Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4352

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينً فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کوئی اٹھائے اور پھر اس کے علاوہ کام کو اس سے زیادہ بہتر سمجھے تو اسے وہ کام کرنا چاہئے جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دینا چاہئے “۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، ← الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ،

Hadith 4352

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4353

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لَمْ يَحْنَثْ حَتَّى نَزَلَتْ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ جب کوئی قسم اٹھاتے تھے، تو آپﷺ اس کے برخلاف نہیں کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ قسم کے کفارے سے متعلق آیت نازل ہو گئی تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اب میں جو بھی قسم اٹھاؤں گا اور اس کے علاوہ صورت کو زیادہ بہتر سمجھوں گا، تو میں وہ کام کروں گا، جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الطُّفَاوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عبد الله بن صالح البخاري

Hadith 4353

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4354

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ، عَنْ زَهْدَمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنَّا مُشَاةً فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: «وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمُ الْيَوْمَ» أَوْ قَالَ: «وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ»، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى الْمَنْزِلِ، أَوْ قَالَ: حِينَ رَجَعْنَا إِلَى الْمَنْزِلِ أَتَاهُ قَطِيعٌ مِنْ إِبِلٍ، فَإِذَا قَدْ بَعَثَ إِلَيْنَا بِثَلَاثٍ بُقْعِ الذُّرَى، قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: أَنَرْكَبُ وَقَدْ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّكَ قَدْ حَلَفْتَ، قَالَ: «إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ، إِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ، وَمَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ يَمِينٍ أَحْلِفُ عَلَيْهَا، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُهَا أَوْ أَتَيْتُهُ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ پیدل تھے ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں سواری کے لیے جانور مانگنے کے لیے حاضر ہوئے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! آج میں تمہیں سواری کے لیے جانور نہیں دوں گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری کے لیے جانور نہیں دوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب ہم اپنی رہائشی جگہ پر واپس آ گئے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب ہم اپنی رہائشی جگہ کی طرف واپس آنے لگے تو اس وقت نبی اکرمﷺ کی خدمت میں کچھ اونٹ لائے گئے۔ نبی اکرمﷺ نے ان میں سے سفید کوہان والے تین اونٹ ہماری طرف بھجوا دئیے ہم میں سے کسی ایک نے دوسرے سے کہا کیا ہم اس پر سوار ہوں جب کہ نبی اکرمﷺ یہ قسم اٹھا ہو چکے ہیں (کہ آپﷺ ہمیں سواری کے لیے اونٹ نہیں دیں گے) تو ہم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپﷺ نے تو قسم اٹھائی ہوئی ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے تمہیں سواری کے لیے اونٹ نہیں دئیے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سواری کے لیے جانور دئیے ہیں روئے زمین پر میں جو بھی قسم اٹھاؤں اور پھر اس کے علاوہ صورت حال اس سے بہتر سمجھوں گا، تو میں وہ کام کروں گا (جو زیادہ بہتر ہو) یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے۔

فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى الْمَنْزِلِ، أَوْ ← «وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ»، ← «وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمُ الْيَوْمَ» أَوْ ← كُنَّا مُشَاةً فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ نَسْتَحْمِلُهُ، ← أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← زَهْدَمٍ ← أَبُو السَّلِيلِ ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 4354

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4355

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ، فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ، فَقَالَ: لَئِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي الْقِسْمَةَ لَمْ أُكَلِّمْكَ أَبَدًا، وَكُلُّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ الْكَعْبَةَ لَغَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكِ، وَكَلِّمْ أَخَاكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَمِينَ عَلَيْكَ، وَلَا نَذَرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلَا فِيمَا لَا تَمْلِكُ»

سعید بن مسیّب بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے دو بھائی تھے جن کے درمیان وراثت سے متعلق کوئی مسئلہ تھا ان میں سے ایک نے دوسرے سے تقسیم کا مطالبہ کیا، تو اس نے کہا: اگر تم نے دوبارہ مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کیا، تو میں تمہارے ساتھ کبھی بات چیت نہیں کروں گا اور یہ سارا مال خانہ کعبہ کے خزانے کے لیے مخصوص ہو جائے گا، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک خانہ کعبہ تمہارے مال سے بے نیاز ہے تم اپنی قسم کا کفارہ دو اپنے بھائی کے ساتھ بات چیت کرو، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی گناہ کے کام میں، رشتے داری کو حقوق کی پامالی کے حوالے سے اور جو چیز تمہاری ملکیت میں نہ ہو، اس کے بارے میں نہ تو تم پر کوئی قسم لازم ہو گی اور نہ ہی نذر لازم ہو گی “۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 4355

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4356

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الشَّعْثَاءِ هُوَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، [ص:198] عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْحَلِفُ حَنِثٌ أَوْ نَدَمٌ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «لَيْسَ لِبَشَّارٍ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ غَيْرُ هَذَا، وَهُوَ أَخُو مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، وَأَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ [ص:199] الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَاسْطِيٌّ ثِقَةٌ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”قسم یا تو توڑنی پڑتی ہے یا پھر ندامت کا شکار کرتی ہے “۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) بشار نامی راوی کے حوالے سے اس روایت کے علاوہ کوئی اور ”مرفوع “حدیث منقول نہیں ہے یہ صاحب مسعر بن کدام کے بھائی ہیں ابو معشاء نامی راوی کا نام علی بن حصین بن سلیمان واسطی ہے یہ راوی ثقہ ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، [ص:198] ← بَشَّارِ بْنِ كِدَامٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو الشَّعْثَاءِ هُوَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْوَاسِطِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4356

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4357

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ، وَلَا بِالْأَنْدَادِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اپنے باب دادا یا ماؤں کے نام کی یا اپنے بتوں کے نام کی قسم نہ اٹھاؤ تم لوگ صرف اللہ کے نام کی قسم اٹھاؤ اور تم اسی وقت قسم اٹھاؤ جب تم سچے ہو “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عَوْفٌ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4357

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4358

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَحَلَفَ [ص:200] رَجُلٌ بِالْكَعْبَةِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَيْحَكَ لَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ»

سعد بن عبیدہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ایک شخص نے خانہ کعبہ کے نام کی قسم اٹھائی تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو تم ایسا نہ کرو، کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے نام کی قسم اٹھاتا ہے و ہ (گویا) شرک کا مرتکب ہوتا ہے “۔

مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَکَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنُ عُمَرَ: وَيْحَكَ لَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي ← كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَحَلَفَ [ص:200] رَجُلٌ بِالْكَعْبَةِ، ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْحَسَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ النَّخَعِیِّ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4358

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4359

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ، أَوْ لِيَسْكُتْ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کے نام کی قسم اٹھاتے ہوئے پایا تو ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس بات سے منع کیا ہے، تم اپنے باپ دادا کےنام کی قسم اٹھاؤ جس شخص نے قسم اٹھانی ہو وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے ورنہ خاموش رہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 4359

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4360

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَسِيرُ فِي رَكْبٍ، وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ، أَوْ لِيَصْمُتْ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ایسی صورت میں پایا کہ وہ کچھ سواروں کے درمیان چل رہے تھے اور اپنے والد کے نام کی قسم اٹھا رہے تھے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تم نے لوگوں کو اس بات سے منع کیا ہے، تم اپنے باپ دادا کے نام کی قسم اٹھاؤ جس شخص نے قسم اٹھانی ہو وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے یا پھر خامو ش رہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 4360

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4361

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَلْيَحْلِفْ حَالَفٌ بِاللَّهِ، أَوْ لِيَسْكُتْ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کے نام کی قسم اٹھاتے ہوئے پایا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کے نام کی قسم اٹھانی چاہئے ورنہ خاموش رہنا چاہئے “۔

أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4361

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4362

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفُ إِلَّا بِاللَّهِ»، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا، فَقَالَ: «لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ”جس شخص نے قسم اٹھانی ہو وہ صرف اللہ کے نام کی قسم اٹھائے “۔ قریش اپنے باپ دادا کے نام کی قسم اٹھایا کرتے تھے نبی اکرمﷺ نے فرمایا:” تم اپنے باپ دادا کے نام کی قسم نہ اٹھاؤ“۔

ابْنِ عُمَرَ ← وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ اَنَّہٗ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 4362

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4363

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الطَّائِيِّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَبَّبَ زَوْجَةَ امْرِئٍ أَوْ مَمْلُوكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا»، «[ص:206] ابْنُ بُرَيْدَةَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ»

ابن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی دوسرے کی بیوی یا غلام کو خراب کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص امانت کی قسم اٹھائے وہ ہم سے نہیں ہے “۔ ابن بریدہ نامی راوی عبداللہ بن بریدہ بن حصیب ہیں۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الطَّائِيِّ، ← وَكِيعٌ، ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 4363

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr