صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1722
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الصَّلَاةُ". قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ ثُمَّ: "الصَّلَاةُ" قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: "ثُمَّ الصَّلَاةُ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: "ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" قَالَ: فَإِنَّ لِي وَالِدَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "آمُرُكَ بِوَالِدَيْكَ خَيْرًا"، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ نَبِيًّا لَأُجَاهِدَنَّ وَلَأَتْرُكَنَّهُمَا"1. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَأَنْتَ أعلم" 2. [1: 2]
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ سے سب سے افضل عمل کے بارے میں دریافت کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز، اس نے دریافت کیا پھر کون سا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر نماز۔ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر نماز۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ اس نے دریافت کیا پھر کون سا پھر آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس نے عرض کی: میرے ماں باپ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: میں تمہیں ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی ہدایت کرتا ہوں۔ اس نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو نبی بنا کر مبعوث کیا ہے میں جہاد میں ضرور حصہ لوں گا اور میں ان ماں باپ کو چھوڑ دوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم زیادہ بہتر جانتے ہو۔
رَسُولُ اللَّهِ، "فَأَنْتَ أعلم" ← وَالَّذِي بَعَثَكَ نَبِيًّا لَأُجَاهِدَنَّ وَلَأَتْرُكَنَّهُمَا"1. ← رَسُولُ اللَّهِ "آمُرُكَ بِوَالِدَيْكَ خَيْرًا"، ← فَإِنَّ لِي وَالِدَيْنِ، ← ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ← ثُمَّ مَهْ؟ ← "ثُمَّ الصَّلَاةُ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ← ثُمَّ مَهْ؟ ← ثُمَّ: "الصَّلَاةُ" ← ثُمَّ مَهْ؟ ← رَسُولُ اللَّهِ "الصَّلَاةُ". ← أفضل الأعمال ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَسَأَلَهُ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1722
