صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1734
أخبرنا بن قتيبة حدثنا حرملة حدثنا بن وَهْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ يُحَدِّثُ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ1 رَأَى فَتًى وَهُوَ يُصَلِّي قَدْ أَطَالَ صَلَاتَهُ وَأَطْنَبَ فِيهَا فَقَالَ: مَنْ يعرف هذا؟ فقال رجل: أنا، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ: لَوْ کُنْتُ اَعْرِفُہُ لَاَمَرْتہُ اَنْ یُطِیلَ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُودَ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا قَامَ یُصَلِّی اُتِیَ بِذُونُوبِہٖ فَوَضَعَتْ عَلٰی رَاْسِہِ اَوْ عَاتِقِہِ فَکُلَّمَا رَکَعَ اَوْ سَجَدَ تساقطت عنہ۔(2:1)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔انہوں نے ایک شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ اس نے طویل نماز ادا کی تھی اور اس کو خوب کھینچا تھا۔ حضرت عبد اللہ نے دریافت کیا کون شخص اسے جانتا ہے، تو ایک صاحب نے جواب دیا: میں، حضرت عبد اللہ نے فرمایا: اگر میں اسے جانتا ہوتا تو میں اسے ہدایت کرتا کہ یہ رکوع اور سجدہ طویل کرے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ "بندہ جب کھڑا ہوکر نماز ادا کرتا ہے، تو اس کے گناہ لائے جاتے ہیں اور وہ اس کے سر یا کندگے پر کھ دئیے جاتے ہیں اور جب وہ رکوع یا سجدہ میں جاتا ہے، تو وہ اس سے گر جاتے ہیں"۔
جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← زَيْدُ بْنُ أَرْطَأَةَ، ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ، ← بن قتيبة
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1734
