Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4340

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مَثْرُودٍ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص قسم اٹھائے اور انشاء اللہ کہہ دے وہ حانث نہیں ہوتا “۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ مَثْرُودٍ الْغَافِقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 4340

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4341

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الطُّرْسُوسِيُّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:184] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص حلف اٹھائے اور انشاءاللہ کہہ دے تو اس نے استثناء کر لیا “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ، [ص:184] ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الطُّرْسُوسِيُّ،

Hadith 4341

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4342

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَهُوَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ مَضَى، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حَنِثٍ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص قسم اٹھائے اور استثناء کر لے، تو اسے اختیار ہو گا اگر چاہے ، تو اسے برقرار رکھے اور اگر چاہے، تو حانث ہوئے بغیر اسے ترک کر دے “۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Hadith 4342

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4343

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا»، ثُمَّ سَكَتَ فَقَالَ: «إِنْ شَاءَ اللَّهُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے: ”اللہ کی قسم ! میں قریش کے ساتھ ضرور لڑائی کروں گا اللہ کی قسم ! میں قریش کے ساتھ ضرور لڑائی کروں گا اللہ کی قسم ! میں قریش کے ساتھ ضرور لڑائی کروں گا پھر نبی اکرم ﷺ کچھ دیر خاموش رہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا“۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← مِسْعَرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى،

Hadith 4343

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4344

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ*، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى مُلْكِ يَمِينِهِ أَنْ يَضْرِبَهُ، فَكَفَّارَتُهُ تَرَكُهُ، وَمَعَ الْكَفَّارَةِ حَسَنَةٌ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنے غلام کے بارے میں یہ قسم اٹھائے کہ وہ اس کی پٹائی کرے گا، تو اس کا کفارہ یہ ہے: وہ اس عمل کو ترک کر دے اور کفارے کے ہمراہ یہ نیکی بھی ہے “۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← سُفْيَانَ، ← بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4344

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4345

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى [ص:187] يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، ثُمَّ لِيَتْرُكْ يَمِينَهُ»

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور اس کے برخلاف کام کو اس سے زیادہ بہتر سمجھے تو اس وہ کام کرنا چاہئے جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کو ترک کر دینا چاہئے“۔

النَّبِيِّ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← تَمِيمَ بْنَ طَرْفَةَ الطَّائِيَّ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4345

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4346

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ، فَسَأَلَهُ نَفَقَةً، فَقَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ إِلَّا دِرْعِي وَمِغْفَرِي، فَأَكْتُبُ إِلَى أَهْلِي أَنْ تَعْطِيكَهَا، فَلَمْ يَرْضَ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يُعْطِيَهُ شَيْئًا، ثُمَّ رَضِيَ الرَّجُلُ، فَقَالَ عَدِيٌّ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «[ص:188] مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ثُمَّ رَأَى مَا هُوَ أَتْقَى لِلَّهِ مِنْهَا فَلْيَأْتِ التَّقْوَى»، مَا حَنَثْتُ

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے خرچ کا مطالبہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے صرف یہ زرہ ہے اور یہ خود ہے میں اپنے گھر والوں کی طرف کاغذ لکھ دیتا ہوں کہ وہ تمہیں کچھ دے دیں وہ شخص اس بات پر راضی نہیں ہوا تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ اسے کچھ نہیں دیں گے پھر وہ شخص اس بات پر راضی ہو گیا تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہونے نہ سنا ہوتا۔ ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر وہ (اس کے برخلاف صورت حال کو) دیکھے کہ وہ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے، تو اسے وہ کام کرنا چاہئے جو پرہیزگاری والا ہو“۔ (حضرت عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر یہ حدیث نہ ہوتی) تو میں اپنی قسم نہ توڑتا۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 4346

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4347

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور اس کے برخلاف کام کو اس سے زیادہ بہتر دیکھے تو اسے وہ کام کرنا چاہئے کہ جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دینا چاہئے“۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ،

Hadith 4347

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4348

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أَتَتْكَ عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أَتَتْكَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ وَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكِ»

حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے : ”اے عبدالرحمٰن! تم حکومتی عہدے کا سوال نہ کرنا، کیونکہ اگر یہ تمہیں مانگنے سے ملے گا، تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا اور اگر یہ تمہیں مانگے بغیر مل جائے گا ، تو اس بارے میں تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی قسم کے بارے حلف اٹھا لو اور تم اس کے علاوہ دوسری صورت کو اس سے زیادہ بہتر پاؤ تو وہ کام جو زیادہ بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو “۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 4348

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4349

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر اس کے علاوہ کام کو اس سے زیادہ بہتر محسوس کرے تو اسے اپنی قسم کا کفارہ دے دینا چاہئے اور وہ کام کرنا چاہئے جو زیادہ بہتر ہے “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 4349

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4350

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا، وَكَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَانْطَلَقَ وَقَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، افْرُغْ مِنْ أَضْيَافِكَ، فَلَمَّا أَمْسَيْتُ جِئْنَا بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا، وَقَالُوا: حَتَّى يَجِيءَ أَبُوكَ مَنْزِلَهُ، فَيَطْعَمُ مَعَنَا، فَقُلْتُ: إِنَّهُ رَجُلٌ حَدِيدٌ، وَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ أَذًى، فَأَبَوْا عَلَيْنَا، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: قَدْ فَرَغْتُمْ مِنْ أَضْيَافِكُمْ، فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ، فَقَالَ: أَلَمْ آمُرُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ وَتَنَحَّيْتُ، قَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي إِلَّا جِئْتَ فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا لِي ذَنْبٌ هَؤُلَاءِ أَضْيَافُكَ فَسَلْهُمْ قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يَطْعَمُوا، حَتَّى تَجِيءَ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ لَا تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاكُمْ؟ وَقَالَ أَبُو [ص:192] بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ، قَالُوا: فَوَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ، فَقَالَ: لَمْ أَرْ كَالشَّرِّ مُنْذُ اللَّيْلَةِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا الْأَوَّلُ فَمِنِ الشَّيْطَانِ فَهَلُمُّوا قِرَاكُمْ فَجِيءَ بِالطَّعَامِ، فَسَمَّى اللَّهَ، وَأَكَلَ، وَأَكَلُوا، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَرُّوا وَحَنِثْتُ، فَقَالَ: «بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَخَيْرُهُمْ»

حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہمارے ہاں کچھ مہمان آ گئے میرے والد نماز کے وات (عشاء کے بعد دیر تک) نبی اکرمﷺ کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے جب وہ (نبی اکرمﷺ کی خدمت میں) جانے لگے تو انہوں نے فرمایا: اے عبدالرحمٰن مہمانوں کو کھانا کھلا دینا جب شام ہوئی تو میں کھانا لے کر ان کے پاس آیا، تو انہوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور یہ کہا: جب تک تمہارے والد گھر واپس نہیں آتے اور ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھاتے (ہم اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے) میں نے کہا: وہ غصے والے آدمی ہیں اگر آپ لوگوں نے کھانا نہ کھایا تو مجھے یہ اندیشہ ہے، وہ میری پٹائی کریں گے، لیکن مہمانوں نے یہ بات نہیں مانی جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس تشریف لائے، تو انہوں نے دریافت کیا: آپ لوگوں نے کھانا کھا لیا ہے؟ مہمانوں نے جواب دیا: جی نہیں اللہ کی قسم ! (ہم نے کھانا نہیں کھایا) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں نے عبدالرحمٰن کو یہ ہدایت نہیں کی تھی (کہ وہ آپ کو کھانا کھلا دے) حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک طرف ہٹ چکا تھا انہوں نے (بلند آواز میں) کہا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اگر تم میری آواز سن رہے ہو، تو آ جاؤ تو میں آ گیا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میرا کوئی قصور نہیں ہے یہ آپ کے مہمان موجود ہیں آپ ان سے دریافت کر لیں میں ان کے پاس کھانا لے کر آیا تھا، لیکن انہوں نے اس وقت تک کھانے سے انکار کر دیا جب تک آپ نہیں آ جاتے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا وجہ ہے، آپ لوگوں نے کھانا کیوں قبول نہیں کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ دیا اللہ کی قسم ! آج رات میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک آپ نہیں کھائیں گے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آج رات جیسی مشکل صورت کبھی نہیں دیکھی پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جہاں تک پہلی قسم کا تعلق ہے، تو وہ شیطان کی طرف سے ہو گئی۔ آپ لوگ کھانے کی طرف آئیں پھر کھانا لایا گیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ پڑھی اور کھانا کھا لیا مہمانوں نے بھی کھانا کھا لیا اگلے دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ان لوگوں نے تو نیکی کر لی ور میں حانث ہو گیا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ان سب سے زیادہ نیک اور ان سے بہتر ہو۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ ← أَبِي عُثْمَانَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← بُنْدَارٌ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 4350

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4351

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: أَتَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْمِلُهُ لِنَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُهُمْ، فَأُتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبٍ مِنْ إِبِلٍ، فَفَرَّقَهَا، فَبَقِيَ مِنْهَا خَمْسُ عَشْرَةَ، فَقَالَ: «أَيْنَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ؟ »، قَالَ: هُوَ ذَا هُوَ، فَقَالَ: «خُذْ هَذِهِ فَاحْمِلْ عَلَيْهَا قَوْمَكَ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ حَلَفْتَ، قَالَ: «وَإِنْ كُنْتُ حَلَفْتُ»

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تا کہ اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے لیے سواری کے جانور حاصل کریں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں کو سواری فراہم نہیں کروں گا پھر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں کچھ اونٹ لائے گئے آپ ﷺ نے انہیں الگ، الگ کروایا ان میں سے پندرہ اونٹ باقی رہ گئے آپﷺ نے دریافت کیا: عبداللہ بن قیس کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ یہاں ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم انہیں حاصل کر لو اور ان پر اپنی قوم کے افراد کو سوار کرواؤ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! آپ نے تو قسم اٹھائی تھی (کہ آپﷺ ہمیں سواری کے لیے جانور نہیں دیں گے) نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اگرچہ میں نے قسم اٹھائی تھی (لیکن تم پھر بھی اسے حاصل کر لو)

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← عَمِّہٖ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 4351

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr