Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4328

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ سے سوال کیا گیا کون سے لوگ بہتر ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میرے زمانے کے پھر اس کے بعد والے پھر اس کے بعد والے، پھر وہ لوگ آئیں گے کہ ان میں سے کسی کی گواہی قسم سے پہلے ہو گی اور قسم گواہی سے پہلے ہو گی (یعنی وہ جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے اور جھوٹی گواہیاں دیں گے)۔

سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4328

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4329

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَهُ ذَاتَ يَوْمٍ غِلْمَانٌ، وَإِمَاءٌ، وَعُبَيْدٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: «وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرمﷺ کے سامنے بچے، کنیزیں اور انصار کے غلام آئے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم !ً میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4329

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4330

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، أَخِي بَنِي فِهْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ»

حضرت مستور بن شداد رضی اللہ عنہ جو بنو فہر سے تعلق رکھتے ہیں، بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کی قسم! آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال بالکل اس طرح جیسے کوئی شخص اپنی انگلی کو دریا میں ڈالے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ وہ کس چیز کے ہمراہ واپس آئی “۔

رَسُولِ اللَّهِ ← الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، أَخِي بَنِي فِهْرٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4330

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4331

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، بِالصُّغْدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَخْفَى عَلَيَّ حِينَ تَكُونِينَ غَضْبَى، وَحِينَ تَكُونِينَ رَاضِيَةً، إِذَا كُنْتِ غَضْبَى، قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ، وَإِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً، قُلْتُ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ»، فَقُلْتُ: صَدَقْتَ، إِنَّمَا أَهْجُرُ اسْمَكَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوَ نَزَلْتَ وَادِيًا فِيهِ شَجَرٌ كَثِيرٌ قَدْ أُكِلَ مِنْهَا، وَوَجَدْتَ شَجَرَةً لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا، فِي أَيِّهَا كُنْتَ تَرْتَعُ بَعِيرَكَ؟ قَالَ: «فِي الَّذِي لَمْ يُرْتَعْ فِيهَا»، تُرِيدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نےمجھ سے فرمایا: یہ بات مجھ سے پوشیدہ نہیں رہتی جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو، جب تم ناراض ہوتی ہو، تو یہ کہتی ہو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پروردگار کی قسم اور جب تم راضی ہوتی ہو، تو یہ کہتی ہو حضرت محمد ﷺ کے پروردگار کی قسم، تو میں نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے، لیکن میں ، تو صرف آپ کا نام لینا ترک کرتی ہوں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اس بارے میں آپﷺ کی کیا رائے ہے، آپﷺ کسی ایسی وادی میں پڑاؤ کرتے ہیں جہاں بہت سے درخت ہیں، جن سے کھایا گیا ہوتا ہے اوروہاں آپﷺ کو ایک ایسا درخت ملتا ہے، جس میں کچھ بھی نہ کھایا گیا ہو، تو آپ ﷺ اپنے اونٹ کو کہاں چرائیں گے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس درخت کے پاس جس میں کچھ نہ کھایا گیا ہو۔ اس بات سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی: نبی اکرمﷺ نے ان کے علاوہ کسی کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَخِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4331

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4332

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ عَلَيْهَا: «لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب قسم اٹھاتے تھے ، تو یہ الفاظ استعمال کرتے تھے۔” دلوں کو پھیرنے والی ذات کی قسم “۔

كَانَ يَمِينُ النَّبِيِّ الَّتِي يَحْلِفُ عَلَيْهَا: «لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ» ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4332

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4333

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ اللَّغْوِ فِي الْيَمِينِ، فَقَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هُوَ كَلَامُ الرَّجُلِ: كَلَّا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ»

ابراہیم صائغ بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء سے لغو قسم کے بارے میں دریافت کیا: انہوں نے بتایا: سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے اللہ کے رسول نے یہ بات ارشاد فرمائی: اس سے مراد آدمی کا یہ کہنا ہے: ہرگز نہیں اللہ کی قسم ! جی ہاں اللہ کی قسم۔

عَائِشَةَ ← اللَّغْوِ فِي الْيَمِينِ، فَقَالَ: ← سَأَلْتُ عَطَاءً ← إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4333

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4334

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَتَكَلَّمْ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ نے میری امت کی ہر اس چیز سے درگزر کیا ہے، جو ان کے ذہن میں خیال آتا ہے، جب تک وہ اس بارے میں کوئی بات نہ کریں، یا اس پر عمل نہ کریں“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4334

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4335

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَنْطِقْ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ نے میری امت کی ان چیزوں سے درگزر کیا ہے، جو ان کے ذہن میں خیال آتے ہے، جب تک وہ اس بارے میں بات نہیں کرتے یا ان پر عمل نہیں کرتے“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4335

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4336

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا سَرَقَ، فَقَالَ عِيسَى: أَسَرَقْتَ؟، قَالَ: كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ عِيسَى: آمَنْتُ بِاللَّهِ، وَكَذَّبْتُ عَيْنِي»

اس روایت کا تذکرہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہے: جب آدمی کے سامنے اس کا کوئی مسلمان بھائی قسم اٹھا لے ، تو آدمی کو چاہئے کہ وہ اس کی قسم کی تصدیق کر دے اگرچہ اسے اس شخص کے حوالے سے اس کے برخلاف کا علم ہو

كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ عِيسَى: آمَنْتُ بِاللَّهِ، وَكَذَّبْتُ عَيْنِي» ← وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا سَرَقَ، فَقَالَ عِيسَى: أَسَرَقْتَ؟، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4336

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4337

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «حَلَفَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لَيَطُوفَنَّ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ، كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ تَحْمِلُ غُلَامًا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ غُلَامٍ»، فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ كَانَ كَمَا قَالَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: حضرت سلیمان بن داؤد علیہا السلام نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ اپنی ایک سو بیویوں کے پاس تشریف لے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک عورت ایسے لڑکے کو جنم دے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں، تو ان میں سے صرف ایک خاتون نے نامکمل بچے کو جنم دیا۔ نبی اکرمﷺ ارشاد فرماتے ہیں: اگر وہ اس وقت انشاء اللہ کہہ دیتے تو اسی طرح ہونا تھا جس طرح انہوں نے بیان کیا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4337

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4338

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حَلَفَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَيَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ بِتِسْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ أَوِ الْمَلِكُ: قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَنَسِيَ، وَأَطَافَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ بِتِسْعِينَ امْرَأَةً فَمَا جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا وَاحِدَةٌ بِشِقِّ غُلَامٍ»، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ، وَكَانَ أَدْرَكَ حَاجَتَهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ آج کی رات اپنی نوے بیویوں کے پاس جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک خاتون ایک ایسے لڑکے کو جنم دے گی جواللہ کی راہ میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) فرشتے نے ان سے کہا آپ انشاء اللہ کہہ دیجئے ، لیکن وہ یہ کہنا بھول گئے وہ اس رات اپنی نوے بیویاں کے پاس تشریف لے گئے، لیکن ان میں صرف ایک بیوی نے نامکمل بچے کو جنم دیا۔ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: اگر وہ انشاءاللہ کہہ دیتے تو وہ حانث نہ ہوتے اور ان کی خواہش بھی پوری ہو جاتی “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← طَاوْسٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4338

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4339

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى»

قسم اٹھانے والے کے لیے اپنی قسم میں استثنیٰ کرنے کے مباح ہونے کا تذکرہ، جبکہ وہ قسم کے بعد استثنیٰ کے

«مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4339

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr