Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4364

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَقَالَ أَصْحَابِي: قُلْتَ هُجْرًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ قَرِيبًا، وَحَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ اتْفُلْ عَنْ يَسَارِكِ ثَلَاثًا، [ص:207] وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَلَا تَعُدْ»

مصعب بن سعد اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے لات اور عزیٰ کی قسم اٹھائی تو میرے ساتھیوں نے کہا: تم نے غلط بات کہی ہے میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! ہم زمانہ جاہلیت سے قریب ہیں میں نے لات اور عزیٰ کی قسم اٹھا لی ہے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم تین مرتبہ یہ کہو” اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے “ پھر تم اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوکو اور مردود شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔

حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَقَالَ أَصْحَابِي: قُلْتَ هُجْرًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ فَقُلْتُ: ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 4364

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4365

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَقَالَ لِي أَصْحَابِي: لَقَدْ قُلْتَ هُجْرًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ حَدِيثًا، وَإِنِّي حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ثَلَاثًا، وَانْفُثْ عَنْ شِمَالِكَ ثَلَاثًا، وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَلَا تَعُدْ»

مصعب بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے لات اور عزیٰ کی قسم اٹھائی تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا تم نے بہت غلط بات کہی ہے میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: زمانہ جاہلیت قریب ہی ہے میں نے (غلطی سے) لات اور عزیٰ کی قسم اٹھالی ہے، تو نبی اکرمﷺ نے مجھ سے یہ فرمایا تم تین مرتبہ یہ پڑھو ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے “ تم اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوکو، پھونک مارو اور شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔

حلفت باللات والعزى ← أَبِيهِ ← مُصْعَبَ بْنَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4365

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4366

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ»

حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھائے، تو وہ شخص ویسا ہی ہو گا جیسے اسے نے کہا ہے اور جو شخص کسی بھی چیز کے ذریعے خود کشی کر لے اسے اس چیز کے ذریعے جہنم میں عذاب دیا جائے گا “۔

وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ» ← «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا فَهُوَ كَمَا ← النَّبِيِّ ← ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ،

Hadith 4366

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4367

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم اٹھائے، تو وہ اسی طرح ہو گا ، جس طرح اس نے بیان کیا ہے اور جو شخص دنیا میں جس چیز کے ذریعے خود کشی کر ے گا اسے قیامت کے دن اسی چیز کے ذریعے عذاب دیا جائے گا “۔

وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ← «مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 4367

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4368

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا بِيَمِينٍ آثِمَةٍ تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص میرے اس منبر پر جھوٹی قسم اٹھائے وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لیتا ہے “۔ اس بات کی ممانعت کا تذکرہ، زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق حلف اٹھا یا جائے (یعنی عہدوپیمان کیا جائے)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ، ← هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 4368

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4369

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْحَلَبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ التَّوْأَمِ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِلْفِ فَقَالَ: «لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ»

شعبہ بن توام بیان کرتے ہیں: حضر ت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ سے (زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق) حلیف بنانے کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اسلام میں (اس طرز پر) کوئی حلیف بنانا نہیں ہے۔

الْحِلْفِ فَقَالَ: «لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ» ← شُعْبَةَ بْنِ التَّوْأَمِ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ سَأَلَ النَّبِيَّ ← أَبِيهِ ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو نُعَيْمٍ الْحَلَبِيُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 4369

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4370

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَمَا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً أَوْ حِدَّةً»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اسلام میں (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق) حلیف بنانے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جو کچھ زمانہ جاہلیت میں تھا اسلام نے اس کی شدت میں اضافہ ہی کیا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کی تیزی میں اضافہ ہی کیا ہے “۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكُوفِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4370

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4371

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً»

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اسلام میں حلیف بنانے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والا جو بھی حلف ہے اسلام اس کی شدت میں اضافہ ہی کرتا ہے “۔

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ،

Hadith 4371

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4372

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جُبَيْرٍ، وَسَمِعَهُ مِنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ «فَالْإِسْنَادَانِ مَحْفُوظَانِ»

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اسلام میں حلف کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور زمانہ جاہلیت میں جو حلف تھا اسلام نے اس کی شدت میں اضافہ ہی کیا ہے “۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) یہ روایت سعد بن ابراہیم نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت جبیر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے انہوں نے یہ روایت نافع بن جبیر کے حوالے سے ان کے والد سے سنی ہے ، تو اس کی دونوں سندیں محفوظ ہیں۔

أَبِيهِ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4372

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4373

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَهِدْتُ مَعَ عُمُومَتِي حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ، وَإِنِّي أَنْكُثُهُ»

محمد بن جبیر اپنے والد کے حوالے سے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں اپنے چچا کے ہمراہ” مطیبین“ کے حلف میں شریک ہوا تھا اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے، میں اس حلف کی خلاف ورزی کروں، خواہ مجھے اس کے عوض میں سرخ اونٹ ملیں “۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4373

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4374

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا شَهِدْتُ مِنْ حِلْفِ قُرَيْشٍ إِلَّا حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ، [ص:217] وَإِنِّي كُنْتُ نَقَضَتْهُ»، قَالَ: وَالْمُطَيِّبُونَ: هَاشِمٌ، وَأُمَيَّةُ، وَزَهْرَةُ، وَمَخْزُومٌ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَضْمَرَ فِي هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ مَنْ يُرِيدُ بِهِ: شَهِدْتُ مِنْ حِلْفِ الْمُطَيَّبِينَ لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَشْهَدْ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ، لِأَنَّ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ كَانَ قَبْلَ مَوْلِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلْفَ الْفُضُولِ، وَهُمْ مِنَ الْمُطَيَّبِينَ، قَدْ ذَكَرْتُ الْكَلَامَ عَلَى هَذَا الْخَبَرِ بِتَفْصِيلٍ فِي كِتَابِ: التَّوْرِيثُ وَالْحُجُبِ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں قریش کے کسی بھی حلف میں شریک نہیں ہوا صرف” مطیبین“ کے حلف میں شریک ہوا تھا اور میری یہ خواہش نہیں ہے، میں اس حلف کو توڑوں خواہ اس کے عوض میں مجھے سرخ اونٹ مل رہے ہوں “۔ (راوی بیان کرتے ہیں) ” مطیبین“ سے مراد بنو ہاشم، بنوامیہ، بنو زہرہ اور بنو مخزوم ہیں۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) دونوں روایات میں یہ بات مذکور ہے میں ” مطیبین“ کے حلف میں شریک ہوا تھا حالانکہ نبی اکرم ﷺ ” مطیبین“ کے حلف میں شریک نہیں ہوئے تھے، کیونکہ ” مطیبین“ کا حلف نبی اکرمﷺ کی پیدائش سے پہلے ہوا تھا۔ نبی اکرمﷺ حلف الفضول میں شریک ہوئے تھے اور یہ بھی ” مطیبین“ کے درمیان ہوا تھا میں نے اس روایت کے بارے میں اپنی کتاب ” التوریث والحجب“ میں تفصیل سے بحث ذکر کر دی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4374

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4375

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّذْرِ»

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے نذر (ماننے) سے منع کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4375

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr