھے گا نہیں اور سائے میں نہیں آئے گا اور کسی سے بات نہیں کرے گا اور (نفلی) روزہ ترک نہیں کرے گا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس سے کہو کہ یہ بیٹح جائے سائے میں آ جائے بات چیت بھی کرے، (نفلی) روزہ رکھ بھی لے اور چھوڑ بھی لے۔

بَيْنَمَا النَّبِيُّ يَخْطُبُ إِذْ رَأَى رَجُلًا قَائِمًا فِي الشَّمْسِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو يَعْلَى،

Hadith 4385

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4386

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ نَذَرْتِ فَافْعَلِي، وَإِلَّا فَلَا»، قَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَتْ بِالدُّفِّ

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کسی غزوے سے واپس آ رہے تھے ایک سیاہ فام لڑکی آئی اور اس نے یہ عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپﷺ کو سلامت واپس لے آیا، تو میں آپﷺ کے قریب دف بجاؤں گی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم نے نذر مانی تھی، تو ایسا کر لو، ورنہ نہ کرو اس نے عرض کی: میں نے نذر مانی تھی، تو نبی اکرمﷺ تشریف فرما ہوئے اور اس نے دف بجائی۔

رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 4386

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4387

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے کی نذر مانتا ہے اسے اس کی فرمانبرداری کرنی چاہئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانتا ہے اسے اس کی نافرمانی نہیں کرنی چاہئے“۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Hadith 4387

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr